تحریر:شہباز علی سولنگی
ایک آدمی نے کبھی کائنات فتح کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ منصوبہ
معمولی نہیں تھا اور دعویٰ بھی ایسا تھا جس کے سامنے روزمرہ زندگی بہت چھوٹی
دکھائی دینی چاہیے تھی۔ اتفاق یہ ہوا کہ بچے کے نرسری میں داخلے، اہلیہ کے ہسپتال
اور گھر کے دوسرے کاموں نے اس عظیم منصوبے کو مؤخر کر دیا۔ برس گزرتے گئے اور
کائنات اپنی جگہ قائم رہی۔ فاتح اپنے گھر اور ذمہ داریوں کے درمیان مصروف رہا۔
غلام جیلانی اصغر کے انشائیے تسخیر کائنات کی یہ صورت حال ان کے فن کو سمجھنے کے
لیے کسی طویل نظریاتی تعریف سے زیادہ کارآمد ہے۔ ان کے ہاں انسان بڑی بات سوچتا
ہے، زندگی اسے چھوٹے کام یاد دلاتی ہے اور ان دونوں کے تصادم سے ہنسی پیدا ہوتی ہے۔
ہنسی چند لمحوں بعد خود انسان کی خواہش، غرور، ناکامی اور وقت کے بارے میں سنجیدہ
سوال بن جاتی ہے۔تسخیر کائنات کا راوی کوئی ایسا احمق کردار نہیں جسے مصنف دور
کھڑا ہو کر تماشے کے لیے ہمارے سامنے لے آیا ہو۔ وہ اپنی کہانی خود سناتا ہے اور
اپنی کمزوریاں بھی اسی بے تکلفی سے بیان کرتا ہے جس سے اپنی ممکنہ عظمت کا ذکر
کرتا ہے۔ اسے یقین ہے کہ حالات سازگار ہوتے تو نیل آرمسٹرانگ اور یوری گاگرین جیسے
ناموں سے پہلے اس کا نام آ سکتا تھا۔ دلیل نہایت دلچسپ ہے۔ دوسروں نے کام بعد میں
کیا، اس نے منصوبہ پہلے بنا لیا تھا۔ اس ایک خیال میں انسانی نفسیات کا پورا گوشہ
آباد ہے۔ ارادہ عمل کا بدل بن جاتا ہے اور آدمی اپنی ناکامی کو اس اطمینان کے ساتھ
سنبھال لیتا ہے کہ اصل صلاحیت تو اس کے اندر موجود تھی، حالات ہی موزوں نہ نکلے۔
غلام جیلانی اصغر اپنے قاری کو اس راوی پر دیر تک ہنسنے نہیں
دیتے۔ تھوڑی ہی دیر میں معلوم ہونے لگتا ہے کہ ملتوی منصوبوں کا یہ آدمی ہم سے بہت
دور نہیں۔ ہر شخص کے پاس کچھ ایسے کام ہوتے ہیں جو مناسب وقت آنے پر کیے جانے ہیں۔
کچھ فیصلے اگلے سال کے لیے رکھے جاتے ہیں، کچھ خواب بہتر حالات کے لیے، کچھ
خواہشیں اس زمانے کے لیے جب فرصت میسر ہوگی۔ وقت گزرتا رہتا ہے اور انسان اپنے
تصور میں اس شخصیت کو محفوظ رکھتا ہے جو وہ کبھی بن سکتا تھا۔ جیلانی اصغر اس عام
انسانی عادت کو کسی نفسیاتی اصطلاح کے حوالے نہیں کرتے۔ وہ ایک ایسے آدمی کو ہمارے
سامنے بٹھا دیتے ہیں جو کائنات مسخر کرنے نکلا تھا اور گھر کے معاملات میں الجھ
گیا۔ مزاح اپنی اصل تاثیر اسی وجہ سے حاصل کرتا ہے کہ نشانہ باہر موجود کوئی دوسرا
شخص نہیں۔ راوی خود اپنی خواہش، بہانے اور خود فریبی کے ساتھ حاضر ہے۔ وہ دنیا کی
حماقتیں گنوانے سے پہلے اپنی حماقت کا اعتراف کرتا ہے۔ اس اعتراف میں شرمندگی کا
بوجھ نہیں بلکہ ایک طرح کی ذہنی آزادی ہے۔ آدمی اپنے آپ پر ہنس سکے تو اپنی خواہش
کو زیادہ صاف دیکھ سکتا ہے۔ غلام جیلانی اصغر کی نثر میں یہ صفت جگہ جگہ محسوس
