تلاش کریں

اصولِ تحقیق ایک ناقدانہ جائزہ

 


تحریر:شہباز علی سولنگی

تحقیق کا بنیادی مقصد کسی بھی معاملے یا واقعے کو اس کی اصل اور حقیقی شکل میں دیکھنے اور دکھانے کی شعوری کوشش کرنا ہے. یہ کوشش لازمی نہیں کہ ہمیشہ صد فیصد کامیاب ہو؛ اس میں جزوی یا کلی ناکامی کا امکان بھی رہتا ہے. بعض مفکرین کا یہ دعویٰ کہ ”خارجی حقیقت“ (Objective Reality) نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی، سراسر غلط اور ناقابلِ قبول ہے. حقیقت اپنی جگہ مسلمہ طور پر موجود ہوتی ہے، البتہ یہ ممکن ہے کہ اسے کھوجنے والے کے پاس ذرائع محدود یا نامکمل ہوں. لہٰذا، ایک محقق کے لیے اولین شرط یہ ہے کہ وہ موضوع کا انتخاب اپنی ذاتی صلاحیتوں اور دستیاب وسائل کو مدنظر رکھ کر کرے. اگرچہ بعض حساس موضوعات پر حقائق بیان کرنا خطرات سے خالی نہیں ہوتا، لیکن اگر محقق ان خطرات کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے تو اسے ضرور قلم اٹھانا چاہیے، کیونکہ سچائی کے بیان میں خوف کو آڑے لانا ایک محقق کی شان کے خلاف ہے.

تحقیق کے دوران محقق کا فرض ہے کہ وہ ہر بات، چاہے وہ بظاہر کتنی ہی معمولی یا غیر اہم کیوں نہ محسوس ہو، کی پوری چھان بین کرے اور اس کا حق ادا کرے. بعض اوقات بظاہر غیر اہم نظر آنے والی تفصیلات بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتی ہیں. مشہور محقق جانسن کا بھی یہی ماننا تھا کہ معاملے کی جزئیات میں حقیقت سے ذرا سا انحراف بھی تحقیق کے اصولوں کے خلاف ہے، اور یہ عادت بچپن ہی سے پختہ ہونی چاہیے. محقق کے لیے ضروری ہے کہ وہ خطابت، مبالغہ آرائی اور بے جا استعاروں سے گریز کرے. تشبیہات کا استعمال صرف بات کو واضح کرنے کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ عبارت کو محض خوبصورت بنانے کے لیے. اسی طرح، اسماء کے ساتھ صفات کا استعمال تبھی مناسب ہے جب وہ محقق کی حقیقی رائے کی عکاسی کر رہی ہوں. ایک محقق کا اسلوب بیان اس قدر واضح، سادہ اور جامع ہونا چاہیے کہ کم سے کم الفاظ میں قاری تک مفہوم پہنچ جائے اور کسی قسم کے ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے. اس ضمن میں رابرٹ گریوز کی کتاب "The Reader Over Your Shoulder" کا مطالعہ نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے.

تحقیقی تحریروں میں تضاد اور غیر واضح بیانات سے بچنا انتہائی اہم ہے۔ مثلاً، مولانا شبلی نعمانی نے عالمگیر پر اپنی کتاب کے آغاز میں لکھا کہ "جو بات جتنی مشہور ہوتی ہے، اتنی ہی غلط ہوتی ہے"، جو کہ ایک صریحاً غلط دعویٰ ہے؛ انہیں شاید یہ کہنا چاہیے تھا کہ محض شہرت کسی بات کی صحت کی دلیل نہیں ہوتی. اسی طرح محمد حسین آزاد کی "آب حیات" میں ایک ہی جملے میں اردو سے فارسی پر منتقل ہونا قاری کے لیے الجھن کا باعث بنتا ہے. ایک اور مثال مرزا غالب کی ہے، جنہوں نے اسدی طوسی کی لغت کے حوالے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر اسدی کی فرہنگ موجود ہوتی تو بعد کے لغت نویسوں میں اختلاف پیدا نہ ہوتا. حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ زبانیں وقت کے ساتھ ارتقائی مراحل سے گزرتی ہیں اور تغیرات فطری عمل ہیں. اس کے علاوہ، محققین کو چاہیے کہ جب وہ کسی کتاب کا حوالہ دیں، تو مصنف کی زندگی میں چھپنے والے اس کے آخری ایڈیشن کو مستند مانیں، بشرطیکہ ترامیم مصنف کی اپنی ہوں. قدیم مخطوطات (قلمی نسخوں) میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، اور بسا اوقات کاتب اپنی مرضی سے متن میں ردوبدل کر دیتے ہیں؛ اس لیے ہمیشہ محتاط رہنا چاہیے.

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی مصنف کسی بات کا تذکرہ نہیں کرتا، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ بات سرے سے غلط ہے. اسی طرح، صرف خاموشی کو کسی بات کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا. انسانی حافظہ بھی تحقیق میں ایک نازک معاملہ ہے؛ قزوینی اور خود صاحبِ مقالہ کے کئی تجربات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ محض حافظے پر اعتماد کرنا بڑی غلطیوں کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے. لہٰذا، حوالوں اور ماخذ کی جانچ پڑتال کے بغیر کوئی بات وثوق سے نہیں کہنی چاہیے. جب بات حوالوں کی ہو تو تحقیق میں ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اگر محقق کوئی نئی یا غیر معمولی بات پیش کر رہا ہے تو اس کی سند دینا لازمی ہے، البتہ مسلمہ اور عام حقائق کے لیے حوالہ جات سے کتاب کو بوجھل کرنے کی ضرورت نہیں.

محقق کے لیے فنونِ ادبیہ، عروض اور فنِ تاریخ گوئی کے بنیادی اصولوں سے واقفیت حد درجہ ضروری ہے. غالب جیسے عظیم شاعر کو بھی عروض اور قافیے کے اصولوں میں مغالطہ ہوا اور انہوں نے 'آتش' کے تلفظ کے حوالے سے جو دلائل پیش کیے، وہ عروضی اعتبار سے درست نہ تھے. اسی طرح کسی ناموزوں شعر کو نقل کرتے ہوئے اس کے سقم کی نشاندہی کرنا محقق کی ذمہ داری ہے. جو حضرات شعری اوزان یا ادبی اصطلاحات (جیسے تقریظ وغیرہ) کا درست فہم نہیں رکھتے، انہیں دیوانوں کی ترتیب یا اشاعت کے کام سے گریز کرنا چاہیے. مقالہ نگار نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ مادہِ تاریخ نکالتے ہوئے حساب کتاب میں محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات تاریخ گو شعراء مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں اور محض حروفِ ابجد کے روایتی اعداد پر بھروسہ کر کے حتمی نتیجہ اخذ کرنا تحقیق میں گمراہی کا سبب بن سکتا ہے.