تحریر:شہباز علی سولنگی
اردو ادب کے آسمان
پر ایک درخشندہ ستارے کی مانند ابھرنے والے پروفیسر حامدی کاشمیری کا اصل نام حبیب
اللہ تھا، جب کہ علمی و ادبی حلقوں میں انہوں نے اپنے تخلص حامدی کاشمیری سے شہرت
پائی۔ ان کی ولادت ۲۹
جنوری ۱۹۳۲ء کو سری
نگر کے علاقے بہوری کدل کی قدیم بستی میں ہوئی، اور وہیں والدین کے زیرِ سایہ ان کی
پرورش ہوئی۔ ان کے والد محمد صدیق بٹ کی شادی ۱۹۲۸ء میں خورشید بیگم سے ہوئی تھی،
جن سے کل بارہ بچے پیدا ہوئے؛ بدقسمتی سے چار بیٹے بچپن ہی میں انتقال کر گئے، اور
بقیدِ حیات پانچ بھائیوں اور تین بہنوں میں حامدی صاحب عمر کے لحاظ سے سب سے بڑے
تھے۔ ان کی شخصیت پر گھر کے صوفیانہ اور مذہبی ماحول کا گہرا رنگ غالب تھا۔ ان کے
والد گرامی خود تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود علم کی قدر و قیمت سے بخوبی آشنا
تھے اور بچپن ہی سے انہیں اپنے ہمراہ مسجد لے جایا کرتے تھے، جس کے باعث ان کی فطرت
میں نماز روزے کی پابندی اور شعر و سخن کا میلان پیدا ہوا۔ محلے کی مسجد کے امام
مبارک شاہ صاحب کی شفقت اور ان کی خوش الحانی کا حامدی صاحب پر اس قدر اثر ہوا کہ
انہوں نے کم عمری میں ہی میلاد اور معراج النبی کے مواقع کے لیے کشمیری زبان میں
نعتیں لکھنا اور انہیں مسجد میں پیش کرنا شروع کر دیا تھا۔
تعلیم کے ابتدائی
مدارج انہوں نے کلاشپورہ میں پیر عبدالاحد شاہ کی درسگاہ سے قرآنِ مجید کی تعلیم کی
صورت میں طے کیے، جس کے بعد ان کے چچا نے انہیں گورنمنٹ پرائمری اسکول بہوری کدل میں
داخل کروا دیا۔ پرائمری کے بعد جب وہ سری پرتاپ مڈل اسکول میں زیرِ تعلیم تھے، تو
اسکول کی رسمی تعلیم چھوڑ کر اپنے چچا غلام احمد کے اخروٹ کی لکڑی کے کارخانے سے
منسلک ہو گئے، جہاں انہوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت سے نہایت کم وقت میں منقش
سنگار بکس بنانے میں کمال حاصل کر لیا۔ دوسری جنگِ عظیم کی وجہ سے اس ہنر کی مانگ
میں اضافہ ہوا اور انہیں اپنے کام کا اچھا خاصا معاوضہ ملنے لگا، جس نے انہیں تعلیمی
سلسلے سے عملاً دور کر دیا تھا۔ تاہم، جب انہیں ایک ہم جماعت کے ذریعے خبر ملی کہ
ساتویں جماعت میں اول آنے پر ان کے لیے میرٹ اسکالر شپ منظور ہوا ہے، تو علم کی
بجھتی ہوئی چنگاری پھر سے روشن ہو گئی اور وہ کارخانے کی زندگی ترک کر کے دوبارہ
اسکول کی طرف لوٹ آئے۔ ہند و پاک کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے ان کا میٹرک کا
امتحان کچھ تاخیر کا شکار ہوا، مگر بالآخر ۱۹۴۸ء میں انہوں نے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک کا
امتحان پاس کر لیا۔ اس کے بعد تعلیمی فتوحات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا؛ ۱۹۵۲ء میں انہوں نے طلائی تمغے کے
ساتھ بی۔ اے اور فارسی آنرز کیا، ۱۹۵۴ء
میں انگریزی ادب میں ایم۔ اے کیا، ۱۹۵۸ء
میں پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کی، اور آخر کار ۱۹۶۶ء میں کشمیر یونیورسٹی سے پی۔ ایچ
ڈی کی اعلیٰ سند حاصل کی۔
حامدی کاشمیری کا
تعلیمی سفر محض نصابی کتابوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ طالب علمی کے زمانے سے ہی
غیر نصابی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا لازمی حصہ رہے اور کالج میگزین ”پرتاپ“ کی
ادارت کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے۔ عملی و پیشہ ورانہ زندگی میں قدم رکھتے ہی، انہوں
نے ۱۹۵۴ء میں ایس۔
پی۔ کالج میں انگریزی کے لیکچرر کی حیثیت سے اپنی خدمات کا آغاز کیا اور پھر ۱۹۶۱ء میں کشمیر یونیورسٹی کے شعبۂ
اردو سے منسلک ہو گئے۔ ان کی شاندار تدریسی اور انتظامی قابلیت کے باعث، انہیں
مسلسل ترقیاں ملیں؛ وہ ۱۹۷۸ء
میں پروفیسر بنے، اور اپنی شاندار خدمات کی بدولت اگست ۱۹۹۰ء میں کشمیر یونیورسٹی کے وائس
چانسلر کے باوقار عہدے تک پہنچے، جہاں سے وہ دسمبر ۱۹۹۳ء میں ریٹائر ہوئے۔ اس شاندار
تعلیمی کیریئر کے ساتھ ساتھ، وہ ریاستی کلچرل اکادمی، ساہتیہ اکادمی، اور ترقی
اردو بورڈ سمیت متعد د اہم علمی و ادبی اداروں کے بھی متحرک رکن اور عہدیدار رہے۔
ایک عبقری ادیب کے
طور پر ان کی ذہنی پرداخت میں ان کے گھر کے تہذیبی ماحول کا کلیدی کردار رہا، جہاں
چچا کی سنائی گئی داستانیں، والدہ کے لبوں پر مچلتے کشمیری اشعار، اور والد کی
محافلِ موسیقی ان کے تخلیقی شعور کو جلا بخشتی رہیں۔ انہوں نے اپنی قلمی زندگی کا
باقاعدہ آغاز افسانہ نگاری سے کیا، اور ان کی پہلی کہانی ”ٹھوکر“ ۱۹۵۱ء میں دہلی کے مشہور ماہنامے
”شعائیں“ کی زینت بنی۔ اپنے ابتدائی دور میں ناول اور افسانے کے میدان میں طبع
آزمائی کے بعد، ۱۹۶۱ء
میں انہوں نے نثر کی ان اصناف کو الوداع کہہ دیا اور اپنی تمام تر فکری و فنی صلاحیتیں
شاعری اور تنقید کے لیے وقف کر دیں۔ ان کی کل تصانیف و تالیفات کی تعداد ۲۹ ہے، جن میں افسانے، ناول، تنقیدی
مضامین، اور شعری مجموعے شامل ہیں۔ ”عروس تمنا“، ”امکانات“، ”جدید اردو نظم اور یورپی
اثرات“، ”غالب کے تخلیقی سرچشمے“، ”کارگہ شیشہ گری“، اور ”نایافت“ ان کی چند ایسی
شہرہ آفاق کتابیں ہیں جنہوں نے اردو ادب کے سرمائے میں بیش بہا اضافہ کیا۔ ان کی
گراں قدر اور طویل ادبی خدمات کے اعتراف میں مختلف ریاستی اکادمیوں نے انہیں بے
شمار اعزازات اور انعامات سے بھی نوازا۔
اگرچہ بعد میں
انہوں نے تنقید اور شاعری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا، لیکن اردو افسانہ
نگاری کی تاریخ میں بھی ان کا مقام نہایت کلیدی اور منفرد ہے۔ گو کہ ان کی قلمی
جدوجہد کا آغاز ترقی پسند تحریک کے زوال کے ایام میں ہوا، تاہم ان کے افسانوں پر
اس تحریک کی سماجی حقیقت نگاری کی گہری چھاپ موجود ہے۔ انہوں نے اپنے اردگرد بکھرے
دکھوں، غریبی، بیماری، سرمایہ دارانہ استحصال، اور عوام کی بے بسی کو شدت سے محسوس
کیا اور انہیں اپنے افسانوں کا کینوس بنایا۔ ان کا پہلا شاہکار افسانوی مجموعہ
”وادی کے پھول“ (۱۹۵۷ء)
اس دور کے کشمیریوں کی معاشی زبوں حالی اور جذباتی شکست و ریخت کی منہ بولتی تصویر
ہے۔ بعد ازاں، ”سراب“ (۱۹۵۹ء)
اور ”برف میں آگ“ (۱۹۶۱ء)
کی اشاعت ہوئی، جن میں معاشرتی تبدیلیوں، معاشی کشمکش اور خاص طور پر بدلتے ہوئے
حالات میں عورت کی سماجی حیثیت اور اس کے نفسیاتی کرب کو نہایت چابکدستی سے ابھارا
گیا ہے۔ ان کی زبان رواں، رنگین اور شاعرانہ ہے، اور ان کے تراشے ہوئے کردار مقامی
مٹی سے جڑے اور جیتے جاگتے محسوس ہوتے ہیں۔ الغرض، حامدی کاشمیری اپنی ہمہ گیر شخصیت،
کشمیریت کے سچے اظہار، اور فنی پختگی کے باعث تاریخِ ادب کے اوراق میں ہمیشہ ایک
درخشندہ باب کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
