تلاش کریں

محاصرے کا روزنامچہ اسلوبیاتی و تنقیدی مطالعہ

 

https://magazine.urduaks.com/2026/08/shehbaz-ali-solangi-muhasray-ka-roznamcha-usloobiyati-o-tanqeedi-mutalia.html

تحریر:شہباز علی سولنگی

پاکستان میں ۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۳ء کا عرصہ ایک ایسے سیاسی ماحول کی نمائندگی کرتا ہے جس میں جمہوری تسلسل کی امید، ریاستی اداروں کے باہمی تعلق، آئینی اختیار، مذہبی و سیاسی کشمکش، عدالتی فعالیت اور آئندہ انتخابات سے وابستہ سوال ایک ساتھ موجود تھے۔ اخباری کالم نگاری کے لیے یہ صورت حال غیر معمولی طور پر زرخیز تھی۔ روز کا واقعہ اپنی فوری معنویت رکھتا تھا، لیکن اس واقعے کے پیچھے ریاست کی کئی دہائیوں پر پھیلی ہوئی تاریخ بھی سانس لے رہی تھی۔ وجاہت مسعود کے کالم اسی ماحول میں لکھے گئے اور بعد میں جب ان میں سے بیاسی تحریریں کتابی صورت میں یکجا ہوئیں تو ان کا تعلق صرف اس روز کی خبر سے باقی نہیں رہا جس نے انہیں جنم دیا تھا۔سنگ میل پبلی کیشنز سے ۲۰۱۷ء میں شائع ہونے والی محاصرے کا روزنامچہ کی جلد اول ۳۱۲ صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں ۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۳ء کے دوران لکھے گئے کالم شامل ہیں۔ ان تحریروں میں پاکستانی سیاست موضوع ضرور ہے، مگر سیاست یہاں جلسوں، انتخابات، حکومتوں اور شخصیات تک محدود نہیں رہتی۔ آئین، شہری آزادی، مذہبی فکر، تاریخ کی تعبیر، غیر منتخب طاقت، اجتماعی حافظہ، انسانی وقار اور معاشرے کی فکری ساخت بار بار گفتگو میں شامل ہوتی ہے۔ یوں اخبار کے لیے لکھی گئی تحریر اپنے فوری زمانی پس منظر سے نکل کر ایک وسیع تر فکری مباحثے کا حصہ بن جاتی ہے۔

کتاب کے مطالعے میں ایک کتابیاتی فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ محاصرے کا روزنامچہ کے نام سے وجاہت مسعود کی ایک پرانی کتاب بھی موجود ہے۔ نیشنل لائبریری آف پاکستان کے اندراج میں اسے بی بی سی کے لیے لکھے گئے کالموں کے انتخاب کے طور پر محفوظ کیا گیا ہے اور دستیاب کتابیاتی شہادت اسے سانجھ پبلیکیشنز کی ۲۰۰۸ء کی اشاعت سے منسوب کرتی ہے۔ اس میں ۲۰۰۵ء سے ۲۰۰۷ء کے عرصے کی تحریریں شامل تھیں۔ سنگ میل سے شائع ہونے والی ۲۰۱۷ء کی کتاب اس کا نیا ایڈیشن نہیں بلکہ الگ مواد پر مشتمل جلد ہے۔ رضی الدین رضی نے بھی اس نئی جلد کا تعارف کراتے ہوئے ۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۳ء کے اخباری کالموں کی طرف اشارہ کیا تھا۔ دونوں کتابوں کو ایک سمجھ لینے سے نہ صرف اشاعت کا ریکارڈ متاثر ہوتا ہے بلکہ کالموں کا سیاسی زمانہ بھی بدل جاتا ہے۔ زیر نظر مطالعے کا تعلق سنگ میل کی ۲۰۱۷ء میں شائع ہونے والی جلد اول سے ہے۔کتاب کی فہرست کے بعد آئی اے رحمٰن کا مقدمہ آزادی سے خود شناسی تک شامل ہے۔ اصل ناشرانہ نمونے میں پہلا کالم قائد کی قبر کس نے کھودی؟ صفحہ ۱۸ سے شروع ہوتا ہے اور آخری اندراج صفحہ ۳۱۰ پر آتا ہے۔ کتابی ترتیب خود ایک اہم بات کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ کالم اپنی ابتدائی زندگی میں تاریخ کے ایک مخصوص دن سے وابستہ تھے۔ کتاب نے انہیں اس روز کی وقتی ضرورت سے نکال کر ایک دوسرے کے پہلو میں رکھ دیا۔ اب قاری انہیں الگ الگ سیاسی ردعمل کے بجائے ایک مسلسل ذہنی اور فکری سفر کے طور پر بھی پڑھ سکتا ہے۔

