تلاش کریں

اندلس میں اجنبی کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ

shehbaz-ali-solangi-andalus-mein-ajnabi-tanqeedi-tajziyati-mutalia

تحریر : شہباز علی سولنگی 

اردو نثر کی مختلف اصناف میں سفرنامہ ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ اچھا سفرنامہ صرف راستوں، شہروں اور عمارتوں کی تفصیل نہیں دیتا، بلکہ اس میں مسافر کے مشاہدات، لوگوں سے ملاقاتیں، مختلف معاشرتی رویے اور خود اس کے اندر پیدا ہونے والے احساسات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے سفرنامہ ایک ایسی صنف بن جاتا ہے جس میں ذاتی تجربہ، تاریخ، تہذیب اور ادبی اظہار ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ کا "اندلس میں اجنبی" اسی نوعیت کا ایک نمایاں سفرنامہ ہے۔ اس میں اندلس کا سفر صرف جغرافیائی سفر نہیں رہتا بلکہ مصنف کے لیے تاریخ، تہذیب اور اپنی ذات کو سمجھنے کا ایک ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے سفرنامے کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس میں داستان کا انداز، ناول کی فسانہ طرازی، ڈرامے کی منظر کشی اور آپ بیتی کا لطف شامل ہو سکتا ہے۔ "اندلس میں اجنبی" میں بھی یہ تمام خصوصیات کسی نہ کسی صورت موجود ہیں۔ تارڑ جگہوں کا تعارف کراتے ہوئے صرف ظاہری منظر بیان نہیں کرتے بلکہ اس منظر کے ساتھ وابستہ تاریخ اور اپنے احساسات کو بھی شامل کر لیتے ہیں۔ کہیں ان کا انداز ایک ناول نگار کا محسوس ہوتا ہے، کہیں منظر نگاری نمایاں ہو جاتی ہے اور کہیں وہ تاریخ کے واقعات کو ایک حساس قاری کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

تارڑ کی سفرنامہ نگاری کے پس منظر کو ان کی ابتدائی زندگی اور خاندانی ماحول سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کا تعلق دریائے چناب کے کنارے واقع قصبے جوکالیاں کے ایک جاٹ کاشتکار خاندان سے تھا۔ ان کے والد چودھری رحمت خان زراعت سے وابستہ ہونے کے باوجود علم اور تصنیف سے دلچسپی رکھتے تھے۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے تارڑ میں زمین اور فطرت سے قربت کے ساتھ مطالعے اور نئے تجربات کی خواہش بھی پیدا ہوئی۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے ہائیکنگ کلب کے ساتھ وادی کشن گنگا کا سفر اور 1957ء میں ماسکو میں منعقد ہونے والے یوتھ فیسٹیول میں شرکت ان کے ابتدائی سفری تجربات میں شامل تھے۔ انہی تجربات کی بنیاد پر ان کی ابتدائی سفری تحریر "لنڈن سے ماسکو تک" سامنے آئی۔ بعد کے برسوں میں یہی ذوق زیادہ پختہ ہوا اور "اندلس میں اجنبی" جیسے سفرنامے کی صورت اختیار کر گیا، جسے یونیسکو کی جانب سے سالِ اشاعت کی بہترین کتاب قرار دیے جانے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

"اندلس میں اجنبی" میں ماضی اور حال ایک ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ مصنف جب جدید اسپین کے کسی شہر، سڑک یا عمارت کو دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں اس مقام کی پرانی تاریخ بھی جاگ اٹھتی ہے۔ ایچ۔ ایچ۔ کار نے تاریخ کو ماضی اور حال کے درمیان مسلسل مکالمہ قرار دیا ہے اور تارڑ کے سفرنامے میں یہ کیفیت بار بار سامنے آتی ہے۔ وہ موجودہ اسپین میں سفر کرتے ہوئے صدیوں پہلے کے مسلم اندلس کو یاد کرتے ہیں۔ اسی لیے کتاب کے کئی حصوں میں سفر کی خوشی کے ساتھ ایک گہری اداسی بھی شامل رہتی ہے۔اندلس کی تاریخ کا بیان کرتے ہوئے تارڑ مسلمانوں کے عروج اور زوال دونوں کو موضوع بناتے ہیں۔ معرکۂ ٹورز سے لے کر سقوطِ غرناطہ تک کئی تاریخی واقعات ان کے بیانیے کا حصہ بنتے ہیں۔ ایڈورڈ گبن کے حوالے سے وہ اس تاریخی امکان کا ذکر کرتے ہیں کہ اگر ٹورز کی جنگ کے نتائج مختلف ہوتے تو یورپ کی مذہبی اور تہذیبی تاریخ بھی شاید مختلف ہوتی۔ اسی طرح لفظ "مور" (Moor)، اندلس کے نام کی تاریخی بنیاد، طارق بن زیاد، موسیٰ بن نصیر اور بعد میں غرناطہ کے سقوط جیسے موضوعات سفر کے دوران بار بار زیرِ بحث آتے ہیں۔

