تلاش کریں

صبحِ زندگی تانیثی و تنقیدی مطالعہ

 

https://magazine.urduaks.com/2026/08/shehbaz-ali-solangi-subh-e-zindagi-tanisi-o-tanqeedi-mutalia.html

تحریر:شہباز علی سولنگی

لڑکی پڑھ لے تو معاملہ کسی حد تک گھر کے اختیار میں رہ سکتا ہے۔ کتاب کون سی ہوگی، سبق کون پڑھائے گا اور علم کی حد کہاں مقرر ہوگی، خاندان ان سب پر نگاہ رکھ سکتا ہے۔ مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب لڑکی لکھنا سیکھ جائے۔ صبحِ زندگی میں نسیمہ کی تعلیم کے سلسلے میں اس کی والدہ کا اعتراض اسی خوف کو نہایت مختصر الفاظ میں ظاہر کرتا ہے کہ لکھنا آ گیا تو جسے چاہے خط بھیج دے گی۔ بظاہر ماں ایک عملی اندیشہ بیان کر رہی ہے، مگر اس جملے کے اندر عورت کی تعلیم سے وابستہ پورا سماجی اضطراب سمٹ آیا ہے۔ پڑھنے والی لڑکی علم حاصل کرتی ہے، لکھنے والی لڑکی اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی قدرت بھی حاصل کر لیتی ہے۔ تحریر آواز کو جسم سے جدا کر دیتی ہے۔ عورت گھر میں بیٹھی ہو اور اس کے الفاظ گھر کی دیوار سے باہر پہنچ جائیں تو نگرانی کا پرانا نظام پہلے جیسی قطعیت کے ساتھ کام نہیں کر سکتا۔ راشد الخیری کے ناول کی تانیثی معنویت کا شاید سب سے زرخیز دروازہ وہیں کھلتا ہے جہاں تعلیم ایک پسندیدہ خوبی سے بڑھ کر اختیار کا امکان بننے لگتی ہے۔

صبحِ زندگی بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں کی اس مسلم معاشرت سے تعلق رکھتا ہے جس میں عورت کو جاہل رکھنے کی روایت پر تنقید بڑھ رہی تھی، مگر تعلیم یافتہ عورت کی سماجی منزل ابھی طے شدہ سوال نہ تھی۔ لڑکی کو علم ملنا چاہیے، اس مقدمے کے حامی بھی موجود تھے اور مخالف بھی، مگر اصل اختلاف تعلیم کے بعد شروع ہوتا تھا۔ کیا علم عورت کو ایک بہتر بیٹی، زیادہ سمجھ دار بیوی اور قابل ماں بنانے کے لیے ہے یا علم اس کی اپنی شخصیت کو بھی ایسا دائرہ دے سکتا ہے جو خانگی رشتوں سے الگ کوئی قدر رکھتا ہو۔ راشد الخیری پہلے سوال کا جواب بڑی وضاحت سے دیتے ہیں۔ دوسرے سوال پر ان کی تحریر زیادہ محتاط، محدود اور اپنے عہد سے بندھی ہوئی نظر آتی ہے۔ عورت کی ذہنی تربیت ان کے اصلاحی منصوبے کا اہم حصہ ہے، لیکن اس تربیت کا آخری مصرف بیشتر خاندان کے اندر متعین ہوتا ہے۔ اسی تضاد کی وجہ سے راشد الخیری کو جدید تانیثیت کے کسی تیار خانے میں رکھنا مشکل ہے۔ وہ عورت کی محرومی سے لڑتے ہیں، مگر اس معاشرتی عمارت کو پوری طرح منہدم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے جس کے اندر وہ محرومی پیدا ہوئی تھی۔

