تحریر : شہباز علی سولنگی
کائنات کے مظاہر ہمیشہ سے انسان
کے لیے حیرت اور تفکر کا باعث رہے ہیں۔ قرآنِ مجید بار بار ہمیں دعوت دیتا ہے کہ
ہم آسمانوں، زمین اور سمندروں کی تخلیق میں غور و فکر کریں تاکہ خالقِ حقیقی کی
عظمت اور اس کی قدرتِ کاملہ کا ادراک ہو سکے۔ موجودہ ڈیجیٹل دور میں جب ہم سوشل
میڈیا پر سمندروں کے ملاپ کے دلکش مناظر دیکھتے ہیں، جہاں دو مختلف رنگوں کا پانی
ایک ساتھ بہتا نظر آتا ہے، تو ہمارا دل بے اختیار خالق کی حمد و ثنا بیان کرنے
لگتا ہے۔ یہ جذبہ بلاشبہ ہمارے ایمانی شعور کا ایک خوبصورت حصہ ہے، تاہم تفکرِ
قرآنی کا تقاضا ہے کہ ہم ان نشانیوں کو محض ایک حیرت انگیز واقعے تک محدود رکھنے
کے بجائے ان کے پیچھے کارفرما الٰہی قوانین اور سائنسی حقائق کو بھی سمجھنے کی
کوشش کریں، تاکہ ہمارا مشاہدہ اور علم دونوں وسعت پا سکیں۔
علمِ
طبیعیات اور سمندری علوم کی روشنی میں اس مظہر کا جائزہ لیا جائے تو اسے سائنسی
اصطلاح میں 'ہیلوکلائن' کہا جاتا ہے۔ جب کسی میٹھے پانی کے دریا کا
اخراج سمندر کے کھارے پانی میں ہوتا ہے، تو دونوں پانیوں کی کثافت،درجہ حرارت اور نمکیات کے فرق کی
وجہ سے ایک عارضی حد بندی قائم ہو جاتی ہے۔ قدرت کا یہ کمال ہے کہ اس نے پانی جیسی
سیال شے میں بھی ایسے کڑے طبعی قوانین رکھ دیے ہیں جو مختلف خصوصیات والے پانیوں
کو فوری طور پر ایک دوسرے میں مدغم ہونے سے روکے رکھتے ہیں اور ایک توازن برقرار
رہتا ہے۔ تاہم، سیال حرکیات کے
مسلمہ اصول یہ بتاتے ہیں کہ یہ پانی بتدریج اور انتہائی سست روی سے ایک دوسرے میں
حل ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہ سائنسی حقیقت اس منظر کی عظمت کو قطعی کم نہیں کرتی، بلکہ
اللہ تعالیٰ کی اس بے عیب کاریگری کو عیاں کرتی ہے جس نے پانی کے مالیکیولز کو
اتنے حیرت انگیز ریاضیاتی اور طبعی اصولوں کا پابند کر رکھا ہے۔
سورۃ
الرحمٰن میں دو سمندروں کے درمیان جس 'برزخ' (آڑ) کا ذکر آیا ہے، وہ دراصل خالقِ
کائنات کے اسی عظیم الشان اور ناقابلِ تسخیر نظامِ توازن کی طرف ایک بلیغ اشارہ
ہے۔ اس برزخ کو محض پانی پر تیرتی ہوئی ایک مٹیالی لکیر کے محدود تناظر میں دیکھنا
شاید کلامِ الٰہی کی وسعت اور آفاقیت کے ساتھ انصاف نہ ہو۔ حقیقی برزخ وہ اٹل
قوانین، حدیں اور ضابطے ہیں جو کائنات کے پورے نظام کو درہم برہم ہونے سے روکے
ہوئے ہیں۔ کششِ ثقل کا توازن ہو، کثافت کا فرق ہو یا ماحولیاتی گردش، یہ سب
اسی قادرِ مطلق کے مقرر کردہ اصول ہیں جو ایک لمحے کے لیے بھی اپنی حد سے تجاوز
نہیں کرتے۔ یہی وہ نشانیاں ہیں جو ایک باشعور ذہن کو عمیق فکری مطالعے کی دعوت
دیتی ہیں۔علمی و ادبی ارتقاء کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مظاہرِ قدرت کو سرسری نگاہ سے
دیکھنے کے بجائے ان کی گہرائی تک پہنچنے کی عادت اپنائیں۔ مرزا غالب نے اسی عمیق
مشاہدے اور دیدۂ بینا کی ضرورت کو کیا خوبصورت انداز میں اجاگر کیا تھا کہ 'قطرے
میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل، کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا'۔ ایک
سنجیدہ قاری اور طالبِ علم کے لیے یہ امر ناگزیر ہے کہ وہ اشیاء کو محض ان کے
ظاہری رنگ و روپ سے پرکھنے کے بجائے ان میں چھپے کائناتی حقائق اور استدلال کو
سمجھے۔ حقیقی تفکر ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں کائنات اور خالقِ کائنات کی مستند
اور گہری معرفت تک لے جاتا ہے۔