2جنوری 1492ء کو غرناطہ کا سقوط اس تاریخی سلسلے کا سب سے دردناک مرحلہ ہے۔ ابو عبداللہ کی جانب سے الحمرا کی چابیاں فرڈیننڈ کے حوالے کرنے کا واقعہ تارڑ کے ہاں صرف ایک بادشاہ کی شکست نہیں رہتا بلکہ ایک پوری تہذیب کے زوال کی علامت بن جاتا ہے۔ غرناطہ چھوڑتے وقت ابو عبداللہ کا آخری مرتبہ الحمرا کی طرف دیکھنا اور اس پر اس کی والدہ عائشہ سے منسوب جملہ اس واقعے کی شدت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ تارڑ ان واقعات کو بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کی باہمی کشمکش، اقتدار کی خواہش اور سیاسی کمزوریوں کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔ یوں ان کے ہاں تاریخ صرف فتوحات پر فخر کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ کتاب کا عنوان "اندلس میں اجنبی" بھی مصنف کی داخلی کیفیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ بظاہر وہ ایک غیر ملکی سیاح کی حیثیت سے اسپین پہنچتے ہیں، لیکن تاریخی طور پر اس سرزمین سے ایک خاص جذباتی تعلق بھی محسوس کرتے ہیں۔ اسی تضاد سے ان کی اجنبیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ ایک ایسے ملک میں موجود ہیں جو ان کے لیے جغرافیائی طور پر اجنبی ہے، مگر وہاں جگہ جگہ ایک ایسی تہذیب کے نشانات دکھائی دیتے ہیں جسے وہ اپنے تاریخی ماضی کا حصہ سمجھتے ہیں۔

ثوریا کی گلیوں سے لے کر الحمرا کے میناروں تک یہ احساس ان کے ساتھ رہتا ہے۔ موجودہ ہسپانوی معاشرہ اپنی زندگی میں مصروف ہے، جبکہ تارڑ انہی جگہوں میں گزرے ہوئے زمانے کے آثار تلاش کرتے رہتے ہیں۔ مرسیڈس کے ساتھ ان کی گفتگو میں بھی ثقافتی اور لسانی فاصلے کا احساس نمایاں ہوتا ہے۔ زبان کی مشکل کے موقع پر خود کو "خانہ بدوش" اور "فلیمنکو" کہنا ان کے مخصوص مزاحیہ انداز کی مثال ہے، مگر اس ہنسی کے پیچھے ایک مسافر کی تنہائی بھی محسوس ہوتی ہے۔ قشتالیہ کے بنجر علاقوں میں سفر کرتے ہوئے فرانسیسی سیاح ٹونی اور تارڑ کے رویوں کا فرق بھی دلچسپ ہے۔ ٹونی جدید سہولیات اور مادی وسائل کا عادی دکھائی دیتا ہے، جبکہ تارڑ مشکل حالات میں اپنے دیہی اور فطری تجربات سے کام لیتے ہیں۔ ایک پرانے مکان میں ہسپانوی بوڑھے کی طرف سے بکری کا دودھ پیش کیا جانا مصنف کو انسانی قربت کا احساس دلاتا ہے۔ اسی علاقے میں موروں کے بنائے ہوئے ایک قدیم کنویں کو دیکھ کر وہ اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ اندلس میں مسلمانوں کی موجودگی صرف جنگ اور حکومت تک محدود نہیں تھی؛ انہوں نے آب رسانی، تعمیرات اور روزمرہ زندگی سے متعلق ایسے کام بھی کیے جن کے آثار صدیوں بعد تک باقی رہے۔

