تلاش کریں

ادبی مطلق العنانیت

 

shehbaz-ali-solangi-adabi-mutlaq-ul-'inaaniyat

تحریر:شہباز علی سولنگی

اردو زبان و ادب کی برصغیر میں ارتقائی تاریخ کا مطالعہ مولوی عبدالحق (1870ء–1961ء) کی ہمہ گیر شخصیت کے بغیر تشنہ رہتا ہے۔ سرسید احمد خان، مولانا الطاف حسین حالی، نواب محسن الملک اور جسٹس محمود کے علمی اثرات کی چھاؤں میں تربیت پانے والے اس بانیِ ادب نے اپنی نوے سالہ طویل عمر کا بیشتر حصہ اردو زبان کی ترویج، تحفظ اور بیداریِ قوم کے لیے وقف کر دیا۔ انہوں نے انیسویں صدی کے آخر میں سرسید تحریک کی عملی اور اصلاحی روایت کو اپنا کر بیسویں صدی کی جدید علمی اور ادارہ جاتی ضروریات کے مطابق ڈھالا۔ تاہم، مولوی عبدالحق کی زندگی کا مطالعہ محض ان کی شاندار علمی فتوحات تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ ان کی شخصیت کا ایک پیچیدہ اور فکر انگیز پہلو ان کی انتظامی سخت گیری اور معاصرین کے نزدیک ان کا "ادبی مطلق العنانیت" پر مبنی رویہ ہے۔ بالخصوص زندگی کے آخری دور میں، قیامِ پاکستان سے ذرا قبل اور بعد کے سالوں میں، ترقی پسند تحریک کے ابھار، جدید افسانہ نگاری کے روپ میں سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی کی بے باک حقیقت نگاری، اور جدید شعراء کی عروضی سرکشی کے ساتھ ان کا رویہ بے حد متنازع اور معترضانہ رہا۔ ایک طرف جہاں ان کی تحقیقی و مدونانہ خدمات نے اردو کو پختگی اور وقار دیا، وہاں ان کے غیر انعطاف پذیر نظریاتی موقف نے جدید تخلیقی دھاروں کے ساتھ ایک گہرا خلیج پیدا کر دیا۔ شاہد احمد دہلوی کے خاکوں کے مجموعے 'گنجینہ گوہر' اور جوش ملیح آبادی کی خود نوشت 'یادوں کی بارات' جیسے اولین اور مستند مآخذ کی روشنی میں مولوی عبدالحق کے ان دونوں پہلوؤں کا ایک متوازن، عمیق اور تنقیدی جائزہ ناگزیر ہے۔

مولوی عبدالحق کی علمی و تحقیقی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک خودمختار علمی تحریک کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ دکنی ادب اور قدیم اردو کے نادر و نایاب مخطوطات کی دریافت، ترتیب اور تدوین ہے۔ اورنگ آباد، حیدرآباد اور دکن کے دیگر کتب خانوں میں صندوقچوں اور الماریوں کی نذر ہونے والے تحقیقی سرمائے کو انہوں نے نہ صرف ضائع ہونے سے بچایا، بلکہ ان پر ایسے مدلل اور فاضلانہ مقدمات تحریر کیے جنھوں نے اردو تحقیق اور متنی تنقید کے بنیادی اصول وضع کیے۔ ان کا مقالہ 'نو طرزِ مرصع' کی اصل کی بازیافت ہو یا قدیم مثنویوں کی تصحیح، عبدالحق نے سائنسی اور تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ ثابت کر دکھایا کہ اردو زبان کی جڑیں برصغیر کی تہذیبی تاریخ میں انتہائی گہری ہیں۔ ان کے تحریر کردہ مقدمات اردو نثر کی تاریخ کا وہ گرانقدر سرمایہ ہیں جو 'مقدماتِ عبدالحق' کے عنوان سے شائع ہو کر تحقیقی دنیا میں مشعلِ راہ بنے۔