روزنامچہ کا لفظ اسی کتابی ترتیب میں اپنی نئی معنویت پیدا کرتا ہے۔ یہ روز بہ روز لکھی ہوئی شخصی ڈائری نہیں اور نہ واقعات کا غیر جانب دار زمانی اندراج ہے۔ یہاں دو برس کے واقعات مصنف کے انتخاب، ترجیحات اور تعبیر سے گزر کر محفوظ ہوئے ہیں۔ کون سا واقعہ قابل توجہ سمجھا گیا، کس بات کو تاریخ کے کسی پرانے واقعے کے ساتھ جوڑا گیا، کس رویے کو اخلاقی مسئلے کے طور پر دیکھا گیا اور کس خبر کو اجتماعی حافظے کے لیے اہم جانا گیا، ان تمام فیصلوں میں مصنف کی فکری شخصیت شامل ہے۔ اس اعتبار سے کتاب ایک عہد کی صحافتی یادداشت ہے جس میں واقعہ اور تعبیر ایک دوسرے سے جدا نہیں رہتے۔عنوان میں موجود محاصرہ اس یادداشت کو مزید گہرا کرتا ہے۔ وجاہت مسعود کی تحریروں میں محاصرہ کسی ایک طاقت، حکومت یا ادارے کی بنائی ہوئی بیرونی دیوار تک محدود نہیں رہتا۔ بعض جگہ منتخب سیاست دباؤ میں دکھائی دیتی ہے، کہیں شہری آزادی، کہیں اختلاف رائے، کہیں تاریخی حقیقت اور کہیں وہ عقلی سوال جسے معاشرتی یا سیاسی طاقت آسانی سے قبول نہیں کرتی۔ نجام ولی خان نے عنوان کو جمہوریت اور سیاست پر نظر آنے والی اور نظر نہ آنے والی پابندیوں کے تناظر میں دیکھا تھا۔ یاسر پیرزادہ نے وجاہت مسعود کے بعد کے کالمی سلسلے پر گفتگو کرتے ہوئے حصار کو ان کے فکری منصوبے سے وابستہ کیا۔

کتاب خود اس مفہوم کو صرف ریاستی جبر تک محدود نہیں رہنے دیتی۔ تعصب، تاریخ فراموشی، شخصیت پرستی، اختلاف سے خوف اور کسی نجات دہندہ کی مسلسل تلاش بھی آزادی کے راستے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ محاصرہ یوں باہر بھی قائم ہوتا ہے اور اجتماعی ذہن کے اندر بھی۔ یہیں عنوان اپنی سیاسی معنویت سے آگے بڑھ کر نفسیاتی اور تہذیبی مفہوم اختیار کرتا ہے۔وجاہت مسعود کی فکری زندگی ان موضوعات کے انتخاب کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ وہ ۱۹۶۶ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ میڈیکل کالج میں مختصر قیام کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج میں انگریزی ادب کا مطالعہ کیا اور ۱۹۸۸ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگریزی مکمل کیا۔ ۱۹۹۴ء میں جمہوری کمیشن برائے انسانی ترقی کے بانی اراکین میں شامل ہوئے اور انسانی حقوق کی تعلیم و تربیت سے طویل عرصے تک وابستہ رہے۔ بعد میں یونیورسٹی آف لیڈز سے بین الاقوامی اور یورپی انسانی حقوق کے قانون میں ایل ایل ایم کیا۔ آئین، ریاست، انسانی حقوق اور جمہوریت سے ان کی دلچسپی اس لیے محض مطالعے کی پیداوار نہیں رہی بلکہ عملی زندگی بھی اسی دائرے میں گزری۔