اندلس کی عمارتیں اس سفرنامے میں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ تارڑ انہیں صرف تاریخی عمارتوں کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ ان کے ذریعے ماضی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسجدِ قرطبہ میں داخل ہوتے ہوئے اس کے سرخ و سفید محرابی ستون اور نیم تاریک فضا انہیں بہت متاثر کرتی ہے۔ انہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ستونوں کے ایک وسیع جنگل میں داخل ہو گئے ہوں۔ اس عمارت کے اندر موجود کلیسا ان کے لیے تاریخ کی تبدیلی کا ایک واضح نشان ہے۔ ایک ہی عمارت میں اسلامی اور عیسائی ادوار کا اکٹھا ہونا انہیں متاثر بھی کرتا ہے اور اداس بھی۔ قصرِ الحمرا اس سفرنامے کا سب سے اہم مقام بن کر سامنے آتا ہے۔ اس کے صحن، دیوانِ شیران، باریک نقش و نگار اور دیواروں پر کندہ "ولا غالب إلا اللہ" تارڑ کے ذہن میں کئی سوالات پیدا کرتے ہیں۔ ایک طرف یہ عبارت مسلمانوں کے سیاسی اقتدار کی یاد دلاتی ہے اور دوسری طرف اسی اقتدار کے ختم ہو جانے کی حقیقت سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے الحمرا کی خوب صورتی ان کے لیے صرف جمالیاتی تجربہ نہیں رہتی بلکہ اس میں زوال کا دکھ بھی شامل ہو جاتا ہے۔

الحمرا میں رات کے وقت قیام کا واقعہ سفرنامے کے یادگار حصوں میں شمار ہوتا ہے۔ مرسیڈس کے چلے جانے کے بعد مصنف اکیلا رہ جاتا ہے اور رات کی خاموشی میں تاریخی کرداروں اور پرانے زمانے کو محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس مقام پر حقیقت اور تخیل ایک دوسرے کے بہت قریب آ جاتے ہیں۔ تارڑ کسی غیر معمولی دعوے کے بجائے اپنے ذہنی اور جذباتی تجربے کو اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ قاری بھی اس ویرانی اور خاموشی کو محسوس کرنے لگتا ہے۔مدینۃ الزہراء کے کھنڈرات، اشبیلیہ کا جیرالدا مینار اور قرمونہ میں پرانے عرب ہتھیاروں کا فروخت ہونا بھی ان کے لیے محض سیاحتی مناظر نہیں۔ وہ ان چیزوں کو دیکھ کر اس سوال سے دوچار ہوتے ہیں کہ ایک زمانے میں جو چیزیں کسی قوم کی روزمرہ زندگی اور اقتدار کا حصہ تھیں، وقت گزرنے کے بعد وہ عجائب گھروں یا بازاروں میں رکھی ہوئی یادگاروں میں کیسے تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہ احساس کتاب کے تہذیبی پہلو کو مزید گہرا کرتا ہے۔

تارڑ جدید ہسپانوی معاشرے کا بھی باریک بینی سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ میڈرڈ میں لاٹری کے شوق کا ذکر کرتے ہوئے وہ اس کے معاشی اور نفسیاتی اسباب پر غور کرتے ہیں۔ ثوریا میں نوجوانوں کی شام کی سیر یعنی پاسیو (Paseo) کو بھی صرف ایک معمولی سماجی سرگرمی کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ اس کے ذریعے ہسپانوی معاشرے کے قدامت پسند اور جدید رجحانات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بل فائٹنگ کے بارے میں بھی ان کا انداز محض مذمت یا تعریف کا نہیں ہے۔ وہ اس کھیل کے تاریخی، تہذیبی اور نفسیاتی پہلوؤں پر غور کرتے ہیں۔ اکھاڑے میں ایک طاقت ور سانڈ کی شکست اور موت انہیں ماضی کے کئی واقعات کی یاد دلاتی ہے۔ بعض مقامات پر سانڈ ان کے تخیل میں اندلس کے آخری مسلمان سپاہی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ سانڈ کے خون کو ریت سے چھپا دینے کا منظر انہیں اس تاریخی عمل کی یاد دلاتا ہے جس میں کسی شکست خوردہ تہذیب کے آثار وقت کے ساتھ مٹتے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح ساکرومونٹے کے غاروں میں فلیمنکو رقص تارڑ کے لیے محض ایک تفریحی مظاہرہ نہیں۔ رقاصہ ماریا اور وہاں رہنے والے خانہ بدوش لوگوں کو دیکھ کر وہ ان طبقوں کی تاریخی محرومیوں کو محسوس کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک فلیمنکو میں خوشی کے ساتھ دکھ اور احتجاج کی کیفیت بھی موجود ہے۔ اسی سلسلے میں زریاب کا ذکر کرتے ہوئے وہ اندلس کی تہذیبی تشکیل میں مسلمانوں کے کردار کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ موسیقی، لباس، خوراک اور معاشرتی آداب میں آنے والی تبدیلیاں اس بات کی مثال ہیں کہ تہذیب کا اثر صرف سیاسی حکومت تک محدود نہیں رہتا بلکہ روزمرہ زندگی پر بھی پڑتا ہے۔