ہوتی ہے۔ سنجیدگی پوری طرح ختم نہیں ہوتی، البتہ اسے اتنی مہلت نہیں ملتی کہ وہ
وقار کا مستقل لباس پہن لے۔
تسخیر کائنات میں ایک اور سوال بڑی سادگی سے اٹھتا ہے۔ اگر
پوری کائنات فتح کر بھی لی جائے تو اسے رکھا کہاں جائے گا۔ فتح کے روایتی تصور کو
اتنے گھریلو سوال کے سامنے رکھ دینا ہی مزاح کی بنیاد ہے۔ فاتح کسی ملک، شہر یا
خزانے پر قبضہ کرے تو اس قبضے کے بعد ملکیت کا کوئی مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ کائنات
خود ملکیت بن جائے تو مالک اس کے ساتھ کیا کرے گا۔ انسانی عظمت کا ایک دیرینہ خواب
اچانک ذخیرہ کرنے کی پریشانی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سفر میں جگہ کا تصور بدلتا ہے۔
بیرونی خلا گھر کی محدود جگہ تک آ جاتا ہے۔ پھر گھر کی جگہ ذہن کے اندر موجود اس
کمرے سے وابستہ ہوتی ہے جس کے لیے متن میں لمبر روم کا تصور آیا ہے۔ پرانے گھروں
میں ایسا کمرہ غیر ضروری یا فی الحال غیر استعمال شدہ اشیا کے لیے ہوتا تھا۔
انشائیے میں یہ کمرہ رفتہ رفتہ داخلی کیفیت کا استعارہ بن جاتا ہے۔ انسان کے ذہن
میں بھی بہت کچھ ایسا محفوظ رہتا ہے جو موجودہ زندگی میں استعمال نہیں ہو رہا۔
پرانے ارادے، ملتوی خواہشیں، ممکنہ محبتیں، عہدے، خواب اور اپنے بارے میں بنائی
گئی متبادل کہانیاں وہاں پڑی رہتی ہیں۔اس داخلی کباڑ خانے کی خوبی یہ ہے کہ اس میں
اشیا کی اخلاقی یا سماجی درجہ بندی قائم نہیں رہتی۔ گورنر بننے کی خواہش بھی وہیں
ہے، دوسری شادی کا خیال بھی، محبت بھی، شہرت بھی اور کائنات کی فتح بھی۔ بادی
النظر میں یہ سب مختلف خواہشیں ہیں، لیکن ان کی نفسیاتی بنیاد قریب آ جاتی ہے۔ ہر
خواہش موجودہ زندگی سے آگے کسی ایسی صورت کی طرف دیکھتی ہے جس میں انسان خود کو
کچھ زیادہ بڑا، زیادہ خوش، زیادہ آزاد یا زیادہ قابل توجہ محسوس کرتا ہے۔
یہ تصور غلام جیلانی اصغر کے مزاح کو معمولی تفریح سے الگ کرتا
ہے۔ وہ انسانی خواہش کی مذمت نہیں کرتے۔ خواہش رکھنے والے آدمی کو اخلاقی مجرم بھی
نہیں بناتے۔ خود راوی خواہش مند ہے اور اس حقیقت کو چھپاتا نہیں۔ فرق اتنا ہے کہ
وہ اپنی خواہش کو ایک فاصلے سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی فاصلے میں مزاح
پیدا ہوتا ہے۔ خواہش باقی رہتی ہے، اس کا جلال کم ہو جاتا ہے۔گورنری کا ذکر اعتبار
سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایک اعلیٰ عہدہ ابتدا میں کشش رکھتا ہے۔ منصب کا نام،
مرتبہ، عزت اور سماجی وقار اپنی جگہ دل فریب ہیں۔ راوی جب اس منصب کے ساتھ بندھی
ہوئی مصروفیات، وقت کی پابندی، معمول اور سرکاری زندگی کے تقاضوں کو سوچتا ہے تو
خواہش کی صورت بدلنے لگتی ہے۔ اقتدار حاصل کرنا آزادی میں اضافہ بھی کر سکتا ہے