راشد الخیری کا اصل نام محمد عبدالراشد تھا۔ جنوری ۱۸۶۸ء میں دہلی میں پیدا ہوئے اور ۳ فروری ۱۹۳۶ء کو وہیں وفات پائی۔ عورت کی تعلیم، ازدواجی زندگی، بیوگی، وراثت، خانگی ظلم اور مسلم گھرانے کی اخلاقی ساخت ان کی ادبی زندگی کے مسلسل موضوع رہے۔ ۱۹۰۸ء میں دہلی سے عصمت کا اجرا ان کی اصلاحی سرگرمی کا ایک بڑا ثبوت ہے۔ رسالے نے عورت کو قاری مانا، اس سے براہ راست خطاب کیا اور ان موضوعات کو مطبوعہ گفتگو کا حصہ بنایا جو طویل عرصے تک گھر کی چار دیواری کے اندر محدود سمجھے جاتے تھے۔ داؤد عثمانی نے راشد الخیری کے ادبی کام کی بنیاد عورت کی معاشرتی حالت اور اصلاح میں دیکھی ہے، جبکہ رؤف پاریکھ نے انہیں مسلم معاشرتی اصلاح کی اس روایت کے ساتھ رکھا ہے جو انیسویں صدی کے آخری حصے سے عورت کی تعلیم اور حقوق کو سنجیدہ مسئلہ بنا رہی تھی۔ نذیر احمد، حالی اور ممتاز علی کے بعد عورت کے بارے میں اصلاحی نثر پہلے ہی ایک مضبوط فکری میدان بنا چکی تھی۔ راشد الخیری نے اس میدان میں قصے، جذبات، مذہبی استدلال اور خانگی زندگی کو ایک ایسی شکل میں جمع کیا جس کا مخاطب محض ادبی حلقہ نہیں بلکہ مسلم گھرانہ بھی تھا۔

صبحِ زندگی کی کتابی تاریخ میں بھی کچھ احتیاط درکار ہے۔ ریختہ کے محفوظ نسخے کا اندراج ۱۹۱۸ء، درویش پریس دہلی اور ۱۸۳ صفحات کے ساتھ ملتا ہے۔ ڈیجیٹل لائبریری آف انڈیا سے محفوظ اور مولانا آزاد لائبریری علی گڑھ کے ماخذ پر قائم ایک دوسرے نسخے کو انٹرنیٹ آرکائیو ۱۹۲۷ء میں داس اینڈ سنز دہلی سے منسوب کرتا ہے۔ ان مختلف اندراجات کی موجودگی میں ۱۹۱۸ء کو قدیم ترین قابل تصدیق دستیاب اشاعت کہنا زیادہ مناسب ہے، مگر مزید کتابیاتی تحقیق کے بغیر اسے قطعی اولین اشاعت قرار دینا غیر محتاط ہوگا۔ راشد الخیری کی کتابیں بار بار چھپتی رہیں اور بعد کے مجموعوں میں شامل ہوتی رہیں۔ ایک ہی عبارت کے مختلف صفحہ نمبر ملنے کی وجہ بھی اکثر یہی اشاعتی تاریخ بنتی ہے۔ سنجیدہ تحقیق میں متن کا مفہوم اپنی جگہ اہم ہے، مگر اقتباس کے ساتھ ایڈیشن کی شناخت بھی ضروری ہے۔ پرانے اصلاحی ادب کے مطالعے میں معمولی دکھائی دینے والی ایسی تفصیل کئی دفعہ بڑے تاریخی مغالطے سے بچا لیتی ہے۔

نسیمہ کی تربیت ناول کا مرکزی عمل ہے۔ وہ کسی ایک حادثے سے اچانک بدل جانے والی کردار نہیں بلکہ تعلیم، نصیحت، مشاہدے اور خانگی نظم کے ذریعے آہستہ آہستہ تیار کی جاتی ہے۔ پڑھنا، لکھنا، مذہبی معلومات، آداب، حساب، گھر کے معاملات، رشتوں کا لحاظ اور ازدواجی ذمہ داریاں اس تشکیل کے مختلف اجزا ہیں۔ جدید ادبی اصطلاح میں نسیمہ کے سفر کو شخصیت کی تدریجی تشکیل کے بیانیے سے کسی حد تک قریب رکھا جا سکتا ہے، لیکن ایک بنیادی فرق باقی رہتا ہے۔ جدید تربیتی ناول میں نوجوان کردار عموماً اپنی الگ شناخت تلاش کرتا ہے اور کبھی خاندان یا سماج سے تصادم بھی اس عمل کا لازمی حصہ بن جاتا ہے۔ نسیمہ کے لیے مطلوبہ منزل پہلے ہی خاصی واضح ہے۔ اس کی قابلیت کا امتحان اس بات میں ہے کہ وہ مسلم گھرانے کی مہذب، باشعور اور ذمہ دار عورت بن سکے۔ شخصیت بڑھتی ضرور ہے، مگر اس کی سمت کھلی نہیں۔ اصلاحی منصوبہ منزل پہلے متعین کرتا ہے، تعلیم لڑکی کو اس منزل تک بہتر انداز سے پہنچنے کے قابل بناتی ہے۔