ادارہ سازی کے میدان میں انجمن ترقی اردو کو ایک عالمگیر تحریک میں تبدیل کرنا ان کی تنظیمی بصیرت کا لافانی ثبوت ہے۔ اورنگ آباد کالج کے پرنسپل اور پھر عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے تعلیمی و تدریسی سطح پر اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے عملی تجربے کو کامران بنایا۔ دارالترجمہ عثمانیہ کی سرپرستی اور اصطلاحات سازی کے پیچیدہ عمل میں ان کی نگرانی نے اردو زبان کو جدید سائنسی، فلسفیانہ اور قانونی مفاہیم ادا کرنے کے قابل بنایا۔ تقسیمِ ہند کے خونچکاں معرکوں کے دوران جب دہلی میں انجمن کا دفتر اور نادر کتب خانہ تاراج ہوا، تو انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے کراچی منتقل ہو کر انجمن ترقی اردو پاکستان کی بنیاد رکھی اور اپنی عمر کے آخری ایام تک لغت سازی، فرہنگ نگاری اور مجلہ 'اردو' کی اشاعت کے ذریعہ زبان کی خدمت جاری رکھی۔ اسی لغوی، تحقیقی اور انتظامی مجاہدے کے اعتراف میں برصغیر کے تمام علمی طبقوں نے بالاتفاق انہیں "بابائے اردو" کا عظیم الشان لقب عطا کیا۔

بابائے اردو کی بے لوث قومی و ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کے انتظامی اسلوب میں موجود سختی اور جابرانہ رویے کا مطالعہ بھی ان کی شخصیت کے متوازن فہم کے لیے ضروری ہے۔ مولوی عبدالحق بنیادی طور پر ایک سرجینٹ یا فوج کے سالار کے مزاج سے مشابہت رکھتے تھے، جس کے نزدیک نظم و ضبط، اطاعت اور مقصد کی تکمیل کے سامنے فرد کی ذات یا اس کے ذاتی جذبات کی کوئی وقعت نہیں ہوتی تھی۔ شاہد احمد دہلوی نے اپنے ادبی مجلے 'ساقی' اور خاکوں کے مجموعے 'گنجینہ گوہر' میں مولوی عبدالحق کا خاکہ کھینچتے ہوئے ان کی اسی زاہدانہ سختی اور بے رحم انتظامی رویے کی نقاب کشائی کی ہے۔ شاہد احمد دہلوی کے مطابق، مولوی صاحب کے نزدیک انجمن ترقی اردو اور اردو زبان کا تحفظ ہی کائنات کا واحد سچ تھا، اور وہ اس راستے میں کسی معاصر کی رائے، انسانی تعلق یا لچکدار رویے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ وہ اپنے ماتحتوں سے کام لینے کے معاملے میں حد درجے سخت گیر تھے اور ان کی خواہش ہوتی تھی کہ انجمن کے تمام فیصلوں پر بلا چون و چرا عمل درآمد کیا جائے۔

اس انتظامی مطلق العنانیت کے شواہد جوش ملیح آبادی کی آپ بیتی 'یادوں کی بارات' میں بھی نمایاں طور پر ملتے ہیں۔ دارالترجمہ عثمانیہ اور حیدرآباد کے ایام کا تذکرہ کرتے ہوئے جوش نے مولوی صاحب کی شخصیت میں موجود خود رائے پسندی اور اپنے طے کردہ معیارات پر قائم رہنے کی ضدی کیفیت پر روشنی ڈالی ہے۔ جوش کے مطابق، مولوی عبدالحق جن لوگوں سے کسی مسئلے پر اختلاف کر لیتے، ان کے بارے میں ان کا رویہ بے حد معترضانہ اور بعض اوقات انتقامی حد تک سخت ہو جاتا تھا۔ اس رویے کی نفسیاتی وجہ یہ تھی کہ عبدالحق خود کو صرف ایک محقق یا منتظم نہیں بلکہ اردو زبان کا واحد نگہبان تصور کرتے تھے۔ سیاسی اور سماجی سطح پر اردو کے گرد گہرے ہوتے ہوئے مخاطر کے دور میں ان کی سوچ یہ بن چکی تھی کہ ایک مرکزیت پسند، سخت گیر اور جابرانہ قیادت ہی اس زبان کو زوال سے بچا سکتی ہے، لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے ارد گرد آزاد فکر نقادوں اور معاصرین کے لیے گنجائش ختم ہوتی چلی گئی۔

مولوی عبدالحق کا ادبی ذہنی سانچہ سرسید اور حالی کے اصلاحی و افادی نظریات سے تشکیل پایا تھا، جس میں ادب کی افادیت، اخلاقی مقصدیت اور زبان کی صفائی کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ چنانچہ جب بیسویں صدی کے وسط میں نئے فکری اور تخلیقی دھارے بیدار ہوئے تو مولوی صاحب نے اپنے روایتی نقطہ نظر سے ان کی سخت مخالفت کی۔

ترقی پسند تحریک کی آمد اور 1936ء کے بعد مارکسی نظریات کی ترویج نے جب اردو ادب کے افق کو بدلنا شروع کیا، تو مولوی عبدالحق اور ترقی پسندوں کے درمیان ایک شدید نظریاتی تصادم نے جنم لیا۔ ابتدائی طور پر ترقی پسند تحریک کے معتدل ناقدین جیسے سید احتشام حسین اور مجنوں گورکھپوری نے بابائے اردو کی علمی کاوشوں کو سراہا، لیکن جلد ہی تحریک کے جارحانہ رویے اور ماضی کی کلاسیکی اقدار کی تردید کے باعث عبدالحق ان کے سخت خلاف ہو گئے۔ مولوی صاحب کا ماننا تھا کہ ترقی پسند ادب دراصل سیاست کا آلہ کار بن کر زبان کے لطیف اور اخلاقی معیارات کو مسخ کر رہا ہے۔ انہوں نے ترقی پسندوں کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا کہ ادب کا واحد مقصد طبقاتی کشمکش کا بیان ہے، اور وہ ان کی تحریک کو ایک بیرونی فکری یلغار تصور کرتے رہے۔

اسی دور میں سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی جیسے بے باک افسانہ نگاروں کا ابھار ہوا، جن کی تحریروں نے متوسط اور پسماندہ طبقوں کی جنسی و نفسیاتی الجھنوں کو کھلم کھلا موضوع بنایا۔ منٹو کے افسانے 'ٹھنڈا گوشت' اور 'بو' نیز عصمت چغتائی کے افسانے 'لحاف' کی اشاعت کے بعد جب ان پر فحاشی کے مقدمات قائم ہوئے، تو مولوی عبدالحق نے ان تخلیق کاروں کی حمایت کرنے کی بجائے روایتی اخلاقیات کے محافظ کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے ان افسانوں کو ادب عالیہ کی تذلیل اور عریانیت سے تعبیر کیا۔ شاہد احمد دہلوی نے اپنے خاکوں میں منٹو کے خلاف قائم ہونے والے مقدمات اور ان کی مالی و نفسیاتی زبوں حالی کا انتہائی رقت انگیز نقشہ کھینچتے ہوئے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح اس دور کے نام نہاد پرہیزگاروں اور ادبی مسند نشینوں نے منٹو کی تخلیقی ابقریت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور ان پر تازیانے برساۓ۔ مولوی عبدالحق اس احتسابی روئے کے صفِ اول کے رہنما تھے، کیونکہ وہ ادب میں کسی بھی ایسی بے باکی کو زہرِ قاتل سمجھتے تھے جو مشرقی تہذیبی شرم و حیا کے منافی ہو۔

جہاں تک جدید شعراء اور آزاد نظم نگاروں کا تعلق ہے، مولوی عبدالحق کا معترضانہ رویہ یہاں بھی پوری شدت سے ظاہر ہوا۔ حلقہ اربابِ ذوق سے وابستہ جدید شعراء جیسے میرا جی اور ن م راشد کی علامتی و ابہام پسند شاعری، اور ہیئت کی سطح پر آزاد نظم و معرا نظم کے تجربات کو بابائے اردو نے عروضی گمراہی اور مغرب کی بے روح تقلید قرار دیا۔ شاہد احمد دہلوی نے میرا جی کے خاکے میں ان کی بدمعاشانہ اور ستم ظریفانہ حیات کا نقشہ پیش کرتے ہوئے دکھایا ہے کہ زمانہ ان کی قدر کرنے سے قاصر رہا۔ مولوی عبدالحق کی شعری حسیت کلاسیکی عروض، قفیہ و ردیف کی پابندی اور واضح و بلیغ بیان پر قائم تھی۔ وہ آزاد نظم کو بحر کی توڑ پھوڑ اور زبان کا بگاڑ مانتے تھے، لہٰذا انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے روایتی شعری فارم کو بچانے کی سخت کوششیں کیں اور جدید نظم کے معماروں کی سرپرستی سے مکمل انکار کیا۔

