تحریر:شہباز علی سولنگی
جب عالمی طاقتوں کے درمیان بارود کی بو پھیلتی ہے اور پھر سفارت کاری کی میز پر امن کے معاہدے طے پاتے ہیں، تو تاریخ نویس عموماً صرف تاریخیں، اعداد و شمار اور جغرافیائی تبدیلیوں کو محفوظ کرتے ہیں۔ حال ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان چھڑنے والے تنازعے اور پھر پاکستان کی کامیاب ثالثی (اسلام آباد مذاکرات) کے بعد، سیاسی، تزویراتی اور معاشی تجزیوں کا ایک طوفان برپا ہے۔ لیکن ایک محقق کی نظر جب ان واقعات کا جائزہ لیتی ہے، تو وہ ان روایتی زاویوں سے آگے بڑھ کر اس 'ثقافتی حاشیے' (Cultural Marginalia) کی کھوج میں نکلتی ہے جہاں جنگ اور امن کی اصل قیمت سماج اور زبان ادا کرتے ہیں۔
جنگ، خواہ سرحدوں پر لڑی جائے یا عالمی ناکہ بندیوں کی صورت میں ہو، سب سے پہلے معاشرے کی نفسیات اور روزمرہ کی زبان پر حملہ آور ہوتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں جب خطے پر تصادم کے بادل منڈلا رہے تھے اور روزمرہ کی زندگی ایک انجانی غیر یقینی کا شکار تھی، تو ہمارے اجتماعی بیانیے میں خوف، انتظار اور عالمی بے بسی کے نئے استعارے شامل ہوئے۔ ادب، جو ہمیشہ سے سماج کا حساس ترین بیرومیٹر رہا ہے، اس کیفیت کو اپنے اندر گہرائی سے جذب کرتا ہے۔ عصرِ حاضر کا فکشن اور سفرنامے، جو پہلے ہی عالمگیریت اور ٹیکنالوجی کے اثرات سے نبرد آزما تھے، اب ایک نئی عالمی کشمکش کے سائے میں تخلیق پا رہے ہیں، جہاں فرد کی تنہائی اور عالمی طاقتوں کی بالادستی کے درمیان تصادم مرکزی موضوع بن کر ابھر رہا ہے۔
پاکستان کا اس پورے منظرنامے میں ایک کامیاب اور مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آنا محض ایک سفارتی کامیابی نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے مقامی اور علاقائی بیانیے میں ایک زبردست اور تاریخی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ دہائیوں سے اس خطے کو عالمی ادب، صحافت اور بصری فنون میں محض ایک 'جنگی زون' یا 'بحرانوں کے مرکز' کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی نے اس فرسودہ بیانیے پر کاری ضرب لگائی ہے۔ اب عصرِ حاضر کے ادب کے پاس ایک نیا استعارہ ہے—امن سازی اور عالمی توازن کا استعارہ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری کی حد ختم ہوتی ہے اور ادب اپنا سفر شروع کرتا ہے۔ مستقبل میں لکھے جانے والے افسانوں اور سفرناموں میں اس خطے کا کردار ایک تصادم کی جگہ کے بجائے، دنیا کو تباہی سے بچانے والے ایک اہم ستون کے طور پر ابھرے گا۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اتنے بڑے عالمی واقعات کے اثرات فوری طور پر کلاسک ادب کا حصہ نہیں بنتے، بلکہ ابتدا میں یہ سماج کے ثقافتی حاشیوں پر نمودار ہوتے ہیں۔ اخبارات کے کالم، 'اردو عکس' جیسے ڈیجیٹل ادبی پورٹلز کی تحریریں، تنقیدی مضامین اور سماجی مباحث وہ ابتدائی مسودے ہیں جن سے مستقبل کا فکشن اپنا خام مال کشید کرے گا۔ اردو ادب، جس نے ہمیشہ تقسیم، ہجرت، اور سماجی المیوں کو بڑی فنی مہارت سے برتا ہے، یقیناً اس نئے عالمی تناظر میں بھی نئی زبان اور نئی علامات تراشے گا۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم سیاست اور معیشت کی کھردری بحثوں کی گرد سے نکل کر اس واقعے کی تہذیبی اور ادبی پرتوں کو کھولیں۔ ان نئے ابھرتے ہوئے لسانی رجحانات، زبان میں شامل ہونے والی نئی تراکیب، اور فکشن کے بدلتے ہوئے موضوعات کو دستاویزی شکل دینا عصرِ حاضر کے قلم کاروں کی اہم ذمہ داری ہے۔ کیونکہ جب توپیں خاموش ہو جاتی ہیں اور معاہدوں کی سیاہی سوکھ جاتی ہے، تو جو چیز ہمیشہ کے لیے باقی رہتی ہے وہ انسان کا وہ تجربہ اور احساس ہے، جو ادب کے سینے میں محفوظ ہوتا ہے۔