لکھائی کے خلاف ماں کا اعتراض اسی پورے تربیتی منصوبے کی ایک دراڑ دکھاتا ہے۔ مسئلہ حروف سیکھنے کا نہیں، ان حروف کے آزاد استعمال کا ہے۔ جو عورت لکھ سکتی ہے وہ کسی غیر موجود شخص سے مکالمہ کر سکتی ہے، اپنی شکایت محفوظ کر سکتی ہے، کسی خیال کو اپنے خاندان کی اجازت کے بغیر دوسروں تک پہنچا سکتی ہے اور اپنی یاد کو تحریر کی شکل دے سکتی ہے۔ قلم عورت کی جسمانی موجودگی سے زیادہ دور سفر کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے لکھنے کی صلاحیت پدرسری نگرانی کے لیے پڑھنے کے مقابل زیادہ بے قابو قوت بن سکتی تھی۔ راشد الخیری تعلیم کے حامی ہیں اور اپنے اصلاحی استدلال میں علم کو مرد و عورت دونوں کی انسانی تشکیل سے جوڑتے ہیں۔ دوسرے مقام پر علم کو ایسی قوت کہا گیا ہے جو آدمی کو آدمی بناتی ہے۔ دونوں باتیں ساتھ رکھیں تو ناول کی اصل کشمکش صاف ہوتی ہے۔ جہالت قابل قبول نہیں، مگر علم سے پیدا ہونے والی خود اختیاری کے بارے میں معاشرہ مطمئن بھی نہیں۔ تعلیم درکار ہے، مگر تعلیم یافتہ عورت اپنی صلاحیت کہاں اور کس حد تک استعمال کرے گی، اس کا فیصلہ خاندان اپنے ہاتھ سے آسانی سے چھوڑنے پر تیار نہیں۔

راشد الخیری کی نسوانی تعلیم کا تصور آج کے پیشہ ورانہ یا شہری خود مختاری کے تصور سے مختلف ہے۔ شاہ نواز فیاض نے ان کے اصلاحی پروگرام کے جن پہلوؤں کی نشان دہی کی ہے ان میں ماں باپ کا ادب، گھر کا حساب، بچوں کی تربیت، ازدواجی حسن معاشرت اور سسرالی تعلقات کی نگہداشت نمایاں ہیں۔ ان ذمہ داریوں کو معمولی کہنا درست نہ ہوگا۔ گھر کا بجٹ، خوراک، بچوں کی صحت، لباس، تعلقات اور روزمرہ نظم حقیقی ذہانت اور محنت چاہتے ہیں۔ جدید تنقید خود بھی کبھی خانگی محنت کو کم درجے کی سرگرمی سمجھ کر وہی تعصب دہرا سکتی ہے جس نے صدیوں تک عورت کے کام کو غیر مرئی رکھا۔ راشد الخیری کی اہم خدمت یہ ہے کہ وہ گھریلو قابلیت کو سنجیدہ سماجی قدر عطا کرتے ہیں۔ سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں عورت کی تقریباً پوری ذہانت خاندان کی خدمت کے ساتھ مشروط ہونے لگتی ہے۔ اگر علم کی قدر کا آخری پیمانہ یہی ہو کہ عورت گھر کتنی خوبی سے سنبھالتی ہے تو تعلیم آزادی کا دروازہ کھولنے کے ساتھ اس خدمت کو زیادہ مؤثر بنانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

