تحریر:شہباز علی سولنگی
تھرپارکر کے گورانو علاقے میں چند برس پہلے جب ماہرین نے گدھوں کی موجودگی کا جائزہ لیا تو ایک عجیب حقیقت سامنے آئی۔ جس پرندے کو ہماری تہذیبی زبان بدشگونی، مردار خوری اور زوال سے جوڑتی رہی ہے، ماحولیاتی علم اسے قدرتی صفائی کے نظام کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔ IUCN کے مطابق گدھ مردہ جانوروں کو تیزی سے ختم کرکے ماحول کو صاف رکھنے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے امکانات گھٹانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سندھ میں کیے گئے ایک سروے کے دوران تھرپارکر میں ساڑھے چار سو سے زیادہ گدھ دیکھے گئے، جن میں سے 425 صرف گورانو کے مقام پر ریکارڈ ہوئے۔ اسی بنا پر علاقے کو گدھوں کے تحفظ کے لیے نہایت اہم مسکن سمجھا گیا۔ دوسری طرف جنوبی ایشیا میں کئی اقسام کے گدھ گزشتہ چند دہائیوں میں تباہ کن حد تک کم ہوئے۔ مویشیوں کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا ڈائیکلوفیناک ان کی اموات کی بڑی وجہ ثابت ہوئی کیونکہ علاج شدہ مویشی کی لاش میں موجود دوا کے باقیات گدھ کے جسم میں مہلک زہر کا کام کرتے ہیں۔ ادب کے سامنے جب یہ حیاتیاتی حقیقت رکھی جائے تو بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ کا مانوس استعارہ اچانک اجنبی معلوم ہونے لگتا ہے۔ سوال اب یہ نہیں رہتا کہ گدھ کس انسانی برائی کی علامت ہے۔ زیادہ بے آرام کرنے والا سوال سامنے آتا ہے کہ انسانی تہذیب نے اپنی برائیوں کے اظہار کے لیے گدھ کو منتخب کیوں کیا۔
راجہ گدھ 1981
میں منظر عام پر آیا اور رفتہ رفتہ
بانو قدسیہ کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تخلیقات میں شامل ہوگیا۔ ریختہ کے محفوظ
نسخے کی کتابی تفصیل میں موجود جلد 1982 کی ہے، مگر اسی اندراج کا تعارف اصل اشاعت
1981 بتاتا ہے۔ دوسرے کتابی ریکارڈ بھی پہلی اشاعت کو 1981 سے منسوب کرتے ہیں۔گزشتہ
چار دہائیوں میں ناول کو نفسیاتی، روحانی، اخلاقی، مذہبی، صنفی اور علامتی زاویوں
سے پڑھا گیا۔ حلال و حرام اور جنون کے باہمی تعلق کو مستقل موضوع بنایا گیا، قیوم
کی نفسیات کو فرائڈ اور غزالی کے تصور نفس کے ساتھ دیکھا گیا، عورت کی آزادی کے
سلسلے میں بانو قدسیہ کے رویے کو تانیثی تنقید نے جانچا، مرد کرداروں میں آفتاب کی
مثالیت زیر بحث آئی اور پرندوں کی الگ دنیا کو بھی ناول کی فکری ساخت کا اہم حصہ
سمجھا گیا۔ اتنی کثرت سے پڑھے جانے والے ناول کے بارے میں نئی بات کہنا
آسان نہیں۔ مگر گدھ کو انسان کی علامت سمجھنے کے بجائے ایک زندہ غیر انسانی مخلوق
کے طور پر سامنے رکھ دیا جائے تو پرانی بحث کی ترتیب بدل جاتی ہے۔ حرام رزق اور
جنون اپنی جگہ رہتے ہیں، مگر ان سے پہلے ایک اور سوال کھڑا ہو جاتا ہے کہ انسانی
اخلاق کے مقدمے میں ایک حیوانی نوع کو گواہ بھی بنایا گیا اور ملزم بھی۔
بانو قدسیہ نے ناول کی ساخت میں ایک غیر معمولی تجربہ کیا۔
انسانی دنیا کی کہانی کے برابر پرندوں کی دنیا چلتی ہے جہاں گدھ اور دوسری انواع
انسانی زندگی کا عکس بھی بنتی ہیں اور اس پر باہر سے نگاہ بھی ڈالتی ہیں۔ قیوم،
سیمی، آفتاب اور دوسرے انسانی کردار محبت، خواہش، محرومی، جسم اور اخلاقی اضطراب
میں گرفتار ہیں، جبکہ پرندوں کی دنیا انسانی طاقت اور اس کے نتائج پر ایک دوسری
سطح کی گفتگو ممکن بناتی ہے۔ راجہ گدھ کی جادوئی حقیقت نگاری پر ہونے والے
مطالعے نے بھی اس ذیلی بیانیے میں پرندوں کی بقا، انسان کی طاقت اور زمین کی تباہی
کے تصورات کو نشان زد کیا ہے۔
فنی اعتبار سے اسے معمولی اضافہ نہیں
کہا جا سکتا۔ بانو قدسیہ انسان کو دیکھنے کے لیے انسان سے باہر ایک مقام بناتی
ہیں۔ اردو ناول میں کسی انسانی اخلاقی بحران کے ساتھ پرندوں کی الگ مملکت قائم
کرکے گفتگو کرنا ان کے تخلیقی تخیل کی وسعت کا ثبوت ہے۔ مگر اسی مقام پر ایک عجیب
تضاد پیدا ہوتا ہے۔ پرندوں کو آواز دے کر ناول انسان مرکزیت سے باہر نکلنے کا
امکان پیدا کرتا ہے، پھر ان ہی پرندوں کو انسانی اخلاق، گناہ، سزا اور دیوانگی کی
زبان دے کر دوبارہ اسی دائرے میں لے آتا ہے۔
گدھ بطور استعارہ فوری اثر پیدا کرتا ہے کیونکہ قاری اس پرندے
کے بارے میں خالی ذہن کے ساتھ ناول میں داخل نہیں ہوتا۔ مردار، موت، بدصورتی،
انتظار، سڑاند اور زوال سے جڑی ہوئی پوری تہذیبی یاد اس کے ساتھ چلتی ہے۔ بانو
قدسیہ کو گدھ کے منفی معنوی پس منظر کی تفصیلی تعمیر نہیں کرنی پڑتی۔ پرندے کا نام
ہی بہت سا کام پہلے سے انجام دے چکا ہوتا ہے۔ قیوم کی محروم خواہش، احساس کمتری،
لاحاصل محبت، جسمانی بھٹکاؤ اور ذہنی بے ترتیبی کو گدھ کی مردار خوری کے ساتھ ملا
کر ناول ایک ایسا تصویری نظام قائم کرتا ہے جس نے اس تخلیق کی شناخت تک متعین
