تلاش کریں

نظم شکوہ اور جوابِ شکوہ کا پس منظر، فکری و فنی جائزہ

Shehbaz-ali-solangi

 تحریر:شہباز علی سولنگی

علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظمیں "شکوہ" اور "جوابِ شکوہ" بیسویں صدی کے اوائل میں مسلم قوم کے زوال اور ان کی اصلاح کے مروجہ افکار کی بہترین عکاس ہیں۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ نظم "شکوہ" اپریل 1911ء میں انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ اجلاس کے دوران ریواز ہوسٹل، لاہور کے صحن میں پڑھی گئی تھی۔ خلافِ معمول اقبال نے یہ نظم تحت اللفظ میں پڑھی مگر ان کا انداز اور لہجہ اتنا جرات مندانہ اور سحر انگیز تھا کہ سننے والے دنگ رہ گئے۔ اس وقت کے معزز سامع نواب ذوالفقار علی خان نے نظم کا اصل مسودہ ایک سو روپے میں خرید کر انجمنِ پنجاب کو تحفے میں دے دیا۔ یہ نظم پہلے پہل اپنے دور کے ممتاز رسائل جیسے مخزن، تمدن اور ادیب میں شائع ہوئی اور بعد میں اقبال نے اس میں کچھ تبدیلیاں کر کے اسے اپنی تصنیف "بانگِ درا" میں شامل کیا۔ دوسری طرف، جب "شکوہ" کے جرات مندانہ گلہ مندانہ انداز پر بعض روایتی حلقوں کی طرف سے اعتراضات اٹھائے گئے تو اقبال نے اس کا جواب دینے اور مسلمانوں کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرنے کے لیے ڈیڑھ دو سال بعد "جوابِ شکوہ" تحریر کی۔ یہ نظم 1913ء میں موچی دروازے کے باہر منعقدہ ایک بڑے جلسے میں مغرب کی نماز کے بعد پڑھی گئی، جہاں اس کے اشعار کو نیلام کر کے جنگِ بلقان کے متاثرین کی مدد کے لیے گراں قدر رقم جمع کی گئی۔

فکری نقطۂ نظر سے "شکوہ" دراصل معاصر مسلمانوں کے لاشعوری احساسات اور عقیدے کی اس کشمکش کی ترجمانی کرتی ہے جہاں ایک طرف ان کا یہ پختہ ایمان تھا کہ وہ کائنات کی سب سے چہیتی امت ہیں اور دوسری طرف حقیقت میں وہ زوال کا شکار تھے۔ اس فکری ٹکراؤ کو دور کرنے کے لیے اقبال نے براہِ راست خدا کے حضور اپنے دل کا احوال بیان کرنے کا اچھوتا راستہ چنا۔ نظم کے ابتدائی حصے میں اقبال نے بارگاہِ الٰہی میں بے تکلفی سے گفتگو کا جواز پیش کیا ہے کہ قوم کی حالتِ زار دیکھ کر اب خاموش رہنا ممکن نہیں تھا۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں کے تاریخی کارناموں کا تذکرہ کرتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے دنیا سے شرک کا خاتمہ کیا، توحید کو عام کیا، اور یورپ و افریقہ کے کلیساؤں اور صحراؤں میں اللہ کا نام بلند کیا۔ وہ برصغیر کے مسلمانوں کا خاص طور پر ذکر کرتے ہیں جو بت پرستوں کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی تہذیب سے اس حد تک متاثر ہو چکے تھے کہ ان کے لیے "دیر نشین" کا استعارہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ نظم کا اختتام مایوسی سے نکلنے کے لیے ایک پرامید اور عاجزانہ دعا پر ہوتا ہے جہاں وہ مسلمانوں کو سلیمان کی عظمت کے سامنے ایک حقیر چیونٹی کے مانند پیش کرتے ہوئے ان کی حالت بدلنے کی التجا کرتے ہیں۔