نسیمہ کی شخصیت اسی باریک سرحد پر قائم ہے۔ مصنف اسے بے عقل، خاموش اور مکمل تابع وجود نہیں بناتے۔ وہ سیکھتی ہے، سمجھتی ہے، مذہبی اور اخلاقی شعور حاصل کرتی ہے اور اپنے کردار کے ذریعے بہتر فیصلوں کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ اس کے باوجود ذات کی پوری معنویت بیٹی، بیوی، بہو اور آئندہ ماں کے دائروں سے الگ کوئی مضبوط سماجی صورت اختیار نہیں کرتی۔ عورت فرد بنتی ہے مگر اس فرد کی شناخت رشتوں کے ذریعے لکھی جاتی ہے۔ تعلیم یافتہ مرد اپنی قابلیت سے پیشہ، معاشرت، سیاست اور علم کی دنیا میں الگ مقام حاصل کر سکتا تھا۔ عورت کے لیے قابلیت کا بڑا امتحان رشتوں میں کامیابی رہتا ہے۔ صبحِ زندگی کی تانیثی قرأت میں یہی فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ راشد الخیری عورت کو ذہنی انسان تسلیم کرتے ہیں مگر اس ذہنی انسان کی آزادی کو مکمل سماجی فرد کی آزادی تک نہیں لے جاتے۔ اصلاح نے پرانی دیوار میں دروازہ تو بنایا، مگر دروازے کے آگے راستہ کتنا کھلا ہوگا، اس کا فیصلہ ابھی خاندان کے ہاتھ میں ہے۔عنوان بھی اس فکری نظام سے بے تعلق نہیں۔ صبح زندگی کے آغاز، تازگی اور امکان کی علامت ہے۔ نسیمہ کا بچپن اور نوجوانی مستقبل کی تیاری کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ عام معنی میں صبح اپنے اندر بے شمار امکانات رکھ سکتی ہے، لیکن ناول کے اندر اس امکان کی منزل خاصی متعین ہے۔ لڑکی کو زندگی کے آئندہ مرحلے کے لیے تیار ہونا ہے اور وہ مرحلہ بڑی حد تک شادی کے بعد کھلتا ہے۔ کنوارپن خود کوئی آزاد منزل نہیں بنتا بلکہ ازدواجی اور خانگی زندگی کا مقدمہ معلوم ہوتا ہے۔ عنوان کی لطافت کے پیچھے اصلاحی تصور کی پوری سمت موجود ہے۔ روشنی ضرور پھیلتی ہے مگر راستہ پہلے سے نشان زد ہے۔ نسیمہ کی زندگی کی صبح اسے کسی نامعلوم افق کی طرف نہیں چھوڑتی۔ تربیت اس کے لیے ایسے اخلاقی اور معاشرتی نقشے تیار کرتی ہے جن میں ایک اچھی عورت کے مقام، ذمہ داری اور کامیابی کے معیارات پہلے ہی موجود ہیں۔

راشد الخیری کے ہاں مذہب عورت کے حق کو محدود کرنے والی زبان کے بجائے کئی مواقع پر اسے بازیاب کرنے کا وسیلہ بنتا ہے۔ عورت کے مالی حق، وراثت اور شخصی حیثیت سے متعلق استدلال کی تاریخی اہمیت کم نہیں۔ ایسی معاشرت میں جہاں رسم، خاندان یا مردانہ اختیار عورت کے شرعی حق کو دبا سکتے تھے، مذہبی دلیل خود پدرسری رسم کے خلاف استعمال ہو سکتی تھی۔ صبحِ زندگی سے متعلق ثانوی مطالعات میں وہ مقامات نقل ہوئے ہیں جہاں عورت کی ملکیت اور حق کو دینی اصول کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ راشد الخیری کے لیے اصلاح کا ایک اہم طریقہ یہ تھا کہ مذہب کو سماجی ناانصافی سے الگ کیا جائے۔ عورت پر ہونے والی ہر زیادتی کو دین کا تقاضا نہیں مانا جا سکتا۔ بعض رسوم کی مخالفت اسی دینی زبان کے ذریعے کی جاتی ہے جس کے نام پر معاشرتی جبر کو کبھی جائز ٹھہرایا جاتا تھا۔ تاریخی اعتبار سے یہ مداخلت قابل قدر تھی کیونکہ اصلاح کسی بیرونی تہذیبی حکم کے بجائے مسلم معاشرے کی اپنی اخلاقی روایت سے دلیل حاصل کر رہی تھی۔مذہبی حق کی بازیافت کے ساتھ ایک حد بھی جڑی رہتی ہے۔ عورت کو پہلے سے موجود اخلاقی اور شرعی نظام میں اپنا جائز مقام واپس ملتا ہے، وہ سماجی اصولوں کی خود مختار خالق نہیں بنتی۔ حق اور فرض مسلسل ساتھ چلتے ہیں، مگر عملی زندگی میں فرض کا بوجھ عورت پر زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ اسے تعلیم ملے، مال پر حق حاصل ہو، عزت سے زندگی گزارے اور ظلم سے محفوظ رہے۔ ساتھ ہی مثالی بیٹی والدین کا ادب کرے، مثالی بیوی شوہر کی رضا کا خیال رکھے، مثالی بہو خاندان کی مناسبت سنبھالے اور مثالی ماں آئندہ نسل کی درست تربیت کرے۔ عورت کو اخلاقی طاقت ضرور ملتی ہے مگر گھر کے رسمی اقتدار کی تقسیم بنیادی طور پر اپنی جگہ رہتی ہے۔ وہ کردار کے حسن سے شوہر اور خاندان پر اثر انداز ہو سکتی ہے، لیکن ازدواجی اختیار کی پوری ساخت سوال کے کٹہرے میں نہیں آتی۔ اصلاح عورت کی پوزیشن بہتر بناتی ہے، طاقت کی بنیاد ازسرنو تقسیم نہیں کرتی۔

