تحریر: حکیم انس ابراہیم ہاشمی
برصغیر کی فکری اور سیاسی تاریخ
میں مولانا عبیداللہ سندھی ایک ایسے نابغہ روزگار مفکر کے طور پر ابھرتے ہیں جنہوں
نے دینِ اسلام کو محض چند انفرادی عبادات یا روایتی عقائد کے خول سے نکال کر ایک
ہمہ گیر اور متحرک سماجی نظام کے طور پر پیش کیا۔ ان کے فکری کینوس پر عقیدۂ توحید
محض کوئی خشک کلامی بحث یا فلسفیانہ گتھی نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے پورے اجتماعی
ڈھانچے کی وہ اساسی اینٹ ہے جس پر ایک عادلانہ معاشرے کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ان
کا استدلال بڑا سیدھا مگر انقلابی تھا؛ جب انسان دل کی گہرائیوں سے یہ تسلیم کر
لیتا ہے کہ کائنات کا خالق و مالک صرف ایک اللہ ہے، تو اس کا منطقی اور لازمی
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زمین پر اقتدارِ اعلیٰ بھی اسی ایک ذات کا حق ہے۔ اسی نقطے
سے مولانا سندھی نے "وحدتِ انسانیت" کا وہ ارفع نظریہ اخذ کیا جو
انسانوں کے درمیان ہر طرح کے مصنوعی امتیازات، اونچ نیچ اور طبقاتی تفریق کی جڑ
کاٹ دیتا ہے۔ جب رب ایک ہے، تو اس کی پیدا کردہ مخلوق بھی ایک ہی انسانی کنبے کی
صورت میں جڑی ہوئی ہے۔
اپنے
اس مقدمے کی عمارت وہ قرآنِ مجید کی اس آفاقی تعلیم پر استوار کرتے ہیں جہاں اللہ
تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک ہی اصل سے پیدا کرنے کا اعلان کیا ہے: "يَا
أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ
وَاحِدَةٍ"۔ اس آیتِ مبارکہ کی روشنی میں وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ نسل،
قوم، رنگ، برادری اور جغرافیائی حدود کی بنیاد پر انسانوں میں برتری کا کوئی بھی
دعویٰ دراصل دورِ جاہلیت کی بوسیدہ باقیات کے سوا کچھ نہیں۔ عقیدۂ توحید انسان کو
یہ شعورِ حریت بخشتا ہے کہ روئے زمین پر کوئی انسان، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں
نہ ہو، کسی دوسرے انسان کا حقیقی آقا نہیں ہو سکتا۔ یوں، توحید کا یہ تصور سیاسی
اور سماجی سطح پر انسانوں کی مکمل آزادی اور مساوات کا ضامن بن جاتا ہے۔
دلچسپ
بات یہ ہے کہ مولانا عبیداللہ سندھی اس وحدت اور آزادی کے تصور کو محض نظری حد تک
محدود نہیں رکھتے، بلکہ اسے تاریخِ انبیاء کے وسیع تر پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ ان
کے نزدیک تمام انبیاء کی جدوجہد کا مرکز و محور دراصل اسی ایک سچائی کا اعلان تھا
کہ اللہ کے سوا کوئی حاکمِ مطلق نہیں، اور اسی بنیاد پر انسان کو انسان کی ذہنی،
جسمانی اور معاشی غلامی سے آزاد ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نبوت کی تاریخ کو
محکوم طبقوں کی آزادی اور انسانی معاشروں کو ایک لڑی میں پرونے کی مسلسل جدوجہد کے
طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں، اگر توحید کی روح کو حقیقی معنوں میں پا لیا
جائے، تو ہر طرح کا استحصالی نظام، قوم پرستی کا غرور، اور نسلی تعصب خود بخود غیر
اسلامی اور باطل قرار پاتا ہے۔
ان کی
فکر میں "وحدتِ انسانیت" کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ دنیا سے مذاہب یا
عقائد کا تنوع مٹ جائے، بلکہ اس کا اصل مفہوم یہ تھا کہ تمام انسان بنیادی وقار
اور عدلِ اجتماعی کے اصولوں پر ایک ہو جائیں۔ مولانا سندھی کا ماننا تھا کہ اسلام
کا اصل پیغام یہی ہے کہ انسانیت ایک ایسے مشترکہ اخلاقی نظام کے سائے میں پروان
چڑھے جہاں عدل، مساوات اور آزادی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا جائے۔ اسی فکری
بلوغت کے باعث انہوں نے سیاسی جدوجہد، استعمار کی مخالفت اور طبقاتی ظلم کے خلاف
آواز اٹھانے کو عین دین قرار دیا۔ وہ برملا کہتے تھے کہ توحید انسان کو دو عظیم
آزادیوں کا تحفہ دیتی ہے؛ ایک 'فکری آزادی' تاکہ انسان کسی بھی غیر اللہ کی مطلق
اندھی تقلید نہ کرے، اور دوسری 'اجتماعی آزادی' تاکہ معاشرہ ظلم اور استحصال سے
پاک ہو۔ مختصراً یہ کہ مولانا عبیداللہ سندھی کی نگاہ میں توحید اس آفاقی حقیقت کا
عقیدتی پہلو ہے، جبکہ وحدتِ انسانیت اسی حقیقت کا عملی اور سماجی روپ ہے، اور یہی
وہ روشن فکری ہے جس کی آج کے منقسم معاشرے کو شدت سے ضرورت ہے۔