کردی۔ بانو قدسیہ کے ناولوں میں جنس نگاری پر ہونے والی تحقیق نے بھی راجہ گدھ
کے فکری ڈھانچے میں فلسفے، عشق، جنس، حرام رزق اور پرندوں کی علامتی قدر کو ایک
دوسرے سے وابستہ عناصر کے طور پر دیکھا ہے۔ کسی علامت کا چالیس
برس بعد بھی قاری کے حافظے میں موجود رہنا معمولی فنی کامیابی نہیں۔ لیکن علامت کا
مؤثر ہونا اس کے بنیادی مفروضے کو تنقیدی سوال سے آزاد نہیں کرتا۔
اصل گدھ سامنے آتے ہی پہلا مسئلہ مردار خوری کے معنی سے پیدا
ہوتا ہے۔ انسان کے لیے سڑی ہوئی لاش کراہت، تعفن اور موت کا نشان ہے۔ گدھ کے لیے
وہ خوراک ہے۔ اس فعل میں حیوانی سطح پر نہ لالچ موجود ہے، نہ اخلاقی حد شکنی اور
نہ ناجائز چیز کے انتخاب کا کوئی شعوری تصور۔ گدھ مردار اس لیے نہیں کھاتا کہ اس
نے کسی پاکیزہ خوراک کے مقابل حرام راستہ اختیار کیا ہے۔ اس کا جسم، ہاضمہ، ارتقائی
تاریخ اور ماحولیاتی کردار اسی خوراک کے ساتھ ہم آہنگ ہوئے ہیں۔ انسان جب ممنوع
چیز کا انتخاب کرتا ہے تو اس کے پیچھے اختیار، ذمہ داری اور اخلاقی قانون کا پورا
تصور موجود ہوتا ہے۔ ایک جاندار کی فطری خوراک اور انسان کے اخلاقی انحراف کو ایک
ہی سطح پر رکھنا ادبی تمثیل میں ممکن ہے، حیاتیاتی حقیقت میں نہیں۔ یہی فرق راجہ
گدھ کی علامتی قوت اور اس کی نظریاتی کمزوری کو ایک ساتھ سامنے لاتا ہے۔
حیوانی مطالعات نے ادب میں موجود جانوروں کے ساتھ اسی پرانے
طرز عمل کو نئے سرے سے جانچا ہے۔ طویل عرصے تک ناقد کا بنیادی سوال یہی رہا کہ کسی
متن میں شیر کس انسانی وصف کی علامت ہے، لومڑی کس خصلت کی، گھوڑا کس جذبے کی اور
پرندہ کس روحانی کیفیت کی۔ جدید حیوانی مطالعات نے اس سوال کو رد نہیں کیا، مگر اس
کے ساتھ ایک دوسرا سوال شامل کردیا۔ جانور خود کہاں گیا۔ آکسفورڈ کی ادبی تحقیق اس
میدان کو انسانی اور حیوانی تجربے کے فرق، انسانی تصورات کو جانوروں پر مسلط کرنے
اور غیر انسانی مخلوق کی اپنی زندگی کو تنقید میں جگہ دینے سے جوڑتی ہے۔ راجہ
گدھ اسی لیے غیر معمولی مثال بن جاتا ہے۔ یہاں گدھ کسی ضمنی منظر کا پرندہ نہیں،
کتاب کے عنوان اور مرکزی فلسفے تک پہنچا ہوا وجود ہے۔ اگر ناول اسے اتنا بڑا معنوی
منصب دیتا ہے تو جدید قاری اس سے یہ پوچھنے کا حق بھی رکھتا ہے کہ انسانی معنی کا
یہ پورا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے حقیقی گدھ کہاں غائب ہوگیا۔
انسان مرکزیت کا سوال یہاں محض کسی جدید مغربی اصطلاح کی نمائش
نہیں۔ ہمارے تہذیبی محاوروں میں جانوروں کی ایک غیر تحریری اخلاقی درجہ بندی پہلے
سے موجود ہے۔ عقاب بلند پرواز، شیر بہادر، ہرن معصوم، لومڑی مکار، گدھا احمق اور
گدھ لالچی یا منحوس سمجھا جاسکتا ہے۔ حیاتیاتی انواع پر انسانی اخلاقی صفات چسپاں
کرکے ہم ایسی دنیا بناتے ہیں جہاں جانور اپنی فطرت سے زیادہ انسانی پسند و ناپسند
کے تابع دکھائی دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عقاب شکار کرکے زندہ جانور کو مارتا
ہے مگر تہذیبی تخیل اسے رفعت اور قوت کا نشان بنا سکتا ہے، گدھ پہلے سے مردہ جسم
کھاتا ہے مگر پستی اور حرص سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ قدرت نے دونوں کے لیے مختلف وظائف
رکھے ہیں، اخلاقی درجات نہیں۔ انسان نے ان وظائف کو اپنی جمالیات اور اپنی اقدار
کے مطابق عزت اور ذلت میں تقسیم کردیا۔
راجہ گدھ میں یہی تہذیبی تقسیم ناول کے اخلاقی نظام کو بڑی
سہولت فراہم کرتی ہے۔ اگر گدھ پہلے ہی انسانی حافظے میں مکروہ نہ ہوتا تو مردار
خوری اور حرام رزق کے درمیان قائم کیا گیا رشتہ اتنی تیزی سے اثر نہ کرتا۔ یہاں
بانو قدسیہ اپنے عہد کی ایک مانوس علامتی زبان استعمال کرتی ہیں۔ ان پر یہ اعتراض
کرنا درست نہ ہوگا کہ انہوں نے جان بوجھ کر کسی حیوانی نوع کے خلاف ادبی مہم
چلائی۔ معاملہ کہیں زیادہ باریک ہے۔ مصنفہ نے پہلے سے موجود تہذیبی معنی کو ایک
بڑے فلسفیانہ استعارے میں تبدیل کیا، مگر استعارے کی کامیابی کے اندر تہذیب کا وہ
پرانا تعصب بھی محفوظ ہوگیا جس میں بعض انواع انسان کی پسندیدہ اخلاقی صفات اور
بعض اس کے مکروہ اوصاف اٹھاتی ہیں۔ ادبی تنقید مصنف کی نیت کی عدالت نہیں، متن کے
اندر کام کرنے والے مفروضوں کی شناخت ہے۔
گدھ کی اصل ماحولیاتی زندگی کو سامنے رکھا جائے تو مردار خوری
کا مفہوم مزید بدلتا ہے۔ مردہ جانور زمین پر پڑا ہے، سڑنے کا عمل جاری ہے، جراثیم
اور دوسرے scavengers اس کی طرف متوجہ ہو سکتے ہیں۔ گدھ پہنچتا ہے اور لاش کو تیزی
سے ختم کرنے میں حصہ لیتا ہے۔ IUCN اسی خاصیت کو ماحول کی صفائی اور بیماری کی منتقلی کے خطرے میں
کمی سے وابستہ کرتا ہے۔
انسانی ثقافت جس منظر کو گندگی سمجھتی
ہے، ecological system اسی جگہ ایک ضروری صفائی کا عمل دیکھ سکتا ہے۔ اس نکتے پر ناول
کے استعارے میں ایک غیر متوقع الٹاؤ واقع ہوتا ہے۔ مردار پیدا کرنے والا گدھ نہیں،
