تلاش کریں

کرشن چندر کے ہاں مظلوم یا منظر

 

https://magazine.urduaks.com/2026/08/202608shehbaz-ali-solangi-mazloom-ya-manzar-krishan-chander.html

تحریر:شہباز علی سولنگی

کرشن چندر اردو افسانے کے ان ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کسان، مزدور، بھنگی، فاقہ زدہ انسان اور تقسیم کے مارے ہوئے لوگوں کو ادب کے مرکز میں جگہ دی۔ ان کی انسان دوستی اور سماجی وابستگی پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ مگر ایک سوال نسبتاً کم اٹھایا گیا ہے۔ کیا کرشن چندر ہر جگہ مظلوم انسان کو اس کی اپنی آواز کے ساتھ سامنے لاتے ہیں یا بعض مواقع پر اس کا دکھ ایک ایسا ادبی منظر بن جاتا ہے جو قاری کو متاثر تو بہت کرتا ہے مگر کردار کی انفرادی شناخت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ یہ سوال ان کی نیت پر شبہ نہیں کرتا۔ مسئلہ فن کے نتیجے کا ہے۔ کسی مظلوم کے حق میں لکھنا اور اسے اپنی کہانی پر مکمل اختیار دینا دو الگ باتیں ہیں۔ کرشن چندر قاری کو رلانے، جھنجھوڑنے اور ظلم کے خلاف غصہ پیدا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی خوبی کئی جگہ ایسی شدت اختیار کرتی ہے جہاں کردار سے زیادہ اس کی محرومی کا منظر یاد رہ جاتا ہے۔

کالو بھنگی کو لیجیے۔ کالو سماج کے سب سے نچلے طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ دوسروں کی گندگی اٹھاتا ہے، خاموشی سے کام کرتا ہے اور خود تقریباً غیر مرئی زندگی گزارتا ہے۔ کرشن چندر اس کے ذریعے سماجی بے حسی پر سخت ضرب لگاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کالو خود ہمیں کتنا ملتا ہے۔ اس کی خواہشات کیا ہیں، وہ اپنے درجے کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے، اس کے اندر غصہ ہے یا شکست، محبت ہے یا نفرت۔ متن ان سوالوں سے کم اور اس کی محرومی سے زیادہ دلچسپی لیتا ہے۔ کالو کا بے جان چیزوں اور جانوروں کے قریب ہونا ایک خوب صورت علامت بن جاتا ہے۔ انسانی دنیا نے جسے رد کیا وہ دوسری مخلوقات کے درمیان پناہ تلاش کرتا ہے۔ منظر نہایت مؤثر ہے مگر اسی مقام پر خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ قاری کالو کے دکھ سے زیادہ اس دکھ کو پیش کرنے والی فن کاری سے متاثر ہونے لگتا ہے۔ مظلوم موجود رہتا ہے مگر مرکز میں مصنف کی منظر نگاری آ جاتی ہے۔

مہالکشمی کا پل میں یہ مسئلہ اور واضح ہوتا ہے۔ غریب عورتوں کی ساڑیاں اور امیر عورتوں کے قیمتی کپڑے طبقاتی فرق کی ایسی تصویر بناتے ہیں جو فوراً ذہن میں بیٹھ جاتی ہے۔ چھ عورتوں کی زندگی ان کے لباس کے ذریعے سامنے آتی ہے۔ کہیں بچوں کی فیس کا مسئلہ ہے، کہیں بیماری، کہیں شوہر کی بے کاری اور کہیں بھوک۔ کرشن چندر غریب عورتوں کے حق میں کھڑے ہیں مگر ان کی پیش کش میں عورت کا وجود اکثر لباس اور غربت کی علامت میں سمٹنے لگتا ہے۔ عورتیں خود شہر کو کس نظر سے دیکھتی ہیں، حکومت سے کیا چاہتی ہیں، اپنے حالات کے بارے میں کیا سوچتی ہیں، ان سوالوں کی جگہ ساڑیاں بولنے لگتی ہیں۔ وزیر اعظم کی گاڑی گزر جاتی ہے اور غربت ہوا میں لہراتے کپڑوں کی تصویر بن کر رہ جاتی ہے۔

یہ منظر یاد رہتا ہے کیونکہ بہت خوب صورت بنایا گیا ہے۔ تنقیدی مسئلہ بھی یہی ہے۔ غربت اگر حد سے زیادہ خوب صورت تصویر میں ڈھل جائے تو قاری کی نگاہ غربت کے سیاسی اور انسانی مسئلے سے ہٹ کر منظر کے حسن پر ٹھہر سکتی ہے۔ ان داتا میں کرشن چندر قحط کو پوری شدت سے پیش کرتے ہیں۔ بھوکے جسم، مردہ مائیں، دودھ سے محروم بچے، لاشیں، گدھ اور سڑکوں پر بھٹکتے انسان ایک ہول ناک فضا پیدا کرتے ہیں۔ ان کا مقصد واضح ہے۔ بھوک کو قدرتی حادثہ نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی جرم ثابت کرنا۔ مگر درد کی مسلسل شدت ایک دوسرے سوال کو جنم دیتی ہے۔ جب لاش کے بعد لاش، ہڈیوں کے بعد ہڈیاں اور موت کے بعد موت سامنے آئے تو فرد آہستہ آہستہ غائب ہونے لگتا ہے۔ انسان ایک اجتماعی بدن میں بدل جاتا ہے۔ قاری جان لیتا ہے کہ قحط خوف ناک تھا مگر مرنے والوں کی ذاتی دنیا سے اس کا تعلق کم رہ جاتا ہے۔

عورت کے جسم کی پیش کش بھی قابل غور ہے۔ بعض مقامات پر سابقہ حسن اور موجودہ تباہ حال بدن کے درمیان فرق دکھا کر قحط کی شدت واضح کی جاتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عورت کے المیے کو مؤثر ثابت کرنے کے لیے اس کی خوب صورتی کیوں ضروری ہے۔ کیا ایک بوڑھی یا غیر حسین عورت کی موت کم المناک ہوگی۔ جب محرومی کو حسن کے زوال سے ناپا جائے تو عورت پھر مکمل انسان کے بجائے ایک تصویری استعارہ بننے لگتی ہے۔ پشاور ایکسپریس میں تقسیم کے سانحے کا بیان اور زیادہ شدید ہے۔ ٹرین گواہ بن کر لاشوں، قتل اور مذہبی جنون کی کہانی سناتی ہے۔ تکنیک مضبوط ہے اور افسانے کی تاثیر سے انکار ممکن نہیں۔ مگر کئی مقامات پر انسانی المیہ بلند آہنگ منظر میں بدل جاتا ہے۔ جن عورتوں کو اجتماعی تشدد کا نشانہ بنایا گیا وہ ہمارے سامنے زخمی بدن کے طور پر آتی ہیں مگر ان کی اپنی آواز کم سنائی دیتی ہے۔ ان کے نام نہیں، ذاتی یادیں نہیں، اپنے مستقبل کے بارے میں ان کا کوئی بیان نہیں۔ اجتماعیت دکھ کو بڑا کرتی ہے مگر فرد کو نگل بھی لیتی ہے۔

یہ مسئلہ کرشن چندر کے افسانوی مزاج سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا راوی اکثر بہت کچھ جانتا ہے اور قاری کو یہ بھی بتاتا ہے کہ کس کے لیے دکھ محسوس کرنا ہے اور کس کے خلاف غصہ۔ یہی انداز انہیں عوامی سطح پر مؤثر بناتا ہے مگر کردار کی آزادی محدود بھی کر سکتا ہے۔ اصل سوال طبقاتی ہمدردی کا نہیں بلکہ انسانی پیچیدگی کا ہے۔ کیا غریب کردار غلط ہو سکتا ہے۔ کیا مظلوم حسد کر سکتا ہے، خود غرض ہو سکتا ہے، کسی دوسرے پر ظلم کر سکتا ہے۔ اگر محروم انسان کو ہمیشہ معصوم اور قابل رحم بنا دیا جائے تو بظاہر اس کا احترام ہوتا ہے مگر اس کی انسانیت کا ایک حصہ چھن جاتا ہے۔ مکمل انسان صرف مظلوم نہیں ہوتا۔ وہ متضاد بھی ہوتا ہے۔ کرشن چندر کے بہت سے کردار سماجی مقدمے کی شہادت بن جاتے ہیں۔ کالو بھنگی ذات پات کے ظلم کی علامت ہے۔ مہالکشمی کی عورتیں غربت کی تصویر ہیں۔ ان داتا کے بھوکے جسم معاشی ناانصافی کی دلیل ہیں۔ پشاور ایکسپریس کے مقتول فرقہ واریت کے خلاف گواہی ہیں۔ ان سب کی معنویت اپنی جگہ قائم ہے مگر علامت بننے کی قیمت یہ ہے کہ فرد کی اپنی شخصیت محدود ہو سکتی ہے۔

اس تنقید کا مقصد کرشن چندر کی ادبی اہمیت کم کرنا نہیں۔ بڑا ادیب وہی ہے جسے صرف سراہا نہ جائے بلکہ نئے سوالوں کے سامنے بھی رکھا جائے۔ کرشن چندر نے مظلوم کو اردو افسانے کے مرکز میں ضرور پہنچایا۔ اب سوال یہ ہے کہ مرکز میں موجود انسان کو بولنے کا کتنا موقع ملا۔ ان کے افسانوں کو نئے سرے سے پڑھتے ہوئے شاید ہمیں اپنی نگاہ بھی جانچنی چاہیے۔ کہیں ہم غریب کے دکھ سے متاثر ہونے میں اتنے مصروف تو نہیں کہ اس کی بات سننا بھول جائیں۔ کہیں مظلوم ہمارے سامنے ایک انسان کے طور پر نہیں بلکہ ایک خوب صورت ادبی منظر کے طور پر تو موجود نہیں۔ کرشن چندر کی اصل طاقت اور کمزوری شاید اسی مقام پر ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ وہ درد کو ایسا منظر بنا دیتے ہیں جسے بھلانا مشکل ہوتا ہے۔ مگر بعض اوقات منظر اتنا طاقتور ہو جاتا ہے کہ مظلوم خود اس کے پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہی سوال ان کے فن کو ایک نئے اور قدرے سخت تنقیدی زاویے سے پڑھنے کا راستہ کھولتا ہے۔