تحریر: حکیم انس ابراہیم ہاشمی
آج جب ہم
معاشرے کے زوال پر بات کرتے ہیں تو ہماری نظریں سب سے پہلے حکومتی ایوانوں یا
معاشی حالات پر جا ٹکتی ہیں۔ حالانکہ ایک اہم ترین پہلو جسے ہم مکمل طور پر نظر
انداز کیے ہوئے ہیں، وہ ہماری 'مذہبی بے راہ روی' ہے۔ مذہب کسی بھی معاشرے کی ریڑھ
کی ہڈی ہوتا ہے، مگر آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہ مذہبی رسومات کی کثرت اور
حقیقی تعلیمات سے دوری کا دور ہے۔ہمارے معاشرے میں مذہبی نمائش تو بہت ہے، مگر
مذہب کی اصل روح یعنی سچائی، دیانت داری اور رواداری مفقود ہو چکی ہے۔ ہم فخر سے
ماضی کی یادیں تو تازہ کرتے ہیں کہ ہمارے مدارس سے کیسی کیسی شخصیات پیدا ہوتی
تھیں، مگر آج ہم نے علمائے دین کو صرف نکاح و طلاق، طہارت اور صوم و صلوٰۃ تک
محدود کر دیا ہے۔ ہم نے علمائے بیوع، علمائے سیاست اور علمائے معاشرت پیدا کرنا
چھوڑ دیے ہیں۔
ہم نے یہ تو
سکھا دیا کہ نماز میں ہاتھ کیسے باندھنے ہیں، رکوع و سجود کا طریقہ کیا ہے اور
تشہد میں کیسے بیٹھنا ہے، مگر وہ نماز کہیں کھو گئی جو بے حیائی اور برے کاموں سے
روکتی تھی۔ ہم نے سحر و افطار کے مسائل تو سمجھا دیے، مگر یہ نہ سکھا پائے کہ روزہ
رکھ کر جھوٹ بولنا اور ناپ تول میں کمی کرنا کیسا ہے؟ ہم نے میت کو دفنانے کے آداب
تو سکھا دیے، مگر اس سے پہلے زندہ انسانوں اور پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی کا سبق
کہیں پیچھے رہ گیا۔ہماری مذہبی تعلیم و تربیت کا حال یہ ہے کہ ہم نے تاریخِ اسلام
کے واقعات کو صرف جنگوں اور فتوحات تک محدود کر دیا ہے۔ ہم بڑے فخر سے ہجرتِ مدینہ
کا قصہ تو سناتے ہیں، لیکن اس کے فوراً بعد سیدھے غزوۂ بدر کے میدانوں کا رُخ کر
لیتے ہیں۔ اس اہم ترین وقفے کو دانستہ یا نادانستہ طور پر نظر انداز کر دیا جاتا
ہے جب نبیِ کریم ﷺ نے 'میثاقِ مدینہ' کی صورت میں انسانی تاریخ کا پہلا تحریری
معاشرتی معاہدہ دیا تھا۔ یہ میثاق اسلام کے دیے ہوئے وہ بنیادی قوانین تھے جن کا
مقصد ایک پرامن اور باہمی احترام پر مبنی معاشرہ تشکیل دینا تھا، مگر آج کا مذہبی
بیانیہ ان بنیادی معاشرتی قوانین سے یکسر عاری نظر آتا ہے۔
اسی طرح ہم صلح
حدیبیہ کو بھی اپنی سہولت کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ ہمارا سارا زور غزوات و
فتوحات پر ہوتا ہے مگر ہم صلح حدیبیہ کے اس عظیم پہلو کو فراموش کر دیتے ہیں جہاں
نبیِ کریم ﷺ نے وقتی جذبات کو پسِ پشت ڈال کر صلح اور امن کو ترجیح دی۔ وہ معاہدہ
جو بظاہر شکست نظر آتا تھا، درحقیقت اسلام کی سب سے بڑی فتح کی بنیاد بنا۔ ہم نے
اپنے خطبات اور بیانات کا مرکز جنگ اور فتوحات کو تو بنا لیا مگر صلح اور بقائے
باہمی کے اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ آج ہم نے صلح کو کمزوری سمجھ لیا ہے۔ضرورت
اس امر کی ہے کہ ہم مذہب کی محض ظاہری رسومات سے نکل کر دین کی اصل کی طرف لوٹیں۔
تعلیمات کو حقیقت کی تڑپ اور عقلِ سلیم کی عینک سے دیکھیں، اپنے ورثے کو پہچانیں
اور دین کو حقیقی ضابطہِ حیات بنائیں۔ہمیں اپنی مساجد اور مدارس میں معاشرتی حقوق،
اخلاقیات، دیانت داری اور قانون کے احترام کو بنیادی تعلیمات میں شامل کرنا ہوگا
اور انہیں خطبوں کا حصہ بنانا ہوگا۔ تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں غزوات و فتوحات
کے ساتھ ساتھ صلح، امن، قانون سازی اور معاشرتی معاہدوں (جیسے میثاقِ مدینہ اور
صلح حدیبیہ) کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں عملی جامہ پہنانا ہوگا۔ہر فرد کو یہ احساس
دلانا ہوگا کہ ایک ایماندار تاجر، ایک ہمدرد اور سچا پڑوسی، اور ایک قانون پسند
شہری ہونا بھی بہترین عبادات میں شمار ہوتا ہے۔
