تلاش کریں

مادی عروج اور فکری زوال

 

shehbaz-ali-solangi-madi-urooj-aur-fikri-zawal

تحریر: شہباز علی سولنگی

انسانی تاریخ میں جب بھی ترقی اور عروج کا ذکر آتا ہے، تو انسانی ذہن فوراً مادی آسائشوں، فلک بوس عمارتوں، تیز رفتار ذرائع نقل و حمل اور ٹیکنالوجی کے لامتناہی پھیلاؤ کی طرف جاتا ہے۔ بظاہر ہم ایک ایسے سحر انگیز اور بوقلموں دور میں جی رہے ہیں جہاں معلومات کا ایک اتھاہ سمندر محض ایک کلک کی دوری پر موجود ہے، جہاں جغرافیائی فاصلے سمٹ کر مٹ چکے ہیں اور جہاں انسان نے مادی وسائل پر اپنی حکمرانی کے نئے اور حیرت انگیز ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ سائنس اور ایجادات کے اس سیلاب نے انسانی زندگی کے ظاہری ڈھانچے کو تو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، لیکن اگر اس چمک دمک اور رعنائی کے پسِ منظر میں گہرائی سے جھانک کر دیکھا جائے، تو ایک انتہائی ہولناک اور کڑوا تضاد سامنے آتا ہے جس نے عصرِ حاضر کے انسان کو اندرونی طور پر کھوکھلا اور فکری طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ علم، ٹیکنالوجی اور وسائل کی اس بے پناہ اور اندھی دوڑ نے انسان کے مادی معیارِ زندگی کو تو بلاشبہ ثریا تک پہنچا دیا، لیکن وہ جو انسانی وجود کا اصل جوہر اور معاشرے کی اصل روح تھا—یعنی وسعتِ ظرف، تحمل، رواداری، درگزر اور فکری پختگی،وہ اس مادی ترقی کے گرد و غبار میں کہیں پیچھے چھوٹ گیا۔ یہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ جیسے جیسے ہماری مادی دنیا وسیع سے وسیع تر ہوتی گئی، ہمارے ذہن اور ہمارے قلوب اتنے ہی سکڑتے اور تنگ ہوتے چلے گئے، اور وہ ترقی جسے انسانی معاشرے کے اندر ایک کائناتی شعور، گہرائی اور فکری بالیدگی پیدا کرنی چاہیے تھی، وہ کئی جگہوں پر شدید ترین تنگ نظری، خود پسندی، انا پرستی اور عدم برداشت کا ہولناک سبب بن چکی ہے۔

آج کا انسان مادی روابط اور ڈیجیٹل آلات کے ذریعے دنیا بھر سے جڑا ہوا تو دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ ذہنی طور پر ایک ایسے تاریک اور بند کمرے کا اسیر ہو چکا ہے جہاں اسے اپنی ذات، اپنی انا اور اپنے محدود نظریات کے علاوہ کچھ اور دکھائی نہیں دیتا اور نہ ہی وہ کچھ اور دیکھنا چاہتا ہے۔ معلومات کی اس اندھی فراوانی اور سستے ڈیٹا نے عام پبلک کو عقلِ کل کے ایک ایسے خطرناک اور مصنوعی زعم میں مبتلا کر دیا ہے جہاں انسان متبادل نقطہِ نظر کو سننے، سمجھنے یا اسے برداشت کرنے کا ظرف ہی مکمل طور پر کھو بیٹھا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ معاشرے میں علمی مکالمے اور صحت مند بحث کی جگہ اب فوراً فتوے بازی، دشنام طرازی اور الزامات کے سستے ہتھیار لے لیتے ہیں۔ جب کوئی معاشرہ فکری بالیدگی، کتاب کی خوشبو، لائبریریوں کے سکون اور نظریاتی پختگی کو پسِ پشت ڈال کر صرف اور صرف ظاہری و مادی خوشحالی کو ہی اپنا کل وقتی معبود اور آخری معیارِ زندگی مان لے، تو وہاں رشتوں اور دوستیوں کا وہ مان، وہ لحاظ، وہ درگزر اور وہ مخلصانہ محبت جو کبھی ہماری تہذیب اور انسانیت کا اصل حسن ہوا کرتی تھی، وہ انفرادی مفادات اور ابھرتی ہوئی وحشی انا کی بھینٹ چڑھ کر دم توڑ دیتی ہے۔

سڑکوں پر دوڑتی گاڑیوں کے شور سے لے کر سوشل میڈیا کے کمنٹس سیکشن میں مچی اودہم تک، ہر جگہ پھیلی یہ بدتمیزی، چڑچڑاہٹ، تلخی اور دوسرے کو نیچا دکھانے کا یہ پاگل پن دراصل اس شدید اعصابی تناؤ اور ذہنی دباؤ کا عکاس ہے جو مطالعے کی گہرائی، خاموشی اور غور و فکر سے دوری کے باعث ہمارے اجتماعی شعور میں جمع ہو چکا ہے۔ ہم جس مادی عروج پر فخر کرتے نہیں تھکتے، وہ دراصل اندرونی طور پر ایک گہرے فکری، اخلاقی اور سماجی زوال کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے کیونکہ جب تک ہم اس کڑوے سچ کو تسلیم نہیں کرتے کہ حقیقی انسانی ترقی وسائل کے انبار لگانے یا نئی ٹیکنالوجی کے خادم بن جانے میں نہیں، بلکہ ذہنوں کی کشادگی، شعور کی بالیدگی اور ظرف کی پختگی میں پوشیدہ ہے، تب تک مادی طور پر یہ چمکتی دمکتی اور گلیمر سے بھرپور دنیا فکری طور پر ایک بنجر، قحط زدہ اور لاشوں کے قبرستان سے زیادہ کچھ نہیں رہے گی جہاں سچ لکھنا یا سچ بولنا ہمیشہ ایک جرم ہی تصور کیا جاتا رہے گا۔