۲۰۱۶ء میں انہیں صحافت کے شعبے میں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی دیا گیا۔ ان کی فکری شناخت کا ایک اہم اشارہ ۲۰۱۴ء کے ایک انٹرویو میں ملتا ہے جہاں انہوں نے کہا تھا کہ زندگی نظریے سے بڑی ہے۔ اس گفتگو میں اپنی سابقہ اشتراکی وابستگی، بعد کی فکری نظر ثانی، فوجی آمریت سے اختلاف اور شہری آزادی کے حق میں اپنے نقطہ نظر کا ذکر بھی کیا۔ اس جملے کو وجاہت مسعود کی ہر تحریر سمجھنے کا واحد نسخہ نہیں بنایا جا سکتا، لیکن ان کے کالموں میں انسان اور نظریے کے تعلق کی نوعیت ضرور اس سے روشن ہوتی ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ نظریاتی قطعیت سے احتراز کے باوجود ان کی اپنی اقداری ترجیحات مبہم نہیں۔ جمہوریت، آئینی بالادستی، شہری مساوات، مذہبی آزادی اور منتخب اقتدار کے معاملے میں وہ واضح مقام رکھتے ہیں۔ ڈان میں سید شاہ طلحہ اقبال نے بھی انہیں جمہوریت پسند اور بائیں جانب جھکاؤ رکھنے والا لکھنے والا قرار دیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ وجاہت مسعود اپنی فکری جگہ چھپانے کے لیے غیر جانب داری کا مصنوعی لبادہ اختیار نہیں کرتے۔ قاری جانتا ہے کہ مصنف کہاں کھڑا ہے۔ اسی وضاحت کے ساتھ ایک تنقیدی سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ کیا مضبوط اقداری وابستگی کبھی تاریخ کے مختلف تجربات کو ایک مشترک اخلاقی پیمانے پر اس قدر قریب لے آتی ہے کہ ان کے باہمی فرق دھندلا جائیں۔ محاصرے کا روزنامچہ کی قرأت میں یہ سوال بار بار سامنے آتا ہے۔

وجاہت مسعود کی کالم نگاری کو قریب سے دیکھنے کے لیے قائد کی قبر کس نے کھودی؟ نہایت موزوں تحریر ہے۔ کتاب میں شامل ناشرانہ متن کے مطابق یہ کالم ۹ ستمبر ۲۰۱۲ء کو لکھا گیا۔ آغاز ایک عمر رسیدہ گورکن کے بیان سے ہوتا ہے جس نے اپنے والد کے ساتھ قائد اعظم کی قبر کھودنے میں مدد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایک عام صحافی اس خبر کو انسانی دلچسپی کے مختصر واقعے کے طور پر برت سکتا تھا۔ وجاہت مسعود قبر کھودنے کے الفاظ کو ایک دوسرے مفہوم میں منتقل کر دیتے ہیں۔

یہی منتقلی پورے کالم کی ساخت بناتی ہے۔ قائد کی قبر کس نے کھودی، یہ سوال رفتہ رفتہ اس جسمانی قبر سے دور ہوتا جاتا ہے جس کا ذکر خبر میں تھا۔ جاگیردار، مذہبی پیشوا، سرکاری اہلکار، صحافی، استاد، دانش ور، فوجی حکمران، منصف اور انتخابی سیاست میں مداخلت کرنے والے کردار اس سوال کے دائرے میں آتے جاتے ہیں۔ جملے کی تکرار ایک ایسی صوتی اور نحوی ترتیب پیدا کرتی ہے جس میں ہر نئی مثال سابقہ مثال کا وزن بھی اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ قبر پھر ایک شخص کی آخری آرام گاہ نہیں رہتی بلکہ اس سیاسی تصور کی علامت بن جاتی ہے جس کے ساتھ قائد اعظم کا نام وابستہ کیا جاتا ہے۔اس فنی طریقے کی خوبی یہ ہے کہ ذمہ داری کسی ایک تاریخی کردار پر ختم نہیں ہوتی۔ کالم ایک پورے سماجی اور ادارہ جاتی سلسلے کو جواب دہی کے دائرے میں لے آتا ہے۔ دوسری طرف یہی استعاراتی قوت ایک خطرہ بھی رکھتی ہے۔ جاگیرداری، مذہبی سیاست، عدالتی فیصلے، نصابی تعبیر، صحافتی مفاد اور فوجی مداخلت اپنی تاریخی نوعیت میں ایک دوسرے سے مختلف مظاہر ہیں۔ جب سب پر ایک ہی استعارہ منطبق ہو تو اخلاقی تاثر مضبوط ہوتا ہے، مگر تاریخی فرق کسی قدر سکڑ سکتے ہیں۔ کالم کی صنف تفصیلی تاریخ نویسی کی متحمل نہیں ہوتی۔ وجاہت مسعود کی کامیابی یہ ہے کہ وہ سوال کو یاد رہ جانے والی صورت دے دیتے ہیں۔ ان کی حد یہ ہے کہ یاد رہ جانے والی صورت کبھی واقعے کی پوری پیچیدگی کا بدل نہیں بن سکتی۔

