تحریر: شہباز علی سولنگی
جوش ملیح آبادی کی شناخت اردو شاعری
میں جس شدت کے ساتھ انقلاب، بغاوت اور آزادی سے وابستہ ہوئی، شاید ہی کسی دوسرے
شاعر کو ایسا لقب اپنی پوری ادبی شخصیت پر اس قدر غالب ملا ہو۔ ان کی شاعری میں
زنجیر ٹوٹتی ہے، زنداں کانپتا ہے، خون گرم ہوتا ہے، نوجوان حرکت میں آتا ہے اور
فرسودہ نظام کے خلاف ایک ایسی آواز بلند ہوتی ہے جو سننے والے کو غیر جانب دار
رہنے نہیں دیتی۔ نوآبادیاتی عہد میں جوش کی نظم نے غلامی کے خلاف بیداری پیدا کی
اور سیاسی جمود کو للکارا۔ ان کے لہجے میں وہ اعتماد تھا جو تقریر کو نظم اور نظم
کو اجتماعی نعرے میں بدل سکتا تھا۔ مسئلہ ان کے انقلابی خلوص کا نہیں بلکہ انقلاب
کے مفہوم کا ہے۔ جوش انقلاب کا مطالبہ تو بڑی گھن گرج کے ساتھ کرتے ہیں، مگر جس
سماج کو گرانا چاہتے ہیں اس کے بعد بننے والی دنیا کا نقشہ ان کی شاعری میں کتنا
واضح ہے؟ سوال ذرا سخت ضرور ہے مگر جوش کی انقلابی شاعری کو نئے سرے سے پڑھنے کے
لیے شاید سب سے ضروری بھی۔ شاعر جس شدت سے پرانی عمارت گرانے پر آمادہ ہے، کیا
اتنی ہی فکری وضاحت کے ساتھ نئی عمارت کا خاکہ بھی پیش کرتا ہے۔
جوش کے انقلاب میں سب سے نمایاں قوت
حرکت کی ہے۔ سکون ان کے مزاج کو راس نہیں آتا۔ محکومی ہو، طبقاتی جبر ہو، مذہبی
اجارہ داری ہو یا سیاسی اقتدار کی سختی، ان کی شاعری مزاحمت کو زندگی کی علامت
بناتی ہے۔ شکست زنداں کا خواب جیسی نظموں میں آزادی محض سیاسی مطالبہ نہیں رہتی
بلکہ جسمانی کیفیت بن جاتی ہے۔ قیدی دیوار کے سامنے کھڑا ہے، زنجیر کمزور پڑ رہی
ہے اور اجتماعی اضطراب کسی بڑے دھماکے کی خبر دے رہا ہے۔ ایسی شاعری کا مقصد سیاسی
دستور مرتب کرنا نہیں تھا۔ وہ غلام سماج کے اندر ارادہ پیدا کرنا چاہتی تھی اور اس
مقصد میں جوش کی خطابت نے غیر معمولی کام کیا۔ مگر آزادی کی خواہش اور آزاد سماج
کا تصور ایک چیز نہیں۔ جابر کو ہٹا دینا انقلاب کا آغاز ہو سکتا ہے، تکمیل نہیں۔
جوش کی نظم بار بار اس لمحے تک پہنچتی ہے جہاں پرانا نظام لرزنے لگتا ہے، لیکن
اقتدار کے خاتمے کے بعد معاشی انصاف کیسے قائم ہوگا، طاقت کس ادارے کے پاس ہوگی،
اختلاف رائے کی گنجائش کتنی ہوگی اور نئے سماج میں فرد اور ریاست کا رشتہ کس اصول
پر استوار ہوگا، ایسے سوال ان کی شعری دنیا میں نسبتاً دھندلے رہتے ہیں۔
جوش کے سیاسی فکر میں انسان دوستی،
استحصال سے نفرت، طبقاتی ناانصافی کے خلاف غصہ اور عوام کی آزادی کا مطالبہ ضرور
ملتا ہے۔ انہیں جاگیرداری، سامراج اور ایسی حکومت سے نفرت تھی جو انسان کو محکوم
بنا دے۔ ان کا تصور انسان کسی محدود مذہبی یا نسلی شناخت میں قید نہیں رہتا۔ اتنا
وسیع انسانی نقطہ نظر ان کی بڑی قوت ہے مگر انقلاب کی عملی ساخت پر پہنچتے ہی یہی
وسعت کبھی تجرید میں بدلنے لگتی ہے۔ انسان آزاد ہو، مساوات قائم ہو، ظلم ختم ہو،
محنت کرنے والے کو حق ملے اور اقتدار جبر کا آلہ نہ رہے۔ یہ سب اعلیٰ مقاصد ہیں
مگر ان کے درمیان سیاسی ترتیب کیسے قائم ہوگی، اس پر شاعری کم بولتی ہے۔ جوش کسی
