تحریر:شہباز علی سولنگی
راجندر
سنگھ بیدی کے افسانوں کو پڑھنے کی ایک طویل تنقیدی روایت ہمارے سامنے موجود ہے۔ ان
کی نفسیاتی بصیرت، عورت کے پیچیدہ کردار، متوسط طبقے کی زندگی، غربت، جنس، پنجاب
کی تہذیبی فضا، اساطیری شعور اور تقسیم کے المیے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ یہ
تمام زاویے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن بیدی کی افسانوی دنیا میں ایک ایسا سلسلہ بھی
مسلسل حرکت کرتا دکھائی دیتا ہے جسے ہماری تنقید نے عموماً محبت، ایثار، ممتا یا
قربانی کہہ کر آگے بڑھ جانے میں عافیت سمجھی۔ سوال یہ ہے کہ بیدی کے گھروں میں
کھانا کون بناتا ہے، پھٹا ہوا لباس کون سیتا ہے، بیمار جسم کی بو کون برداشت کرتا
ہے، رات کو جاگنے والے بچے کو کون سنبھالتا ہے، خاندان کے رشتوں کو ٹوٹنے سے کون
بچاتا ہے، کسی دوسرے کے دکھ کو اپنے اندر جگہ دینے کی قیمت کون ادا کرتا ہے اور سب
سے بڑھ کر یہ کہ اس ساری خدمت کا حساب کہاں لکھا جاتا ہے۔ بیدی کے متعدد افسانوں
کو اس سوال کے ساتھ پڑھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی کہانیوں کے نیچے ایک خاموش
معیشت چل رہی ہے۔ اس میں روپیہ ہمیشہ بنیادی کرنسی نہیں۔ وقت، جسم، نیند، خواہش،
جوانی، توجہ، برداشت اور اپنی خوشی سے دست برداری بھی لین دین کا حصہ ہیں۔
معاصر
فکری مباحث میں نگہداشت کو محض جذبہ نہیں سمجھا جاتا۔ Care Ethics اور Care Economy سے متعلق مطالعات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ
انسان بنیادی طور پر ایک دوسرے پر منحصر مخلوق ہیں اور گھر، خاندان اور معاشرے کو
قائم رکھنے والی بہت سی ضروری خدمات ایسی ہوتی ہیں جو باقاعدہ اجرت کے بغیر انجام
پاتی ہیں۔ بچوں، بیماروں اور بوڑھوں کی دیکھ بھال، کھانا پکانا، کپڑے اور گھر
سنبھالنا اور دوسرے انسان کی جذباتی ضرورتوں کو مسلسل محسوس کرنا اسی دنیا کا حصہ
ہے۔ نگہداشت کی اخلاقیات کا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کسی کی خدمت کرنا کب محبت
رہتی ہے اور کب ایک غیر مساوی ذمہ داری میں بدل جاتی ہے۔ بیدی نے ظاہر ہے ان
اصطلاحات کے زیر اثر افسانے نہیں لکھے تھے۔ ان کی اہمیت تو یہ ہے کہ بہت پہلے ان
کا تخلیقی شعور اس مشقت کو انسانی زندگی کی روزمرہ ساخت میں دیکھ رہا تھا جسے بعد
کے علوم نے ایک الگ نظریاتی زبان فراہم کی۔
اس
زاویے سے بیدی کا افسانہ اپنے دکھ مجھے دے دو
شاید سب سے زیادہ معنی خیز معلوم ہوتا ہے۔ افسانے کا معروف جملہ بظاہر محبت کا
انتہائی خوب صورت اقرار ہے۔ اندو مدن سے اس کے دکھ مانگ لیتی ہے۔ لیکن پوری کہانی
پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک رومانی فقرہ نہیں رہتا بلکہ ایک طویل ذمہ
داری کا معاہدہ بن جاتا ہے۔ اندو شادی کے بعد صرف مدن کی شریک حیات نہیں بنتی۔ وہ