قائد کی قبر کس نے کھودی؟ کا اختتام اس کے آغاز کو نئے مفہوم میں واپس لاتا ہے۔ کالم جس غریب شہری کے ذریعے شروع ہوا تھا، آخر میں اسی جیسے شہری کے تحفظ، تعلیم، خوراک، علاج اور بہتر زندگی کے حق کی طرف آتا ہے۔ اس حرکت میں وجاہت مسعود کے سیاسی تصور کی بنیادی ترجیح پہچانی جا سکتی ہے۔ ریاست، تاریخ اور نظریہ بالآخر انسان کے پاس واپس آتے ہیں۔ سیاسی استدلال اپنی معنویت اسی وقت حاصل کرتا ہے جب اس کا تعلق کسی زندہ شہری کی زندگی سے قائم ہو۔یہی فنی عادت ۴ اپریل ۲۰۱۳ء کے کالم گنو! ہیں قبروں پہ پھول کتنے میں ایک دوسرے انداز سے سامنے آتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی برسی سے شروع ہونے والی گفتگو ۱۹۵۱ء، ۱۹۷۱ء، ۱۹۷۷ء اور ۱۹۷۹ء کے تاریخی مقامات سے گزرتی ہے۔ مختلف زمانے ایک ہی سیاسی سوال کے گرد جمع ہوتے ہیں کہ اجتماعی اقتدار کا جائز سرچشمہ کہاں ہے۔ عوامی انتخاب میں یا ایسی قوتوں میں جو انتخابی عمل سے باہر رہ کر سیاسی سمت متعین کرتی ہیں۔

اس کالم کی اہمیت صرف بھٹو سے متعلق مصنف کے نقطہ نظر میں نہیں۔ وجاہت مسعود بھٹو کی پھانسی کے بارے میں اپنی واضح اخلاقی اور سیاسی رائے رکھتے ہوئے بھی پیپلز پارٹی کے حامی بیانیے کے بعض مروجہ مفروضات سے اختلاف کرتے ہیں۔ ہر سیاسی بحران کو بیرونی سازش کی ایک ہی تعبیر سے سمجھنے پر وہ آمادہ نہیں ہوتے۔ یہی پہلو ان کے اپنے اصولی موقف کو کسی شخصی عقیدت سے الگ کرتا ہے۔ کسی سیاسی روایت سے ہمدردی اس روایت کے ہر دعوے کو درست تسلیم کرنے کی پابندی پیدا نہیں کرتی۔ گنو! ہیں قبروں پہ پھول کتنے کی فضا بھی قابل توجہ ہے۔ برسی، دھوپ، زندان، تعزیت اور اجتماعی یاد کے مناظر پہلے ایک حسی اور جذباتی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ سیاسی دلیل اس فضا کے اندر داخل ہوتی ہے۔ یہاں جذبات دلیل کی جگہ نہیں لیتے بلکہ اسے انسانی تجربے سے جوڑتے ہیں۔ صحافتی کالم جب صرف موقف کی ترسیل نہ رہے اور اپنے موضوع کی داخلی فضا بھی پیدا کرنے لگے تو وہ ادبی نثر سے قریب ہو جاتا ہے۔ وجاہت مسعود کی بہتر تحریروں میں یہ قربت نمایاں ہے۔

ان کے کالموں کے عنوان بھی اسی ادبی مزاج کا حصہ ہیں۔ حادثہ تھا ملال کچھ تو ہو، تفصیل میں نروان ہے اور گنو! ہیں قبروں پہ پھول کتنے جیسے عنوان خبر کا سیدھا خلاصہ پیش نہیں کرتے۔ شعر، تہذیبی اشارہ، طنزیہ نسبت یا سوال قاری کو پہلے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور سیاسی مفہوم متن کے اندر رفتہ رفتہ کھلتا ہے۔ اخبار کی روایتی سرخی فوری اطلاع دیتی ہے۔ وجاہت مسعود کا عنوان اکثر اطلاع کو کچھ دیر کے لیے روکتا اور تجسس پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے ان کے کئی کالم سرسری خبر خوانی سے زیادہ توجہ چاہتے ہیں۔

