تحریر: شہباز علی سولنگی
قاری جب کسی کتاب کا پہلا جملہ پڑھتا ہے تو بظاہر مطالعہ وہیں شروع ہوتا دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں کتاب اس سے پہلے ہی اس سے گفتگو کر چکی ہوتی ہے۔ سرورق پر لکھا نام، عنوان کے نیچے موجود ذیلی عنوان، مصنف کی شناخت، ناشر کا نشان، انتساب، کسی شاعر یا فلسفی کا ابتدائی اقتباس، دیباچہ، فہرست، بابوں کے نام اور پشت پر لکھی چند سطریں قاری کے ذہن میں ایک ابتدائی نقش قائم کر دیتی ہیں۔ ایک ہی ناول کو اگر دو مختلف سرورق، دو مختلف دیباچوں اور الگ تعارفی عبارتوں کے ساتھ پیش کیا جائے تو بنیادی متن تبدیل نہ ہونے کے باوجود قرأت کی سمت بدل سکتی ہے۔ پہلی صورت میں کتاب سیاسی ناول معلوم ہو، دوسری اشاعت اسے تہذیبی داستان کے طور پر سامنے لائے اور تیسرے ناشر کا سرورق اسے محبت کی کہانی بنا کر فروخت کرے۔ متن کے پہلے لفظ سے پہلے وجود میں آنے والی یہی معنوی فضا ادبی مطالعے میں غیر اہم حاشیہ نہیں۔ ژرار ژنت نے اپنی معروف کتاب Paratexts, Thresholds of Interpretation میں ایسے عناصر کے لیے paratext کی اصطلاح استعمال کی اور اسے ایسی دہلیز قرار دیا جس سے گزر کر متن کتاب کی صورت میں قاری اور معاشرے تک پہنچتا ہے۔ ان کے نزدیک عنوان، مصنف کا نام، دیباچہ، انتساب، ابتدائی اقتباس، حواشی اور دوسرے ملحقات متن کے گرد رہتے ہوئے اس کی پیش کش اور قبولیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
پیرامتن کو متن سے بالکل باہر پھینک دینا اتنا ہی مشکل ہے جتنا اسے اصل تخلیق کے برابر قرار دینا۔ ناول کے پانچ سو صفحات میں کوئی انتساب ایک سطر کا ہو سکتا ہے، مگر اس ایک سطر کی نوعیت پورے ناول سے الگ رہتے ہوئے بھی بے معنی نہیں ہوتی۔ مصنف نے کس شخص کو کتاب پیش کی، کس تاریخی شخصیت کا قول ابتدا میں رکھا، کس لفظ کو عنوان بنایا اور اپنے دیباچے میں قاری کو کس زاویے سے پڑھنے کا مشورہ دیا، ان فیصلوں کا تعلق تخلیق کی سماجی زندگی سے ہے۔ ژنت نے کتاب کے اندر یا اس سے مادی طور پر جڑے عناصر کو ایک الگ دائرے میں دیکھا اور کتاب سے باہر موجود انٹرویو، خط، گفتگو اور مصنف کے دوسرے بیانات کو دوسرے دائرے میں رکھا۔ ان کے ہاں دونوں مل کر پیرامتن کی وسیع دنیا بناتے ہیں۔ اردو تنقید کے لیے زیادہ اہم سوال اصطلاح کا ترجمہ نہیں بلکہ اس سے پیدا ہونے والی تحقیقی بصیرت ہے۔ ہماری ادبی تحقیق نے دیباچوں، مقدموں، انتسابات اور سرورقوں کو الگ الگ ضرور دیکھا ہے، لیکن ایک تخلیق کی قرأت پر ان سب کے مشترک دباؤ کو کم توجہ ملی ہے۔ کتاب کے اندر داخل ہونے سے پہلے موجود اس پورے علاقے کو مطالعے میں شامل کیا جائے تو ادبی تاریخ اور متن دونوں کے کئی نظر انداز شدہ پہلو سامنے آ سکتے ہیں۔
عنوان کسی کتاب کا سب سے مختصر اور اکثر سب سے زیادہ گردش کرنے والا حصہ ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ پوری کتاب نہیں پڑھتے مگر عنوان جانتے ہیں۔ کتاب پر مضمون لکھا جائے، اشتہار شائع ہو، کتب خانے میں اندراج بنے یا کسی طالب علم کی فہرست میں نام آئے، عنوان متن سے الگ ہو کر بھی اس کی نمائندگی کرتا رہتا ہے۔ ژنت نے عنوان کو سادہ نام کے بجائے ایک پیچیدہ ادبی اور سماجی ساخت سمجھا، کیونکہ عنوان قاری، ناشر، کتاب فروش اور ناقد سب کے درمیان گردش کرتا ہے۔ اردو میں "آگ کا دریا" جیسا عنوان پہلی نظر میں ہی حرکت، تسلسل، خطرے اور زمانے کے بہاؤ کا ایک بڑا تصویری میدان بنا دیتا ہے۔ قرۃ العین حیدر کا ناول برصغیر کے طویل تاریخی تجربے اور مختلف ادوار میں گردش کرتی انسانی شناختوں سے تعلق رکھتا ہے، جس کی کتابی شناخت بھی اسے تاریخی ناول کے دائرے سے جوڑتی ہے۔ عنوان کو ناول کے مکمل معنی کا نسخہ نہیں سمجھنا چاہیے، مگر "آگ" اور "دریا" کے باہمی اجتماع سے پیدا ہونے والی ناممکن سی تصویر قاری کو ابتدا ہی میں ایسے تجربے کے لیے تیار کرتی ہے جہاں تاریخ ساکن پس منظر کے بجائے بہتی، دہکتی اور دوبارہ نمودار ہوتی ہوئی قوت محسوس ہو سکتی ہے۔ تنقیدی قرأت کا کام مصنف کی نیت کا قطعی اعلان کرنا نہیں بلکہ عنوان اور متن کے درمیان واقعی قائم ہونے والے معنوی رشتے کو دکھانا ہے۔
عنوان کبھی متن کو کھولتا ہے اور کبھی اس پر ایک قبل از وقت مفہوم بھی مسلط کر دیتا ہے۔ کسی افسانے کا نام "آزادی" رکھ دیا جائے تو قاری آزادی سے متعلق ہر منظر کو زیادہ توجہ سے دیکھ سکتا ہے۔ وہی افسانہ کسی کردار کے نام سے شائع ہو تو قرأت کا مرکز سیاسی تصور سے شخصی تجربے کی طرف منتقل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس مرحلے پر عنوان کی تنقید لغوی معنی کے بیان سے آگے جانا چاہتی ہے۔ سوال یہ بنتا ہے کہ عنوان کس چیز کو نمایاں کرتا ہے اور کس چیز کو پس منظر میں دھکیلتا ہے۔ کیا عنوان متن کے اندر بار بار لوٹتا ہے۔ کیا اختتام تک پہنچ کر اس کے معنی بدل جاتے ہیں۔ کیا وہ جان بوجھ کر گمراہ کن ثابت ہوتا ہے۔ کیا ناشر نے بعد کی اشاعت میں ذیلی عنوان شامل کرکے صنفی شناخت متعین کر دی۔ ژنت نے داخلی بابوں کے عنوانات کو بھی الگ اہمیت دی کیونکہ وہ پورے کام کے نام کے مقابل ایسے قاری سے مخاطب ہوتے ہیں جو پہلے ہی کتاب کے اندر داخل ہو چکا ہے۔ باب کا نام کئی دفعہ آنے والے واقعے کی خبر دے کر تجسس کی نوعیت بدل دیتا ہے، جبکہ بے عنوان ابواب قاری کو مختلف قسم کی آزادی دیتے ہیں۔ عنوان نویسی کا مطالعہ اس بنا پر محض ناموں کی جمالیات نہیں بلکہ قاری کو دی جانے والی پیشگی ہدایت کا مطالعہ ہے۔
مصنف کا نام بھی غیر جانب دار اطلاع نہیں رہتا۔ کسی تحریر کے اوپر "سعادت حسن منٹو" لکھا دیکھ کر قاری کے ذہن میں جنس، تقسیم، سماجی منافقت اور بے رحم حقیقت نگاری سے متعلق پہلے سے قائم تصورات حرکت میں آ سکتے ہیں۔ وہی عبارت گمنام صورت میں سامنے آئے تو قرأت کا دباؤ مختلف ہوگا۔ بڑے ادیبوں کے ساتھ مسئلہ مزید نمایاں ہوتا ہے کیونکہ ان کا نام خود ایک ادبی ادارے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ شہرت قاری کو متن کے اندر موجود کمزوری قبول کرنے، معمولی جملے میں گہرا معنی ڈھونڈنے یا کسی موضوع کو مخصوص فکری روایت سے جوڑنے کی طرف مائل کر سکتی ہے۔ ژنت نے مصنف کے نام کو باقاعدہ پیرامتنی عنصر کے طور پر شامل کیا ہے۔ اردو تحقیق میں قلمی نام، تخلص، گمنام اشاعت اور بعد میں ثابت ہونے والی نسبتوں کا مسئلہ اس زاویے سے زیادہ زرخیز ہو سکتا ہے۔ کسی تحریر کی مصنفی نسبت بدلنے کے بعد اس کی تنقیدی تاریخ بھی بدل سکتی ہے۔ پہلے جس مضمون کو ایک غیر معروف شخص کا معمولی نوٹ سمجھا گیا ہو، معتبر نسبت قائم ہونے کے بعد ناقدین اس میں سوانحی اور فکری اشارات تلاش کرنے لگتے ہیں۔ متن وہی رہتا ہے مگر مصنف کا نام قرأت کے اندر نئی طاقت داخل کر دیتا ہے۔