اس طرز اصلاح کو سمجھنے کے لیے اپنے زمانے کی مزاحمت یاد رکھنا ضروری ہے۔ گیل منالٹ کی مسلم خواتین کی تعلیم پر تحقیق دکھاتی ہے کہ لڑکی کو پڑھانے کا سوال نصاب سے بہت آگے جاتا تھا۔ پردہ، مذہبی شناخت، گھر سے باہر نقل و حرکت، مطالعے کا مواد، خواتین کے رسائل اور جدید تعلیم کے ممکنہ سماجی اثرات سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ اصلاح پسندوں کو عورت کی تعلیم کے لیے ایسی دلیل درکار تھی جسے خاندان اپنے اخلاقی نظام کے لیے خطرہ نہ سمجھے۔ اچھی بیوی اور قابل ماں کے تصور نے تعلیم کے حق میں جگہ پیدا کی۔ اسی دلیل نے اس جگہ کی سرحد بھی مقرر کر دی۔ تعلیم قبول کی جا سکتی تھی کیونکہ اس سے گھر بہتر ہوگا۔ عورت کی آزاد شخصیت کے لیے تعلیم کا مطالبہ کہیں زیادہ سخت مزاحمت پیدا کر سکتا تھا۔ راشد الخیری کی اصلاحی حکمت عملی میں کامیابی اور محدودیت ایک ہی مقام پر ملتی ہیں۔ انہوں نے دروازہ ایسے استدلال سے کھولا جو اپنے عہد میں قابل سماعت تھا، مگر اس استدلال کے اندر گھر عورت کی قابلیت کا سب سے بڑا جواز بھی بنا رہا۔صبحِ زندگی میں عورتیں بولتی ہیں۔ ماؤں، بیٹیوں اور گھر کے دوسرے کرداروں کی گفتگو تعلیم، تربیت، حیا، شادی، رشتوں اور روزمرہ ذمہ داریوں کو ادبی مواد بناتی ہے۔ بڑے سیاسی بیانیے جن معاملات کو نجی اور معمولی سمجھ سکتے تھے، راشد الخیری انہیں قصے کے مرکز میں لے آتے ہیں۔ لڑکی لکھنا سیکھے یا نہیں، شادی سے پہلے کون سی تربیت ضروری ہے، گھر کا نظام کس طرح چلے، عورت اپنے حق کو کس زبان میں سمجھے، ان سوالات کے ذریعے گھر طاقت کی ایک چھوٹی مگر مکمل دنیا بن جاتا ہے۔ نسوانی تجربے کی ادبی مرئیت کے اعتبار سے اس کام کی قدر ہے۔ اردو نثر میں عورت کے گھر کو محض پس منظر کے بجائے مسئلے کی جگہ بنانا خود ایک تاریخی عمل تھا۔ مگر عورت کا بولنا اور عورت کی مکمل آزاد آواز ایک ہی بات نہیں۔ کرداروں کی گفتگو بالآخر مرد مصنف کے قائم کردہ اصلاحی نظام کے اندر موجود ہے۔ ناول فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی نسوانی رائے جہالت کی نمائندہ ہے اور کون سی صحیح تربیت کی۔