آئی اے رحمٰن نے آزادی سے خود شناسی تک میں وجاہت مسعود کی نثر کے پیچھے تاریخ، سیاست، ادب، زبان اور انسانی حقوق کے وسیع مطالعے کو اہم قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک کالم روزمرہ سیاسی ردعمل سے بڑھ کر قاری کے لیے ایک وسیع تناظر پیدا کرتا ہے۔ سید شاہ طلحہ اقبال نے ان کی نثر کو نہ ابوالکلام آزاد کے طرز کی شدید فارسی اور عربی آمیز زبان قرار دیا اور نہ ابن انشا کی شوخی سے وابستہ کیا۔ ان کے نزدیک عمومی آہنگ متین ہے اور مزاح کی نسبت طنز زیادہ اہم ہے۔ وجاہت مسعود کے طنز کی نوعیت واقعی ان کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ وہ اکثر براہ راست تحقیر کے بجائے زبان کی سطح پر تضاد پیدا کرتے ہیں۔ کسی طاقت ور کردار کے لیے بہت مؤدبانہ، کلاسیکی یا درباری انداز اختیار کیا جاتا ہے اور اسی احترام کے اندر ایسا مفہوم رکھ دیا جاتا ہے جو ظاہری تعظیم کو الٹ دیتا ہے۔ یاسر پیرزادہ نے اسی خاصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ بعض اوقات پہلی نظر میں تعریف کا گمان ہوتا ہے، مگر اصل کیفیت طنزیہ ہوتی ہے۔

ایسی تحریر میں لفظ اپنی لغوی معنویت سے زیادہ کام کرتا ہے۔ سرکاری خطاب، فارسی ترکیب، تاریخی لقب یا حد سے بڑھی ہوئی تعظیم اپنے اصل ماحول سے اٹھ کر نئے سیاق میں آتی ہے تو تضاد پیدا ہوتا ہے۔ قاری کو طنز سمجھنے کے لیے صرف جملہ نہیں بلکہ اس زبان کی تہذیبی یاد بھی درکار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وجاہت مسعود کا طنز بعض قارئین کے لیے فوری اور بعض کے لیے خاصا دیر طلب ہو سکتا ہے۔

اس نثر کی ایک اور نمایاں خصوصیت دوسرے ادبی اور تاریخی متون سے مسلسل رابطہ ہے۔ کلاسیکی اردو اور فارسی شاعری، جدید نظم، انگریزی ادب، تاریخ، فلسفہ اور فنون کے حوالے کالم میں اس طرح داخل ہوتے ہیں کہ بعض اوقات ایک مختصر سیاسی واقعہ تہذیبی یاد کے بہت بڑے دائرے سے جا ملتا ہے۔ یہ حوالہ جاتی وسعت تحریر کو ایک دن کی خبر سے بچا لیتی ہے۔ آج کا واقعہ کسی پرانے شعر، تاریخی تجربے یا آئینی تصور سے جڑ جائے تو کالم کی تاریخ پرانی ہونے کے باوجود اس کا سوال زندہ رہ سکتا ہے۔ یہی خوبی عام قاری کے لیے دشواری بھی پیدا کرتی ہے۔ یاسر پیرزادہ نے مزاحیہ انداز میں اس بات کی شکایت کی تھی کہ وجاہت مسعود کے بعض کالم پڑھتے ہوئے لغت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس اعتراض کو محض قاری کی علمی کمی کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی کالم ایک عوامی صنف ہے۔ اس کی کامیابی میں مفہوم کی رسائی بھی شامل ہے۔ کلاسیکی لفظ یا تاریخی حوالہ جب معنی میں اضافہ کرے تو اس کا جواز واضح ہے۔ جہاں یہی کام نسبتاً سادہ عبارت سے بہتر طور پر ہو سکتا ہو، وہاں ثقیل زبان ابلاغ کے راستے میں آ سکتی ہے۔

وجاہت مسعود کے ہاں تاریخ بھی پس منظر میں رکھی ہوئی کوئی الگ معلوماتی پرت نہیں۔ وہ جملے کے اندر آتی اور دلیل کی سمت بدلتی ہے۔ گنو! ہیں قبروں پہ پھول کتنے میں کئی دہائیوں کے واقعات کا یکجا ہونا قاری کے ذہن میں ایک تاریخی تسلسل پیدا کرتا ہے۔ موجودہ بحران اچانک رونما ہونے والا واقعہ محسوس نہیں ہوتا بلکہ ماضی کے فیصلوں اور کشمکشوں کی اگلی صورت دکھائی دیتا ہے۔ تنقیدی قرأت کے لیے یہاں امتیاز ضروری ہے۔ تاریخ میں تسلسل بھی ہوتا ہے اور مماثلت بھی، لیکن ہر مماثلت خود بخود سبب اور نتیجے کا رشتہ قائم نہیں کرتی۔ کالم نگار چند سطروں میں وہی تفصیل فراہم نہیں کر سکتا جو تاریخ نویس ایک باب یا پوری کتاب میں دے سکتا ہے۔ وجاہت مسعود کا بنیادی کام تاریخ مرتب کرنا نہیں بلکہ تاریخ کی مدد سے موجودہ سیاسی سوال کی تعبیر کرنا ہے۔ قاری کو ان دونوں کاموں کے فرق کا شعور برقرار رکھنا چاہیے۔