دیباچہ کتاب کا سب سے واضح مقام ہے جہاں مصنف، مرتب، مترجم یا ناشر قاری سے براہ راست بات کر سکتا ہے۔ ژنت نے دیباچے کو ایسے ابتدائی یا اختتامی کلام کے وسیع مفہوم میں لیا جو اصل متن کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ اردو کی کلاسیکی نثری روایت میں "باغ و بہار" کا ابتدائی مواد ایک خاص طور پر مفید مثال فراہم کرتا ہے۔ کتاب کے موجودہ محفوظ متون میں "عرضی"، میر امن کا مقدمہ، سبب تالیف اور دوسرے ابتدائی حصے الگ الگ سامنے آتے ہیں۔ میر امن اپنی عرضی میں قصہ چہار درویش کو اردوئے معلیٰ کی زبان میں بنانے، اپنی محنت اور سرپرستوں سے توقع کا ذکر کرتے ہیں۔ جدید کتابی تعارف بھی تصنیف کو فورٹ ولیم کالج اور جان گلکرسٹ کی فرمائش کے ساتھ جوڑتا ہے۔اگر قاری ابتدائی مواد چھوڑ کر سیدھا داستان پڑھنے لگے تو اسے قصے، کردار، زبان اور دہلی کی تہذیبی فضا ملے گی۔ دیباچہ ساتھ پڑھنے پر وہی کتاب ادارہ جاتی سرپرستی، زبان سازی، ترجمے اور نوآبادیاتی علمی منصوبے کے سوالات سے بھی جڑ جاتی ہے۔ چند صفحات اصل داستان سے باہر رہتے ہوئے اس کے تاریخی مقام کی قرأت تبدیل کر دیتے ہیں۔
"باغ و بہار" کا مقدمہ ایک اور بنیادی احتیاط بھی سکھاتا ہے۔ دیباچہ معلومات فراہم کرتا ہے مگر اسے ہمیشہ غیر جانب دار تاریخی دستاویز نہیں سمجھا جا سکتا۔ مصنف اپنی محنت نمایاں کرتا ہے، کسی سرپرست کے سامنے اپنی خدمت کی قدر قائم کرنا چاہتا ہے، تخلیق کا مقصد واضح کرتا ہے یا اپنے طریق کار کا دفاع کرتا ہے۔ لہٰذا دیباچے کو متن کی تشریح کی چابی سمجھنے کے ساتھ اس کی اپنی خطابت بھی پڑھنی چاہیے۔ میر امن کی عرضی میں انعام اور قدر دانی کی خواہش ایک سماجی حقیقت سامنے لاتی ہے۔ یہی عبارت ہمیں بتاتی ہے کہ ادبی تخلیق مجرد ذہنی عمل نہیں بلکہ روزگار، ادارہ، سرپرستی اور مصنف کی معاشی حالت سے بھی وابستہ ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب مصنف اپنی زبان یا مقصد کے بارے میں جو دعویٰ کرتا ہے اسے پورے متن پر آخری حکم نہیں بنایا جا سکتا۔ ادیب کہہ سکتا ہے کہ اس نے صرف تفریح کے لیے لکھا، مگر متن سماجی یا سیاسی معنی پیدا کر سکتا ہے۔ دیباچہ مصنف کا بیان ہے، متن کا عدالتی فیصلہ نہیں۔ تحقیقی دیانت دونوں کو ساتھ پڑھتی ہے اور جہاں فرق پیدا ہو وہاں فرق کو مسئلہ بناتی ہے۔
مقدمے کی طاقت بعض اوقات اتنی بڑھ جاتی ہے کہ بعد کا ناقد اصل کتاب سے پہلے مقدمہ پڑھتا ہے اور پھر متن کو مقدمہ نگار کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔ کلاسیکی اردو کتابوں کی جدید مرتبہ اشاعتوں میں یہی مسئلہ خاص توجہ چاہتا ہے۔ کسی بڑے محقق کا پچاس صفحات کا مقدمہ قدیم متن کے تاریخی، لسانی اور کتابیاتی مسائل کھول سکتا ہے، مگر نئے قاری کے لیے وہ قرأت کا راستہ پہلے سے بھی مقرر کر دیتا ہے۔ اگر مقدمہ کسی کتاب کو "اصلاحی ناول"، "پہلی جدید داستان"، "ترقی پسند افسانہ" یا "صوفیانہ متن" کے طور پر متعارف کرتا ہے تو قاری آغاز ہی سے مخصوص نشانات تلاش کرنے لگتا ہے۔ مقدمے کی افادیت کم نہیں ہوتی، لیکن تحقیقی مطالعے میں یہ دیکھا جانا چاہیے کہ اصل مصنف کے زمانے کا پیرامتن کون سا ہے اور بعد کے مرتب یا ناشر نے کون سا نیا حلقہ کتاب کے گرد قائم کیا۔ ہر نئی اشاعت ماضی کے متن کو نئے زمانے کی ادبی زبان میں دوبارہ پیش کرتی ہے۔ اسی بنا پر ایک ہی کتاب کی مختلف اشاعتیں محض طباعتی نقلیں نہیں ہوتیں، ان کا مقدماتی اور ادارتی ماحول الگ تاریخی شہادت رکھ سکتا ہے۔
