تحریر: حکیم انس ابراہیم ہاشمی
عہدِ حاضر کی تہذیبی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایک لرزہ خیز تضاد سامنے آتا ہے۔ ہم نے مادی ترقی کے جن زینوں کو سر کیا ہے، اس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ شیشے اور اسٹیل کے فلک بوس مینار آج ہماری طاقت کا استعارہ بن چکے ہیں، مگر اس عروج کے عقب میں ایک ایسی ویرانی پنپ رہی ہے جسے ہم نے ترقی کی چمک دمک میں دفن کر دیا ہے۔ ہم نے عمارتیں تعمیر کرنے کے علوم تو مہارت سے سیکھ لیے، مگر انسان کو تعمیر کرنے کا ہنر ہم کہیں راستے میں کھو بیٹھے ہیں۔ آج ہمارے پاس رہنے کے لیے عالی شان جگہ تو ہے، مگر ان میں بسنے والے دلوں میں سکون اور اخلاق کا شدید قحط ہے۔ یہ کردار کا بحران محض ایک وقتی سماجی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہماری اجتماعی روح کا وہ گہرا زخم ہے جسے مادی سہولتوں کے مرہم سے نہیں بھرا جا سکتا۔
اس بحران کی جڑیں ہمارے سماجی و تعلیمی ڈھانچے میں گہرائی تک پیوست ہیں۔ معاشی دباؤ اور کیریئر کی اندھی دوڑ نے والدین اور بچوں کے درمیان ایک جذباتی خلیج پیدا کر دی ہے، جس کے باعث بہت سے خاندانوں میں وہ گہرا ربط کمزور پڑتا جا رہا ہے جو اقدار کی منتقلی کا بنیادی ذریعہ تھا۔ جب گھروں میں اخلاقی مکالمہ اور وقت کا اشتراک کم ہو جائے، تو وہاں کردار کی بنیادیں ریت کے گھروندوں کی طرح ڈھہ جاتی ہیں۔ اسی طرح ہمارا موجودہ تعلیمی نظام، جو بہت حد تک بازارِ معیشت کی ضروریات کا تابع ہو چکا ہے، بسا اوقات انسان کو ایک ایسی "مشین" بنا دیتا ہے جو معلومات تو پروسیس کر سکتی ہے، مگر کسی دوسرے کا دکھ محسوس کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوتی جا رہی ہے۔ جب تعلیمی نصاب کا واحد محور محض فنی مہارت ہو، تو کردار سازی کا عمل حاشیے پر چلا جاتا ہے۔ بہت سے تعلیمی ادارے ڈگری دینے میں تو کامیاب ہیں، مگر کردار سازی میں وہ کامیابی دکھائی نہیں دیتی جس کی معاشرے کو ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرتی نظام میں میڈیا اور ثقافتی یلغار نے بھی کردار کشی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج کا میڈیا نمود و نمائش کو کامیابی کا واحد پیمانہ قرار دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہم اپنی زندگی کو دوسروں کو مرعوب کرنے کے لیے ڈیزائن تو کر لیتے ہیں، مگر حقیقت میں ہم اپنے اندر سے خالی ہو رہے ہیں۔ ہم نے سادگی کو پسماندگی کا نام دے دیا ہے اور قناعت کو کم ہمتی سے جوڑ دیا ہے۔ جب ثقافت کا معیار ہی دولت کا حصول بن جائے تو وہاں کردار کا بحران پیدا ہونا فطری ہے۔ قانون کی حکمرانی کا کمزور ہونا اور عدل کا معیار دولت سے وابستہ ہو جانا، معاشرے میں اس احساس کو تقویت دیتا ہے کہ "طاقتور ہی حق پر ہے"۔ یہ سماجی بے راہ روی ایک ایسا معاشرتی کینسر ہے جو اخلاقیات کے تمام ستونوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
اسلامی فکر میں کامیابی کا معیار نہ دولت ہے، نہ طاقت، اور نہ ہی تعمیرات کی بلندی۔ قرآنِ مجید نے اس تصور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے کہ ظاہری نمود و نمائش ہی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ
"بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔" (الحجرات: 13)
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ
"یقیناً اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔" (النحل: 90)
عدل معاشرے میں حقوق کے توازن کا نام ہے، جبکہ احسان انسانیت کے ساتھ خیر خواہی اور حسنِ سلوک کا اعلیٰ ترین اظہار ہے۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک زندہ، متوازن اور مہذب معاشرہ استوار ہوتا ہے۔ افسوس کہ ہم نے عدل کو قانون کی کتابوں تک محدود کر دیا اور احسان کو اپنی اجتماعی زندگی سے بتدریج خارج کر دیا۔
اس بحران کا حل صرف مادی سہولیات کی فراہمی نہیں، بلکہ اپنے معاشرتی فلسفے کی ازسرِ نو تشکیل ہے۔ ہمیں تعلیمی و سماجی ڈھانچے کی ضرورت ہے جہاں علم انسان کو متکبر بنانے کے بجائے تواضع سکھائے، معیشت انسان کو صرف صارف نہیں بلکہ ذمہ دار شہری بنائے، اور خاندان صرف رہائش کی جگہ نہیں بلکہ کردار سازی کا پہلا ادارہ بنے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تہذیب پتھر، فولاد اور شیشے سے نہیں، بلکہ دیانت، عدل، رحم اور ایثار سے زندہ رہتی ہے۔ حقیقی ترقی یہ نہیں کہ ہم نے کتنی بلند عمارتیں تعمیر کیں، بلکہ حقیقی ترقی یہ ہے کہ ہم نے کتنے بلند کردار تعمیر کیے۔
شاید اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنی بلند عمارتیں تعمیر کیں، بلکہ یہ ہے کہ ان عمارتوں میں کتنے بلند کردار پروان چڑھے۔ جب انسان کی تعمیر رک جائے، تو عمارتوں کی یہ بے ہنگم بلندی تہذیب کے زوال کو چھپا نہیں سکتی، بلکہ وہ خود ہمارے اخلاقی بانجھ پن کی گواہی بن جاتی ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم ترقی کو انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بناتے ہیں یا اسے اپنی اخلاقی زوال پذیری کا پردہ۔