اس کے برعکس، "جوابِ شکوہ" میں اسی فکری اضطراب کا نہایت بصیرت انگیز الٰہی جواب دیا گیا ہے۔ نظم کا آغاز شکوے کی اس بے پناہ اثر انگیزی کے ذکر سے ہوتا ہے جس نے آسمانوں اور فرشتوں میں ایک ہلچل مچا دی تھی کہ زمین کا یہ کمزور مکین بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں جانتا، مگر خدا نے اس کے دل کی سچائی اور حسنِ ادا کو سراہتے ہوئے جوابِ شکوہ کا آغاز فرمایا۔ باری تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ خدا کی رحمتیں تو اب بھی عام ہیں مگر دنیا میں کوئی سچا طلبگار ہی موجود نہیں۔ اقبال نے خدا کی زبان سے مسلمانوں کے اخلاقی زوال، غفلت، بت پرستی یعنی مادی آقاؤں کی غلامی اور تقدیر کے غلط تصور پر کڑی تنقید کی ہے۔ وہ مسلمانوں کو ان کے اسلاف کے کردار کا آئینہ دکھاتے ہیں کہ ان کے بزرگ علم و عمل کے پیکر تھے جبکہ موجودہ نسل سست اور کاہل ہو چکی ہے۔ تاہم، اس تنقید کے بعد مایوسی کو دور کرنے کے لیے تاتاریوں کے حملے اور ان کے قبولِ اسلام کی تاریخی مثال پیش کی گئی ہے کہ کس طرح کعبے کو بت خانے سے ہی نئے محافظ مل گئے تھے۔ نظم کا بنیادی فکری حاصل یہ ہے کہ اگر مسلمان دوبارہ عروج حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں حضرت ابراہیم جیسا پختہ یقین اور حضور اکرم ﷺ کی ذات سے حقیقی عشق و وفا کا رشتہ قائم کرنا ہوگا۔

فنی اعتبار سے یہ دونوں نظمیں اردو ادب میں بلاغت اور حسنِ بیان کا نادر شاہکار ہیں۔ یہ دونوں نظمیں مسدس کی شعری ہیئت میں تحریر کی گئی ہیں، جس میں ہر بند کے چھ مصرعے ہوتے ہیں اور یہ ہیئت طویل بیانیہ کلام کے لیے انتہائی پر اثر سمجھی جاتی ہے۔ ان دونوں کی بحر "بحرِ رمل مثمن مخبون مقطوع" ہے، جو اپنی خاص نغمگی اور روانی کی وجہ سے کلام میں ایک وجدانی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ اقبال نے "شکوہ" میں جہاں گلے کا دھیما اور اثر انگیز لہجہ اختیار کیا ہے، وہیں "جوابِ شکوہ" میں براہِ راست تخاطب، طنز اور مصلحانہ جلال کا ملا جلا انداز اپنایا ہے۔ ان دونوں نظموں کی ایک اور نمایاں فنی خوبی ان کی لاجواب تصویر کاری اور صنعت گری کا استعمال ہے۔ اقبال نے خوبصورت الفاظ کی مدد سے ایسے دلکش مناظر کھینچے ہیں کہ قاری خود کو اس ماحول کا حصہ محسوس کرتا ہے، جیسے لڑائی کے میدان میں قبلہ رو ہو کر نماز ادا کرنے کا نقشہ کھینچنا۔ اس کے علاوہ صنعتِ مراعاة النظیر، دلنشیں تشبیہات اور اچھوتے استعارات کا برجستہ استعمال کلام کی معنویت کو بہت بڑھا دیتا ہے۔ ان دونوں نظموں کے تراکیب اور غنائی اسلوب نے اردو لسانیات میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ نظم "جوابِ شکوہ" کا آخری شعر فنی عروج اور پورے کلام کا ایسا نچوڑ پیش کرتا ہے جس سے بہتر تلافی ممکن نہیں تھی اور جس میں بلا کا سوز و گداز پایا جاتا ہے۔

 علامہ اقبال کی یہ دونوں نظمیں مابعد الطبیعاتی اور سماجی شعور کا ایک ایسا حسین امتزاج ہیں جو اردو شاعری کی تاریخ میں ہمیشہ منفرد رہے گا۔ جہاں "شکوہ" دل کے اضطراب اور قوم کے درد کا گلہ تھا، وہیں "جوابِ شکوہ" اس درد کا واحد الٰہی اور عملی علاج بن کر سامنے آئی۔ یہ دونوں شاہکار نہ صرف ادبی چاشنی سے بھرپور ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک ابدی ضابطۂ حیات کا درجہ بھی رکھتے ہیں