انتساب عموماً چند الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے اور قاری اسے جذباتی رسم سمجھ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ ژنت کے مطابق انتساب میں مصنف پوری تصنیف کو کسی فرد، حقیقی یا مثالی گروہ یا کسی دوسری ہستی کی طرف علامتی طور پر منسوب کرتا ہے۔ اردو میں انتساب کی روایت پر الگ گفتگو بھی موجود ہے اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مجلے میں شائع مواد نے اسے مصنف کے فکری، تہذیبی اور جذباتی رجحانات سے متعلق علامت کے طور پر دیکھا ہے۔ کسی ماں، استاد، سیاسی رہنما، مرحوم دوست، وطن، آنے والی نسل یا کسی بے نام طبقے کے نام کیا گیا انتساب مصنف کے تعلقات کی ایک منتخب دنیا بناتا ہے۔ مگر انتساب کو سوانح عمری کا سیدھا ثبوت سمجھنے سے احتراز چاہیے۔ مصنف جس شخص کے نام کتاب منسوب کرتا ہے، ضروری نہیں پورا متن اسی شخصیت کی نمائندگی کرتا ہو۔ زیادہ مفید سوال یہ ہے کہ مصنف کتاب کو کس علامتی نسبت کے ساتھ دنیا میں بھیجنا چاہتا ہے۔ کبھی ایک مختصر انتساب تخلیق کے اخلاقی مخاطب کی نشاندہی کرتا ہے، کبھی ادبی قرض تسلیم کرتا ہے، کبھی نجی تعلق کو عوامی یادداشت میں محفوظ کر دیتا ہے۔
ابتدائی اقتباس یا epigraph کی صورت اس سے ذرا مختلف ہے۔ کسی دوسرے مصنف، مذہبی متن، شاعر یا فلسفی کی عبارت کو کتاب کے آغاز پر رکھنا دراصل نئے متن سے پہلے ایک پرانی آواز داخل کرنا ہے۔ ژنت اسے عموماً کام یا اس کے کسی حصے کے سرے پر رکھا اقتباس قرار دیتے ہیں۔ ایک ناول اگر میر کے شعر سے کھلتا ہے تو قاری صرف اس شعر کا مفہوم نہیں پڑھتا، میر سے وابستہ ادبی حافظہ بھی ساتھ لاتا ہے۔ قرآن کی آیت، فارسی شعر، کسی سیاسی مفکر کا قول یا لوک مصرع الگ الگ تہذیبی اقتدار رکھتے ہیں۔ ابتدائی اقتباس کے تجزیے میں یہ دیکھنا زیادہ نتیجہ خیز ہوگا کہ نیا متن اس سابق عبارت کی تصدیق کرتا ہے، اسے الٹ دیتا ہے یا اس کے ساتھ کشمکش پیدا کرتا ہے۔ کئی بار ناقد ابتدائی اقتباس کو مصنف کا عقیدہ سمجھ لیتا ہے، حالانکہ فن پارہ اس کے برعکس صورت پیدا کر سکتا ہے۔ پیرامتنی قرأت ابتدا میں رکتی نہیں، اسے اصل متن کے آخر تک جانا پڑتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ دروازے پر لکھی عبارت گھر کے اندر موجود دنیا سے کس رشتے میں ہے۔
حواشی اور توضیحات کتاب کے کنارے پر رہ کر علمی اختیار کی ایک اور شکل بناتے ہیں۔ ژنت نے note کو کسی متعین حصے سے منسلک مختصر یا طویل بیان قرار دیا اور اس کی مقامی نوعیت کو دیباچے سے ممتاز کیا۔ اردو کے قدیم متون کی جدید اشاعت میں مرتب مشکل لفظ کا معنی دے سکتا ہے، تاریخی شخصیت پہچان سکتا ہے، مختلف نسخوں کی قرأت درج کر سکتا ہے یا کسی شعری حوالے کا ماخذ بتا سکتا ہے۔ پہلی نظر میں حاشیہ خدمت گزار معلوم ہوتا ہے، مگر مدون کے انتخاب سے کتاب کی تعبیر بدل سکتی ہے۔ کس لفظ کو مشکل سمجھا گیا، کس تاریخی نسبت کو قابل وضاحت مانا گیا، کون سا اختلاف نسخ چھاپا گیا اور کون سا چھوڑ دیا گیا، یہ سب ادارتی فیصلے ہیں۔ قدیم متن کی نئی اشاعت پڑھتے وقت اصل مصنف اور جدید مرتب کی آواز کو الگ رکھنا ضروری ہے۔ حاشیہ اگر کسی علامت کا ایک معنی مقرر کر دے تو طالب علم اسے متن کی واحد قرأت سمجھ سکتا ہے، جبکہ مصنف نے ایسی پابندی کبھی قائم نہ کی ہو۔ علمی تدوین کی خوبی حاشیے کی کثرت سے نہیں بلکہ اس شفافیت سے پیدا ہوتی ہے جس میں قاری جان سکے کہ اصل عبارت کہاں ختم ہوئی اور مرتب کی توضیح کہاں شروع ہوئی۔