وہ تو پہلے سے موجود مردہ جسم کو ختم کرنے پہنچا ہے۔ اخلاقی گندگی کا استعارہ اس
مخلوق کو بنانا جس کا قدرتی کردار جسمانی گندگی کے خاتمے میں مدد دیتا ہے، آج کے
ماحولیاتی علم کے سامنے ایک نئی معنوی کشمکش پیدا کرتا ہے۔
یہ کشمکش صرف نظری نہیں رہی۔ جنوبی ایشیا میں گدھوں کی حقیقی
تباہی انسانی مداخلت سے وابستہ نکلی۔ 2004 میں Nature میں
شائع ہونے والی تحقیق نے پاکستان میں سفید پشت والے گدھوں کی شدید کمی کا تعلق veterinary diclofenac سے قائم کیا۔ علاج شدہ مویشی کے جسم میں دوا کی باقیات لاش کے
ذریعے گدھ تک پہنچتی تھیں اور اس کے گردوں کو شدید نقصان دیتی تھیں۔ مطالعے نے
1990 کی دہائی سے شروع ہونے والی بعض آبادیوں میں پچانوے فیصد سے زیادہ کمی کے
وسیع علاقائی بحران کا حوالہ دیا۔
انسانی تہذیب نے جس پرندے کو مردار کی
نسبت سے ناپاکی اور زوال کا نشان بنایا، اسی پرندے کی نسل انسان کے مویشی، انسان
کی دوا اور انسان کے علاجی نظام سے زہر کھاتی رہی۔ ادبی استعارے کے مقابل یہ
تاریخی حقیقت تقریباً طنزیہ صورت اختیار کرلیتی ہے۔ انسانی فساد کی علامت سمجھا
جانے والا جاندار حقیقی دنیا میں انسانی نظام کا شکار نکلتا ہے۔
بانو قدسیہ کو ان سائنسی دریافتوں کی بنیاد پر کٹہرے میں کھڑا
کرنا یقیناً غیر تاریخی رویہ ہوگا۔ راجہ گدھ پرندوں کی حیاتیات پر لکھی گئی
کتاب نہیں۔ مصنفہ کا بنیادی مسئلہ انسان، اس کی خواہش اور اخلاقی حدود ہیں۔ کسی
ادیب سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ استعارہ قائم کرنے سے پہلے وہ متعلقہ نوع پر
جدید ecological
literature کا جائزہ لے۔ مگر ادبی متن اپنے زمانے
کی حدود میں پیدا ہونے کے باوجود ہمیشہ اسی زمانے میں بند نہیں رہتا۔ نیا علم
پرانے استعارے کو نئے سوال دے سکتا ہے۔ بانو قدسیہ کی علامت اپنے عہد کے تہذیبی
حافظے سے معنی لیتی تھی، موجودہ ماحولیاتی شعور اسی علامت کے اندر ایسی جہت دکھاتا
ہے جو ممکن ہے مصنفہ کے سامنے نہ رہی ہو۔ تنقید کی زرخیزی اسی فرق میں ہے۔ نئی
قرأت مصنفہ کو غلط ثابت کرنے کے بجائے متن کی معنوی عمر بڑھاتی ہے۔
زیادہ دلچسپ امر یہ ہے کہ خود بانو قدسیہ کا ناول انسان کو
مکمل طور پر بے قصور مرکز نہیں بناتا۔ پرندوں کی مملکت انسانی طاقت سے خوف زدہ ہے۔
جنگ اور تباہی کے اثرات انسانی معاشرے تک محدود نہیں رہتے، زمین اور دوسری مخلوقات
بھی اس کے دائرے میں آتی ہیں۔ جادوئی حقیقت نگاری کے حوالے سے کیے گئے ایک مطالعے
نے اسی پہلو کو نمایاں کرتے ہوئے پرندوں کے ذیلی قصے میں انسانی طاقت، جوہری تباہی
اور غیر انسانی مخلوقات کے مستقبل کو اہم قرار دیا ہے۔
یہاں بانو قدسیہ اپنے مرکزی استعارے
سے کہیں زیادہ جدید دکھائی دیتی ہیں۔ انسان اپنی ذہانت اور طاقت کے باوجود کائنات
کا غیر جواب دہ مالک نہیں۔ اس کے فیصلے دوسری انواع کو بھی خوف، بے گھری اور ہلاکت
دے سکتے ہیں۔ ماحولیاتی تنقید کے لیے یہ مقام خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مصنفہ ایک
طرف گدھ کو انسانی اخلاق کی علامت بناتی ہیں، دوسری طرف پرندوں کی آنکھ سے انسان
کی تباہ کاری دکھانے کی گنجائش بھی پیدا کرتی ہیں۔
اسی دوہرے پن میں بانو قدسیہ کی فنی بصیرت اور نظریاتی پیچیدگی
ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں۔ پرندے انسان کو باہر سے دیکھ سکتے ہیں، مگر ان کی اپنی
دنیا حیرت انگیز طور پر انسانی اداروں کے مطابق ترتیب پاتی ہے۔ بادشاہ ہے، اجتماعی
گفتگو ہے، جرم ہے، اخلاقی فیصلہ ہے، دیوانگی ہے اور اقدار کا نظام ہے۔ جانوروں کو
انسان نما بنانا تمثیلی ادب کی قدیم روایت ہے، اس لیے بذات خود یہ عیب نہیں۔ 2026
میں شائع ہونے والے Oxford Handbook of
Allegory کے ایک باب نے بھی جانوروں کی تمثیل
کو سادہ طور پر انسانوں کی جگہ جانور کھڑے کرنے کا عمل سمجھنے کے بجائے زیادہ
پیچیدہ قرار دیا ہے۔
مگر راجہ گدھ میں سوال برقرار رہتا ہے کہ پرندوں کو آواز تو
ملی، کیا ان کی اپنی نوعی شناخت بھی ملی۔ یا انہیں بولنے کے لیے پہلے انسانی
اخلاقی زبان اختیار کرنا پڑی۔
بانو قدسیہ کی سب سے بڑی فنی قوت شاید یہی ہے کہ وہ مجرد نظریے
کو قصے میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ راجہ گدھ اگر حلال و حرام پر فلسفیانہ رسالہ ہوتا
تو اس کی زندگی محدود رہتی۔ قیوم، سیمی، آفتاب اور ان کے درمیان تعلق ناول کے نظری
مباحث کو انسانی جسم اور جذبات میں داخل کرتے ہیں۔ خواہش یہاں لغت کی اصطلاح نہیں،
کسی کو حاصل نہ کر سکنے کی تکلیف ہے۔ احساس کمتری کوئی نفسیاتی تعریف نہیں، قیوم
کے رویے اور فیصلوں میں محسوس ہوتا ہے۔ جنس، محبت اور فلسفے کے باہمی تعلق پر
موجود تحقیق بھی ناول کی اسی ساخت کو نمایاں کرتی ہے۔ بانو قدسیہ کا کمال
