تحریر : عارفہ خان
آج کل آبنائے ہرمز خبروں اور شہ سرخیوں کی زینت بنی رہتی ہے۔ عالمی منظر نامے میں اس کی اتنی اہمیت کی کیا وجہ ہے اور کیوں دنیا کی عسکری اور معاشی طاقتیں اس آبنائے کی بندش پر توجہ دے رہی ہیں، اس کے لیے تو ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آبنائے ہرمز ہے کیا؟ آبنائے ہرمز 35 سے 60 میل چوڑی ایک قدرتی آبی گزرگاہ ہے جو ایران کے شمال سے عمان کو علیحدہ کرتی ہے۔ اس آبنائے سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی (LNG) گزرتا ہے۔ اس علاقے کی برآمدات اگرچہ بنیادی طور پر چار ممالک یعنی بھارت، چین، جنوبی کوریا اور جاپان جاتی ہیں مگر امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے اس آبنائے کی بندش کے نتیجے میں دنیا بھر میں قیمتیں اثر انداز ہو رہی ہیں۔
آبنائے کے جغرافیائی محل وقوع اور اس کے نتیجے میں عالمی معیشت پر ہونے والے گہرے اثرات سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس آبی گزرگاہ کی اتنی اہمیت کیوں ہے۔ مگر یہ دنیا کی واحد آبی گزرگاہ نہیں ہے۔ آبی گزرگاہوں میں سے ایک آبنائے ملاکہ ہے جو کہ بحر الکاہل کو بحر ہند سے ملاتی ہے۔ اسی طرح شمالی افریقہ اور یورپ کے بیچ سے آبنائے جبرالٹر یعنی جبل الطارق گزرتی ہے جو کہ اسلامی تاریخ میں بے انتہا اہمیت رکھتی ہے، اسی آبنائے سے گزر کر طارق بن زیاد نے اسپین فتح کیا تھا۔ بعض مقامات پر قدرتی آبی گزرگاہ نہیں ہوتی، ایسے میں انسانوں نے مصنوعی گزرگاہیں یا نہریں بنا رکھی ہیں تاکہ بحری جہازوں کا راستہ کم ہو سکے، وقت اور ایندھن کی بھی بچت ہو اور صارفین کو اپنی اشیاء جلد از جلد میسر ہوں۔ نہروں میں پاناما اور سویز انتہائی مشہور ہیں۔نہریں، آبنائیں، بندرگاہیں یہ سب مل کر سمندری مواصلاتی نظام کا حصہ ہیں۔
سمندری مواصلاتی نظام یعنی Sea Lines of Communication یا ایس-ایل-او-سیز (SLOCs) وہ راستے ہیں جو کہ دنیا بھر کی بندرگاہوں کو آپس میں ملانے اور عالمی تجارت کے فروغ کا کام کرتے ہیں۔ ان کو علاقائی معیشت کی شریانیں بھی کہا جاتا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی جہاز پر اگر کسی خودمختار ریاست کا پرچم ہو تو اس کو عالمی سمندر میں بغیر روک ٹوک کے سفر کرنے کا حق ہے۔اس سلسلے میں چوک پوائنٹ (Chokepoint) کی بہت اہمیت ہے۔ یہ تنگ مگر جغرافیائی طور پر مرکزی حیثیت رکھنے والے راستے ہوتے ہیں جن پر سے بھاری تعداد میں سمندری ٹریفک گزرتا ہے۔ جنگی حالات میں چوک پوائنٹ سے ملحقہ ممالک ان کو بند کر کے مخالفین کا بھاری مالی و معاشی نقصان کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اس طرح چوک پوائنٹ ایک ہتھیار کا کام دیتے ہیں جن کو استعمال کر کے ممالک بحری طاقت کا بھرپور مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
والٹر ریلے (Walter Raleigh) اور الفریڈ ماہان (Alfred Mahan) جیسے دیگر مفکروں اور مصنفوں کی یہی رائے تھی کہ ایک ملک کو دنیا میں طاقتور پوزیشن حاصل کرنے کے لیے، دنیا پر اقتدار سنبھالنے کے لیے سمندری گزرگاہوں پر اور عالمی پانیوں میں اپنا کنٹرول سنبھالنا ضروری ہے۔ دنیا کی تقریباً 80 فیصد تجارت سمندر کے ذریعے ہی ہوتی ہے، اس طرح جس نے بھی سمندری مواصلاتی نظام پر کنٹرول حاصل کر لیا وہ عالمی معیشت کو بھی اپنے قبضہ میں لے سکتا ہے۔ ایسے میں آبی گزرگاہیں اور ان پر کنٹرول مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ سمندری مواصلاتی نظام میں کسی ایک آبی گزرگاہ کی بندش کا خطرہ ہونے سے ہی دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔اسی لیے اس نزاکت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طاقتور ممالک اپنی حکمتِ عملی ایسی بناتے ہیں کہ ان کی بحری موجودگی، چاہے بیڑوں کی شکل میں ہو یا اڈوں کی، ایسی مخصوص آبی گزرگاہوں کے قریب بڑھا دیتے ہیں جو عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہوں، جسے نیول پریزنس (Naval Presence) کہتے ہیں۔ یہ اپنے حریفوں کے لیے ایک واضح جارحانہ پیغام بن سکتا ہے اور اقوام اپنی بحری موجودگی کو شطرنج کے مہروں کی طرح استعمال کر کے جہاں اپنی عسکری و معاشی طاقت میں اضافہ کرتی ہیں، وہیں اپنے حریفوں کا معاشی طور پر گلا گھونٹنے کا کام بھی کرتی ہیں۔
جہاں امریکہ نے دنیا بھر میں اپنے آف شور بیسز بنا کے رکھے ہیں، اسی طرح چین نے بھی ایک اسٹریٹجی بنائی ہے جسے "اسٹرنگ آف پرلز (String of Pearls) کہتے ہیں اور ہندوستان نے "نیکلس آف ڈائمنڈ اسٹریٹجی بنائی ہے، جن کے ذریعے وہ بھی اپنی سرحد سے دور عالمی سمندر میں اڈے بنا کر اپنی بحری موجودگی کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی طرح کسی چوک پوائنٹ کے قریب موجود ممالک بھی طاقتور ممالک کے مہروں کا کام دیتے ہیں۔ ایسے میں افریقی ملک جبوتی (Djibouti) کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ جبوتی آبنائے باب المندب کے ذریعے بحر ہند کو بحر احمر سے ملاتا ہے اور اس حساس حیثیت کی وجہ سے چین اور امریکہ دونوں نے ہی جبوتی میں اپنے اڈے بنائے ہوئے ہیں۔یوں عالمی منظر نامے میں امریکہ، چین، بھارت، روس اور دیگر نیٹو ممالک نے بھی دنیا بھر میں اپنے اڈے بنا کر بحری موجودگی نمایاں کر رکھی ہے۔ اس عالمی اقتدار کی رسہ کشی میں آبی گزرگاہیں شطرنج کے مہرے کی حیثیت رکھتی ہیں۔
تعارفِ مصنفہ
عارفہ خان بین الاقوامی سیاست اور آبی سیاست (Maritime Geopolitics) کے موضوعات پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ انہوں نے سیاسیات (Political Science) میں گریجویشن اور انٹرنیشنل ریلیشنز (IR) میں ایم ایس کر رکھا ہے۔ اس سے قبل ان کے تحقیقی مضامین
Strathea Policy Journal میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔
