تحیریر :شہباز علی سولنگی
تاریخِ انسانی کا عمیق مطالعہ اس امر کا غماز ہے کہ طاقت اور تسلط کے مراکز وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ہیئت اور خدوخال تبدیل کرتے رہے ہیں۔ ایک وہ دور تھا جب اقوام پر غلبہ پانے اور انہیں زیرِ نگیں کرنے کے لیے لشکروں اور شمشیر و سناں کا سہارا لیا جاتا تھا، اور باقاعدہ جغرافیائی سرحدوں کو پامال کر کے طوقِ غلامی پہنایا جاتا تھا۔ تاہم، اکیسویں صدی کے اس جدید اور نام نہاد مہذب دور میں استعمار نے ایک نیا اور کہیں زیادہ خطرناک لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ آج کے عالمی کا سب سے سنگین اور خاموش مسئلہ وہ معاشی استعمار اور فکری تسلط ہے جس نے پاکستان سمیت پوری تیسری دنیا کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں نہ توپیں چلتی ہیں، نہ سرحدیں ٹوٹتی ہیں اور نہ ہی خون بہتا ہے، مگر پوری کی پوری قومیں اپنی خود مختاری کی قیمت چکا کر اس عالمی بساط کا خاموش ایندھن بن رہی ہیں۔
آج کے عالمی منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور بڑی طاقتوں کا بچھایا ہوا معاشی جال واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر عالمی مالیاتی نظاموں کے قرضے محض معاشی معاونت کا ذریعہ نہیں رہے، بلکہ یہ ایک ایسی فولادی زنجیر بن چکے ہیں جو ترقی پذیر ممالک کی پالیسی سازی، خارجہ امور اور حتیٰ کہ داخلی و سیاسی فیصلوں کو بھی مکمل طور پر اپنے تابع کر لیتے ہیں۔ اس معاشی جبر کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ قرض کی یہ مے ایک بار ہونٹوں سے لگ جائے تو اس کا خمار نسلوں تک نہیں اترتا۔ ریاست کے تمام تر وسائل اور عوام کی محنت کا پھل سود کی ادائیگیوں کی نذر ہو جاتا ہے اور عام آدمی تعلیم، صحت اور بنیادی انسانی ضروریات کے لیے ترستا رہ جاتا ہے۔ مہنگائی، افراطِ زر اور بے روزگاری کا وہ طوفان جو آج ہم اپنے اردگرد دیکھ رہے ہیں، وہ دراصل اسی عالمی معاشی استعصال کا نتیجہ ہے جس میں تیسری دنیا کے عوام کی حیثیت محض ایک شماریاتی عدد یا منافع بخش منڈی سے زیادہ کچھ نہیں۔
لیکن یہ جدید نوآبادیاتی نظام محض معیشت کے میدان تک محدود نہیں ہے؛ اس کا دوسرا اور زیادہ مہلک وار ہماری فکری، سماجی اور ثقافتی اساس پر ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت کے بے دریغ استعمال کے ذریعے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے جو مقامی زبانوں، روایات اور ادبی ورثے کو خاموشی سے نگل رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم سے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور اس کی زبان کا فخر چھین لیا جائے، تو وہ قوم جسمانی طور پر تو آزاد نظر آتی ہے، مگر ذہنی و فکری طور پر غلام ہو جاتی ہے۔ آج کے اس ہنگامہ خیز دور میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ معاشرے میں گہرے مطالعے کا رجحان دم توڑ رہا ہے، سنجیدہ ادب اور تنقیدی سوچ کی جگہ سطحی معلومات اور سنسنی خیزی نے لے لی ہے۔ یہ فکری زوال کوئی حادثہ نہیں، بلکہ اس بڑے عالمی منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد قوموں کو شعور یافتہ افراد کے بجائے محض ’صارفین‘ کی ایک بے ہنگم اور بے حس بھیڑ میں تبدیل کرنا ہے۔
اس سنگین عالمی صورتحال کے اس تاریک پہلو سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ اس کا جواب محض سیاسی نعروں، کھوکھلے دعووں یا جذباتی تقاریر میں نہیں، بلکہ ایک طویل اور کٹھن فکری و عملی جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کرنا ہوگا۔ قومی سطح پر پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانا، طویل المدتی اور پائیدار معاشی پالیسیاں تشکیل دینا اور سب سے بڑھ کر اپنی نئی نسل کی فکری آبیاری کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ حقیقی آزادی اور وقار نہ تو مانگے تانگے کے قرضوں سے مل سکتا ہے اور نہ ہی اغیار کے فکری سانچوں میں ڈھل کر۔ یہ وقت خوابِ غفلت سے بیدار ہونے اور عالمی طاقتوں کی چالوں کو سمجھ کر اپنی بقا کی جنگ لڑنے کا ہے۔ اگر ہم نے آج بھی سطحی اور وقتی مفادات کو قومی وقار پر ترجیح دی، تو تاریخ ہمیں محض ان قوموں کے طور پر یاد رکھے گی جو بے پناہ وسائل اور شاندار ورثے کے باوجود اپنی نااہلی کے باعث خاموشی سے فنا کے گھاٹ اتر گئیں۔