سرورق کو ادبی تنقید نے طویل عرصے تک ناشر اور مصور کا معاملہ سمجھ کر متن سے الگ رکھا، حالانکہ کتاب کی پہلی بصری ملاقات اکثر وہیں ہوتی ہے۔ ژنت کے وسیع تصور میں ناشر کی طرف سے پیش کیے جانے والے مادی عناصر بھی پیرامتن کا حصہ بنتے ہیں۔ ایک سنجیدہ تاریخی ناول کو اگر چمک دار رومانوی تصویر کے ساتھ چھاپا جائے تو بازار میں اس کی صنفی شناخت بدل سکتی ہے۔ کسی کلاسیکی شعری مجموعے پر شاعر کی درویشانہ تصویر لگا دی جائے تو قاری کے ذہن میں روحانیت کا تصور پہلے سے داخل ہو سکتا ہے۔ جدید مطالعات نے کتاب کے سرورق کو اشاعتی اور تجارتی پیرامتن کے طور پر دیکھا ہے اور ڈیجیٹل بازار میں cover image کے ساتھ metadata کو بھی کتاب کی پیش کش کا حصہ قرار دیا ہے۔ مصنف ہر بار سرورق کے فیصلے کا مالک نہیں ہوتا۔ اس لیے سرورق سے اخذ کیا گیا مفہوم لازماً authorial intention نہیں، بلکہ مصنف، ناشر، ڈیزائنر اور بازار کے مشترک یا متصادم مفادات کی پیداوار بھی ہو سکتا ہے۔
کتاب کی مادی تاریخ اس بحث کو مزید پیچیدہ کرتی ہے۔ "آگ کا دریا" کے ریختہ ریکارڈ میں ۱۹۹۰ء اور ۲۰۱۱ء کی الگ اشاعتیں محفوظ ہیں۔ (بنیادی ناول کی شناخت برقرار رہنے کے باوجود ہر اشاعت اپنے زمانے کا نیا مادی جسم حاصل کرتی ہے۔ سرورق بدل سکتا ہے، ناشر کی تعارفی عبارت تبدیل ہو سکتی ہے، مقدمہ شامل یا حذف ہو سکتا ہے، فونٹ اور صفحاتی ترتیب نئی ہو سکتی ہے۔ متن کی تاریخ لکھنے والا محقق اس فرق کو معمولی نہیں سمجھ سکتا۔ اگر کسی ناقد نے ایک خاص ایڈیشن کے مقدمے یا ناشر کے نوٹ کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا ہے تو دوسرے ایڈیشن کا قاری شاید وہ مواد دیکھ ہی نہ سکے۔ "کتاب" کو واحد اور غیر متبدل شے سمجھنے کی بجائے اس کی اشاعتی زندگی کا مطالعہ کرنا زیادہ درست ہے۔ پیرامتن کئی دفعہ متن سے زیادہ تیزی سے بدلتا ہے اور اسی تبدیلی سے مختلف نسلوں کے قارئین ایک ہی تخلیق کے ساتھ مختلف ابتدائی رشتے قائم کرتے ہیں۔
کتاب کے باہر پھیلی ہوئی گفتگو بھی قرأت پر اثر ڈالتی ہے۔ مصنف کا انٹرویو، کسی خط میں لکھی وضاحت، اخبار میں بیان، یادداشت، تقریر یا کسی ادبی مجلس میں کیا گیا تبصرہ اصل کتاب کے صفحات میں موجود نہیں ہوتا، مگر بعد کا قاری اسے متن کی تشریح کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ژنت نے ایسے بیرونی عناصر کے لیے epitext کا تصور پیش کیا اور واضح کیا کہ وہ مادی طور پر کتاب سے الگ گردش کرتے ہیں۔ بعد میں انہی انٹرویوز، خطوط یا روزنامچوں کے اقتباسات کو کسی تحقیقی اشاعت میں شامل کر دیا جائے تو باہر کی چیز کتاب کے اندر بھی آ سکتی ہے۔ اردو تحقیق میں مصنف کے انٹرویو کو اکثر بہت زیادہ اختیار دے دیا جاتا ہے۔ ادیب کہہ دے کہ فلاں کردار کسی حقیقی شخص سے متاثر نہیں تو محقق بحث ختم سمجھ لیتا ہے، یا کسی ناول کو سیاسی قرار دینے سے مصنف انکار کرے تو متن کی سیاسی قرأت مشکوک سمجھی جاتی ہے۔ مصنف کا بیان اہم شہادت ہے مگر تخلیق کے تمام ممکنہ معنی پر اس کی اجارہ داری تسلیم کرنا تنقید کے بنیادی عمل کو محدود کر دیتا ہے۔ بیرونی پیرامتن کو پڑھنا چاہیے، اس کے سامنے متن کو سرنڈر نہیں کرنا چاہیے۔