اور آدمی کے وقت پر دوسروں کا حق بھی بڑھا سکتا ہے۔ جیلانی اصغر کسی سیاسی نظریے
کی بحث نہیں چھیڑتے۔ وہ منصب کی کشش کو روزمرہ زندگی کے حساب کتاب میں لے آتے ہیں۔
اچانک معلوم ہوتا ہے کہ عہدہ جتنا بڑا ہے، وقت اتنا ہی کم اپنا رہ سکتا ہے۔ تسخیر
کا مفہوم بھی الٹ جاتا ہے۔ ابتدا میں انسان کائنات کو مسخر کرنا چاہتا تھا۔ آخر
میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود وقت، ذمہ داری، عمر، گھر اور اپنی ادھوری خواہشوں کے
ہاتھوں گھرا ہوا ہے۔ فاتح اور مفتوح کی جگہیں بدل گئی ہیں۔ انشائیے کی اصل ذہانت
اس تبدیلی میں ہے۔ مصنف کسی فلسفیانہ اعلان کے بغیر ایک مزاحیہ خیال کو انسانی
محدودیت کے سوال تک لے آتا ہے۔
غلام جیلانی اصغر کے ہاں روزمرہ زندگی کسی بڑے فکری سوال کی
دشمن نہیں۔ ان کے لیے گھر، ملازمت، بچے، شادی، فرصت اور سماجی مرتبہ وہ مواد ہیں
جن سے فکر پیدا ہوتی ہے۔ فلسفہ زندگی کے اوپر سے نازل نہیں ہوتا بلکہ اسی کی چھوٹی
پریشانیوں میں چھپا رہتا ہے۔ تسخیر کائنات میں گھر کے معاملات نہ ہوتے تو کائنات
کی فتح پر مزاحیہ سوال بھی اپنی پوری معنویت حاصل نہ کرتا۔ بڑے اور چھوٹے کی یہی
قربت ان کے انشائیے کا خاص وصف ہے۔ان کی گفتگو میں تناسب بار بار بدلتا ہے۔ کبھی
انسانی تاریخ اور گھریلو مصروفیت ایک دوسرے کے سامنے آ جاتے ہیں۔ کبھی عظیم فاتحین
کا ذکر ذاتی خواہش کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ کبھی خلائی وسعت مکان کی کمی میں سمٹ
جاتی ہے۔ کبھی گورنری جیسا منصب اپنی کشش کھو کر وقت کی پابندی بن جاتا ہے۔ اس
تکنیک میں بڑا چھوٹا اور چھوٹا بڑا نظر آنے لگتا ہے۔ گھر کائنات سے زیادہ طاقت ور
ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ آدمی حقیقت میں اسی کے ضابطوں کے تحت زندگی گزار رہا ہے۔تاریخی
شخصیات بھی اسی مزاحیہ عمل میں شامل ہوتی ہیں۔ سکندر اور محمود غزنوی جیسے نام
تاریخ نویسی کی تفصیل کے ساتھ نہیں آتے۔ وہ فاتح کے اس معروف تصور کی نمائندگی
کرتے ہیں جو اجتماعی حافظے میں پہلے سے موجود ہے۔ ان ناموں کو تحقیقی تاریخی کردار
سمجھ کر جانچنا انشائیے کی صنفی نوعیت کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ مصنف تاریخ کا باب
نہیں لکھ رہا۔ اسے ایک ایسے فاتح کی شبیہ درکار ہے جسے قاری فوراً پہچان سکے اور
جس کے مقابل اپنے گھریلو فاتح کا دعویٰ مضحکہ خیز دکھائی دے۔
معروف تاریخی نام جب علامت بن کر آتے ہیں تو ان کی پیچیدہ
تاریخی حیثیت پس پشت چلی جاتی ہے۔ انشائیے کی رفتار کے لیے یہ اختصار مفید ہے، لیکن
سنجیدہ قاری کو یہ فرق یاد رکھنا پڑتا ہے کہ ادبی علامت اور تاریخی شخصیت ایک شے
نہیں۔ غلام جیلانی اصغر کے ہاں تاریخ کا استعمال زیادہ تر ذہنی مناسبت پیدا کرنے
کے لیے ہے، تاریخی تحقیق فراہم کرنے کے لیے نہیں۔تسخیر کائنات کی ساخت پہلی نظر