معاشی یا سیاسی مفکر کے طور پر نہیں لکھ رہے تھے، اس لیے ان سے منشور مانگنا
ناانصافی ہوگی۔ پھر بھی شاعر انقلاب کا لقب جب ان کی شناخت کا بنیادی حوالہ بن چکا
ہو تو پوچھا جا سکتا ہے کہ ان کا انقلاب کس حد تک سماجی تصور ہے اور کس حد تک بلند
جذبات کی ایسی فضا جس میں تبدیلی کا جذبہ اپنی عملی منزل سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔
ان کی شعری لغت بھی اس سوال کو تقویت
دیتی ہے۔ آگ، بجلی، طوفان، شمشیر، زنجیر، خون، جوانی اور بغاوت جیسی علامتیں مسلسل
حرکت اور تصادم پیدا کرتی ہیں۔ الفاظ سننے والے پر ضرب لگاتے ہیں اور بعض اوقات
نظم کا صوتی آہنگ دلیل سے پہلے اثر قائم کر لیتا ہے۔ جوش زبان کو صرف خیال پہنچانے
کے لیے استعمال نہیں کرتے، زبان خود ایک واقعہ بن جاتی ہے۔ ان کے الفاظ مجمع کو
گرم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر سیاسی شاعری میں یہی قوت ایک خطرہ بھی رکھتی
ہے۔ جذبات کی شدت کبھی اس سوال کو پیچھے دھکیل دیتی ہے کہ جس انقلاب کے لیے خون
گرم کیا جا رہا ہے، اس کی سمت کون متعین کرے گا۔ بغاوت بذات خود کوئی سیاسی نظام
نہیں۔ ہر ٹوٹی ہوئی زنجیر آزادی کی ضمانت بھی نہیں ہوتی۔ تاریخ میں ایسے انقلابات
کی کمی نہیں جنہوں نے ایک استبداد کے بعد دوسرے استبداد کو جنم دیا۔ جوش کی شاعری
ظالم کے خلاف اخلاقی فیصلہ بہت جلد صادر کرتی ہے مگر انقلاب کے بعد طاقت کی نگرانی
کا سوال زیادہ جگہ حاصل نہیں کر پاتا۔ شاعر کا تخیل تباہی کے لمحے میں بے حد روشن
ہے، تعمیر کے مرحلے میں روشنی نسبتاً مدھم ہو جاتی ہے۔
اسی مقام پر جوش اور فیض کے مزاج کا
فرق بھی معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ دونوں نے ظلم، محرومی اور سیاسی جبر کو موضوع
بنایا مگر جوش کے ہاں مزاحمت اکثر آواز کے بلند ہونے سے پہچانی جاتی ہے جبکہ فیض
کے ہاں انقلاب کئی مرتبہ انتظار، محرومی، شکست اور طویل اجتماعی جدوجہد کے تجربے
سے گزرتا ہے۔ تقابل کا مقصد کسی ایک شاعر کو دوسرے پر فوقیت دینا نہیں۔ فرق اتنا
ہے کہ جوش تبدیلی کے لمحے کو غیر معمولی شعری توانائی دیتے ہیں۔ وہ انسان کو کھڑا
کرتے ہیں، للکارتے ہیں، حرکت پر آمادہ کرتے ہیں۔ اس قوت کی اپنی تاریخی ضرورت تھی۔
لیکن مسلسل بلند آہنگی کبھی تبدیلی کے پیچیدہ سفر کو مختصر بھی کر دیتی ہے۔ سماجی
انقلاب صرف جذبہ نہیں مانگتا۔ ادارے، قانون، معیشت، تعلیم، طاقت کی تقسیم اور
اختلاف کے حق کا تصور بھی درکار ہوتا ہے۔ جوش کی شاعری ان معاملات پر خاموش نہیں
مگر ان کی انقلابی لفظیات کے مقابل ان کا حصہ بہت کم نمایاں ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے
کہ قاری انقلاب کی حرارت پوری شدت سے محسوس کرتا ہے مگر اس حرارت کے ٹھنڈا ہونے کے
بعد سامنے آنے والی دنیا پوری طرح دکھائی نہیں دیتی۔
اس تنقید کو جوش کی ناکامی قرار دینا
بھی درست نہیں ہوگا۔ شاعری سے سیاسی سائنس کا کام لینے کی کوشش خود ادب کے ساتھ
زیادتی ہوگی۔ جوش کا بنیادی کارنامہ کسی نئے آئین کی دفعات لکھنا نہیں بلکہ غلام
اور خوف زدہ ذہن کو نفسیاتی سطح پر آزاد کرنا تھا۔ نوآبادیاتی اقتدار کے سامنے خوف