مرد مصنف کی بنائی ہوئی نسوانی آواز کو براہ راست عورت کی اپنی غیر واسطہ آواز مان لینے سے تاریخی فرق ختم ہو جائے گا۔ راشد الخیری عورت کے دکھ، خانگی دباؤ اور محرومی کو زبان دیتے ہیں، لیکن اس زبان کا اخلاقی مرکز ان کے اپنے اصلاحی تصور میں قائم ہے۔ بعد کے زمانے میں رشید جہاں اور عصمت چغتائی جیسی خواتین جب عورت کے جسم، خواہش، ازدواج، گھریلو جبر اور جنس پر خود لکھتی ہیں تو زاویہ بدل جاتا ہے۔ عورت اصلاح کا موضوع یا اخلاقی مخاطب رہنے کے بجائے اپنی الجھن، خواہش، غصے اور تضاد کی راوی بن سکتی ہے۔ راشد الخیری اس ادبی مرحلے سے پہلے کھڑے ہیں۔ ان کی تاریخی اہمیت اسی عبوری جگہ میں ہے جہاں عورت پہلے گھر کے مسئلے کے طور پر نمایاں ہوتی ہے، پھر باقاعدہ قاری بنتی ہے اور رفتہ رفتہ خود لکھنے والی آواز کے لیے مطبوعہ فضا تیار ہونے لگتی ہے۔ عصمت جیسے رسائل کی روایت نے اس قاری طبقے کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔راشد الخیری کے ناولوں پر ہونے والی تانیثی تحقیق بھی بتاتی ہے کہ انہیں اب اصلاحی ادب کی محدود درسی تعریف میں بند رکھنا مشکل ہے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی فہرست میں راحت فاطمہ کا ایم فل تحقیقی کام راشد الخیری کے معاشرتی ناولوں کے تانیثی مطالعے کے عنوان سے درج ہے۔ جدید تحقیق کے لیے بنیادی دلچسپی یہی ہے کہ ایک ایسا مصنف جو عورت کی حالت بہتر بنانا چاہتا تھا، پدرسری معاشرت سے کس حد تک اختلاف کر سکا اور کن مقامات پر اسی معاشرت کی اقدار اس کے اصلاحی تصور میں جذب رہیں۔ تانیثی مطالعہ تاریخی مصنف سے آج کی سیاسی اصطلاحات کی مکمل پابندی طلب نہیں کرتا۔ زیادہ مفید کام اس تبدیلی کی مقدار اور نوعیت پہچاننا ہے جو اس کے متن نے اپنے زمانے میں ممکن بنائی۔ صبحِ زندگی کے معاملے میں عورت کی تعلیم، حق اور ذہنی قابلیت کے لیے جگہ یقینی طور پر وسیع ہوتی ہے، مگر اس وسعت کی بیرونی حد خاندان، نکاح اور صنفی فرض کے تصور سے مسلسل متعین ہوتی رہتی ہے۔

فنی سطح پر اصلاحی مقصد ناول کے ساتھ دو مختلف کام کرتا ہے۔ گھریلو زندگی کے ایسے مسائل افسانوی اہمیت حاصل کرتے ہیں جو دوسری صورت میں شاید اخلاقی رسالے یا خانگی نصیحت تک محدود رہتے۔ ماں اور بیٹی کے اختلاف میں پورا سماجی ذہن بولنے لگتا ہے۔ خط لکھنے کا معمولی مسئلہ اختیار کی بحث بن جاتا ہے۔ تعلیم کا سبق عورت کی سماجی حیثیت سے جڑ جاتا ہے۔ گھر کے حساب اور روزمرہ نظم کے اندر غیر مرئی نسوانی محنت سامنے آتی ہے۔ مقصد نے مواد کو سنجیدگی دی، مگر وہی مقصد بعض مقامات پر کرداروں کے اوپر بھی سوار ہو جاتا ہے۔ مکالمہ کبھی زندہ گفتگو کے بجائے مصنف کی دلیل کا ذریعہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایک کردار فرسودہ سوچ کا نمائندہ بن جاتا ہے، دوسرا اصلاح کی صحیح آواز۔ فکری سمت صاف رہتی ہے مگر انسانی پیچیدگی کم ہو جاتی ہے۔پریم چند سمیت بعض قدیم ناقدین نے راشد الخیری کے مقصدی انداز اور مذہبی تبلیغ کے قریب پہنچنے والی نثر کی طرف اشارہ کیا تھا۔ ان کے کرداروں پر مثالی عورت اور ظالم یا غلط مرد کی تکرار، طویل تقریروں اور یک رخے پن کے اعتراضات بھی سامنے آئے۔ صبحِ زندگی پڑھتے ہوئے ایسے اعتراضات کو مکمل طور پر بے بنیاد کہنا مشکل ہے۔ اصلاحی ناول قاری کی اخلاقی رہنمائی چاہتا ہے، جبکہ جدید ناول اکثر کردار کو ایسے کھلے تضاد میں چھوڑ دیتا ہے جہاں کوئی ایک صحیح جواب فوری طور پر میسر نہ ہو۔ راشد الخیری کے کردار بہت دفعہ معلوم سمت کی طرف جاتے ہیں۔ نسیمہ کی کامیابی کا تصور مصنف کے لیے پوشیدہ نہیں۔ قاری سے یہ توقع کم ہے کہ وہ خود طے کرے کہ بہتر نسوانی زندگی کیا ہے، متن پہلے ہی بڑی حد تک اس کا جواب رکھتا ہے۔