میں آزاد گفتگو جیسی محسوس ہوتی ہے۔ موضوع ایک سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتا۔
کائنات سے فتح کا سوال نکلتا ہے، فتح سے ملکیت، ملکیت سے جگہ، جگہ سے ذخیرہ، ذخیرے
سے داخلی کباڑ خانہ، وہاں سے ادھوری خواہشیں، پھر گورنری اور آخر میں وقت۔ اگر اس
حرکت کو رسمی مقالے کے اصول پر پرکھا جائے تو تحریر بار بار راستہ بدلتی ہوئی نظر
آئے گی۔ انشائیے کے مزاج میں یہ بھٹکاؤ اصل میں تداعی کی صورت ہے۔ ایک خیال دوسرے
کو اپنے معنی، لفظ یا نفسیاتی مناسبت کے ذریعے پیدا کرتا ہے۔ قاری کو محسوس ہوتا
ہے کہ مصنف باتیں کر رہا ہے، مقالہ نہیں پڑھ رہا۔ یہ احساس قدرتی ضرور ہے مگر اس
کے پیچھے فنی ترتیب موجود ہے۔ گفتگو کسی مجلس میں دوست کی بے تکلف بات کی طرح
پھیلتی ہے۔ ایک ذکر دوسرے ذکر تک پہنچتا ہے۔ کبھی لگتا ہے اصل موضوع کہیں پیچھے رہ
گیا۔ چند سطروں بعد وہی پرانا خیال نئی شکل میں واپس آ جاتا ہے۔ تسخیر کا لفظ
ابتدا میں جس مفہوم کا حامل تھا، اختتام تک وہ مفہوم بدل چکا ہوتا ہے۔ باہر کی
دنیا فتح کرنے کا خواب اندر کی خواہشوں اور وقت کی گرفت کی پہچان میں تبدیل ہو
جاتا ہے۔
غلام جیلانی اصغر کے فنی مزاج کے بارے میں وزیر آغا کی گفتگو اہم
ہو جاتی ہے۔ وزیر آغا انشائیے میں اس عمل کو بنیادی سمجھتے تھے جس میں کوئی عام شے
یا خیال اپنے مانوس معنوی دائرے سے نکل کر نئی جہت اختیار کرے۔ ان کے نزدیک
انشائیہ موضوع کو نیا مفہوم عطا کرتا ہے۔ تسخیر کائنات میں یہ تبدیلی سامنے دیکھی
جا سکتی ہے۔ کائنات اپنے سائنسی مفہوم سے نکلتی ہے اور انسانی ملکیت، خواہش، غرور،
فرصت اور محدود زندگی سے تعلق قائم کر لیتی ہے۔وزیر آغا نے غلام جیلانی اصغر کی
شخصیت کو ایک ایسی کیفیت سے بھی وابستہ کیا جس میں آدمی تماشا بھی ہو اور تماشائی
بھی۔ یہ رائے ان کے فن کے ایک حقیقی پہلو کو روشن کرتی ہے۔ تسخیر کائنات کا راوی
اپنی خواہشوں میں شریک ہے، وہ ان سے لاتعلق دانش ور نہیں۔ ساتھ ہی وہ اتنا فاصلہ
پیدا کر لیتا ہے کہ اپنی حرکت پر ہنس سکے۔ وہ دنیا کا مشاہدہ کرتے ہوئے خود کو
مشاہدے سے باہر نہیں نکالتا۔ اس کے
باوجود وزیر آغا کی تحسین کو تنقیدی فیصلے کا آخری درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ دونوں
ادیبوں کی قربت اور مشترک ادبی ماحول معروف تھا۔ محبت اور ادبی رفاقت سے لکھی گئی
تحسین اپنی جگہ اہم شہادت ہے، لیکن متن کی ہر کمزوری اس شہادت سے ختم نہیں ہوتی۔
غلام جیلانی اصغر کی تحریر وہاں زیادہ کامیاب دکھائی دیتی ہے جہاں خود پر طنز کی
گرفت قائم رہتی ہے۔ جہاں یہ گرفت ڈھیلی پڑے وہاں کوئی حوالہ صرف لطیفہ بن سکتا ہے
اور مثالوں کی کثرت خیال کی پہلی تازگی کم کر سکتی ہے۔
تسخیر کائنات میں فہرست بنانے کا رجحان بھی موجود ہے۔ تاریخی