محاصرے کا روزنامچہ میں جمہوریت کا تصور انتخابات سے کہیں وسیع ہے۔ شہری مساوات، اختلاف رائے، بنیادی حقوق، آئینی اختیار، منتخب قیادت اور ریاستی اداروں کی حدود اس تصور کے مختلف اجزا ہیں۔ بے وقت کی راگنی کے ابتدائی حصے میں بھی موجودہ سیاسی کشمکش سے گفتگو شروع ہو کر جمہوریت، آئینی عمل اور انسانی حقوق کی تاریخی تشکیل تک پہنچتی ہے۔ وجاہت مسعود کے فکری نظام میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حکومت کون بناتا ہے۔ زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ اجتماعی اختیار کس اصول کے تحت استعمال ہوتا ہے اور اس اختیار کی حد کہاں مقرر ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں مسیحائی سیاست سے ان کا اختلاف سمجھ میں آتا ہے۔ پیچیدہ اجتماعی مسائل کا حل کسی غیر معمولی فرد، غیر سیاسی نجات دہندہ یا آئینی عمل سے باہر کسی پاکیزہ انتظام میں تلاش کرنا ان کے نزدیک جمہوری تربیت کے منافی ہے۔ جمہوریت سست ہو سکتی ہے، اس میں اختلاف ہو سکتا ہے، غلط فیصلے بھی ہو سکتے ہیں، لیکن جواب دہی اور اصلاح کا راستہ اسی عمل کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ ۲۰۱۴ء کے انٹرویو میں بھی انہوں نے معاشرے کے لیے مسیحا کے بجائے بہتر جمہوری نظام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

آئین اسی وجہ سے ان کے کالموں میں محض قانونی دفعات کا مجموعہ نہیں رہتا۔ وہ مختلف اداروں کے اختیار کی حد مقرر کرنے والی اجتماعی ضمانت بن جاتا ہے۔ ڈان میں شائع ہونے والے جائزے کے مطابق ایک آنکھ، ایک ہستی میں انہوں نے آئین کی دفعات ۶۲ اور ۶۳ کے مبہم سیاسی استعمال پر شدید اعتراض کیا تھا۔ اس مثال میں بھی ان کی تشویش کسی ایک شخص کے حق یا مخالفت سے زیادہ اس اصول کے بارے میں ہے جس کے تحت منتخب سیاست کو جانچا اور محدود کیا جا رہا ہو۔ اس واضح جمہوری مرکز کے باوجود ان کے کالموں کو مکمل طور پر دو خانوں میں تقسیم کر دینا درست نہ ہوگا۔ تاریخ میں ایسا کردار ممکن ہے جو ایک معاملے میں جمہوری رویہ اختیار کرے اور دوسرے میں شہری آزادی محدود کر دے۔ عوامی حمایت رکھنے والا رہنما آمرانہ فیصلہ کر سکتا ہے اور کوئی ریاستی ادارہ ایک وقت آئینی کردار ادا کرتے ہوئے دوسرے موقع پر اپنی حد سے تجاوز کر سکتا ہے۔ وجاہت مسعود کے بعض کالموں میں اخلاقی صف بندی بہت واضح ہے اور اسی وجہ سے تاریخی پیچیدگی کے کم ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ تاہم ان کی زیادہ کامیاب تحریریں اس خطرے کو خود بھی پہچانتی دکھائی دیتی ہیں۔

بھٹو سے متعلق ان کا رویہ اس کی مثال ہے۔ پھانسی کے بارے میں شدید اختلاف کے باوجود وہ اس سیاسی روایت کے تمام دفاعی بیانیوں کو تسلیم نہیں کرتے جس سے بھٹو وابستہ تھے۔ یہاں ان کا وہ فکری اصول عملی شکل اختیار کرتا ہے جس میں نظریہ انسان، آزادی اور تنقیدی عقل سے بڑا نہیں۔ کسی جماعت یا فکری روایت سے وابستگی تنقید کا حق ختم نہیں کرتی۔ رضی الدین رضی نے اس مجموعے میں ایک مسلسل اداسی اور خوابوں کی رائیگانی محسوس کی ہے۔ ۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۳ء کے کالموں میں جمہوری آرزو، تاریخی صدمہ اور ناکام امید واقعی موجود ہیں۔ مگر اس اداسی کو پوری کتاب کی آخری کیفیت قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ قائد کی قبر کس نے کھودی؟ کے آخر میں عام شہری کے تحفظ، تعلیم، علاج اور بہتر زندگی کی طرف واپسی شکست کے بجائے امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