توڑنا بھی اپنے عہد میں ایک انقلابی عمل تھا۔ جن معاشروں میں محکومی طویل ہو جائے
وہاں سب سے پہلے یہ یقین بحال کرنا پڑتا ہے کہ طاقت ناقابل شکست نہیں۔ جوش نے اسی
یقین کو زبان دی۔ ان کی شاعری نے محکوم انسان کو اپنی قوت کا احساس دلایا اور
سیاسی بے عملی کو شرمندگی میں بدلا۔ اعتراض تب پیدا ہوتا ہے جب بعد کی تنقید بھی
شاعر انقلاب کے لقب کو بغیر جانچ کے دہراتی رہتی ہے اور انقلاب کے لفظ کو ایک مکمل
فکری نظام تصور کر لیتی ہے۔ جوش کی عظمت تسلیم کرنے کے لیے انہیں ایسا سیاسی مفکر
ثابت کرنا ضروری نہیں جو وہ تھے ہی نہیں۔ زیادہ منصفانہ قرأت انہیں انقلاب کے
جذباتی اور اخلاقی محرک کے طور پر دیکھ سکتی ہے، نہ کہ انقلاب کے بعد کے سماج کا
مکمل نقشہ بنانے والے نظریہ ساز کے طور پر۔
جوش کی شخصیت میں ایک اور تضاد بھی
غور طلب ہے۔ وہ اشرافی تہذیبی پس منظر سے آئے مگر ان کی شاعری محکوم، مزدور اور
محروم انسان کی حمایت میں بلند ہوئی۔ زبان نہایت شاندار، پرشکوہ اور بعض اوقات
شاہانہ مزاج رکھتی ہے جبکہ پیغام اقتدار کے خلاف ہوتا ہے۔ گویا بغاوت بھی اسی زبان
میں بیان ہوتی ہے جو قوت، عظمت اور جلال سے محبت کرتی ہے۔ اس تضاد نے ان کے کلام
کو غیر معمولی حسن دیا مگر ساتھ ایک نفسیاتی پیچیدگی بھی پیدا کی۔ جوش اقتدار سے
نفرت کرتے ہیں مگر طاقت کی جمالیات سے پوری طرح دست بردار نہیں ہوتے۔ ان کا
انقلابی انسان بھی اکثر کمزور، دھیمے اور معمولی انداز میں سامنے نہیں آتا بلکہ
بلند قامت، توانا اور طوفان برپا کرنے والا وجود بنتا ہے۔ ایسی پیش کش سوال پیدا
کرتی ہے کہ کیا جوش کی بغاوت طاقت کے تصور کو رد کرتی ہے یا صرف طاقت کے مالک کو
بدلنا چاہتی ہے۔ اگر پرانے جبر کے مقابل نئی قوت کھڑی کر دینا کافی ہو تو انقلاب
کے اندر موجود جبر کا امکان کیسے روکا جائے گا۔ ان کی شاعری اس مشکل سوال کا مکمل
جواب نہیں دیتی۔
جوش ملیح آبادی کو نئے عہد میں پڑھنے
کا فائدہ شاید اسی بے تکلفی میں ہے۔ انہیں صرف شاعر انقلاب کہہ کر عقیدت کی الماری
میں رکھ دینا ان کے فن کے ساتھ انصاف نہیں کرتا۔ ان کی شاعری آزادی کی خواہش کو آگ
دیتی ہے، خوف توڑتی ہے اور ظلم کے خلاف اخلاقی نفرت پیدا کرتی ہے۔ ساتھ ہی وہ ہمیں
یہ موقع بھی دیتی ہے کہ انقلاب کے بارے میں اپنے تصور کو زیادہ سخت سوالوں کے
سامنے رکھیں۔ نظام گرانا نسبتاً آسان تصور ہے، بہتر نظام بنانا زیادہ مشکل۔ جوش
پہلے مرحلے کے بے مثال شاعر ہیں۔ دوسرے مرحلے کے متعلق ان کی آواز اتنی واضح نہیں۔
شاید اسی لیے ان کا انقلاب منزل سے زیادہ حرکت، تعمیر سے زیادہ بغاوت اور سیاسی
نقشے سے زیادہ جذباتی توانائی کی صورت میں یاد رہتا ہے۔ اس کمی کو چھپانے کے بجائے
قبول کرنے سے جوش کی اہمیت کم نہیں ہوتی بلکہ ان کا اصل ادبی مقام زیادہ صاف
دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے انقلاب کا مکمل نقشہ نہیں بنایا، مگر بند دروازے پر ایسی
ضرب ضرور لگائی جس کے بعد خاموش رہنا پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔
