تحریر :شہبازعلی سولنگی
شہزادہ خورشید گوہر پوش شکار کے
تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے جدا ہو کر ایک ایسے باغ تک پہنچتا ہے جس کی چمک دمک
معمول کی دنیا سے تعلق نہیں رکھتی۔ جواہر، پانی، پھول، روشنی اور آئینوں سے آراستہ
فضا میں ایک نورانی پیر مرد قرآن کی تلاوت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مسافر کی خاطر
تواضع ہوتی ہے، قیام کی اجازت بھی ملتی ہے، مگر بارہ دری کا ایک حصہ اس کے لیے
ممنوع قرار پاتا ہے۔ داستان کی روایت میں ممانعت اکثر تجسس کو دبانے کے بجائے
بڑھاتی ہے۔ خورشید گوہر پوش بھی دروازہ کھولتا ہے۔ اندر کسی دشمن، خزانے یا طلسم
کے بجائے ایک تصویر اس کی منتظر ہے۔ شہزادہ تصویر دیکھتا ہے اور اپنی سابق حالت پر
قائم نہیں رہ پاتا۔ جادۂ
تسخیر کی پوری داستان پر نظر ڈالنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ممنوع بارہ دری کا
منظر کسی ابتدائی مہم کا چھوٹا سا واقعہ نہیں۔ عشق کی بنیاد ملاقات سے پہلے پڑ چکی
ہے۔ محبوبہ نے ابھی گفتگو نہیں کی، اپنی شخصیت نہیں دکھائی، شہزادے کو دیکھا تک
نہیں۔ اس کے باوجود ایک بصری نقش پورے سفر کا رخ بدل دیتا ہے۔ ملکہ مہ جبیں یاقوت
پوش پہلے ایک جیتی جاگتی عورت کے طور پر سامنے نہیں آتی بلکہ مصوری کے ذریعے
شہزادے کے تخیل میں داخل ہوتی ہے۔ خواہش حقیقت کو دیکھنے سے پہلے حقیقت کی بنائی
ہوئی شبیہ سے پیدا ہو جاتی ہے۔
قدیم داستان میں تصویر کا
استعمال انوکھا نہیں، مگر حیدر علی خاں اسے قصے کے اندر دیر تک زندہ رکھتے ہیں۔ مہ
جبیں سے حقیقی ملاقات کے بعد بھی آئینہ، عکس، حسن اور صورت کی لفظیات ختم نہیں
ہوتیں۔ ایک موقع پر دونوں کے تعلق کو بیان کرنے کے لیے مختصر ترکیب آتی ہے،
"یہ آئینہ، وہ تصویر"۔ محبوبہ کی جسمانی موجودگی بھی پہلے سے قائم بصری
تجربے کو مٹا نہیں پاتی۔ عشق گویا تصویر سے انسان تک پہنچنے کا سفر بن جاتا ہے۔ تسخیر کا لفظ بھی اسی مقام سے
اپنے عام مفہوم سے باہر نکلنے لگتا ہے۔ عنوان سن کر جنگ، فتح، طلسم شکنی اور دشمن
کو زیر کرنے کا تصور پیدا ہو سکتا ہے۔ قصے میں سب کچھ موجود ہے، مگر خورشید گوہر
پوش کی پہلی شکست کسی میدان جنگ میں نہیں ہوتی۔ ایک تصویر اس پر غالب آتی ہے۔ بعد
میں حسن نگاہ کو قابو میں کرتا ہے، عشق مسافر کو راستوں پر نکالتا ہے، موسیقی سامع
کو اپنے گرد کھینچتی ہے، عیار بھیس اور بولی کے ذریعے مخالف کو فریب دیتا ہے اور
قصہ گو اپنی رنگین عبارت سے سامع کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ فتح کی سمت مسلسل
بدلتی رہتی ہے۔
خورشید گوہر پوش کا کردار بھی
اسی کشش سے بنتا ہے۔ قصے کی ابتدا میں ہرن کا تعاقب اسے ساتھیوں سے دور لے جاتا
ہے۔ باغ میں تصویر اسے ایک دوسری جستجو پر روانہ کرتی ہے۔ دیکھنا، متاثر ہونا اور
پھر تعاقب پر نکل پڑنا اس کے مزاج کا بار بار سامنے آنے والا قرینہ ہے۔ شہزادہ
بہادر ضرور ہے، مگر اس کی حرکت ہمیشہ کسی داخلی منصوبہ بندی سے پیدا نہیں ہوتی۔
اکثر کوئی منظر، خبر، حسن یا ضرورت اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ داستانی ہیرو کی
قوت اور کمزوری ایک ہی عادت میں جمع ہو جاتی ہیں۔ تصویر پر عاشق ہونے کے بعد پیر
مرد اور شہزادے کے درمیان ہونے والی گفتگو کتاب کے فکری وزن کو خاصا بڑھا دیتی ہے۔