مقصدیت کے باوجود گھریلو گفتگو میں محفوظ سماجی تاریخ ان ناولوں کی حقیقی قوت ہے۔ بڑی سیاسی تاریخ ہمیں حکومت، جنگ، تحریک اور ادارے بتاتی ہے۔ گھر کی چھوٹی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک لڑکی کے قلم سے خاندان کیوں ڈرتا تھا، تعلیم اور حیا کو کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا جاتا تھا، اچھی بیٹی کی تعریف کیا تھی، بہو سے کس قسم کی توقعات رکھی جاتی تھیں اور عورت کا علم کن کاموں میں جائز تصور ہوتا تھا۔ صبحِ زندگی اپنے اصلاحی ارادے سے آگے بڑھ کر ایک مخصوص معاشرتی ذہن کی دستاویز بھی بن جاتا ہے۔ ادبی دستاویز کو مردم شماری یا غیر جانب دار تاریخی رپورٹ نہیں سمجھنا چاہیے، مگر تخلیقی متن زندگی کی ایسی باریک عادتیں محفوظ کر لیتا ہے جن تک رسمی تاریخ ہمیشہ نہیں پہنچتی۔ راشد الخیری کا گھر اسی معنی میں مطالعے کے قابل ہے۔ وہاں طاقت اونچی آواز کے فرمان میں ہی نہیں، تربیت، شرم، توقع، محبت اور اچھی عورت کی تعریف کے اندر بھی کام کرتی ہے۔ناول کی زبان اسی گھریلو قربت سے قوت لیتی ہے۔ روزمرہ مکالمہ، نصیحت، محاورہ اور مذہبی استدلال ایک دوسرے میں مل جاتے ہیں۔ نذیر احمد کی اصلاحی روایت سے تعلق واضح ہے، مگر راشد الخیری عورت کے جذباتی اور خانگی تجربے کو زیادہ مسلسل مرکز میں رکھتے ہیں۔ داؤد عثمانی نے ان کے اسلوب کی سادگی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایسی سادگی ان جگہوں پر زیادہ مؤثر ہے جہاں کردار کا جملہ اپنے عہد کا ذہنی ماحول محفوظ کر لیتا ہے۔ ماں کا لکھائی سے خوف کسی پیچیدہ نظریاتی اصطلاح کے بغیر عورت، قلم اور نگرانی کا پورا رشتہ کھول دیتا ہے۔ فنی کمزوری تب پیدا ہوتی ہے جب سادہ گفتگو تقریر میں بدل جائے اور کردار کی آواز مصنف کی آواز سے الگ پہچانی نہ جا سکے۔ اصلاحی نثر کی سب سے بڑی آزمائش بھی شاید یہی ہے کہ سبق کردار کو نگل نہ جائے۔

نسیمہ کو مکمل بے اختیار کہنا اس کے کردار کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ تعلیم، فہم، اخلاقی شعور اور گھریلو قابلیت اسے اپنے ماحول میں وزن دیتے ہیں۔ محدود دائرے کے اندر اختیار بھی اختیار کی ایک صورت ہے۔ روزمرہ فیصلے، گھر کی تنظیم، مالی سمجھ، بچوں کی تربیت اور رشتوں پر اثر کو بے معنی قرار دینا عورت کی تاریخی محنت کی تحقیر بن سکتا ہے۔ دوسری طرف ان صلاحیتوں کو مکمل آزادی کہنا بھی درست نہیں۔ کسی انسان کے پاس گھر کے اندر اثر ہو سکتا ہے جبکہ جائیداد، نقل و حرکت، پیشہ، ازدواجی فیصلے یا سماجی اقتدار کے بڑے شعبے اس کے قابو سے باہر رہیں۔ صبحِ زندگی کا مطالعہ ہمیں اختیار کی مختلف سطحیں الگ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ بغاوت اختیار کی واحد صورت نہیں، مگر فرمانبرداری کے اندر اثر پیدا کرنا بھی ساختی مساوات کا قائم مقام نہیں۔

ایک صدی بعد ناول کا بنیادی سوال غیر متعلق نہیں ہوا، صرف اپنی صورت بدل چکا ہے۔ اب بحث عموماً اس پر نہیں رہتی کہ لڑکی کو پڑھایا جائے یا نہیں۔ تعلیم کی اصولی ضرورت بڑے پیمانے پر قبول کی جا چکی ہے۔ پھر بھی عورت کی تعلیم کے مقصد پر معاشرتی توقعات مرد اور عورت کے لیے یکساں نہیں۔ تعلیم یافتہ مرد کی کامیابی اکثر اس کے پیشے، آمدنی، علمی قابلیت یا انفرادی ترقی سے ناپی جاتی ہے۔ عورت کی تعلیم کا ذکر ہوتے ہی گفتگو بہت جلد اچھے گھر، بچوں کی تربیت، ازدواجی موافقت اور گھر و باہر کے توازن تک پہنچ جاتی ہے۔ خاندان یقیناً زندگی کا اہم حصہ ہے، مگر سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عورت کی قابلیت کو مستقل طور پر دوسروں کی کامیابی کے ذریعے جانچا جائے۔ صبحِ زندگی اسی ذہنی ساخت کا ابتدائی اور زیادہ واضح نمونہ ہمارے سامنے رکھتا ہے۔تاریخی انصاف کا مطلب راشد الخیری کی حدود کو چھپانا نہیں۔ انہوں نے ایسے زمانے میں عورت کی تعلیم، مالی حق، مذہبی حیثیت اور انسانی وقار پر اصرار کیا جب ان مطالبات کے سامنے حقیقی سماجی مزاحمت موجود تھی۔ اس جرأت کو بعد کے زمانے کی آسانی سے دیکھنا مناسب نہیں۔ ساتھ ہی اصلاحی اہمیت کو جدید تانیثی مساوات کا مترادف بنا دینا بھی تاریخی مبالغہ ہوگا۔ راشد الخیری کی مثالی عورت صاحب علم ہے مگر اس علم کا بڑا مصرف گھر ہے۔ وہ صاحب حق ہے مگر فرائض کی اخلاقی زبان اسے مسلسل گھیرے رکھتی ہے۔ وہ خاندان پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے مگر رسمی اختیار کا بڑا حصہ مردانہ نظم میں رہتا ہے۔ پرانے نظام کے کچھ دروازے کھلتے ہیں، عمارت کا نقشہ بڑی حد تک برقرار رہتا ہے۔ صبحِ زندگی کو شاید اسی عبوری کیفیت میں سب سے بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک پرانا نظام عورت کی مکمل جہالت کا دفاع آسانی سے نہیں کر پا رہا۔ نئی تعلیم دروازے پر پہنچ چکی ہے۔ لڑکی کتاب ہاتھ میں لے رہی ہے۔ مذہبی دلیل اس کے حق میں بھی استعمال ہونے لگی ہے۔ مال اور انسانی حیثیت پر اس کے حقوق کی بات ہو رہی ہے۔ پھر بھی خاندان اس لمحے سے پریشان ہے جب علم اطاعت سے آگے نکل کر اپنی سمت اختیار کر سکتا ہے۔ قلم کی مثال پورے تاریخی مرحلے کی علامت بن جاتی ہے۔ پڑھنے کی اجازت نسبتاً آسان ہے کیونکہ کتاب گھر میں داخل ہوتی ہے۔ لکھائی زیادہ بے چین کرتی ہے کیونکہ لڑکی کے الفاظ گھر سے باہر نکل سکتے ہیں۔

ناول کا آخری اور شاید سب سے دیرپا سوال کسی نظریاتی اصطلاح کا محتاج نہیں۔ نسیمہ کو قلم دے دیا گیا تو اس قلم پر حق کس کا ہوگا۔ استاد کا، والدین کا، شوہر کا، معاشرے کا یا خود نسیمہ کا۔ راشد الخیری عورت کو جہالت سے نکالنے کے لیے سنجیدہ کوشش کرتے ہیں، مگر ان کی اصلاح اس سوال کا وہ جواب نہیں دیتی جسے بعد کی تانیثی تاریخ زیادہ شدت سے پوچھے گی۔ ان کا زمانہ عورت کے ہاتھ میں قلم پہنچانے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ آنے والے زمانوں نے پوچھا کہ وہ قلم کیا لکھے گا اور کس کی اجازت سے لکھے گا۔ صبحِ زندگی کی ادبی اور تاریخی اہمیت اسی فاصلے میں قائم ہے۔ کتاب اپنے عہد کی اصلاحی امید بھی محفوظ کرتی ہے اور اس امید کی حد بھی۔ ایک لڑکی لکھنا سیکھ رہی ہے۔ گھر اسے دیکھ رہا ہے۔ مستقبل ابھی پوری طرح کسی کے اختیار میں نہیں۔