مصنف کی وفات کے بعد مسئلہ اور دلچسپ ہو جاتا ہے۔ خطوط شائع ہوتے ہیں، انٹرویوز جمع ہوتے ہیں، یادداشتیں سامنے آتی ہیں اور نئی سوانح حیات پرانے متن کے گرد نئی کہانی قائم کر دیتی ہے۔ کوئی نظم جو پچاس برس تک ذاتی محبت کی نظم سمجھی جاتی رہی ہو، نئے خط کی دریافت کے بعد سیاسی یا سوانحی تناظر میں پڑھی جانے لگ سکتی ہے۔ نئی شہادت واقعی قرأت کو وسیع کرتی ہے، مگر ہر خارجی اطلاع کو متن پر حاکم بنا دینا بھی خطرناک ہے۔ ادبی تخلیق اپنے مصنف کے حالات سے پیدا ہونے کے باوجود اپنی لفظی ساخت رکھتی ہے۔ محقق کو دو سوال الگ رکھنے چاہییں۔ ایک سوال یہ ہے کہ مصنف کے حالات کیا تھے۔ دوسرا یہ کہ تحریر واقعی کیا کہتی اور کرتی ہے۔ پیرامتنی تحقیق کا مقصد سوانح کو متن کے اوپر رکھنا نہیں بلکہ دونوں کے درمیان سفر کے راستے دکھانا ہے۔
اردو ادب کی تاریخی کتابوں میں مقدمہ اور "سبب تالیف" کو اس زاویے سے دوبارہ پڑھنے کے امکانات خاصے وسیع ہیں۔ قدیم کتاب کے ابتدائی صفحات میں مصنف اپنے سرپرست، زمانے کی زبان، تصنیف کی وجہ، سابق ماخذ اور کبھی اپنی معاشی حالت تک کا ذکر کر دیتا ہے۔ بعد کے ادبی مورخ ان بیانات سے معلومات لیتے رہے ہیں، مگر ان کی rhetorical صورت پر کم توجہ دی گئی۔ "باغ و بہار" کی عرضی میں مصنف اپنے کام کو پیش بھی کر رہا ہے اور اس کے بدلے قدر شناسی کی خواہش بھی ظاہر کرتا ہے۔ عبارت کو ایک ساتھ ادبی تاریخ، ادارہ جاتی تعلق اور خود پیش کش کے عمل کے طور پر پڑھا جائے تو فورٹ ولیم کالج کا مصنف محض زبان کا خدمت گار نہیں رہتا، وہ اپنے محنتی مقام اور ادبی قدر کے لیے گفتگو کرنے والا شخص بھی بن جاتا ہے۔ پیرامتن مصنف کی وہ آواز محفوظ کر سکتا ہے جو اصل قصے کے اندر کبھی ظاہر نہ ہوتی۔
تحقیق میں ایک اور باریک فرق ضروری ہے۔ ہر پیرامتنی عنصر مصنف کا بنایا ہوا نہیں ہوتا۔ عنوان بعض اوقات ناشر بدل دیتا ہے، سرورق ڈیزائنر تیار کرتا ہے، جدید مقدمہ کسی دوسرے نقاد کا ہوتا ہے، حواشی مرتب لکھتا ہے، کتاب کے پشت ورق کی عبارت مارکیٹنگ شعبہ تیار کر سکتا ہے۔ ژنت کا تصور اسی وجہ سے محض "مصنف کے اضافی بیانات" کا نام نہیں۔ کتاب قاری تک پہنچنے سے پہلے کئی اداروں اور افراد کے ہاتھ سے گزرتی ہے۔ اردو تنقید کے لیے یہاں اشاعتی تاریخ کا ایک نیا میدان کھلتا ہے۔ ایک کلاسیکی ناول کو مختلف دہائیوں میں کن سرورقوں کے ساتھ فروخت کیا گیا۔ ناشر نے اس کی پشت پر کن الفاظ سے تعارف لکھا۔ خواتین کی کتابوں کو الگ بصری انداز سے پیش کیا گیا یا نہیں۔ کسی مصنف کی وفات کے بعد "عظیم"، "کلاسیک"، "متنازع" یا "بے باک" جیسے الفاظ مارکیٹنگ میں کب داخل ہوئے۔ ان سوالوں سے ادب کی قدر و قیمت کے ساتھ ادبی بازار کی زبان بھی سامنے آ سکتی ہے۔
ڈیجیٹل عہد نے متن کے باہر موجود دنیا کو کتاب کے جسم سے کہیں زیادہ وسیع کر دیا ہے۔ اب قاری کتاب ہاتھ میں لینے سے پہلے سرچ انجن کا نتیجہ، thumbnail، مختصر description، category، rating، review، social media post اور کسی ویڈیو کا عنوان دیکھ سکتا ہے۔ ڈیجیٹل پیرامتن پر حالیہ تحقیق نے blogs، tweets اور Instagram جیسے مواد کو ادیب اور قاری کے تعلق میں نئی اہمیت دی ہے، جبکہ digital documents پر تحقیق نے بتایا ہے کہ ژنت کی اصطلاحات اب بھی مفید ہیں مگر کتاب کے اندر اور باہر کی پرانی سرحد آن لائن ماحول میں زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ایک اردو ناول اگر کسی ویب سائٹ پر "romance" کے tag کے ساتھ آتا ہے اور دوسری جگہ "Partition literature" کے زمرے میں رکھا جاتا ہے تو دونوں پلیٹ فارم ایک ہی متن کے لیے الگ ابتدائی راستہ بنا رہے ہوتے ہیں۔ search snippet چند سطروں میں وہی کام کر سکتا ہے جو کبھی کتاب کا پشت ورق کرتا تھا۔ قاری اکثر الگورتھم کے فراہم کردہ پیرامتن سے گزر کر اصل متن تک پہنچتا ہے۔
ڈیجیٹل ماحول میں سرورق بھی اپنی سابق مادی وحدت کھو چکا ہے۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق آن لائن بازار میں cover image کے ساتھ metadata مل کر کتاب کی ڈیجیٹل پیش کش بناتے ہیں۔ اردو کی ڈیجیٹل لائبریریوں کے لیے اس نکتے کے عملی اثرات اہم ہیں۔ کسی قدیم کتاب کا اسکین اپ لوڈ کرتے وقت اس کے ساتھ لکھا گیا subject، category، year، author description اور مختصر تعارف مستقبل کے قاری کی تلاش کو کنٹرول کرتا ہے۔ غلط سن اشاعت صرف کتابیاتی غلطی نہیں رہتا، سرچ اور تحقیق دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ کسی داستان کو "ناول" کے زمرے میں رکھنا طالب علم کی صنفی تفہیم بدل سکتا ہے۔ "باغ و بہار" کو ریختہ کا موجودہ ریکارڈ قصہ اور داستان کے زمرے میں رکھتا ہے۔ ڈیجیٹل cataloguing کو ادبی تنقید سے مکمل طور پر الگ فنی کام سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ metadata خود قاری کے سامنے متن کا پہلا علمی تعارف بنتا ہے۔
پیرامتنی مطالعے کا ایک خطرہ بھی ہے۔ اگر ہر سرورق، ہر فونٹ، ہر اشتہار اور ہر مصنف کے بیان کو معنی کا مستقل مرکز بنا دیا جائے تو اصل متن نظروں سے اوجھل ہو سکتا ہے۔ کسی ناول کے سرورق پر پرندہ بنا ہو تو ہر حال میں پرندے کی علامت ناول کے اندر تلاش کرنا تحقیقی روش نہیں۔ ناشر کا ایک تجارتی فیصلہ تخلیق کے فنی نظام سے غیر متعلق بھی ہو سکتا ہے۔ مضبوط مطالعہ تعلق ثابت کرتا ہے، تعلق فرض نہیں کرتا۔ عنوان کے کسی لفظ کو متن کے واقعات، زبان یا ساخت سے واقعی رابطہ حاصل ہو تو تنقیدی بحث بنتی ہے۔ انتساب مصنف کے فکری تعلق کی طرف اشارہ دے تو سوانحی مواد سے جانچا جا سکتا ہے۔ دیباچے کا دعویٰ اصل عبارت سے مختلف ہو تو دونوں کے درمیان فرق قابل تجزیہ ہے۔ پیرامتن کا نظریہ قاری کو ہر بیرونی چیز میں راز ڈھونڈنے کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ اس حصے کو سنجیدگی سے دیکھنے کا طریقہ فراہم کرتا ہے جسے روایتی قرأت اکثر نظر انداز کر دیتی ہے۔
اردو کے طالب علم کے لیے اس طریقے کی عملی افادیت بہت واضح ہے۔ کسی کتاب پر تحقیق شروع کرتے وقت صرف اصل ابواب کی فوٹو کاپی کافی نہیں ہونی چاہیے۔ سرورق، اندرونی عنوانی صفحہ، اشاعتی معلومات، انتساب، ابتدائی اقتباس، دیباچہ، فہرست، حواشی، ناشر کی عبارت اور ایڈیشن کی شناخت بھی محفوظ کرنی چاہیے۔ مختلف اشاعتیں دستیاب ہوں تو ان کے ابتدائی صفحات کا تقابل کئی اہم نتائج دے سکتا ہے۔ مصنف کے زمانے کا دیباچہ اور پچاس برس بعد کسی ناقد کا مقدمہ ایک ہی درجہ نہیں رکھتے۔ اصل اشاعت کا سرورق اور جدید تجارتی edition کی تصویر الگ ثقافتی حالات کی پیداوار ہیں۔ کسی انٹرویو سے اخذ کردہ بات کو کتاب کی اصل عبارت کے ساتھ خلط نہیں کرنا چاہیے۔ اس طرح تحقیق کی اکائی "متن" سے بڑھ کر "کتاب کی تاریخی پیش کش" بن جاتی ہے، مگر اصل تخلیق اپنی مرکزی حیثیت برقرار رکھتی ہے۔
اس زاویے سے ادبی تاریخ نویسی بھی نئے سوالات قبول کر سکتی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ کون سی کتاب کب لکھی گئی، مگر کم معلوم ہے کہ پہلی بار قاری کے سامنے کیسی دکھائی دی۔ کس ناشر نے اسے کس صنف کے نام سے بیچا۔ پہلے دیباچے نے کیا دعویٰ کیا۔ بعد کی یونیورسٹی اشاعت نے کون سا تنقیدی مقدمہ شامل کیا۔ کس دور میں مصنف کی تصویر سرورق پر آنے لگی۔ انتساب بدلا یا برقرار رہا۔ پرانی اشاعت میں موجود کسی عبارت کو نئی اشاعت نے حذف کر دیا یا نہیں۔ ایسے سوال ادبی متن کو معاشرے میں گردش کرتی مادی اور فکری شے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کتاب کی قدر صرف اس کے اندر لکھی تحریر سے نہیں بنتی، ادارے، ناشر، ناقد، نصاب، بازار اور بعد کی شہرت بھی اس کے گرد ایک مسلسل بدلتا ہوا حصار بناتے رہتے ہیں۔ معلوماتی اور لائبریری مطالعات میں بھی پیرامتن کو مصنف، اشاعتی ثقافت اور کتاب کے سماجی استعمال کے بارے میں اہم ماخذ سمجھا گیا ہے۔
پیرامتن کی سب سے دلچسپ خاصیت غالباً اس کی عارضی کم اہمیت ہے۔ قاری انتساب ایک لمحے میں پڑھ کر بھول سکتا ہے، مقدمہ چھوڑ سکتا ہے، حاشیہ نظر انداز کر سکتا ہے اور سرورق کو محض تصویر سمجھ سکتا ہے۔ مگر وہ چیز جسے شعوری طور پر بھلا دیا گیا ہو قرأت کے اندر اپنا ابتدائی اثر چھوڑ چکی ہوتی ہے۔ عنوان یاد رہتا ہے، مصنف کا نام توقع پیدا کرتا ہے، مقدمہ کسی تاریخی زاویے کو معتبر بناتا ہے اور سرورق صنف کا ایک بصری تصور قائم کرتا ہے۔ ژنت نے پیرامتن کو سرحد سے زیادہ threshold کہا تھا کیونکہ اس جگہ کا کام اندر اور باہر کو الگ کرنا نہیں بلکہ ان کے درمیان آمدورفت ممکن بنانا ہے۔ اردو تنقید کے لیے یہی تصور سب سے زیادہ کارآمد ہے۔ کتاب کے باہر موجود مواد کو اصل متن کا بدل نہ بنایا جائے، مگر اسے نظر انداز کرکے قرأت کو مکمل بھی نہ سمجھا جائے۔
محقق جب کسی ادبی کتاب کو میز پر رکھتا ہے تو اس کے سامنے دراصل دو تاریخیں موجود ہوتی ہیں۔ ایک تاریخ متن کے اندر کرداروں، زبان، خیالات اور فنی ساخت کی ہے۔ دوسری تاریخ اس طریقے کی ہے جس سے کتاب نے دنیا میں اپنا چہرہ بنایا، نئے ایڈیشن حاصل کیے، مختلف مقدموں سے گزری، ناشروں نے اسے دوبارہ پیک کیا، ناقدین نے اسے نام دیے اور قارئین نے مخصوص توقعات کے ساتھ پڑھا۔ پہلی تاریخ کے بغیر ادب نہیں بنتا، دوسری کے بغیر ادب کی سماجی زندگی ادھوری رہتی ہے۔ "متن کے باہر کا متن" کوئی متبادل متن نہیں بلکہ وہ علاقہ ہے جہاں تخلیق قاری تک پہنچنے سے پہلے اپنی پہلی تعبیر حاصل کرتی ہے۔ سنجیدہ تنقید اس دہلیز پر زیادہ دیر رکے گی تو کتاب کے اندر داخل ہونے کا تجربہ بھی بدل جائے گا۔ دروازہ خود گھر نہیں ہوتا، مگر گھر تک پہنچنے والا ہر شخص اس سے گزر کر ہی اندر آتا ہے۔