وجاہت مسعود کی اداسی بے عملی پیدا کرنے والی اداسی نہیں۔ وہ ماضی کے نقصان کو یاد رکھتی ہے تاکہ موجودہ اصول کی حفاظت کی جا سکے۔ اسی جگہ محاصرے اور روزنامچے کا تعلق بھی زیادہ واضح ہوتا ہے۔ محاصرے میں لکھی ہوئی تحریر صرف قید کا بیان نہیں ہوتی۔ لکھنا اس بات کا اعلان بھی بن سکتا ہے کہ واقعات کو طاقت کی پسندیدہ شکل میں بھلا نہیں دیا جائے گا۔ سرکاری یا غالب بیانیہ اپنی ترتیب قائم کرتا ہے تو کالم نگار واقعات کی ایک دوسری یاد محفوظ کرتا ہے۔ اس معنی میں کتاب اختلاف کی یادداشت بھی ہے۔ اجمل کمال سے منسوب رائے میں وجاہت مسعود کی عمدہ نثر اور متین انداز بیان کو نمایاں کیا گیا ہے۔ نجام ولی خان نے بھی اسے معاصر اردو صحافت میں نسبتاً نایاب وصف سمجھا۔ عمدہ نثر کا مفہوم یہاں صرف بھاری الفاظ یا ادبی حوالہ جات نہیں۔ وجاہت مسعود کی بہترین عبارت وہ ہے جہاں استعارہ، دلیل اور تاریخی حوالہ الگ الگ نمائش کے بجائے ایک ہی فکری کام انجام دیں۔ جہاں یہ توازن قائم رہتا ہے وہاں تحریر صحافت اور ادب کے درمیان ایک مؤثر مقام حاصل کرتی ہے۔

جہاں یہ توازن بگڑتا ہے، وہاں ان کی کمزوریاں بھی نمایاں ہو جاتی ہیں۔ پہلی مشکل ابلاغ کی ہے۔ بعض کالموں میں کلاسیکی لغت اور حوالوں کی کثرت عام اخباری قاری سے اضافی تیاری چاہتی ہے۔ دوسری مشکل تاریخ کے بہت بڑے عرصے کو محدود کالمی جگہ میں سمیٹنے سے پیدا ہوتی ہے۔ وسیع منظر سامنے آ جاتا ہے، مگر اداروں، شخصیات اور ادوار کے باہمی فرق چھوٹے پڑ سکتے ہیں۔ تیسرا مسئلہ راوی کے اعتماد کا ہے۔ وجاہت مسعود کا کالمی بیان عموماً وثوق سے سامنے آتا ہے اور ان کی تحقیقی عادت اس اعتماد کو سہارا بھی دیتی ہے۔ پھر بھی سنجیدہ قاری کے لیے ضروری ہے کہ تاریخی دعوے اور ادبی استدلال کے درمیان فرق برقرار رکھے۔ محمود الحسن کے طویل انٹرویو میں بھی وجاہت مسعود کی حوالہ جانچنے اور ذاتی کتب خانے سے تحقیق کرنے کی عادت کا ذکر ملتا ہے۔ یہ مزاج ان کے کالم کو عام تاثراتی صحافت سے الگ کرتا ہے، لیکن کسی بھی صاحب مطالعہ مصنف کی طرح ان کے بیان کو بھی سوال سے بالاتر نہیں رکھا جا سکتا۔ دلچسپ صورت یہ ہے کہ قاری کو وجاہت مسعود کے ساتھ بھی وہی علمی رویہ اختیار کرنا پڑتا ہے جس کی دعوت وہ خود سرکاری تاریخ کے مقابل دیتے ہیں۔ حوالہ دیکھا جائے، دوسری تعبیر سنی جائے اور زبان کی قوت کو تاریخی ثبوت کا قائم مقام نہ سمجھا جائے۔

