تلاش کریں

نظریاتی سیاست کا چیلنج اور پیپلز پارٹی کا امتحان

 

dr-shahnaz-khan-nazariyati-siyasat-ka-challenge-aur-people's-party-ka-imtahan

تحریر :ڈاکٹر شہناز خان

پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قومیں صرف اقتدار کی تبدیلی سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ مضبوط نظریات، عوامی اعتماد اور جمہوری اداروں کے استحکام سے آگے بڑھتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست میں اکثر اوقات نظریات کی جگہ شخصیات، عوامی خدمت کی جگہ ذاتی مفادات اور قومی ترجیحات کی جگہ وقتی سیاسی فائدے نے لے لی ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ سیاست کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

پاکستان پیپلز پارٹی اس سوال کا جواب اپنی تاریخ، جدوجہد اور سیاسی فلسفے سے دیتی ہے۔ 30 نومبر 1967ء کو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس جماعت کی بنیاد ایسے وقت میں رکھی جب ملک کو ایک ایسی سیاسی قوت کی ضرورت تھی جو عام آدمی کو قومی سیاست کا محور بنائے۔ “اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشلزم ہماری معیشت ہے، طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی منشور تھا جس نے پاکستان کی سیاست کو نئی سمت دی۔پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی حقوق، آئین کی بالادستی، وفاق کی مضبوطی اور جمہوری تسلسل کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ جماعت جمہوریت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں پیپلز پارٹی کا کردار محض ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ایک قومی تحریک کا رہا ہے۔

آج پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام، بے روزگاری، مہنگائی اور قومی یکجہتی کے مسائل نمایاں ہیں۔ ان حالات میں سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری صرف حکومت حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کو امید، اعتماد اور عملی حل فراہم کرنا بھی ہے۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ قومی مسائل کا حل محاذ آرائی میں نہیں بلکہ مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی راستے میں پوشیدہ ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے ہر دورِ حکومت میں عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، اٹھارہویں آئینی ترمیم، این ایف سی ایوارڈ، صوبائی خودمختاری، خواتین کے حقوق، نوجوانوں کے لیے مواقع اور پارلیمنٹ کی بالادستی جیسے اقدامات آج بھی اس جماعت کی سیاسی بصیرت اور عوامی سوچ کی علامت ہیں۔ یہ وہ اصلاحات ہیں جنہوں نے پاکستان کے وفاقی نظام کو مضبوط کیا اور جمہوریت کو نئی بنیادیں فراہم کیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی نوجوان نسل کی امنگوں اور جدید دور کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی سیاست کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، موسمیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوانوں کی سیاسی شمولیت جیسے موضوعات پارٹی کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ اس کا مقصد صرف سیاسی کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا پاکستان تشکیل دینا ہے جہاں ہر شہری کو ترقی کے مساوی مواقع میسر ہوں۔

جمہوریت کی اصل طاقت برداشت، مکالمے اور اختلافِ رائے کے احترام میں ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ نفرت کی سیاست کے بجائے مفاہمت، قومی اتحاد اور جمہوری استحکام کو ترجیح دی ہے۔ یہی سیاسی فلسفہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے “مفاہمت کی سیاست” کے ذریعے ملک کو دیا، جس کی ضرورت آج بھی پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔سیاسی اختلاف ہر جمہوری معاشرے کا حسن ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا قومی مفاد کے خلاف ہے۔ پاکستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب تمام سیاسی قوتیں آئین اور قانون کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوشش کریں۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ ایسے پاکستان کی حامی رہی ہے جہاں ادارے مضبوط ہوں، عوام بااختیار ہوں اور جمہوریت مسلسل آگے بڑھتی رہے۔سیاست کو ذاتی مفادات، نفرت انگیز بیانیوں اور وقتی سیاسی فائدوں سے نکال کر دوبارہ نظریات، خدمت اور قومی مفاد کی طرف لایا جائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اپنی پوری تاریخ کے ساتھ اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ عوامی خدمت، آئین کی حفاظت، وفاق کے استحکام اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