 اس سفرنامے کی دلچسپی میں کردار بھی اہم حصہ ڈالتے ہیں۔ مرسیڈس، ٹونی، حسن اور دوسرے افراد سفر کے مختلف مرحلوں میں سامنے آتے ہیں اور ہر کردار مصنف کو کسی نئے تجربے سے روشناس کراتا ہے۔ مرسیڈس جدید مغربی طرزِ فکر کی نمائندہ نظر آتی ہے جو تاریخ کو تارڑ جتنی جذباتی اہمیت نہیں دیتی۔ ٹونی جدید اور سہولت پسند سیاح کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مراکشی نوجوان حسن کے ساتھ ملاقات تارڑ میں مسلم معاشروں کے باہمی تعلق کا احساس پیدا کرتی ہے۔ تاریخی کردار بھی کتاب میں پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ اشبیلیہ کے حکمران معتمد بن عباد اور رمیکیہ کی داستان اقتدار، محبت اور زوال کے کئی پہلو سامنے لاتی ہے۔ اسی طرح ایک بوڑھے ہسپانوی ہوٹل مالک کا کردار، جو فاشزم کے خلاف مزاحمت کے تجربے سے گزرا ہے، تارڑ کی اپنی اجنبیت کے احساس سے کسی حد تک جڑ جاتا ہے۔ دونوں اپنے اپنے انداز میں تاریخ کے اثرات اپنے ساتھ لیے ہوئے ہیں۔ تارڑ کے اسلوب کی ایک نمایاں خوبی سنجیدہ موضوعات کے درمیان شگفتگی اور بے تکلفی ہے۔ وہ تاریخ پر گفتگو کرتے ہوئے اچانک کوئی ذاتی واقعہ یا مزاحیہ جملہ شامل کر دیتے ہیں، جس سے تحریر خشک علمی بیان نہیں بنتی۔ بعض مقامات پر ان کی نثر میں رومانویت بڑھ جاتی ہے اور کہیں منظر نگاری غالب آ جاتی ہے۔ گارسیا لورکا کی شاعری، قاضی عبدالغفار کے حوالے اور گاوڈی کی تعمیرات کا ذکر اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ تارڑ اندلس کو صرف مسلم تاریخ کی نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ ہسپانوی ادب، فن اور جدید تہذیب کو بھی اپنے مشاہدے میں شامل رکھتے ہیں۔

یہی وسعتِ نظر "اندلس میں اجنبی" کو ایک عام سفری روداد سے مختلف بناتی ہے۔ کتاب میں تاریخ موجود ہے، لیکن یہ باقاعدہ تاریخ کی کتاب نہیں؛ ذاتی تجربات موجود ہیں، لیکن یہ مکمل خودنوشت بھی نہیں؛ مختلف شہروں اور مقامات کی تفصیلات ہیں، مگر مقصد صرف سیاحتی معلومات فراہم کرنا نہیں۔ ان سب عناصر کو تارڑ نے اپنے ذاتی احساس اور ادبی انداز کے ساتھ یکجا کیا ہے۔"اندلس میں اجنبی" مستنصر حسین تارڑ کی سفرنامہ نگاری کا ایک اہم نمونہ اور اردو سفرنامے کی قابلِ ذکر تصنیف ہے۔ اس میں اندلس کا سفر ایک ایسے شخص کی نظر سے سامنے آتا ہے جو نئے ملک کو دیکھنے کے ساتھ اس کے ماضی کو بھی سمجھنا چاہتا ہے۔ ثوریا کی گلیوں، قرطبہ کی مسجد، الحمرا کے محل، اشبیلیہ کی داستانوں اور غرناطہ کے تاریخی آثار سے گزرتے ہوئے مصنف بار بار تاریخ اور حال کے درمیان آتا جاتا ہے۔ اندلس سے رخصت ہوتے وقت جو کیفیت پیدا ہوتی ہے، وہ صرف ایک سیاح کے سفر کے خاتمے کی اداسی نہیں۔ اس میں ایک ایسی تہذیب سے جدائی کا احساس بھی شامل ہے جسے مصنف نے پورے سفر کے دوران اپنے ذہن اور تخیل میں دوبارہ زندہ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ "اندلس میں اجنبی" کو صرف سفر کی روداد کہنا اس کے دائرۂ کار کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ سفر، تاریخ، تہذیب، انسانی تعلقات اور ذاتی احساسات سے تشکیل پانے والی ایسی ادبی تحریر ہے جس نے اردو سفرنامہ نگاری میں اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