یہ ہے کہ وہ قاری کو پہلے کردار کے تجربے میں لے جاتی ہیں اور پھر اس تجربے سے بڑا
اخلاقی سوال نکالتی ہیں۔ مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں اخلاقی سوال کردار سے نکلنے
کے بجائے کردار کو اپنی دلیل میں استعمال کرنے لگتا ہے۔
حرام رزق اور جنون کا رشتہ ناول کے سب سے زیادہ معروف اور سب
سے زیادہ قابل بحث تصورات میں شامل ہے۔ 2024 میں شائع ہونے والے ایک مطالعے نے بھی
ناول کے حلال و حرام، جنون، نفسیات، روحانیت اور اخلاقی زوال کے تصورات کو اس کی
فکری بنیاد کے طور پر تفصیل سے دیکھا ہے۔ بانو قدسیہ رزق کو
کھانے یا کمائی تک محدود نہیں رکھتیں۔ ناجائز خواہش، ممنوع تعلق، اخلاقی حد سے
تجاوز اور انسانی باطن کی آلودگی ایک وسیع تصور میں جمع ہونے لگتے ہیں۔ بطور ادبی
فکر اس وسعت میں غیر معمولی کشش ہے۔ لیکن جب حرام کے اثرات کو ذہنی بیماری، نسل
اور وراثت کے ساتھ علت و معلول کے انداز میں جوڑا جاتا ہے تو تنقیدی احتیاط ضروری
ہوجاتی ہے۔ ناول فلسفیانہ اور اخلاقی تصور پیش کرسکتا ہے، مگر ادبی تخلیق خود کسی
طبی یا جینیاتی قانون کا تجرباتی ثبوت نہیں بن جاتی۔
اس مقام پر بانو قدسیہ کی فکر پر اصل اعتراض حرام اور حلال کے
مذہبی تصور سے نہیں، ان کے درمیان قائم کی گئی بعض قطعی نسبتوں سے بنتا ہے۔ ناول
اگر یہ پوچھے کہ ناجائز کمائی یا اخلاقی حد شکنی انسان کے باطن کو کس طرح متاثر
کرتی ہے تو سوال ادبی طور پر زرخیز ہے۔ اگر اسی اخلاقی آلودگی کو حیاتیاتی وراثت
اور ذہنی اختلال کی ناگزیر علت کے طور پر پڑھا جائے تو صورت مختلف ہو جاتی ہے۔
مذہب، اخلاق، نفسیات اور حیاتیات کے دائرے ایک دوسرے سے بات کرسکتے ہیں، مگر انہیں
ایک دوسرے میں تحلیل کرنا علمی سطح پر احتیاط مانگتا ہے۔ بانو قدسیہ کی جرات یہ ہے
کہ انہوں نے ان دائروں کو ایک ہی ناول میں جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کی کمزوری بعض
مقامات پر یہ ہے کہ سوال اور مفروضہ ایک ایسے یقین میں ڈھلنے لگتے ہیں جہاں تخلیقی
ابہام کم ہوجاتا ہے۔
قیوم اسی فکری کشمکش کا سب سے پیچیدہ مظہر ہے۔ وہ محض حرام کی
مثال نہیں۔ اس کے اندر طبقاتی احساس کمتری ہے، آفتاب کے مقابل اپنی کم حیثیتی کا
شعور ہے، سیمی کو حاصل کرنے کی ناکام خواہش ہے، رد کیے جانے کا زخم ہے اور پھر
ایسی جنسی و جذباتی بھٹکاہٹ ہے جو اس کی شخصیت کو کئی سطحوں پر کھولتی ہے۔ فرائڈ
اور غزالی کے تصورات کی روشنی میں راجہ گدھ پر ہونے والی تحقیق نے بھی مرکزی
کرداروں کے اندر خواہش، نفس، لاشعور، داخلی کشمکش اور اخلاقی ضبط کے مختلف مدارج
کو نشان زد کیا ہے۔
قیوم کو محض مصنفہ کے نظریے کی مثال
بنا دیا جائے تو اس کی انسانی پیچیدگی کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا۔ ناول کی طاقت وہاں
ہے جہاں قیوم اپنے نظریاتی مقصد سے زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے، اس کی کمزوری وہاں
جہاں اس کی ہر شکست ایک پہلے سے قائم اخلاقی مساوات کی تصدیق بننے لگتی ہے۔
سیمی کی موجودگی بانو قدسیہ کے اخلاقی نظام میں ایک اور مشکل
سوال پیدا کرتی ہے۔ وہ تعلیم یافتہ، شہری اور اپنی خواہش کا اظہار کرنے والی عورت
ہے۔ آفتاب سے محبت، محرومی، جذباتی شکست اور اس کے بعد اس کا طرز عمل ناول کے پورے
انسانی قصے کو حرکت دیتا ہے۔ 2019 میں شائع ہونے والی ایک باقاعدہ تانیثی تحقیق نے
بانو قدسیہ کے فکشن، خصوصاً راجہ گدھ، میں عورت کی آزادی، روایتی صنفی نظم اور
حیاتیاتی جبریت کے مسئلے پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ اس مطالعے کے ہر
نتیجے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ مگر سیمی کو پڑھتے وقت ایک سوال بار بار واپس آتا
ہے کہ متن عورت کی آزاد خواہش کو انسانی پیچیدگی کے طور پر کتنی جگہ دیتا ہے اور
کس مقام پر اسے اخلاقی انتشار کے بیانیے میں شامل کردیتا ہے۔
بانو قدسیہ ایک عورت کے باطن سے ناواقف مصنفہ نہیں۔ ان کے
کرداروں میں جذباتی پیچیدگی موجود ہے اور سیمی کو محض ایک سطحی "بری
عورت" کے خانے میں نہیں رکھا گیا۔ اسی لیے مسئلہ زیادہ باریک بنتا ہے۔ سیمی
کے دکھ کی شدت اسے قابل ترحم بناتی ہے، اس کی خواہش اسے زندہ شخصیت دیتی ہے، مگر
ناول کی مجموعی اخلاقی فضا اس آزادی سے مکمل طور پر مطمئن دکھائی نہیں دیتی۔ مرد
کی خواہش، عورت کی خواہش، ضبط، جسم اور جنسی آزادی کے لیے متن کے پیمانے کہاں
یکساں ہیں اور کہاں بدل جاتے ہیں، اس سوال کو بانو قدسیہ کے احترام میں نظر انداز
کرنا ادبی تنقید نہیں ہوگا۔ مصنفہ کی عظمت کا بہتر اعتراف یہی ہے کہ ان کے متن کو
وہاں بھی سنجیدگی سے لیا جائے جہاں وہ ہمارے ساتھ اتفاق نہیں کرتا۔
آفتاب کا کردار دوسری سمت سے اسی اخلاقی نقشے کو روشن کرتا ہے۔