اس کے گھر، اس کے عزیزوں، بچوں، بیماریوں، ضرورتوں، محرومیوں اور باہمی رشتوں کا
بوجھ بھی اپنے دائرے میں لے آتی ہے۔ مدن کی زندگی میں کئی ایسے کام جو بکھرے ہوئے
تھے، اندو کی موجودگی کے بعد ایک نظم اختیار کرتے ہیں۔ یہاں بیدی کا کمال یہ ہے کہ
وہ اس محنت کو کسی تقریر سے واضح نہیں کرتے۔ وہ اسے زندگی کے اندر اس طرح رکھتے
ہیں کہ گھر بظاہر معمول کے مطابق چلتا رہتا ہے اور قاری دیر سے محسوس کرتا ہے کہ
اس معمول کو قائم رکھنے کے لیے ایک انسان مسلسل خرچ ہو رہا ہے۔
اندو
کے کردار کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ اس کا دیا ہوا صرف جسمانی کام نہیں۔ وہ
خاندان کی جذباتی تنظیم بھی کرتی ہے۔ مدن کے عزیز اس کے عزیز
بنتے ہیں، بچوں کی پرورش اس کی زندگی کا حصہ بنتی ہے، زچگی کا جسمانی کرب بھی اسی
کے حصے میں آتا ہے اور اس سب کے باوجود اس سے یہ توقع باقی رہتی ہے کہ وہ محبت کا
مرکز بھی رہے۔ افسانے میں بچے کی پیدائش کے بعد اس کا دودھ بہنا، راتوں کی بیداری
اور بچوں کے درمیان اس کی اپنی ذات کا بتدریج پیچھے ہٹنا محض مادریت کی خوب صورت
تصویریں نہیں ہیں۔ یہ جسم کے اس خرچ کی نشانیاں ہیں جس پر خاندان اپنی بقا قائم
کرتا ہے۔ بیدی یہاں عورت کو صرف مظلوم نہیں بناتے۔ اندو اپنے عمل میں صاحب ارادہ
بھی ہے، مگر اس ارادے کا المیہ یہ ہے کہ اس نے دوسروں کے دکھ لینے کو محبت سمجھا
اور آہستہ آہستہ اپنے لیے محفوظ جگہ بہت کم چھوڑ دی۔
مدن جب اندو کو اس کی دی ہوئی تمام چیزیں یاد
دلاتا ہے تو فہرست میں عزیزوں سے محبت، تعلیم، شادیاں اور بچے شامل ہیں۔ اندو کا
جواب اس پورے رشتے کی معاشیات بدل دیتا ہے۔ وہ یاد دلاتی ہے کہ شادی کی رات اس نے
مدن کے دکھ مانگے تھے مگر مدن نے اس کے سکھ نہیں مانگے۔ معمولی سے فرق میں بیدی
نے ازدواجی زندگی کی ایک گہری ناانصافی رکھ دی ہے۔ دکھ بانٹنے کی ذمہ داری ایک طرف
گئی جبکہ سکھ بانٹنے کا تقاضا دوسری طرف سے پیدا ہی نہیں ہوا۔ نگہداشت کی معیشت
میں یہ سب سے خطرناک خسارہ ہے کہ خدمت کرنے والا شخص اتنا قابل اعتماد سمجھ لیا
جائے کہ اس کی اپنی ضرورتیں نگاہ سے اوجھل ہو جائیں۔ اندو کی شکایت مرد دشمنی نہیں
بلکہ تعلق کے نامکمل حساب کی شکایت ہے۔ اس نے جو کچھ دیا اسے سب نے زندگی کا فطری
حصہ سمجھا، مگر وہ جو کچھ کھوتی رہی اس کا کوئی کھاتا نہیں کھولا گیا۔
بیدی
کے گرم کوٹ میں یہی مسئلہ ایک مختلف سطح
پر نمودار ہوتا ہے۔ غربت اتنی شدید نہیں کہ خاندان بھوک سے مر رہا ہو، مگر
اتنی ضرور ہے کہ ہر خواہش دوسری ضرورت کے مقابل کھڑی ہے۔ شوہر کو گرم کوٹ درکار
ہے۔ بیوی شمی اس کے پرانے کوٹ کو بار بار رفو کرتی ہے۔ بچے اپنی چھوٹی چھوٹی چیزیں
چاہتے ہیں۔ گھر میں ایندھن تک کا معیار عورت کی آنکھوں اور جسم پر اثر انداز ہوتا
ہے۔ دس روپے کا نوٹ اس مختصر دنیا کے لیے بہت بڑی رقم ہے کیونکہ اس سے ایک ضرورت