پیر مرد دنیاوی عشق کو رسوائی، فریب اور روحانی نقصان سے جوڑتا ہے۔ عشق الٰہی کو
اصل منزل قرار دیتے ہوئے عورت کے بارے میں ایسے عمومی تصورات بھی پیش کیے جاتے ہیں
جن میں مکر، بے وفائی اور فتنہ نمایاں ہیں۔ وعظ اپنی مذہبی منطق رکھتا ہے اور
بظاہر توقع کی جا سکتی ہے کہ نوجوان عاشق خاموشی سے اس نصیحت کو قبول کر لے گا۔ خورشید گوہر پوش خاموش نہیں
رہتا۔ جواب میں انسانی فطرت اور حسن سے متاثر ہونے کی صلاحیت کا دفاع کرتا ہے۔ بشر
کو اختیار حاصل ہونے کے باوجود وہ اپنی بشری ساخت سے آزاد نہیں۔ حسن دل پر اثر
ڈالتا ہے اور جذبہ پیدا کرتا ہے۔ شہزادہ صوفیانہ روایت کے معروف تصور "مجاز
حقیقت کا زینہ ہے" کی طرف بھی رجوع کرتا ہے۔ مزید اہم بات عورت کے بارے میں
پیر مرد کی عمومی بدگمانی سے اختلاف ہے۔ صالح اور بدکردار عورت کے درمیان فرق کرنے
پر زور آتا ہے اور پاک دامن عورتوں کی مذہبی مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔
مکالمہ کتاب کو سیدھے وعظ میں
تبدیل ہونے سے بچا لیتا ہے۔ اگر پیر مرد کا موقف آخری فیصلہ ہوتا تو عشق مجازی کو
ایک عارضی غلطی سمجھ کر قصہ آگے بڑھ سکتا تھا۔ داستان ایسا نہیں کرتی۔ عاشق اپنی
خواہش کا دفاع مذہبی زبان کے باہر کھڑا ہو کر نہیں بلکہ اسی علمی اور دینی ذخیرے
کے اندر رہتے ہوئے کرتا ہے۔ چنانچہ مذہب اور عشق دو الگ دنیاؤں کی کشمکش نہیں
رہتے۔ دونوں ایک ہی زبان میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ قصے کے عملی رویے میں بھی مجازی
عشق کسی معمولی زینے کی طرح نظر نہیں آتا جسے چند قدم بعد فراموش کر دیا جائے۔
سفر، خطرات، انتظار، طلسم، جدائی اور تخیل کی سب سے بڑی توانائی محبوبہ کی تلاش سے
پیدا ہوتی ہے۔ اگر مجاز کو صرف ثانوی درجہ حاصل ہوتا تو داستان اس پر اتنی تخلیقی
قوت صرف نہ کرتی۔ مذہبی اخلاقیات اسے حد میں لاتی ہے، مگر داستانی قوت مسلسل اسے
مرکز میں واپس لے آتی ہے۔ خورشید
اور مہ جبیں کی حقیقی ملاقات مذہبی گفتگو کے بعد اس کشمکش کو جسمانی سطح تک لے
جاتی ہے۔ محبت کا اظہار ہوتا ہے، بوس و کنار اور قربت کے لمحات آتے ہیں۔ راوی ایک
مقام پر "شہوت نفسانی" اور "ولولہ روحانی" کو ساتھ رکھتا ہے۔
جسم اور روح کو مکمل طور پر الگ خانوں میں تقسیم نہیں کیا گیا۔ جذبہ اپنی جسمانی
شدت کے ساتھ موجود ہے اور روحانی تعبیر بھی اسی تجربے سے وابستہ رہتی ہے۔
مہ جبیں کی شخصیت تصویر سے نکل
کر مکالمے میں آتے ہی بدلنے لگتی ہے۔ شہزادہ جس عورت کو پہلے دیکھنے کی شے کے طور
پر جانتا تھا، اب وہ اپنی حدود مقرر کرتی ہے۔ محبت کا جواب دیتی ہے مگر مزید
جسمانی پیش قدمی روک دیتی ہے۔ مکمل وصال کو ازدواجی بندھن سے وابستہ کرتی ہے۔
محبوبہ کو خواہش کی بے اختیار منزل بنا دینے کے بجائے قصہ اسے کم از کم بعض اہم
مواقع پر فیصلہ کرنے کا حق دیتا ہے۔ بعد کی شادی اور نکاح خواہش کو ختم نہیں
کرتے بلکہ اسے ایک سماجی قالب دیتے ہیں۔ دوسرے عاشق جوڑوں کے ساتھ بھی ازدواجی
بندوبست سامنے آتا ہے اور راوی "فرائض حلال" کی ادائیگی پر اطمینان ظاہر
کرتا ہے۔ داستان کا اخلاقی نظام خواہش کے وجود سے انکار نہیں کرتا۔ اس کی کوشش جذبے
کو خاندانی، شرعی اور معاشرتی نظم میں جگہ دینے کی ہے۔ عورت کی پیش کش اسی مقام سے خاصی
پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ پیر مرد کے وعظ میں عورت عمومی فتنہ بن سکتی ہے۔ عاشق کے لیے
وہ حقیقت کی طرف لے جانے والے مجاز کا وسیلہ ہے۔ راوی حسن بیان کرتے وقت عورت کو
گل، ماہ، پری، تصویر اور دوسری جمالیاتی علامتوں میں ڈھالتا ہے۔ مکالمہ شروع ہوتے
ہی بہت سی عورتیں اس تصویری جمود سے باہر آنے لگتی ہیں۔
مہ جبیں اپنی محبت کا اظہار کرتی
ہے، ناراضی دکھاتی ہے، حد مقرر کرتی ہے اور رشتوں کے بندوبست میں رائے رکھتی ہے۔
وزیر زادی کی گفتگو اور زیادہ بے تکلف ہے۔ شوخی، طنز اور حاضر جوابی اسے پس منظر
میں کھڑی خاموش ملازمہ نہیں رہنے دیتے۔ بعض مقامات پر خواتین کے مکالمے راوی کی
بلند آہنگ عبارت سے زیادہ تازہ اور زندہ محسوس ہوتے ہیں۔ جدید مفہوم میں مکمل نسائی خود
مختاری کا دعویٰ پھر بھی متن پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ آخرکار ازدواجی بندھن،
خاندان، نسب، مناسب جوڑ اور مردانہ سلطنت سماجی ترتیب کے بنیادی ستون رہتے ہیں۔
عورت بولتی ہے، خواہش رکھتی ہے اور بعض فیصلوں میں شریک ہے، مگر وہ جس دنیا میں
زندگی گزارتی ہے اس کی بڑی حدود پہلے سے قائم ہیں۔ فنی اعتبار سے قابل غور امر یہ
ہے کہ عورت کے بارے میں کتاب ایک ہی آواز پر قائم نہیں رہتی۔ واعظ کا تصور الگ ہے،
عاشق کا الگ، راوی کی جمالیاتی نگاہ الگ اور خود خواتین کے مکالمے الگ تاثر پیدا
کرتے ہیں۔ کسی ایک بیان کو مصنف کا آخری اور قطعی فیصلہ مان لینے سے متن کے اندر
جاری اختلاف ختم ہو جائے گا۔ جادۂ تسخیر کی دلچسپی بڑی حد تک اسی عدم یکسانی میں
ہے۔سیار کا کردار داستان کو ایک دوسری قسم کی حرکت دیتا ہے۔ خورشید گوہر پوش
شہزادہ ہے۔ نسب، شجاعت اور مقدر اس کے ساتھ ہیں۔ سیار اپنی کامیابی ذہانت، مشاہدے،
بھیس، بولی اور موقع شناسی سے پیدا کرتا ہے۔ دشمن کے ماحول میں داخل ہونے کے لیے
جسمانی قوت کے بجائے ثقافتی رمز پڑھنے پڑتے ہیں۔ اسی ہنر کی وجہ سے کئی مقامات پر
سیار مرکزی ہیرو سے زیادہ فعال دکھائی دیتا ہے۔
سیس ناگ کے حلقے میں جوگی کا
بھیس اختیار کرنے کا منظر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ سیار صرف لباس تبدیل نہیں کرتا۔
بولی بھی بدل لیتا ہے۔ گرو، گیان، چرن، دھرتی، پران، بن باس اور جے جیسے الفاظ اس
کے منہ سے نکلتے ہیں۔ فارسی آمیز درباری اردو اچانک دوسرے مذہبی اور ثقافتی ذخیرے
کی طرف مڑ جاتی ہے۔ عیاری کا دارومدار شکل سے آگے زبان پر آ جاتا ہے۔دوسرے کی دنیا
میں داخل ہونے کے لیے اس دنیا کی علامات پہچاننا ضروری ہے۔ سیار مخالف گروہ کی
زبان کو احترام یا نظریاتی قبولیت کے باعث نہیں اپناتا۔ مقصد کامیاب بھیس ہے۔
مذہبی اور ثقافتی لفظیات عیاری کا وسیلہ بن جاتی ہیں۔ زبان تلوار سے پہلے کام کرتی
ہے۔ موسیقی بھی
منصوبے کا حصہ بنتی ہے۔ تنبی کے اثر سے گرو اور چیلے کھنچے چلے آتے ہیں۔ فتح
جسمانی تصادم سے پہلے سماعت اور تاثر پر حاصل ہوتی ہے۔ تسخیر کا ایک اور معنی
سامنے آتا ہے۔ فن کسی شخص کو زنجیر سے نہیں باندھتا، پھر بھی اسے اپنی طرف متوجہ
کرکے اس کی حرکت بدل سکتا ہے۔ جادۂ
تسخیر کی لسانی کشادگی اسی ایک منظر تک محدود نہیں۔ باغ اور حسن کے بیان میں فارسی
شعری روایت کا ذخیرہ متحرک ہوتا ہے۔ مذہبی گفتگو میں قرآن، توحید، شریعت اور
صوفیانہ تصورات سامنے آتے ہیں۔ شادی بیاہ میں کتھک، طبلہ، سارنگی، ٹپا، ٹھمری،