2023 کے تحقیقی مطالعے نے راجہ گدھ میں مردانہ مثالیت کی تشکیل کا جائزہ لیتے ہوئے
آفتاب کو مثالی مردانہ اوصاف کے قریب رکھا اور قیوم سمیت دوسرے کرداروں کو اس کے
مقابل پڑھا ہے، اگرچہ آفتاب کی اپنی شخصیت میں بعد کے تضادات بھی نشان زد کیے گئے۔ آفتاب
کے ساتھ وقار، ضبط، صلاحیت اور سماجی قبولیت جڑتے ہیں، جبکہ قیوم کے حصے میں بے
سمتی، محرومی اور اخلاقی بے قراری زیادہ آتی ہے۔ یہ تقابل کردار سازی کی فنی حکمت
عملی بھی ہے اور اقدار کی درجہ بندی بھی۔ ناول جب انسانی شخصیات کو اتنے واضح
اخلاقی فاصلوں پر رکھتا ہے تو قاری کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں کردار اپنے آزاد
وجود سے زیادہ کسی فکری نقشے کے مقامات تو نہیں بن رہے۔
جنس اور خواہش کے باب میں راجہ گدھ کو محض قدامت پسند اخلاقی
ناول کہنا بھی انصاف نہیں۔ بانو قدسیہ جسم اور جنسی خواہش کو قصے سے خارج نہیں
کرتیں۔ محبت، جسمانی طلب، ناکامی، بے وفائی اور جنسی تعلق ان کے بیانیے کے فعال
حصے ہیں۔ ان کے ناولوں میں جنسی عناصر پر ہونے والی تحقیق نے بھی فلسفے، محبت اور
جنس کو ایک دوسرے سے گندھا ہوا قرار دیا ہے۔ یہی جرأت راجہ گدھ کو
روایتی نصیحتی ادب سے الگ کرتی ہے۔ مگر جرات کے ساتھ اخلاقی نگرانی بھی موجود ہے۔
خواہش کو انسانی وجود کی فطری پیچیدگی کے طور پر قبول کرنے اور اسے اخلاقی انحطاط
کے راستے میں رکھنے کے درمیان ناول بار بار حرکت کرتا ہے۔ بعض جگہ انسانی تجربہ
نظریے کو شکست دیتا ہے، بعض جگہ نظریہ انسانی تجربے پر غالب آ جاتا ہے۔
بانو قدسیہ کی روحانی فکر کے ساتھ بھی اسی توازن کی ضرورت ہے۔
انہیں روحانیت سے وابستہ مصنفہ کہہ کر ہر فکری دعوے کو غیر تنقیدی طور پر قبول
کرلینا تحقیق نہیں، اور ان کی metaphysical فکر کو جدید عقلیت کے نام پر ناقابل اعتبار کہہ دینا بھی تنگ
نظری ہوگی۔ راجہ گدھ کی ادبی کشش ہی اس میں ہے کہ محبت کے ایک نسبتاً مانوس قصے سے
انسان کے نفس، اخلاق، جنون، جائز و ناجائز اور روحانی اضطراب کے سوال نکلتے ہیں۔
بانو قدسیہ روزمرہ تعلقات کے اندر ایک بڑی فکری بے چینی پیدا کرتی ہیں۔ جہاں وہ
سوال کو زندہ رکھتی ہیں وہاں ناول غیر معمولی کشادگی حاصل کرتا ہے۔ جہاں جواب پہلے
سے طے شدہ محسوس ہونے لگے وہاں کردار کی آزادی اور قاری کی تعبیر دونوں محدود ہونے
لگتے ہیں۔
پرندوں کی تمثیل ناول کو اسی بندش سے بار بار بچاتی ہے۔ انسانی
قصے اور حیوانی قصے کے درمیان آمدورفت سے ایسا فاصلہ پیدا ہوتا ہے جس میں ایک ہی
واقعے کو مختلف سطحوں پر دیکھا جاسکتا ہے۔ گدھ صرف قیوم کا عکس نہیں رہتا، وہ ایک
پوری اخلاقی اور اجتماعی دنیا کا حصہ بنتا ہے۔ اسی وجہ سے ناول کے حیوانی پہلو کو
قومی اور سیاسی تمثیل کے طور پر بھی پڑھا گیا اور جادوئی حقیقت نگاری کے حوالے سے
بھی۔ گدھ کی علامت اگر حرام رزق کے ایک ہی مفہوم میں مکمل طور پر
بند ہوتی تو اتنی مختلف قرأتوں کی گنجائش کم رہتی۔ بانو قدسیہ نے اپنے مرکزی نظریے
کو مضبوطی سے پیش کیا، مگر ان کے تخلیقی متن میں اس نظریے سے باہر جانے والے راستے
بھی پیدا ہوگئے۔
اسی جگہ ادبی حیوانیات کی نئی قرأت اپنی اصل معنویت حاصل کرتی
ہے۔ مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ بانو قدسیہ نے "غلط جانور" منتخب کیا۔
ایسا فیصلہ ادب کے طریق کار کو سمجھے بغیر دیا جائے گا۔ استعارہ حیاتیاتی کتاب
نہیں ہوتا۔ مگر ادبی تمثیل میں جانوروں کو انسانی مسائل کے قائم مقام بنانے کے
اندر جو پیچیدگی ہے، جدید تحقیق اسے سنجیدگی سے دیکھتی ہے۔ Oxford Handbook of Allegory کا حالیہ مطالعہ بھی اس خیال کو سادہ نہیں مانتا کہ جانور بس
انسانوں کی جگہ کھڑے ہوجاتے ہیں، کیونکہ تمثیل کے عمل میں انسان اپنے حیوانی وجود
اور غیر انسانی مخلوق کے ساتھ اپنے تعلق دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔ راجہ
گدھ میں گدھ انسان کا عکس بنتے بنتے خود انسان کے بارے میں ایسی بات بھی بتا دیتا
ہے جس کا تعلق حرام رزق سے نہیں بلکہ انسانی خود مرکزیت سے ہے۔
اس خود مرکزیت کا ایک نشان "نوعی اخلاقیات" میں
دکھائی دیتا ہے۔ انسان جانوروں کے افعال کو اپنی اخلاقی اصطلاحات میں بیان کرتا
ہے۔ شیر "بہادر" ہے، حالانکہ شیر نے شجاعت کا اخلاقی نظریہ اختیار نہیں
کیا۔ لومڑی "مکار" ہے، حالانکہ اس کا طرز عمل بقا کی حکمت عملی ہوسکتا
ہے۔ گدھ "لالچی" ہے، حالانکہ اس کا لاش پر جمع ہونا خوراک کا قدرتی
طریقہ ہے۔ اس قسم کی زبان انسان کو حیوانی دنیا کی تفہیم میں سہولت دیتی ہے مگر
ساتھ ہی جانور کو اپنے انسانی تصورات کے تابع کردیتی ہے۔
Animal Studies انسانی تجربے کو
تمام انواع کے لیے معیار بنانے کے اسی رویے سے محتاط کرتی ہے۔ بانو
قدسیہ کے گدھ کو اس نظریے سے پڑھنے پر ناول کی علامت ختم نہیں ہوتی، اس کے نیچے
چھپی ہوئی تہذیبی عادت نمایاں ہو جاتی ہے۔
