تحریر:شہباز علی سولنگی
شہزاد منظر کی افسانوی تنقید میں قاری
کوئی خاموش تماشائی نہیں بلکہ ادبی عمل کا باقاعدہ شریک دکھائی دیتا ہے۔ جدید
افسانے میں علامت، تجرید، ابہام اور داخلی تجربے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے جس فاصلے
کو پیدا کیا، شہزاد منظر نے بار بار اسی فاصلے کو مسئلہ بنایا۔ ان کے نزدیک فن
پارہ اپنی معنوی پیچیدگی کے باوجود قاری سے مکمل طور پر بے نیاز نہیں ہو سکتا۔
کہانی اگر معنی کی ایسی تہوں میں چھپ جائے جہاں رسائی صرف چند مخصوص اذہان تک ممکن
ہو تو تخلیقی تجربہ اپنے بنیادی رشتے سے محروم ہونے لگتا ہے۔ موقف پہلی نظر میں
بہت معقول محسوس ہوتا ہے۔ ادب آخر پڑھا جانے کے لیے ہی تخلیق ہوتا ہے اور پڑھنے
والا اگر مسلسل دروازے پر کھڑا رہے تو فن کی معنویت مشکوک ہو سکتی ہے۔ مگر شہزاد
منظر کے مقدمے کو قبول کرنے سے پہلے ایک سوال ناگزیر ہے۔ قاری تک پہنچنے کی خواہش
کس مقام پر فن کار کی آزادی میں مداخلت کرنے لگتی ہے۔ تخلیق سے وضاحت کا مطالبہ
بڑھتا جائے تو کیا ادب رفتہ رفتہ اپنی مشکل پسندی، تہ داری اور نامکمل معنی پیدا
کرنے کی صلاحیت کھو نہیں دیتا۔
شہزاد منظر کا اعتراض کسی معمولی ادبی
صورت حال سے پیدا نہیں ہوا تھا۔ اردو افسانہ ترقی پسند حقیقت نگاری سے آگے بڑھ کر
داخلی تجربے، علامتی اظہار اور تجریدی ساخت کی طرف جا رہا تھا۔ کہانی کا روایتی
ڈھانچا کمزور پڑا، واقعات کی ترتیب ٹوٹی اور بعض افسانہ نگاروں کے ہاں معنی براہ
راست بیان ہونے کے بجائے اشاروں میں منتقل ہونے لگے۔ شہزاد منظر نے نئے افسانے کی
پوری روایت کو رد نہیں کیا۔ ان کی تنقید کا اصل نشانہ وہ مقام بنا جہاں علامت
افسانے کی مدد کرنے کے بجائے اس پر حاوی ہو جاتی ہے اور قاری متن کے ساتھ مکالمہ
قائم کرنے کے بجائے معمے کے سامنے کھڑا رہ جاتا ہے۔ اعتراض میں وزن موجود ہے۔ بے
مقصد پیچیدگی کو تخلیقی عظمت سمجھ لینا کسی بھی عہد کے ادب کے لیے نقصان دہ ہو
سکتا ہے۔ مشکل وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں ابلاغ کو فن کے معیار میں اتنی اہمیت مل
جائے کہ ابہام اپنی فطری ادبی حیثیت کھونے لگے۔ ادب کی ہر خاموشی کمی نہیں ہوتی
اور ہر غیر واضح مقام مصنف کی ناکامی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات معنی کا مکمل نہ کھلنا
ہی تخلیقی تجربے کو دیرپا بناتا ہے۔
ابلاغ کا تصور بظاہر سادہ ہے مگر ادب
میں معاملہ اتنا سیدھا نہیں رہتا۔ روزمرہ گفتگو میں بات پہنچ جانا کامیابی سمجھی
جا سکتی ہے، افسانے میں معنی کا فوراً پہنچ جانا ہمیشہ خوبی نہیں۔ منٹو کا ایک
جملہ، انتظار حسین کی علامت یا خالدہ حسین کی داخلی فضا مختلف قاریوں کے اندر
مختلف معنویت پیدا کر سکتی ہے۔ کسی فن پارے کی قوت کبھی اس امر میں بھی پوشیدہ
ہوتی ہے کہ وہ ایک ہی نتیجہ قبول کرنے پر مجبور نہ کرے۔ شہزاد منظر کی تنقید قاری
کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے بعض مقامات پر ایسے قاری کا تصور قائم کرتی محسوس ہوتی
ہے جسے متن سے قابل شناخت راستہ درکار ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ادبی قاری کو
ہمیشہ راستہ دکھانا کیوں ضروری ہے۔ کیا قاری خود تلاش نہیں کر سکتا۔ کیا بھٹکنا
بھی قرأت کا حصہ نہیں۔ پیچیدہ فن پارہ پڑھنے والے کو بے آرام کرتا ہے، سابقہ تجربے
سے باہر نکالتا ہے اور کبھی طویل مدت کے بعد اپنا مفہوم کھولتا ہے۔ فوری تفہیم کو
زیادہ اہمیت دینے سے ادب اور عام بیانیے کے درمیان فرق کم ہونے کا اندیشہ پیدا ہو
جاتا ہے۔
قاری کی بحث میں ایک بنیادی مسئلہ
مزید پوشیدہ ہے۔ شہزاد منظر جس قاری کی طرف لوٹنے کا مطالبہ کرتے ہیں، اس کی علمی
اور جمالیاتی ساخت کیا ہے۔ ہر پڑھنے والا ایک جیسی تیاری، تجربہ اور ادبی شعور
نہیں رکھتا۔ کسی شخص کے لیے ناقابل فہم افسانہ دوسرے کے لیے گہرا تخلیقی تجربہ ہو
سکتا ہے۔ اگر قابل فہم ہونے کا معیار عام ترین قرأت سے مقرر کیا جائے تو ادب کا
بڑا حصہ غیر ضروری مشکل قرار پائے گا۔ غالب، میراجی، راشد اور جدید افسانے کی کئی
اہم آوازیں اپنے اپنے عہد میں اسی اعتراض کا سامنا کرتی رہی ہیں۔ مشکل ادب وقت کے
ساتھ قاری بھی تخلیق کرتا ہے۔ ہر فن پارے پر موجود قاری کی ذہنی سطح کے مطابق خود
کو ڈھالنے کی ذمہ داری ڈال دی جائے تو نئے اسالیب کے لیے جگہ محدود ہو سکتی ہے۔
ادب صرف قاری کی خدمت نہیں کرتا بلکہ اس کی تربیت بھی کرتا ہے۔ اچھا متن کبھی
مانوس راستہ فراہم کرتا ہے اور کبھی نیا راستہ بنانے پر مجبور کرتا ہے۔ شہزاد منظر
کے تصور ابلاغ کی اصل کمزوری شاید اسی مقام پر سامنے آتی ہے کہ قاری کی حفاظت کرتے
ہوئے قاری کی بڑھنے کی صلاحیت کم زیر بحث آتی ہے۔
علامت کا معاملہ بھی وضاحت کا محتاج
ہے۔ علامت پہیلی نہیں ہوتی کہ ہر حال میں کوئی واحد حل برآمد کیا جائے۔ ادبی علامت
کی زندگی اس کی وسعت میں ہوتی ہے۔ ایک ہی شبیہ مختلف تاریخی ادوار میں نئے معنی
اختیار کر سکتی ہے۔ علامت کو صرف اس بنیاد پر مشتبہ سمجھنا کہ عام قاری فوراً اس
تک نہیں پہنچتا، فن کی ایک بڑی روایت کو محدود کر سکتا ہے۔ البتہ شہزاد منظر کا
اعتراض مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اردو جدیدیت کے بعض تجربات میں
علامت واقعی فیشن بن گئی تھی۔ کئی لکھنے والوں نے مشکل ہونے کو گہرا ہونے کا
متبادل سمجھ لیا اور تجرید نے تجربے کی جگہ لے لی۔ ایسے مقام پر شہزاد منظر کی
تنقید غیر معمولی اہمیت اختیار کرتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ معنی کو مکمل طور
پر دفن کر دینا فن نہیں۔ مگر درست اعتراض سے ہمیشہ درست اصول پیدا نہیں ہوتا۔ چند
ناکام علامتی تجربات کی بنیاد پر ابلاغ کو مرکزی پیمانہ بنا دینا اتنا ہی خطرناک
ہے جتنا ہر مبہم تحریر کو عظیم سمجھ لینا۔ فن دونوں انتہاؤں سے باہر سانس لیتا ہے۔
کہانی کے عنصر پر شہزاد منظر کی توجہ بھی
اسی فکری پس منظر سے وابستہ ہے۔ افسانہ جب واقعے، کردار اور تجربے کے قابل شناخت
رشتے سے بہت دور نکلتا ہے تو ان کے لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسے افسانہ کہنے کی
بنیاد کیا رہ جاتی ہے۔ اعتراض صنفی شناخت کی حفاظت کرتا ہے مگر ادب کی تاریخ بتاتی
ہے کہ اصناف اپنی سرحدیں توڑ کر ہی نئی صورتیں پیدا کرتی ہیں۔ ناول نے داستان سے
اختلاف کیا، آزاد نظم نے پابند نظم سے فاصلہ اختیار کیا اور افسانہ خود قصے کی
پرانی روایت سے نکل کر جدید صورت تک پہنچا۔ ہر نئی ہیئت ابتدا میں سابقہ تعریف کے
لیے مسئلہ بنتی ہے۔ اگر کہانی کی موجود شکل کو مستقل معیار بنا لیا جائے تو تجربے
کی کئی راہیں بند ہو سکتی ہیں۔ شہزاد منظر نے افسانے کو بے معنی تجرید سے بچانے کی
کوشش کی مگر سوال باقی رہتا ہے کہ تحفظ کی خواہش کہیں فن کو محفوظ مگر محدود قالب
میں تو نہیں رکھ دیتی۔ زندہ صنف کی پہچان صرف روایت کی حفاظت نہیں بلکہ اپنی تعریف
بدلنے کی قوت بھی ہے۔
شہزاد منظر کے حق میں سب سے مضبوط
دلیل ان کی تنقیدی دیانت ہے۔ انہوں نے جدید افسانے کے خلاف محاذ قائم کرنے کے
بجائے فن کے اندر پیدا ہونے والی دشواریوں کو سنجیدگی سے دیکھا۔ ان کے اعتراضات
میں قاری کا احترام بھی شامل ہے اور افسانے کی سماجی زندگی کا احساس بھی۔ ادب اگر
صرف مصنف اور چند ماہرین کے درمیان بند گفتگو بن جائے تو وسیع تہذیبی اثر کمزور پڑ
سکتا ہے۔ اردو ادب میں کئی تجربات واقعی اتنے شخصی اور مبہم ہوئے کہ قاری سے رشتہ
تقریباً ختم ہو گیا۔ شہزاد منظر نے اس صورت حال کو وقت پر شناخت کیا۔ تنقیدی
اختلاف ان کی اہمیت ختم نہیں کرتا بلکہ ان کے اٹھائے ہوئے سوال کو زیادہ وسیع
بناتا ہے۔ ابلاغ ضروری ہے مگر اس کی نوعیت ہمیشہ براہ راست نہیں ہوتی۔ کبھی معنی
فوراً ملتا ہے، کبھی تاخیر سے، کبھی مکمل نہیں ملتا اور کبھی قاری اپنے تجربے سے
خلا پُر کرتا ہے۔ فن کی زندگی غالباً اسی آزادی میں ہے۔
قاری اور فن کے درمیان کسی ایک فریق
کو فتح دلانے کی کوشش ادبی تجربے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ قاری کی خاطر فن قربان ہو
تو تحریر آسان مگر سطحی ہو سکتی ہے۔ فن کی خاطر قاری مکمل طور پر نظر انداز ہو تو
تحریر خود کلامی میں بدل سکتی ہے۔ شہزاد منظر کی تنقید کی اصل قدر کسی حتمی فیصلے
میں نہیں بلکہ اسی کشمکش کو نمایاں کرنے میں ہے۔ ان کے تصور ابلاغ پر اعتراض کرتے
ہوئے بھی ماننا پڑتا ہے کہ انہوں نے اردو افسانے سے ایک ضروری سوال پوچھا تھا۔
اختلاف صرف جواب سے ہے۔ افسانہ قاری تک ضرور پہنچے مگر ہر بار سیدھے راستے سے
پہنچنا ضروری نہیں۔ کبھی راستہ طویل ہوگا، کبھی دھند میں چھپا ہوگا اور کبھی قاری
کو اپنی سمت خود متعین کرنا پڑے گی۔ ادب کی آزادی شاید اسی مقام سے شروع ہوتی ہے
جہاں نقاد قاری کو سہارا دینا چھوڑ کر اس پر اعتماد کرنا سیکھتا ہے۔ شہزاد منظر نے
قاری کو ادب میں واپس لانے کی کوشش کی۔ اگلا قدم شاید قاری کو اتنی آزادی دینا ہے
کہ وہ مشکل فن کے سامنے بھی اپنی راہ خود بنا سکے۔