پوری کرنے کا مطلب دوسری خواہش ملتوی کرنا ہے۔ بیدی کے ہاں غربت صرف پیسوں کی کمی
نہیں۔ غربت دراصل ترجیحات کے مسلسل انتخاب کی اذیت
ہے۔
گرم
کوٹ کو محض متوسط طبقے کی معاشی پریشانی کا افسانہ سمجھنا اس کے ایک اہم حصے کو
نظر انداز کرنا ہے۔ شمی شوہر کے کوٹ کی مرمت کرتے کرتے تھک چکی ہے۔ اس کی آنکھیں
گیلی لکڑیاں پھونکتے ہوئے جلتی ہیں۔ وہ اپنی خواہش بھی رکھتی ہے اور بچوں کی
ضرورتیں بھی اس کے سامنے ہیں۔ شوہر بھی اپنے لیے کوٹ خریدنے کو تقریباً اخلاقی جرم
سمجھتا ہے کیونکہ اس کے ذہن میں بچوں اور بیوی کی ضروریات موجود ہیں۔ بیدی ایک
ایسا گھر دکھاتے ہیں جہاں محبت کا اظہار بڑے جملوں سے نہیں بلکہ اپنی باری مؤخر
کرنے سے ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنی خواہش کو کچھ دیر پیچھے رکھتا ہے تاکہ دوسرے کی
خواہش آگے آ سکے۔ اس نظام میں سب سے معنی خیز لمحہ آخر میں آتا ہے جب شمی بازار سے
بچوں کی مٹھائی، اپنی چیزیں اور دوسری ضرورتیں خریدنے کے بجائے شوہر کے لیے عمدہ
ورسٹڈ لے آتی ہے۔ وہ دو روپے ادھار بھی خرچ کر دیتی ہے۔ ایک گرم کوٹ یہاں لباس
نہیں رہتا۔ وہ اس خاندان میں گردش کرنے والی محبت، احساس جرم اور خود محرومی کی
مادی شکل بن جاتا ہے۔
دلچسپ
بات یہ ہے کہ بیدی نگہداشت کو ہمیشہ مقدس نہیں بناتے۔ ان کے افسانوں میں دیکھ بھال
محبت بھی ہو سکتی ہے اور دباؤ بھی۔ کوکھ جلی اس پیچیدگی کو
زیادہ بے رحم انداز میں سامنے لاتا ہے۔ گھمنڈی کی بوڑھی ماں بیٹے کے انتظار میں
جاگتی ہے۔ اس کی عادتوں کو پہچانتی ہے۔ اس کے جسم پر نمودار ہونے والے زخموں سے
گھبراتی ہے۔ دوا کے اپنے دیسی نسخے سوچتی ہے۔ محلے کی نفرت کے باوجود بیٹے کے بدن
اور بیماری سے منہ نہیں موڑتی۔ یہ ایک ایسی دیکھ بھال ہے جس میں ماں کا اپنا
بڑھاپا، تھکن اور تنہائی تقریباً غیر اہم ہو جاتے ہیں۔ مگر بیدی اسے مکمل طور پر
معصوم اور مثالی بھی نہیں رکھتے۔ ماں اپنی خاموش خدمت کے ذریعے شوہر اور بعد میں
بیٹے کے اندر شرمندگی بھی پیدا کرتی ہے۔ کبھی پانی کا کٹورا رکھنا، کبھی بغیر سوال
کیے ضرورت پوری کر دینا اور کبھی سب کچھ جانتے ہوئے خاموش رہنا ایسا اخلاقی دباؤ
بن جاتا ہے جس کا جواب سامنے والا نہیں دے پاتا۔
یہ
نکتہ بیدی کو سادہ جذباتیت سے بچاتا ہے۔ نگہداشت ہمیشہ نیکی کا مترادف نہیں۔ کسی
کو اس قدر اپنے حفاظتی دائرے میں لے لینا کہ وہ خود اپنی ذمہ داری کا سامنا نہ
کرے، اس کی شخصیت کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔ کوکھ
جلی میں ماں کے ہاتھوں کی خدمت، اس کی راتوں کی بیداری اور بیٹے
کے عیب کو اپنے اندر جذب کرتے رہنے کی عادت ایک عجیب دوہرا عمل پیدا کرتی ہے۔ وہ
بیٹے کو بچا بھی رہی ہے اور شاید اسے اپنی غلطیوں سے مکمل طور پر روبرو ہونے سے
روک بھی رہی ہے۔ بیدی یہاں ایک بڑا سوال اٹھاتے ہیں۔ کیا ہر قربانی اخلاقی طور پر
مفید ہوتی ہے۔ کیا محبت کی کوئی حد بھی ہونی چاہیے۔ اور کیا نگہداشت کرنے والے
انسان کو بھی اس تعلق کے اندر اپنی شخصیت محفوظ رکھنے کا حق حاصل ہے۔
اس
سلسلے میں لاجونتی
ایک اور دروازہ کھولتا ہے۔ تقسیم کے بعد سندر لال اغوا شدہ عورتوں کو دوبارہ گھروں
میں بسانے کی تحریک سے وابستہ ہوتا ہے۔ اس کا نعرہ ہے کہ انھیں دل میں بسایا جائے۔
وہ معاشرے کو سمجھاتا ہے کہ ان عورتوں پر ہونے والے ظلم میں ان کا کوئی قصور نہیں
اور ان کے زخمی دلوں کو مزید اذیت نہیں دی جانی چاہیے۔ بظاہر یہ نگہداشت کی اعلیٰ
ترین اخلاقی صورت معلوم ہوتی ہے۔ لیکن جب خود لاجونتی واپس آتی ہے تو مسئلہ بدل
جاتا ہے۔ اب سندر لال کے سامنے کوئی مجرد سماجی مظلوم نہیں بلکہ اس کی اپنی بیوی
موجود ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نظریاتی ہمدردی کا امتحان حقیقی قربت سے ہوتا ہے۔
سندر
لال لاجونتی کو مسترد نہیں کرتا۔ وہ اس کا احترام کرتا ہے۔ مگر اسی احترام کے اندر
ایک نیا فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ جس عورت کو پہلے معمولی باتوں پر مار لیتا تھا اب
اسے ایسی مقدس ہستی سمجھنے لگتا ہے جسے چھونا یا اس کے ماضی کے بارے میں پوچھنا
بھی مناسب نہیں۔ سطحی طور پر یہ تبدیلی مثبت ہے، لیکن بیدی کی تہہ داری اسی مقام
پر ظاہر ہوتی ہے۔ لاجونتی کو قبول تو کیا گیا ہے مگر کیا اسے سنا
بھی گیا ہے۔ اس کے ساتھ جو ہوا، اس کے بارے میں وہ کیا کہنا چاہتی ہے، اس کے خوف
کیا ہیں، اس کی خواہش کیا ہے، اس کی ازدواجی قربت کس طرح بحال ہوگی، ان سوالوں کی
جگہ تقدیس لے لیتی ہے۔ سندر لال اسے انسان سے دیوی بنا دیتا ہے۔ یوں نگہداشت ایک
بار پھر غیر مساوی ہو جاتی ہے۔ جو شخص دوسرے کے درد کو سننے کے بجائے اسے مقدس بنا
دے، وہ بسا اوقات درد کو ختم نہیں کرتا بلکہ اس پر خاموشی کی نئی تہہ چڑھا دیتا
ہے۔
یہیں
بیدی کے افسانوں کا ایک ایسا رشتہ سامنے آتا ہے جو الگ الگ موضوعات کی روایتی
تقسیم سے دکھائی نہیں دیتا۔ اندو دوسروں کے دکھ اپنے اندر لے لیتی ہے۔ شمی اپنی
خواہشوں کے حصے سے شوہر کا کوٹ خریدتی ہے۔ گھمنڈی کی ماں بیٹے کے بدن، عادتوں اور
بیماری کا بوجھ اپنی عمر سے کہیں زیادہ دیر تک اٹھاتی ہے۔ سندر لال لاجونتی کو
بچانا چاہتا ہے لیکن اس کی حفاظت اسے بولنے کی پوری آزادی نہیں دیتی۔ چاروں صورتوں
میں سوال محبت کی موجودگی یا عدم موجودگی کا نہیں۔ محبت موجود ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے
کہ محبت کے اندر کون کتنا خرچ ہوتا ہے اور کس کے خرچ کو فطری
سمجھ لیا جاتا ہے۔
راجندر
سنگھ بیدی کا کمال شاید یہی ہے کہ انھوں نے گھر کو سکون کی تیار شدہ جگہ کے طور پر
پیش نہیں کیا۔ ان کے یہاں گھر ہر روز تعمیر ہوتا ہے۔ کوئی روٹی بناتا ہے، کوئی
پھٹا کپڑا سیتا ہے، کوئی بیماری کی بدبو سہتا ہے، کوئی کسی کے خوف کو خاموشی سے
جذب کرتا ہے، کوئی اپنی ضرورت ملتوی کرتا ہے، کوئی دوسرے کے لوٹ آنے کے لیے معاشرے
سے لڑتا ہے۔ اس تعمیر میں پیسہ صرف ایک عنصر ہے۔ اصل سرمایہ انسانی بدن اور جذبات
ہیں۔ اسی لیے بیدی کے افسانوں کی غربت کو صرف معاشی اصطلاح میں نہیں پڑھا جا سکتا۔
ان کے کرداروں میں بعض لوگ روپے سے غریب ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جن کے رشتوں میں
توجہ، سماعت یا باہمی شناخت کی کمی ہے۔
نگہداشت
کی معیشت کا زاویہ بیدی کی عورت کو بھی ایک نئے مقام پر رکھتا ہے۔ اسے صرف مظلوم،
وفادار، ماں یا قربانی دینے والی بیوی کہنا کافی نہیں رہتا۔ وہ گھر کی ایک ایسی
عامل قوت دکھائی دیتی ہے جس کی محنت زندگی کو قابل زیست بناتی ہے۔ مگر بیدی اس
خدمت کی قیمت بھی دکھاتے ہیں۔ اندو کے پاس آخر میں اپنا کچھ باقی نہیں رہتا۔ شمی
کی ذاتی خواہش گرم کوٹ کے ورسٹڈ میں منتقل ہو جاتی ہے۔ گھمنڈی کی ماں کا بڑھاپا
بیٹے کے جسم اور کردار کی فکر میں گم ہے۔ لاجونتی کو تحفظ ملتا ہے مگر اپنی مکمل
انسانی آواز حاصل کرنے کی جدوجہد باقی رہتی ہے۔ یہ کردار محض قربانی کے استعارے
نہیں بلکہ اس سوال کے زندہ پیکر ہیں کہ کسی خاندان اور سماج کی بقا کا بوجھ کن
جسموں اور کن خاموشیوں پر رکھا گیا ہے۔
بیدی
کے افسانوں کو اس رخ سے پڑھنے کا حاصل یہ نہیں کہ ان کی پوری تخلیقی کائنات کو
جدید نظریے کی ایک اصطلاح میں بند کر دیا جائے۔ اہم بات اس کے برعکس ہے۔ نگہداشت
کی معیشت ہمیں ان چھوٹے اعمال کو دیکھنے کی تربیت دیتی ہے جنھیں بیدی نے بہت پہلے
ادب کا حصہ بنا دیا تھا۔ ان کے ہاں محبت کسی مجرد جذبے کا نام نہیں۔ محبت وقت
مانگتی ہے، جسم مانگتی ہے، نیند مانگتی ہے، خواہشیں مؤخر کرواتی ہے اور بعض اوقات
انسان کی اپنی شناخت میں سے بھی حصہ وصول کرتی ہے۔ بیدی کا بڑا سوال شاید یہی ہے
کہ دوسروں کا دکھ اٹھانا انسانی عظمت ہے، مگر اگر کسی ایک انسان کو ہمیشہ دوسروں
ہی کے دکھ اٹھانے پڑیں تو اس کے اپنے دکھ کہاں جائیں گے۔
اسی سوال پر اپنے دکھ مجھے دے دو کا عنوان اپنی پوری معنویت کے ساتھ دوبارہ کھلتا ہے۔سئلہ صرف یہ نہیں کہ انسان دوسرے کا دکھ قبول کرے۔ اصل اخلاقی امتحان یہ ہے کہ دکھ بانٹنے والا اس کے سکھ میں بھی شریک ہو، اس کی تھکن کو بھی پہچانے اور اس خدمت کو محبت کا ایسا فطری فرض نہ بنا دے جس کا کبھی حساب ہی نہ ہو۔ بیدی کے کرداروں کے گھروں میں یہی حساب مسلسل لکھا اور مٹایا جاتا ہے۔ کہیں ایک گرم کوٹ میں، کہیں دودھ سے بھیگتے لباس میں، کہیں بوڑھی ماں کے جاگتے بدن میں اور کہیں ایک ایسی عورت کی خاموشی میں جسے معاشرے نے پہلے بدن اور بعد میں دیوی بنا کر اس کے انسان ہونے کا حق مؤخر کر دیا۔ بیدی کی افسانوی عظمت کا ایک کم دیکھا گیا راز شاید اسی غیر مرئی حساب میں پوشیدہ ہے۔
