تلاش کریں

ایک دن خدا کے ساتھ


 

اداریہ :

زیرِ نظر تحریر ایک تمثیلی اور فکری مکالمہ ہے، جس کا مقصد روایتی سوچ کے خول سے نکل کر قرآنی حقائق اور دین کی اصل روح کو سمجھنا ہے۔ یہ ایک طالبِ حق کے ذہن میں ابھرنے والے سوالات اور قرآنِ حکیم سے ملنے والے آفاقی جوابات کا عکس ہے، جسے مکالمے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔

تحریر:حکیم انس ابراہیم ہاشمی

میں نے کائنات کے خالق کا پیغام سنانے والوں کے قریب ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ زندگی کے اصول جان سکوں۔ لیکن وہاں فتووں اور گروہ بندیوں نے میرے ذہن میں سوالات کا انبار لگا دیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اب براہِ راست "صاحبِ کلام" سے رجوع کروں گا۔

1. پہلا سوال: خدا کس کا ہے؟

میں نے اپنے رب سے سوال کیا: "اے خدا! کیا تو صرف مسلمانوں کا خدا ہے؟ کیا تو صرف ان کی دعائیں سنتا ہے؟"

خدا نے جواب دیا:

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الفاتحہ: 2)

(سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں (پوری کائنات) کا رب ہے)

یہاں رب نے واضح کر دیا کہ وہ "رب المسلمین" نہیں بلکہ "رب العالمین" ہے۔ عالمین میں مومن، کافر، چرند، پرند اور پوری کہکشائیں شامل ہیں۔ اس کا نظامِ ربوبیت (پالنا) سب کے لیے یکساں ہے۔ سورج کی روشنی ہو یا بارش کا پانی، اس کی عطا یہ امتیاز نہیں کرتی کہ مستفید ہونے والا سجدہ گزار ہے یا منکر۔ جو اس کے کائناتی قوانین کی پیروی کرے گا، وہ اس کی ربوبیت سے فائدہ اٹھائے گا۔

2. دوسرا سوال: کامیابی کا معیار کیا ہے؟

میں نے پوچھا: "اے رب! کیا کامیاب ہونے کے لیے 'مسلمان' کا لیبل ضروری ہے؟ اگر ایسا ہے تو امتِ مسلمہ زوال کا شکار کیوں ہے؟"

جواب ملا:

بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرہ: 112)

(ہاں، جو بھی اپنا رخ اللہ کے لیے جھکا دے اور وہ احسان کرنے والا (نفع رساں) ہو، تو اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے، اور ایسے لوگوں کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے)

قرآن کامیابی کو کسی خاص موروثی نام یا گھرانے سے نہیں جوڑتا۔ یہاں دو شرائط رکھی گئی ہیں:

  • اسلم وجہہ للہ: یعنی کائناتی سچائیوں اور الٰہی قوانین کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا۔
  • ھو محسن: یعنی وہ معاشرے کے لیے نفع بخش ہو۔ آج غیر مسلم اس لیے کامیاب ہیں کہ وہ اللہ کے بنائے ہوئے طبیعی قوانین کی پیروی کر رہے ہیں اور انسانیت کو نفع پہنچا رہے ہیں، جبکہ ہم صرف نام کے سہارے بیٹھے ہیں۔

3. تیسرا سوال: نماز کی حقیقت کیا ہے؟

میں نے سوال اٹھایا: "اگر دنیاوی کامیابی کا مدار عمل پر ہے تو نماز کیوں فرض کی گئی؟"جواب ملا کہ نماز دراصل ایک "عہدِ بندگی" اور "روڈ میپ" ہے:

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحہ: 6-7)

(ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا)

نماز محض چند حرکات کا نام نہیں، بلکہ یہ روزانہ پانچ مرتبہ اپنے باطنی اور فکری نظام کی تجدید کا نام ہے جو انسان کو بتاتا ہے کہ اسے کس راستے پر چلنا ہے۔ "صراط المستقیم" وہ راستہ ہے جس پر چل کر پچھلی قومیں معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر مستحکم ہوئیں۔ تم نماز میں ہدایت مانگتے ہو لیکن نماز سے باہر نکل کر ان قوانین کو توڑ دیتے ہو، اسی لیے تمہاری نماز تمہیں وہ نتائج نہیں دے رہی۔

4. چوتھا سوال: عبادت کا اصل مفہوم کیا ہے؟

میں نے کہا: "یا اللہ! مجھے تو بتایا گیا کہ تسبیح پڑھنا اور گوشہ نشینی عبادت ہے؟"جواب ملا کہ نیکی اور بندگی کا تصور محض ظاہری رسومات تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے:

لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (البقرہ: 177)

(نیکی صرف یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف کر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ کوئی اللہ پر، روزِ قیامت پر، فرشتوں پر، کتاب پر اور نبیوں پر ایمان لائے، اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، مدد مانگنے والوں اور غلاموں کی گردنیں چھڑانے پر خرچ کرے۔ اور وہ جو نماز قائم کرے، زکوٰۃ دے، اور جب عہد کرے تو اسے پورا کرے، اور تنگی، مصیبت اور جنگ کے وقت صبر کرے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو سچے (ثابت ہوئے) اور یہی پرہیزگار ہیں)

اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ محض قبلے کی طرف رخ کرنا کافی نہیں جب تک تم یتیموں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کے لیے اپنا مال اور جان وقف نہ کرو۔ عبادت یہ ہے کہ معاشرے سے ظلم کا خاتمہ کیا جائے، ایفائے عہد کیا جائے اور مشکل وقت میں ثابت قدم رہا جائے۔ جو نظام انسانوں کو غلامی اور غربت سے نکالتا ہے، وہی اصل میں "اللہ کی بندگی" کا نظام ہے۔

5. پانچواں سوال: مذہبی گروہ بندی اور فتوے کیا ہیں؟

میں نے پوچھا: "یا اللہ! تیرے دین کے دعویدار تو انسانی ترقی کے دشمن بنے بیٹھے ہیں؟"

جواب ملا:

كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ (المومنون: 53)

(ہر گروہ اسی پر مگن ہے جو اس کے پاس ہے)

یہ لوگ محدود اور سطحی فکر کے اسیر ہیں۔ انہوں نے دین کو وسیع کائنات سے نکال کر ایک محدود کنویں میں بند کر دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بس وہی حق پر ہیں اور باقی سب جہنمی۔ جبکہ رب العالمین کا قانون پوری انسانیت کے لیے کھلا ہے۔ جو بھی حق کی تلاش کرے گا اور انسانیت کی فلاح کے لیے کام کرے گا، وہ خدا کے قانون میں اجر پائے گا۔میں نے اجازت مانگی اور یہ جان لیا کہ حقیقی دین "انسان سازی" اور "عالمگیر عدل" کا نام ہے، نہ کہ چند مخصوص گروہوں کی اجارہ داری کا۔