ترانہ، دھرپت اور خیال کی اصطلاحیں جگہ بناتی ہیں۔ فوجی مناظر میں توپ، بندوق،
سنگین، پلٹن اور تلنگے سنائی دیتے ہیں۔ خدمت گار، عیار اور وزیر زادی اپنے اپنے
سماجی مقام کے مطابق الگ لہجہ اختیار کرتے ہیں۔
زبان کی وسعت کو مذہبی یا
نظریاتی تکثیریت سمجھ لینا البتہ درست نہ ہوگا۔ بعض مخالف مذہبی کرداروں کی پیش کش
صاف مناظرانہ انداز رکھتی ہے۔ "کافر" اور "گبر" جیسی شناختیں
درجہ بندی کا حصہ ہیں۔ سیار ہندو جوگیوں کی زبان بڑی مہارت سے استعمال کرتا ہے،
مگر ان کے عقیدے کو مساوی نظریاتی صداقت نہیں دی جاتی۔ داستان مختلف ثقافتی ذخائر
سے الفاظ اور علامات لینے میں فیاض ہے، مگر اس کا مذہبی اخلاقی مرکز اسلامی رہتا
ہے۔ لسانی آمیزش
کے باعث قصہ اپنے فرضی جغرافیے کے باوجود انیسویں صدی کی مادی دنیا سے جدا نہیں
رہتا۔ بادشاہ، پریاں، جادوگر، طلسم اور دور دراز سلطنتیں کسی غیر متعین داستانی
زمانے کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ دوسری جانب پلٹن، سنگین، توپ، بندوق، کتھک، ٹھمری
اور درباری رسوم مصنف کے اپنے عہد کو قصے کے اندر لے آتے ہیں۔ تخیل تاریخ سے باہر
کوئی خالی میدان نہیں بناتا۔ اردگرد کی دنیا لباس بدل کر داستان میں داخل ہو جاتی
ہے۔ شادی کی
تقریبات اس سماجی آمیزش کا بھرپور نمونہ ہیں۔ روشنی، زیور، خیمے، ہاتھی، جلوس،
کھانا، فوجی دستے، موسیقی، رقص اور مذہبی نکاح ایک ہی تقریب میں جمع ہوتے ہیں۔
تفریح اور شرعی عمل کی اپنی اپنی جگہ ہے۔ گانا بجانا موقوف ہوتا ہے، قاضی اور گواہ
آتے ہیں، ایجاب و قبول ہوتا ہے اور پھر جشن آگے بڑھتا ہے۔ عملی معاشرت کسی ایک
مجرد تصور کے مطابق نہیں چلتی۔ رسم، لذت، طبقاتی شان اور مذہبی جواز ساتھ ساتھ
موجود ہیں۔
اشرافیائی زندگی کی چمک پورے قصے
پر پھیلی ہوئی ہے۔ بادشاہ، شہزادے، ملکائیں، وزیر اور رئیس تقدیر کے بڑے فیصلے
کرتے ہیں۔ خدمت گار، سپاہی، موسیقار، رقاص اور دوسرے اہل پیشہ منظر کو زندگی دیتے
ہیں، مگر اقتدار ان کے ہاتھ میں نہیں آتا۔ بعض نچلے درجے کے کردار مزاح کے لیے
استعمال ہوتے ہیں۔ قصہ ایک وسیع معاشرتی منظر ضرور بناتا ہے مگر دیکھنے کی جگہ
بنیادی طور پر اشرافیہ کے اندر واقع ہے۔ رام پور کے نوابی خانوادے سے حیدر علی خاں
کی وابستگی اس پہلو کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ رفاقت علی شاہد کے تحقیقی مقالے کے
مطابق وہ نواب یوسف علی خاں کے چھوٹے صاحب زادے اور نواب کلب علی خاں کے چھوٹے
بھائی تھے۔ دربار، خلعت، سواری، مصاحبین، خدمت گاروں کی درجہ بندی، فوجی دستوں اور
شاہانہ تقریبات کی تفصیل کسی ایسے لکھنے والے کی مانوس دنیا محسوس ہوتی ہے جو
درباری معاشرت سے بالکل ناواقف نہیں تھا۔ دربار سے واقفیت کو براہ راست
تاریخی دستاویز سمجھ لینا بھی مناسب نہیں۔ داستان حقیقت کی نقل تیار نہیں کرتی۔
تجربہ، روایت، آرائش اور مبالغہ مل کر نئی دنیا بناتے ہیں۔ شادی کی مجلس میں
موسیقی اور سامان تعیش کی کثرت اپنے عہد کے ثقافتی ذخیرے سے رشتہ رکھتی ہے، لیکن
پورے معاشرے کا غیر جانب دار نقشہ فراہم نہیں کرتی۔
حیدر علی خاں کی تاریخ پیدائش کے
بارے میں بھی یکساں روایت موجود نہیں۔ رفاقت علی شاہد تقریباً ۱۲۶۳ھ کے مطابق ۱۸۴۶ء یا ۱۸۴۷ء کے قریب پیدائش بتاتے ہیں،
جبکہ ریختہ کے مصنفی اندراج میں ۱۸۴۹ء
درج ہے۔ وفات دونوں جگہ ۱۹۰۲ء
ملتی ہے۔ اختلاف کے باعث ۱۸۴۹ء
کو قطعی اور بلا اختلاف تاریخ قرار دینے کے بجائے انیسویں صدی کے وسط کا زمانہ
زیادہ محتاط تعارف فراہم کرتا ہے۔ کتاب کی تصنیف اور طباعت کی تاریخ بھی سیدھی
لکیر میں نہیں آتی۔ رفاقت علی شاہد کے مقالے کا خلاصہ ۱۲۸۳ھ کو زمانہ تصنیف بتاتا ہے اور
طباعت کے ضمن میں ۱۲۸۴ھ
اور ۱۲۸۹ھ کا ذکر
کرتا ہے۔ ریختہ ایک قدیم نسخے کو ۱۸۶۷ء
کے تحت درج کرتا ہے۔ کتاب کے آخر میں موجود قطعات تاریخ مزید تفصیل سامنے لاتے
ہیں۔ تصنیف یا تکمیل کے لیے ۱۲۸۳ھ
اور ۱۲۸۴ھ ملتے
ہیں۔ "قطعات تاریخ طبع اول افسانہ" میں ۱۲۸۸ھ درج ہے اور مطبع اودھ اخبار سے
متعلق بعد کے قطعات میں ۱۲۸۹ھ
آتا ہے۔ مختلف شہادتوں
کو ایک سال میں سمیٹنے سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ قرین قیاس
صورت یہی بنتی ہے کہ متن ۱۲۸۳ھ
اور ۱۲۸۴ھ کے آس
پاس مرتب یا مکمل ہوا، جبکہ اشاعت کے مراحل بعد تک جاری رہے۔ کتابی تاریخ الگ
تحقیق کی طالب ہے اور موجودہ شواہد کسی ایک سادہ تاریخ کو پوری طرح بے اختلاف نہیں
بناتے۔
جدید قاری تک رسائی میں سلیم
سہیل کی مرتبہ اشاعت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ریختہ کے کتابیاتی اندراج کے مطابق سانجھ
پبلیکیشنز لاہور نے اسے ۲۰۱۲ء
میں شائع کیا۔ اندراج میں ۳۲۴
صفحات اور بین الاقوامی معیاری کتابی نمبر بھی محفوظ ہے۔ انٹرنیٹ آرکائیو پر نول
کشور پریس سے منسوب ۳۶۶
صفحات کا قدیم اسکین موجود ہے اور ریختہ پر بھی الگ پرانا نسخہ دیکھا جا سکتا ہے۔
متنی مطالعے کے لیے قدیم نسخوں اور جدید یونیکوڈ نقل کا باہمی تقابل خاصا مفید
ثابت ہوتا ہے۔ رفاقت
علی شاہد کا مقالہ ۲۰۱۲ء
میں تخلیقی ادب کے شمارہ ۹
میں شائع ہوا اور جادۂ تسخیر کو اسلوب اور قصے کی دلچسپی کے سبب اردو قصہ نگاری
کی تاریخ میں اہم قرار دیتا ہے۔ قصے کی دلچسپی بلاشبہ نمایاں وصف ہے، مگر کتاب کا
فنی سرمایہ اس سے زیادہ پھیلا ہوا ہے۔ تصویر اور حقیقت کا رشتہ، خواہش کی ساخت،
مذہبی استدلال، عورت کی گفتگو، درباری معاشرت، شناخت کی تبدیلی اور رنگین نثر مل
کر اسے زیادہ پیچیدہ مطالعے کا موضوع بناتے ہیں۔
جادۂ تسخیر کو ناول کے پیمانوں
پر پرکھنے سے بھی کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ پاشا محمد خاں نے فارسی اور اردو قصہ
گوئی پر اپنی تحقیق دی بروکن اسپیل میں حیرت، جادو اور غیر معمولی واقعات پر قائم
قصے کی طویل روایت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں ناول کے بڑھتے
وقار، استعماری علمی ترجیحات اور بدلتے ادبی تصورات نے پرانی قصہ روایت کی قدر کو
متاثر کیا۔ پرانی داستان کو کسی نامکمل ناول کے طور پر دیکھنا اسی تاریخی تبدیلی
کو معیار بنا لینا ہے۔ قصہ
اپنی الگ منطق رکھتا ہے۔ سفر طویل ہو سکتا ہے۔ اتفاق بار بار آ سکتے ہیں۔ جادو کسی
مشکل کو حل کر سکتا ہے۔ پیش گوئی کردار کو راستہ دے سکتی ہے۔ حیرت واقعے کی روزمرہ
معقولیت پر فوقیت حاصل کر سکتی ہے۔ کردار کی نفسیاتی تبدیلی ہر بحران کا لازمی
نتیجہ نہیں ہوتی۔ بعض اوقات مشکل کا کام اگلی حیرت، نیا جغرافیہ یا نئی مجلس پیدا
کرنا ہوتا ہے۔ جدید
ناول کا قاری جادۂ تسخیر میں متعدد مقامات پر سہولت پسندی محسوس کر سکتا ہے۔ غیر
معمولی مددگار، جادوئی تبدیلی، ناگہانی رہنمائی اور پہلے سے مقدر فتح کردار کو ان
رکاوٹوں سے نکال دیتی ہے جن کے لیے جدید فکشن داخلی کشمکش یا نفسیاتی ارتقا پیدا
کرتا۔ اعتراض اپنی جگہ وزن رکھتا ہے، مگر صنفی فرق نظر انداز کرکے اسے حتمی فیصلہ
بنا دینا مناسب نہیں۔
داستان کے کردار بڑی حد تک
نمونوی ہیں۔ خورشید گوہر پوش بہادر عاشق ہے۔ مہ جبیں حسن و وقار کی حامل محبوبہ
ہے۔ سیار ذہین اور چالاک رفیق ہے۔ پیر مرد روحانی رہنما اور مخالف جادوگر خطرے کی
علامت بنتا ہے۔ جدید نفسیاتی ناول جیسی تہہ در تہہ داخلی تبدیلی کم ملتی ہے۔ کردار
اپنی بنیادی شناخت کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ اس کے باوجود قصہ بالکل بے مرکز
نہیں۔ شکار کے تعاقب میں گھر سے نکلنے والا نوجوان عشق، طلسم، جنگ اور جدائی کے
طویل مرحلوں سے گزرتا ہے۔ آخر میں والدین اور وطن کا خواب اسے واپس ذمہ داری کی
طرف متوجہ کرتا ہے۔ گھر سے نکلنے والی خواہش آخرکار گھر کے مفہوم کو بدل دیتی ہے۔
مہم جوئی کا سفر ذمہ داری سے مکمل لاتعلقی پر ختم نہیں ہوتا۔جادوئی ہیئتوں کی
تبدیلی بھی صرف تماشے تک محدود نہیں رہتی۔ قمر طلعت کو مینڈھا بنا دیا جاتا ہے اور
بعد میں "حیات الانسان" کے پانی سے انسانی صورت بحال ہوتی ہے۔ پورے قصے
میں صورت، تصویر، آئینہ اور بھیس کی موجودگی کو سامنے رکھا جائے تو شناخت ایک مستقل
مسئلہ بن جاتی ہے۔ انسان کی شکل جادو سے بدل سکتی ہے، عیار اپنی مرضی سے بھیس
بدلتا ہے، تصویر کسی شخص کی جگہ لے سکتی ہے اور آئینہ اصل صورت کی طرف اشارہ کرتا
ہے۔
خورشید گوہر پوش کا عشق بھی اصل
شخصیت سے پہلے شبیہ سے شروع ہوا تھا۔ سیار کامیابی کے لیے اپنی اصل شناخت چھپاتا
ہے۔ جادو جسمانی شناخت بدل دیتا ہے۔ پانی اسے واپس لاتا ہے۔ ظاہر اور اصل کے
درمیان آمدورفت قصے کے مختلف حصوں کو خاموش رشتے میں جوڑ دیتی ہے۔ مجاز اور حقیقت
پر مذہبی گفتگو اسی بڑے تصویری نظام کے اندر مزید معنی حاصل کرتی ہے۔ عورت کی صورت گری بھی دو الگ
سطحوں پر چلتی ہے۔ حسن بیان کرتے وقت راوی فرد کو علامت میں بدلنے لگتا ہے۔ گل،
ماہ، پری، آئینہ اور تصویر عورت کے وجود کو جمالیاتی شبیہ میں ڈھال دیتے ہیں۔
گفتگو شروع ہوتے ہی وہ شبیہ مکمل طور پر قابو میں نہیں رہتی۔ مہ جبیں اور وزیر
زادی بولتی ہیں تو راوی کی بنائی ہوئی خاموش تصویر میں شخصیت داخل ہو جاتی ہے۔ مسجع نثر جادۂ تسخیر کے تجربے
کا بنیادی حصہ ہے۔ قدیم قطعات تاریخ میں فصاحت، بلاغت، روانی، رنگینی اور مقفیٰ و
مسجع عبارت کی تعریف ملتی ہے۔ ایک قطعے میں ابتدا سے انتہا تک نثر کے مقفی اور
مسجع ہونے کو امتیاز قرار دیا گیا۔ ابتدائی اہل ذوق کے لیے لفظی آرائش زائد بوجھ
نہیں بلکہ ادبی کامیابی کا پیمانہ تھی۔
موجودہ زمانے کے قاری کا تجربہ
مختلف ہو سکتا ہے۔ مسلسل ہم قافیہ فقروں، فارسی اضافتوں، مترادفات اور تشبیہوں سے
رفتار سست پڑتی ہے۔ باغ چند جملوں میں ختم نہیں ہوتا۔ پھول، دیوار، برج، پانی،
فوارہ، جواہر، روشنی اور خوشبو ایک کے بعد ایک سامنے آتے ہیں۔ منظر پڑھنے والے کے
سامنے جلدی گزرنے کے بجائے ٹھہرتا ہے۔ جدید قرأت کی جلد بازی کے مقابل داستان کی
قرأت وقت مانگتی ہے۔ آج کا قاری قصہ آگے بڑھتے دیکھنا چاہتا ہے۔ حیدر علی خاں کبھی
پھول گنوانے لگتے ہیں، کبھی لباس، کبھی زیور اور کبھی ساز۔ چند مقامات پر طوالت
واقعی فنی اثر کم کرتی ہے۔ بعض دوسرے مقامات سے تفصیل نکال دی جائے تو طلسمی فضا
ہی ختم ہونے لگے گی۔ تصویر
والے باغ کی تاثیر بڑی حد تک اسی لفظی فراوانی سے پیدا ہوتی ہے۔ معمول کی دنیا سے
باہر جانے کا احساس صرف واقعے سے نہیں بنتا۔ عبارت بھی معمول کی حد سے تجاوز کرتی
ہے۔ شادی کے ہجوم میں اشیا اور آوازوں کی کثرت جشن کا حسی تجربہ پیدا کرتی ہے۔
جنگی مقامات پر نسبتاً چھوٹے فقرے اور تیز افعال رفتار بدل دیتے ہیں۔ اسلوب ہر
منظر میں ایک سا نہیں رہتا۔
رسمی اور فارسی آمیز نثر کے
درمیان روزمرہ بول چال کا اچانک داخل ہونا خاص لطف پیدا کرتا ہے۔ خدمت گار، بزدل
سپاہی، وزیر زادی اور عیار بلند درباری آہنگ کو توڑ دیتے ہیں۔ جنگ کی رزمیہ فضا کے
بیچ ڈرے ہوئے سپاہیوں کی بھاگ دوڑ اور بہانے مزاح پیدا کرتے ہیں۔ داستان کبھی اپنی
ہی خطیبانہ بہادری پر مسکرا دیتی ہے۔ قصہ گو کی موجودگی بھی جدید ناول کے غیر
مرئی راوی سے مختلف ہے۔ راوی منظر سجاتا ہے، لفظوں سے کھیلتا ہے، مبالغہ کرتا ہے،
کبھی سامع کو اگلے واقعے تک لے جاتا ہے اور کبھی کسی لفظی مناسبت پر ٹھہر جاتا ہے۔
عبارت قاری کو بار بار یاد دلاتی ہے کہ کوئی شخص قصہ سنا رہا ہے۔ پاشا محمد خاں نے
قصہ اور قصہ گو کی ادائیگی کے رشتے پر جو زور دیا ہے، جادۂ تسخیر کی نثر اس تناظر
میں زیادہ صاف سمجھ میں آتی ہے۔ بعض
مواقع پر لفظوں کی یہی محبت مصنف کو قصے سے کچھ دور بھی لے جاتی ہے۔ صناعی اپنی
جگہ لطف دیتی ہے مگر ہر بار واقعے کی ضرورت سے ہم آہنگ نہیں رہتی۔ حیدر علی خاں کے
اسلوب کی قوت اور کمزوری دو مختلف سرچشموں سے پیدا نہیں ہوتیں۔ دونوں ایک ہی رغبت
سے نکلتی ہیں۔ وہ منظر کو جلد چھوڑنا نہیں چاہتے۔
مذہب، عشق اور زبان کی کشمکش میں
بھی یہی ناہمواری کتاب کو زندہ رکھتی ہے۔ اخلاقی نظام نکاح اور خاندان کے ذریعے
خواہش کو ترتیب دینا چاہتا ہے، مگر حسی نثر اس خواہش کو پوری قوت سے دکھاتی بھی
ہے۔ پیر مرد مجازی عشق کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر قصے کی بڑی حرکت
مجازی عشق کے بغیر پیدا نہیں ہوتی۔ عورت کے بارے میں عمومی بدگمانی سامنے آتی ہے،
مگر قصے کی عورتیں اس عمومی تصور میں آسانی سے سما نہیں جاتیں۔ مختلف عقائد کے بارے میں درجہ
بندی سخت ہے، مگر زبان ان ثقافتوں سے الفاظ اور علامتیں لینے میں جھجھک نہیں
دکھاتی۔ اشرافیائی دنیا مرکز میں ہے، مگر خدمت گار اور دوسرے معمولی کردار کئی
مناظر کو اصل زندگی دیتے ہیں۔ مسجع عبارت وقار پیدا کرتی ہے، روزمرہ اسی وقار کو
توڑ دیتا ہے۔ طلسمی زمانہ ماضی کی دھند میں قائم رہتا ہے، توپ اور پلٹن مصنف کے
عہد کو اندر لے آتے ہیں۔ بڑی
داستانیں ہمیشہ کسی ایک مربوط نظریاتی بیان کی طرح نہیں چلتی۔ جادۂ تسخیر بھی
اپنے اندر متعدد آوازیں رکھتی ہے۔ کبھی راوی اخلاقی ترتیب قائم کرتا ہے اور کبھی
خود اس کی زبان اس ترتیب سے آگے نکل جاتی ہے۔ نکاح کو آخرکار سماجی اور شرعی
استحکام حاصل ہے، مگر قاری کو قصے میں داخل کرنے والی پہلی بڑی قوت قاضی کا خطبہ
نہیں۔ ممنوع دروازہ، تصویر، حسن اور تجسس اسے پہلے اپنی گرفت میں لیتے ہیں۔
اسی فرق کے باعث کتاب کو کسی
آسان آفاقی پیغام میں سمیٹنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اہمیت اس تاریخی ادبی لمحے میں
بھی ہے جب مطبوعہ اردو داستان زبان کی نمائش، قصہ گوئی کی سماعتی روایت، درباری
ذوق اور عجائبی تخیل سے گہرا تعلق رکھتی تھی۔ جدید فکشن کی دنیا پوری طرح قائم
ہونے سے پہلے نثر اپنے ایک مختلف حسن پر اعتماد کرتی تھی۔ فسانہ عجائب، داستان امیر حمزہ
اور طلسم ہوش ربا جیسی بڑی روایتوں کے سائے میں جادۂ تسخیر کو پڑھنا مفید بھی ہے
اور خطرناک بھی۔ وسیع داستانی روایت صنفی مزاج سمجھاتی ہے، مگر ہر قصے کی انفرادی
ساخت اس عمومی شناخت میں گم ہو سکتی ہے۔ فرانسس پرچٹ کی دی رومانس ٹریڈیشن اِن
اردو اور پاشا محمد خاں کی دی بروکن اسپیل جیسی تحقیقات پرانی قصہ روایت کو اس کے
اپنے ادبی اصولوں کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت یاد دلاتی ہیں۔ حیدر علی خاں کی تصنیف اپنی صنف
کی رعایت کے باوجود تنقیدی سوال سے آزاد نہیں۔ بعض کردار نمونوی رہ جاتے ہیں۔
واقعات کی طوالت کئی جگہ ضرورت سے بڑھتی ہے۔ اتفاق اور جادو مشکلات کا آسان حل بن
جاتے ہیں۔ مذہبی حریفوں کی پیش کش سخت درجہ بندی رکھتی ہے۔ عورت کے بارے میں
واعظانہ تصورات آج کے قاری کو بجا طور پر ناگوار یا محدود محسوس ہو سکتے ہیں۔
اشرافیہ کے باہر موجود انسان قصے کی تقدیر میں کم شریک ہیں۔
ان حدود کے باوجود کتاب کی
تخلیقی توانائی بار بار انھی منظم خانوں سے باہر نکلتی ہے۔ عورت کے خلاف عمومی وعظ
کے بعد عاشق اختلاف کرتا ہے۔ جسمانی خواہش کو نظم دینے کی کوشش کے باوجود راوی اسے
چھپاتا نہیں۔ لسانی دنیا مذہبی حدود سے کہیں زیادہ کشادہ ہے۔ شہزادہ فاتح ہے مگر
پہلے خود حسن سے مغلوب ہوتا ہے۔ عیار دشمن کو زیر کرتا ہے مگر اس کے لیے دشمن کی
زبان سیکھتا ہے۔ جادۂ
تسخیر پڑھتے ہوئے آخرکار ممنوع بارہ دری کا ابتدائی منظر پھر یاد آتا ہے۔ ایک
نوجوان کو کسی جگہ جانے سے روکا گیا تھا۔ اس نے ممانعت توڑی اور ایک تصویر دیکھ
لی۔ اس لمحے کے بعد طلسم، سفر، جنگ، عشق، مذہبی بحث، رفاقت، شادی اور وطن واپسی سب
ممکن ہوئے۔ بظاہر شہزادہ آگے چل کر بہت کچھ فتح کرتا ہے، مگر سفر کا آغاز اس کی
اپنی مغلوبیت سے ہوا تھا۔ عنوان
کی معنویت بھی شاید اسی الٹ پھیر میں زیادہ روشن ہوتی ہے۔ تسخیر ہمیشہ فاتح کی یک
طرفہ قوت نہیں رہتی۔ حسن عاشق کو بدلتا ہے۔ تصویر حقیقت سے پہلے ذہن پر قبضہ کرتی
ہے۔ موسیقی مجمع کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ زبان عیار کے لیے راستہ بناتی ہے۔ مذہبی
وعظ خواہش کو قابو کرنا چاہتا ہے تو خواہش اسی تہذیبی ذخیرے سے اپنے دفاع کے دلائل
نکال لیتی ہے۔ قصہ گو قاری کو اپنی عبارت کے اندر روکنا چاہتا ہے اور کئی مقام پر
خود اپنی عبارت کی رنگینی میں ٹھہر جاتا ہے۔
حیدر علی خاں کی داستان کا لطف
شاید فتح کے آخری اعلان سے زیادہ ان مقامات میں ہے جہاں طاقت کی سمت بدلتی دکھائی
دیتی ہے۔ فاتح کسی لمحے مفتوح بن جاتا ہے، تصویر شخص پر غالب آ جاتی ہے، بھیس اصل
شناخت سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتا ہے اور مجاز حقیقت تک پہنچنے کا دعویٰ کرنے کے
ساتھ اپنی الگ کشش بھی برقرار رکھتا ہے۔ جادۂ تسخیر کی ادبی زندگی انہی متحرک
رشتوں میں محفوظ ہے۔ قاری آخر تک صرف یہ نہیں دیکھتا کہ کس نے کس طلسم کو توڑا۔
زیادہ دیر تک ساتھ رہنے والا سوال کچھ اور ہے۔ فتح کرنے نکلنے والا آدمی خود کن
قوتوں کے سامنے بے اختیار ہو جاتا ہے۔