مولوی عبدالحق کا تمام تر علمی و انتظامی جہاد اس بات پر مرکوز تھا کہ اردو زبان اپنے "روایتی ڈب" یعنی اپنے کلاسیکی محاورے، املا، قواعد اور شستہ اسلوبِ بیان کو کسی صورت ہاتھ سے نہ جانے دے۔ وہ زبان کی ساخت میں بے جا لچک یا جدید مغربی اصطلاحات کی بے ہنگم پیوند کاری کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے سادگی، سلسلگی اور متانت پر مبنی اس نثر کو فروغ دیا جس کی شروعات سرسید اور حالی نے کی تھی۔

زبان کے روایتی ڈب کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے انجمن ترقی اردو کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی تمام مطبوعات پر ایک سخت معائنی اور سنسر کا نظام قائم کیا۔ کسی بھی مصنف یا شاعر کی تحریر کو اس وقت تک انجمن کے رسائل میں جگہ نہیں ملتی تھی جب تک وہ لغوی صحت اور اخلاقی کسوٹی پر پورا نہ اترتی ہو۔ انہوں نے املا اور صحتِ الفاظ کے حوالے سے ایسے سخت قواعد مرتب کیے جن کی خلاف ورزی کرنے والوں کی وہ کھلے عام اصلاح اور مذمت کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر اردو کا روایتی اسلوبِ بیان اور عروضی پختگی متزلزل ہو گئی تو زبان کا پورا تہذیبی وقار زمین بوس ہو جائے گا، اسی لیے انہوں نے اپنی حیات کے آخری لمحے تک زبان کی کلاسیکی اصالت کا دفاع کیا۔

مولوی عبدالحق کے ادبی اور انتظامی کردار کا حتمی، علمی اور متوازن محاکمہ کرتے ہوئے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ ان کی شخصیت میں موجود شدت اور سخت گیری دراصل ان کے مقصد حیات کی ہی توسیع تھی۔ ان کی گرانقدر علمی خدمات، مخطوطات کی تحقیق، دکنیات کی بازیافت، لغت سازی اور انجمن ترقی اردو کی صورت میں پائیدار ادارے کا قیام اردو ادب کا ایسا عظیم الشان سرنامہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے جس جرات اور استقامت کے ساتھ برصغیر کے سیاسی اور معاشی بحرانوں میں اردو کا پرچم بلند رکھا، اس کی نظیر پوری ادبی تاریخ میں ملنا دشوار ہے۔

 ایک ناقدانہ زاویے سے دیکھا جائے تو ان کی یہ مجاہدانہ سختی ان کے آخری دور میں ایک ایسی ادبی مطلق العنانیت کا روپ دھار گئی جس نے انہیں اپنے دور کے زندہ اور متحرک تخلیقی دھاروں سے کاٹ دیا۔ ترقی پسند تحریک کے مارکسی شعور، سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی کی نڈر نفسیاتی حقیقت نگاری، اور جدید شعراء کے عروضی تجربات پر ان کا معترضانہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بدلتے ہوئے زمانے کے تخلیقی تقاضوں اور فنی آزادی کی ضرورت کو تسلیم کرنے میں ناکام رہے۔ ان کا رویہ دفاعی اور تحفظ پسندانہ تھا، جو ایک روایتی نگہبان کے لیے تو موزوں ہو سکتا ہے لیکن ایک ہمہ گیر ادبی قائد کے لیے شایانِ شان نہیں۔

مولوی عبدالحق کی شخصیت کا متوازن ادراک یہی ہے کہ وہ اردو کے معمار بھی تھے اور اس کے روایتی حصار کے سخت گیر محافظ بھی۔ ان کی ادارتی سخت گیری اور انتظامی مطلق العنانیت کو ان کی بے لوث علمی خدمات سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ یہ دونوں صفات ایک ہی عزمِ مصمم کا حصہ تھیں۔ انہوں نے زبان کو زوال سے بچانے کے لیے جو سخت رویہ اپنایا، اس نے جہاں ایک طرف نئے تجربات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں، وہاں دوسری طرف طوفانی دور میں اردو کے کلاسیکی و تہذیبی سرمائے کو برباد ہونے سے محفوظ بھی رکھا۔