یہاں گدھ اور عقاب کا فرق مزید معنی خیز ہے۔ انسانی تخیل عقاب
کے شکار کو بلندی سے جوڑ سکتا ہے اور گدھ کی مردار خوری کو پستی سے۔ ایک جانور
زندہ مخلوق کو مارتا ہے، دوسرا پہلے سے مرے جسم پر گزارا کرتا ہے۔ پھر بھی اخلاقی
احترام پہلے کے حصے میں آسکتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ ایک جواب جمالیاتی ہے۔ عقاب کی
پرواز، جسم اور شکار کی رفتار انسانی تخیل کو قوت کا منظر دیتی ہے۔ گدھ کی خوراک
اور ظاہری صورت انسانی نفرت کو متحرک کرتی ہے۔ مگر قدرت جمالیاتی ذوق کے مطابق
انواع کی قدر مقرر نہیں کرتی۔ کسی ecosystem کے لیے گدھ کا کام خوب صورت دکھائی دینے سے زیادہ اہم ہوسکتا
ہے۔ بانو قدسیہ کا استعارہ اسی انسانی جمالیاتی تعصب سے فائدہ اٹھاتا ہے اور غیر
ارادی طور پر اسے مزید مضبوط بھی کرتا ہے۔
گدھ کو نئی نظر سے دیکھنے کا مطلب اسے رومانوی ہیرو بنانا بھی
نہیں۔ ماحولیاتی تنقید کا مقصد پرانے منفی استعارے کو الٹ کر اتنا ہی سادہ مثبت
استعارہ پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ حقیقی گدھ نہ اخلاقی مجرم ہے، نہ اخلاقی بزرگ۔
وہ ایک حیاتیاتی نوع ہے۔ اسی معمولی مگر بنیادی فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اگر
ہم گدھ کو "قدرت کا نیک صفائی کرنے والا" کہہ کر انسانی اخلاقی زبان میں
دوبارہ گرفتار کردیں تو وہی غلطی دوسری سمت سے دہرائی جائے گی۔ بہتر قرأت حیوان کو
انسانی فضیلت اور انسانی گناہ دونوں سے کچھ فاصلے پر دیکھتی ہے۔ اس کے بعد راجہ
گدھ کا ادبی گدھ اور فطرت کا گدھ ایک دوسرے سے بات تو کرتے ہیں مگر ایک دوسرے میں
تحلیل نہیں ہوتے۔
بانو قدسیہ پر ادبی تنقید کرتے وقت ان کی تاریخی اور فکری جگہ
بھی نظر میں رہنی چاہیے۔ ان کا مسئلہ بیسویں صدی کے آخری حصے کے پاکستانی معاشرے
میں فرد، اخلاق، روحانی تشویش اور جدید طرز زندگی کے درمیان کشمکش سے جڑا ہوا ہے۔
وہ انسانی آزادی کی غیر محدود تعریف سے مطمئن نہیں۔ جسمانی خواہش کو بھی کسی بڑی
اخلاقی ترتیب سے الگ نہیں دیکھتیں۔ ان کے ہاں عقل اپنے آپ میں کافی نہیں اور
انسانی نفس مسلسل نگرانی مانگتا ہے۔ راجہ گدھ اسی فکری مزاج کی ایک بڑی تخلیقی
صورت ہے۔ آج کا ناقد اس فکر سے اختلاف کرسکتا ہے، لیکن اسے پہلے اس کے اندرونی
منطق کو سمجھنا ہوگا۔ بانو قدسیہ کی اہمیت اس لیے نہیں کہ ان کے تمام جوابات درست
مان لیے جائیں، بلکہ اس لیے بھی کہ انہوں نے ایسے سوالوں کو اردو فکشن کے مرکزی
تجربے میں داخل کیا جن سے قاری آسانی سے بچ نہیں پاتا۔
ان کی ایک نمایاں حد بھی اسی فکری اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔ جب
مصنف کسی اخلاقی تصور پر گہرا یقین رکھتا ہو تو خطرہ رہتا ہے کہ فکشن تحقیق کے
بجائے اثبات کی صورت اختیار کرنے لگے۔ راجہ گدھ کئی جگہ اس خطرے کے بہت قریب جاتا
ہے۔ کردار، واقعات اور پرندوں کی تمثیل حرام رزق اور اخلاقی انحطاط کے بڑے تصور کی
طرف مسلسل لوٹتے ہیں۔ پھر بھی ناول پوری طرح وعظ نہیں بنتا، کیونکہ سیمی، قیوم اور
دوسرے کردار مصنفہ کے اخلاقی نظام سے زیادہ بے ترتیب اور انسانی ہیں۔ ان کے جذبات
نظریے کے صاف خانوں میں مکمل طور پر بند نہیں ہوتے۔ یہی دراڑ ناول کو زندہ رکھتی
ہے۔ قاری بانو قدسیہ کا مقدمہ سنتا ہے مگر کرداروں کی زندگی اسے ہر مقام پر اسی
نتیجے تک پہنچنے پر مجبور نہیں کرتی۔
ادبی تنقید کی معنویت اسی وقت قائم رہتی ہے جب تحسین اور
اختلاف کو ایک دوسرے کی ضد نہ سمجھا جائے۔ راجہ گدھ کی فکری وسعت کا اندازہ اس بات
سے بھی ہوتا ہے کہ اسے نفسیاتی تعبیر میں فرائڈ کے حوالے سے پڑھا گیا، اخلاقی اور
روحانی سطح پر غزالی کے تصور نفس سے جوڑا گیا، تانیثی تنقید نے اس کے صنفی رویوں
کو جانچا، مردانہ مثالیت پر الگ مطالعہ ہوا اور پرندوں کی دنیا کو جادوئی حقیقت
نگاری کے حوالے سے دیکھا گیا۔
ناول کی نفسیات، جنس، مردانگی،
روحانیت اور اخلاقی فکر پر ہونے والی مختلف قرأتیں بتاتی ہیں کہ اس کا تخلیقی
دائرہ اپنے بنیادی نظریے تک محدود نہیں رہتا۔ بعض نظریاتی ناول وقت گزرنے کے ساتھ
اپنے مرکزی مقدمے کی مثال بن کر رہ جاتے ہیں، مگر راجہ گدھ میں کردار، علامت اور
بیانیہ کئی ایسے امکانات پیدا کرتے ہیں جو مصنفہ کے ظاہر کردہ فکری موقف سے بھی
آگے نکل جاتے ہیں۔ اسی کشادگی کے باعث ناول سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور ہر
نئے عہد میں اس کے ساتھ تازہ تنقیدی مکالمہ بھی قائم رہتا ہے۔
گدھ کی ماحولیاتی حقیقت اسی مکالمے میں ایک ایسا زاویہ شامل
کرتی ہے جو ناول کے پرانے فلسفے کو ختم کیے بغیر اس کی اخلاقی سمت بدل دیتا ہے۔
مردار خور ہونا فطرت میں جرم نہیں۔ گدھ نے کسی ناجائز دولت پر قبضہ نہیں کیا، کسی
انسانی رشتے کو استحصال میں نہیں بدلا، کسی اخلاقی قانون کو جان بوجھ کر نہیں
توڑا۔ اس کے باوجود انسانی تہذیب اس کے طرز خوراک کو اپنی پستی کے اظہار کے لیے
استعمال کرتی ہے۔ دوسری طرف انسان جنگ کرتا ہے، فضا اور پانی آلودہ کرتا ہے،
جانوروں کے مسکن تبدیل کرتا ہے، ایسے کیمیائی مادے اور ادویات استعمال کرتا ہے جن
کے نتائج دوسری انواع تک پہنچتے ہیں۔ جنوبی ایشیائی گدھوں کی تباہی میں
ڈائیکلوفیناک کی تاریخ اس تضاد کو محض فلسفیانہ خیال نہیں رہنے دیتی۔ گدھ
پر رکھی گئی اخلاقی علامت اور انسان کے حقیقی
ecological footprint کے
درمیان فاصلہ دیکھیں تو فرد جرم کی سمت خود بخود بدلنے لگتی ہے۔
یہ تبدیلی راجہ گدھ کے مذہبی اور اخلاقی سوال کو بھی ایک وسیع
مفہوم دیتی ہے۔ اگر حرام کا بنیادی مفہوم حد سے تجاوز، حق تلفی اور ایسی خواہش سے
وابستہ سمجھا جائے جو دوسرے وجود کو نقصان پہنچاتی ہے تو ماحولیاتی بحران انسانی
اخلاق سے باہر نہیں رہتا۔ ایسی معیشت جو زمین، پانی اور دوسری انواع کی بقا کو
مسلسل نقصان پہنچائے، اس پر بھی اخلاقی سوال قائم ہوسکتا ہے۔ بانو قدسیہ نے ناول
میں ecology کی اصطلاح استعمال نہیں کی، مگر پرندوں کی دنیا میں انسانی
تباہی کا خوف ایک ایسا راستہ ضرور کھولتا ہے جس سے موجودہ قاری آگے بڑھ سکتا ہے۔
یوں نئی قرأت مصنفہ کے مرکزی اخلاقی اضطراب سے مکمل بغاوت نہیں کرتی۔ بعض مقامات
پر اسے انسان اور اس کے نفس سے نکال کر انسان اور پوری غیر انسانی دنیا کے تعلق تک
وسیع کردیتی ہے۔
اس پہلو سے دیکھا جائے تو بانو قدسیہ کا ناول اپنی ہی علامت کے
خلاف مواد فراہم کرتا ہے۔ گدھ انسانی انحطاط کی علامت ہے، مگر پرندوں کی دنیا خود
انسان کی تباہ کاری کی شاہد بھی ہے۔ انسان اخلاقی مرکز ہے، مگر انسان ہی ایسی قوت
ہے جس سے دوسری مخلوقات خوف کھاتی ہیں۔ گدھ پر جرم کی علامت رکھی گئی ہے، مگر
حقیقی گدھ انسانی عمل سے مرتا ہے۔ یہ تمام تضادات ناول کو کمزور نہیں کرتے۔ فکشن
کی طاقت کئی بار ایسی داخلی دراڑوں سے پیدا ہوتی ہے جہاں مصنف کا ایک تصور اس کے
دوسرے تصور سے ٹکرا جاتا ہے۔ قاری اگر صرف مصنف کے اعلان کردہ فلسفے کو قبول کرے
تو یہ دراڑیں بند رہتی ہیں۔ تنقید انہیں کھولتی ہے۔
عنوان راجہ گدھ بھی اس زاویے سے نئے معنی پیدا کرتا ہے۔
"راجہ" اقتدار، مرکز اور درجہ بندی کی انسانی زبان سے آتا ہے،
"گدھ" ایک غیر انسانی نوع ہے۔ دونوں کو ملا کر ناول پرندوں کی دنیا کو
انسانی سیاسی و اخلاقی ساخت کے اندر ترتیب دیتا ہے۔ فنی اعتبار سے یہ نام غیر
معمولی تاثیر رکھتا ہے۔ مگر نئی حیوانی قرأت میں عنوان خود انسان نما بنانے کے عمل
کی مثال بھی بن جاتا ہے۔ انسان دوسری نوع کو سمجھنے کے لیے اپنے بادشاہ، اپنی
عدالت، اپنے اخلاق اور اپنی سزا کے تصورات استعمال کرتا ہے۔ شاید ادب کے پاس مکمل
طور پر غیر انسانی زبان ہو ہی نہیں سکتی، کیونکہ اسے آخرکار انسان لکھتا اور انسان
پڑھتا ہے۔ جدید حیوانی مطالعات بھی اسی مشکل کو تسلیم کرتی ہیں کہ جانور کی زندگی
تک رسائی ہمیشہ انسانی ادراک اور زبان کی حدود سے گزرتی ہے۔ اہم بات اس حد سے بے
خبر رہنے اور اسے شعوری مسئلہ بنانے کے درمیان فرق ہے۔
گدھ کو اس کی اپنی ذات میں دیکھنے کی کوشش ناول کے استعارے کو
مکمل طور پر رد نہیں کرتی۔ انسانی ثقافت میں علامتیں حیاتیاتی حقائق کے مطابق نہیں
بنتیں۔ سانپ کا زہر اسے بدی کی علامت بنا سکتا ہے، حالانکہ سانپ انسانی اخلاق کا
حصہ نہیں۔ اندھیرا خوف کی علامت ہوسکتا ہے، حالانکہ رات اخلاقی طور پر بری نہیں۔
گدھ بھی اسی علامتی منطق کا حصہ ہے۔ فرق اتنا ہے کہ جدید حیوانی اور ماحولیاتی فکر
ہمیں یاد دلاتی ہے کہ علامت کے پیچھے ایک حقیقی زندہ نوع بھی موجود ہے۔ ادبی گدھ
کو پڑھتے وقت حقیقی گدھ کا وجود یاد رہنے لگے تو معنی دو سطحوں پر تقسیم ہوجاتا ہے۔
ایک طرف بانو قدسیہ کا طاقتور اخلاقی استعارہ، دوسری طرف اس استعارے کی قیمت ادا
کرنے والی انسانی نگاہ۔
بانو قدسیہ کی تخلیقی کامیابی شاید اسی جگہ سب سے زیادہ واضح
ہوتی ہے۔ انہوں نے ایسا گدھ تخلیق کیا جو محض قصے کا کردار نہیں رہا۔ اس نے اردو
قاری کی اجتماعی یاد میں ایک فلسفیانہ مقام حاصل کرلیا۔ ناول کا نام سن کر حرام
رزق، جنون، خواہش، قیوم اور اخلاقی زوال کی بحث سامنے آتی ہے۔ بہت کم ادبی علامتیں
اپنے متن سے نکل کر عمومی تنقیدی زبان کا حصہ بن پاتی ہیں۔ لیکن بڑی علامت کی
آزمائش یہ بھی ہے کہ وہ اپنے خلاف اٹھنے والے سوال برداشت کرسکے۔ گدھ کی ماحولیاتی
حقیقت بانو قدسیہ کے استعارے کو ختم نہیں کرتی، اسے ایک نئے تنقیدی دباؤ میں رکھتی
ہے۔ اس دباؤ کے بعد ہم ناول کو پہلے کی طرح نہیں پڑھتے، مگر ناول بھی ہماری نگاہ
سے غائب نہیں ہوتا۔
بانو قدسیہ کے بارے میں کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے کی جلدی اس