جامعاتی سطح پر بھی اس مجموعے نے توجہ حاصل کی ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے تحقیقی ذخیرے میں حلیمہ سعدیہ کا ایم فل اردو مقالہ وجاہت مسعود کے کالموں کا فکری و فنی جہات محاصرے کا روزنامچہ جلد اول کے حوالے سے درج ہے۔ دستیاب ریکارڈ ۲۰۲۰ء کا ہے۔ مکمل متن کی قابل اعتماد رسائی نہ ہونے کے سبب اس تحقیق کے مخصوص نتائج کو موجودہ مطالعے میں بنیاد نہیں بنایا جا سکتا، لیکن اس اندراج سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ کتاب صحافتی مقبولیت سے آگے بڑھ کر جامعاتی تنقید کا موضوع بھی بن چکی ہے۔ تحقیق میں زمانی صحت کی ایک مثال قائد کی قبر کس نے کھودی؟ سے سامنے آتی ہے۔ ناشرانہ نمونے میں یہ تحریر ۹ ستمبر ۲۰۱۲ء کی تاریخ کے ساتھ موجود ہے، جبکہ بعد میں یہی کالم ویب پر نئی تاریخ کے تحت دوبارہ شائع ہوا۔ صرف ویب اشاعت پر اعتماد کرنے والا محقق اصل زمانی ترتیب کے بارے میں غلط نتیجے تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے صحافتی متن کے مطالعے میں کتاب، اصل اخباری اشاعت اور بعد کی آن لائن نقل کے فرق کو نظر میں رکھنا ضروری ہے۔

محاصرے کا روزنامچہ کی ادبی اور فکری اہمیت کسی ایک سیاسی موقف کی تائید سے قائم نہیں ہوتی۔ اس کی اصل قدر اس طریقے میں ہے جس سے روزمرہ واقعہ تاریخی حافظے کے ساتھ جڑتا ہے، سیاسی زبان اخلاقی سوال میں بدلتی ہے اور اخبار کے لیے لکھی ہوئی عبارت اپنے وقت سے آگے جانے کی کوشش کرتی ہے۔ وجاہت مسعود کا قاری ان سے متفق بھی ہو سکتا ہے اور اختلاف بھی کر سکتا ہے، لیکن ان کے بہتر کالم اسے واقعے کو اکیلا دیکھنے نہیں دیتے۔ اس نثر کی طاقت اس کا وسیع حافظہ، تہذیبی شعور، جمہوری وابستگی، طنز اور استعارہ ہے۔ اس کی دشواری بھی تقریباً انہی اوصاف کے اندر پوشیدہ ہے۔ حوالہ بہت بڑھ جائے تو ابلاغ متاثر ہوتا ہے۔ استعارہ بہت طاقت ور ہو تو تاریخی فرق سمٹ سکتے ہیں۔ اقداری مرکز بہت نمایاں ہو تو پیچیدہ سیاسی کردار کبھی ایک اخلاقی ترتیب میں آسان دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس کے باوجود کتاب کا بنیادی حاصل باقی رہتا ہے۔ یہ اپنے عہد کے واقعات کو محفوظ کرنے سے زیادہ ان سے سوال کرنے کی کوشش ہے۔

محاصرے کا روزنامچہ اسی وجہ سے نہ تاریخ کی درسی کتاب ہے اور نہ سیاسی واقعات کی سادہ فہرست۔ یہ ایک ایسے کالم نگار کی فکری یادداشت ہے جو خبر کے پیچھے تاریخ دیکھتا ہے، تاریخ کے اندر طاقت کے سوال تلاش کرتا ہے اور طاقت کے سوال کو بالآخر شہری کی آزادی اور وقار تک لے آتا ہے۔ کتاب کے کئی کالم اپنی تاریخ کے پابند ہیں، مگر ان میں اٹھائے گئے بعض سوال اس زمانی حد سے باہر نکل جاتے ہیں۔ ریاست اور شہری کا رشتہ کیا ہو، اختلاف کی گنجائش کہاں تک ہو، آئینی اختیار کس کے پاس ہو اور اجتماعی حافظے کو کون مرتب کرے۔ ان سوالوں کی موجودگی ہی محاصرے کا روزنامچہ کو وقتی صحافت سے آگے لے جاتی ہے۔ یہ کتاب اپنے قاری سے عقیدت نہیں مانگتی، اختلاف برداشت کرنے والی قرأت مانگتی ہے۔ شاید اسی رویے میں اس کا سب سے معتبر ادبی جواز بھی پوشیدہ ہے۔ وجاہت مسعود اپنے زمانے کے گرد قائم حصار کو لفظوں میں محفوظ کرتے ہیں اور قاری کے لیے یہ امکان چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اس حصار کو صرف دیکھے نہیں بلکہ اس کی بناوٹ کو بھی پہچانے۔