مضمون کے بنیادی مقصد کے خلاف ہوگی۔ انہیں روحانی مفکر قرار دے کر ہر بات قبول
کرنا بھی ان کی تخلیقی پیچیدگی کم کرتا ہے، انہیں اخلاقی قدامت پسندی کے خانے میں
بند کردینا بھی۔ راجہ گدھ میں ان کی بڑی قوت انسانی نفس کے تاریک حصوں کی طرف
دیکھنے کی جرات، علامت کی تخلیقی توانائی، فلسفے اور قصے کو جوڑنے کی صلاحیت اور
ایک مانوس محبت کی کہانی سے بڑے اخلاقی سوال پیدا کرنا ہے۔ کمزور مقامات پر نظریہ
کرداروں کی آزادی پر غالب آتا ہے، حرام اور جنون کا رشتہ ضرورت سے زیادہ قطعی
محسوس ہوسکتا ہے، عورت کی خواہش پر موجود اخلاقی دباؤ سوال طلب بنتا ہے اور گدھ کا
استعارہ انسانی تہذیب کے نوعی تعصب کو اپنے اندر لے آتا ہے۔ ان دونوں صورتوں کو
ایک ساتھ دیکھنا ہی بانو قدسیہ کے ساتھ سنجیدہ ادبی مکالمہ ہے۔
اگر تنقید کا مقصد کسی بڑے ادیب کو گرانا یا محفوظ رکھنا نہیں
بلکہ متن کو پوری شدت سے پڑھنا ہے تو راجہ گدھ اس امتحان میں غیر معمولی طور پر
زرخیز ناول ثابت ہوتا ہے۔ ایک طرف مصنفہ اپنے اخلاقی مقدمے میں خاصی واضح ہیں،
دوسری طرف ان کا تخلیقی متن اس مقدمے سے باہر نئی راہیں بناتا رہتا ہے۔ قیوم محض
نظریاتی مثال نہیں رہتا، سیمی محض اخلاقی تنبیہ نہیں رہتی، پرندے محض آرائشی تمثیل
نہیں رہتے اور گدھ بھی آخرکار محض گناہ کی علامت بن کر نہیں رہ سکتا۔ وقت، سائنسی
علم اور نئی تنقیدی بصیرتیں متن کے اندر نئے اختلاف پیدا کرتی رہتی ہیں۔ ایسے
اختلاف کسی کتاب کی شکست نہیں۔ اکثر اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب ابھی زندہ ہے۔
گدھ کو دوبارہ دیکھنے سے ناول کا مرکزی اخلاقی سوال مٹتا نہیں،
صرف اس کی سمت بدل جاتی ہے۔ حرام رزق، خواہش کی حد، اخلاقی اختیار اور جنون کے
سوال انسان کے ہیں۔ گدھ ان کا حیاتیاتی ثبوت نہیں۔ وہ بانو قدسیہ کا ایک ادبی
انتخاب ہے۔ اس انتخاب کی فنی قوت مصنفہ کی ہے اور اس کے اندر چھپی انسان مرکزیت
تنقید کا موضوع۔ حقیقی گدھ اپنی خوراک کے لیے اخلاقی معافی کا محتاج نہیں۔ اس نے
کسی ناجائز دولت پر قبضہ نہیں کیا، کسی تعلق کو استحصال میں نہیں بدلا، کسی جنگ کا
فیصلہ نہیں کیا اور زمین پر زہر نہیں پھیلایا۔ انسان کے چھوڑے ہوئے مردار کو کھانا
اس کی فطرت ہے۔ انسان کے پیدا کیے ہوئے زہر سے مرنا اس کی تاریخ کا سانحہ بن گیا۔
راجہ گدھ کو اس مقام سے پڑھیں تو عنوان کے دونوں الفاظ کا تعلق
بھی بدلتا محسوس ہوتا ہے۔ "راجہ" انسانی اقتدار کا تصور ہے اور
"گدھ" غیر انسانی وجود۔ بانو قدسیہ نے دونوں کو جوڑ کر ایسی علامت بنائی
جس پر انسان اپنے اخلاقی خوف منتقل کرسکتا تھا۔ نئی قرأت اس منتقلی کو واپس انسان
کی طرف پھیر دیتی ہے۔ گدھ اپنی صفائی پیش نہیں کرتا کیونکہ قدرت میں اس پر کوئی
مقدمہ تھا ہی نہیں۔ مقدمہ انسان نے قائم کیا، جرم کی تعریف انسان نے لکھی اور
استعارہ بھی انسان نے بنایا۔
ممکن ہے ناول کی سب سے تازہ قرأت اسی لمحے شروع ہو جب ہم گدھ
سے پوچھنا چھوڑ دیں کہ وہ انسان جیسا کیوں ہے اور انسان سے پوچھیں کہ اسے اپنی
صورت دیکھنے کے لیے گدھ کی ضرورت کیوں پڑی۔ تب مردار خوری کا استعارہ دوسری روشنی
میں آتا ہے۔ گدھ مردار پر اترتا ہے مگر مردار بناتا نہیں۔ انسان تہذیب بناتا ہے،
بازار بناتا ہے، جنگ بناتا ہے، اخلاقی قوانین وضع کرتا ہے اور انہی قوانین کی خلاف
ورزی بھی کرتا ہے۔ پھر اپنی حرص، فساد اور دیوانگی کے لیے ایک پرندہ تلاش کرلیتا
ہے۔
گدھ اگر واقعی گواہی دے سکتا تو شاید بانو قدسیہ کے بنیادی
اندیشے سے اختلاف نہ کرتا۔ انسانی حد شکنی واقعی تباہ کن ہوسکتی ہے۔ ناجائز خواہش
دوسرے وجود کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ حرص انسان کو اپنے باطن اور معاشرے دونوں سے
دور کرسکتی ہے۔ اختلاف شاید وہاں پیدا ہوتا جہاں انسان اپنی اخلاقی شکست کا نام
گدھ کے نام پر رکھتا ہے۔ وہ پوچھ سکتا تھا کہ مردار کس نے پیدا کیا، زہر کس نے
ملایا، زمین کس نے آلودہ کی، انواع کے مسکن کس نے تنگ کیے اور پھر بدنام کس کو کیا
گیا۔
اس سوال سے راجہ گدھ کا استعارہ منہدم نہیں ہوتا۔ زیادہ پیچیدہ
ہو جاتا ہے۔ اور کسی بڑے ادبی متن کے ساتھ تنقید کا شاید بہتر سلوک بھی یہی ہے کہ
اسے توڑا نہ جائے، اسے اتنا کھولا جائے کہ وہ اپنی ہی بنائی ہوئی علامت کے خلاف
ایک نئی گواہی سن سکے۔ بانو قدسیہ نے انسان کو گدھ کے آئینے میں دیکھا تھا۔ آج
ماحولیاتی اور حیوانی تنقید گدھ کو انسان سے الگ کھڑا کرکے دوبارہ انسان کی طرف
دیکھتی ہے۔ ممکن ہے وہاں نظر آنے والی صورت پہلے سے زیادہ بے آرام کرنے والی ہو۔
مردار پر بیٹھا ہوا پرندہ نہیں، بلکہ وہ مخلوق جو اپنے اخلاقی خوف، اپنی تہذیبی
گندگی اور اپنی تباہ کاری کے لیے ایک بے زبان جاندار کا نام استعمال کرتی رہی۔ گدھ
کی سب سے اہم گواہی شاید یہی ہو کہ جرم کبھی اس کا تھا ہی نہیں۔