شخصیات، ممکنہ خواہشیں، رومانوی تصورات اور دوسرے نام ایک کے بعد ایک آتے ہیں۔ اس
سے گفتگو میں روانی اور مزاح کی رفتار بڑھتی ہے۔ ساتھ ہی طوالت کا امکان بھی پیدا
ہوتا ہے۔ ایک نکتے کو بہت سی مثالوں سے روشن کرنے کی خواہش کبھی اسے ضرورت سے
زیادہ کھینچ دیتی ہے۔ انشائیہ آزاد صنف ہے، لیکن آزادی بے ترتیبی یا غیر ضروری
طوالت کا جواز نہیں بنتی۔ جیلانی اصغر کے اچھے حصوں میں فہرست خیال کو آگے بڑھاتی
ہے۔ کمزور حصوں میں یہی تکنیک خیال کے گرد زائد چکر لگا سکتی ہے۔ ان کے اسلوب کی ایک الگ شناخت اردو اور انگریزی کے باہمی استعمال
سے بنتی ہے۔ سپیس اور لمبر روم جیسے الفاظ انشائیے میں اجنبی آرائش نہیں معلوم
ہوتے۔ یہ ایسے تعلیم یافتہ شہری طبقے کی زبان ہے جس میں انگریزی لفظ گفتگو کے
دوران قدرتی طور پر داخل ہو جاتا ہے۔ غلام جیلانی اصغر نے انگریزی ادب پڑھا اور
طویل عرصے تک تدریس سے وابستہ رہے۔ ان کی نثر میں دونوں زبانوں کے اس ربط کو ان کے
تعلیمی اور سماجی ماحول سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ سپیس کا استعمال خاص طور پر معنی خیز ہے۔ ایک ہی لفظ آسمانی
وسعت کا تصور بھی پیدا کرتا ہے اور گھر میں جگہ نہ ہونے کی پریشانی بھی۔ زبان کی
تبدیلی لطیفہ بنانے سے زیادہ معنی کو موڑتی ہے۔ قاری ایک لفظ کو پہلے کائناتی سطح
پر سنتا ہے، پھر وہی لفظ مکان کے اندر سمٹ جاتا ہے۔ انگریزی لفظ اردو جملے کی
روانی میں ایک ہلکا سا فرق بھی پیدا کرتا ہے جو راوی کے بے تکلف اور تعلیم یافتہ
لہجے سے مناسبت رکھتا ہے۔
غلام جیلانی اصغر کی نثر کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ
اپنے جملے کو ادبی وقار دینے سے خوف زدہ نہیں، مگر اسے زیادہ دیر قائم بھی نہیں
رہنے دیتے۔ کوئی سنجیدہ بات شروع ہوتی ہے اور اچانک گھریلو مثال داخل ہو جاتی ہے۔
تاریخی نام آتا ہے اور اس کے بعد ذاتی اعتراف۔ بڑا تصور سامنے آتا ہے اور چند
لمحوں میں راوی اسے اپنی روزمرہ ضرورت کے حساب سے ناپنے لگتا ہے۔ رفت و آمد ان کے
اسلوب کو ایسی بے ساختگی دیتی ہے جو دراصل خاصی سوچ بچار سے پیدا ہوئی ہے۔ ان کے مزاح کی ایک مؤثر صورت سنجیدہ لہجے میں ناممکن مفروضے کی
تفصیل بیان کرنا ہے۔ کائنات فتح کرنے کا خیال بذات خود مضحکہ خیز ہے، مگر راوی اس
پر عملی مسئلے کی طرح گفتگو کرتا ہے۔ وہ فتح کے بعد پیش آنے والی مشکلات سوچتا ہے۔
سنجیدگی ہنسی کو بڑھاتی ہے۔ اگر وہ خود قاری کو بتانے لگے کہ یہ لطیفہ ہے تو اثر
کم ہو جائے۔ وہ اپنے مفروضے کو درست مان کر چلتا ہے اور قاری اس کی منطق کے اندر
موجود بے معنویت خود دریافت کرتا ہے۔ غلام جیلانی اصغر کا راوی اخلاقی استاد کے
کردار سے بچ جاتا ہے۔ وہ قاری کو یہ نصیحت نہیں کرتا کہ شہرت، اقتدار یا دوسری
خواہشوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ وہ خود ان تمام کمزوریوں کے ساتھ حاضر ہو جاتا ہے۔
اس کی خواہش کو باہر سے سزا نہیں دی جاتی۔ اسے اندر سے کھولا جاتا ہے۔ گورنر بننے
کی آرزو اپنی تفصیلات سامنے آنے پر خود ہی کم پرکشش محسوس ہونے لگتی ہے۔ کائنات کی
فتح ذخیرہ کرنے کا مسئلہ بن کر اپنی عظمت کھو دیتی ہے۔ دوسری شادی کا خیال دوسری
خواہشوں کے ساتھ ایک ہی ذہنی کباڑ خانے میں پہنچ کر اپنا رومانوی وقار کھونے لگتا
ہے۔
آج کے قاری کے لیے کچھ سوالات بھی پیدا کرتا ہے۔ ہیلن آف ٹرائے
سے الزبتھ ٹیلر تک عورتوں کے نام مرد راوی کی ممکنہ رومانوی خواہشوں کے سلسلے میں
آتے ہیں۔ عورت اپنی مکمل شخصیت کے ساتھ موجود نہیں بلکہ بڑی حد تک مرد کے تصور اور
خواہش میں نمودار ہوتی ہے۔ اس زاویے کو نظر انداز کرکے پورے حصے کو بے ضرر مزاح
قرار دینا متن کے ایک تاریخی اور صنفی پہلو کو چھپا دے گا۔ ساتھ ہی صورت حال یک رخا بھی نہیں۔ راوی اپنی مردانہ خواہش کو
کسی فاتحانہ اختیار کے طور پر پیش نہیں کرتا۔ خواہش کو اپنے مزاح کا حصہ بناتا ہے۔
مرد کی نگاہ موجود ہے اور اس نگاہ کا حامل مرد خود بھی مضحکہ خیز بنایا گیا ہے۔
دونوں سطحیں ایک ساتھ پڑھنے سے متن زیادہ واضح ہوتا ہے۔ ایک طرف اپنے زمانے کی مردانہ
مزاحیہ روایت کا اثر ہے، دوسری طرف خود اس مرد کی عظمت بھی محفوظ نہیں رہتی جو
عورت کو خواہش کی شے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ تاریخی تنقید اور ادبی انصاف دونوں
درکار ہیں۔ کسی ادیب کو اس کے عہد سے مکمل طور پر باہر لا کر آج کے تمام تصورات کے
مطابق ناپنا تاریخ کو سادہ بنا دیتا ہے۔ دوسری طرف زمانے کا حوالہ دے کر ہر محدود
تصور کو تنقیدی سوال سے آزاد کر دینا بھی درست طریقہ نہیں۔ نرم دم گفتگو کی بہتر
قرأت وہ ہوگی جس میں اس کی خود طنزیہ قوت کو تسلیم کرتے ہوئے ان جگہوں کی نشان دہی
بھی کی جائے جہاں کوئی عورت، تاریخی کردار یا تہذیبی شبیہ راوی کے مزاح کی ضرورت
کے تحت یک رخا ہو جاتی ہے۔
غلام جیلانی اصغر کی زندگی اور ادبی وابستگیاں ان کے فنی مزاج
کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ دستیاب سوانحی ماخذ ان کی پیدائش ۱۹۱۸ء میں چکوال بتاتے ہیں۔ انہوں نے ۱۹۳۹ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے گریجویشن کی اور ۱۹۴۱ء میں پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ زمیندار
کالج گجرات سے تدریسی زندگی کا تعلق رہا اور ۱۹۴۷ء میں وہ سرگودھا آ گئے۔ دسمبر ۲۰۰۶ء میں ان کا انتقال ہوا۔ تدریس، انگریزی ادب اور اردو تخلیقی
نثر کا یہ امتزاج ان کی تحریر کے تہذیبی مزاج میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔سرگودھا کی
ادبی فضا بھی ان کی شخصیت کا اہم حوالہ ہے۔ وزیر آغا اور رسالہ اوراق نے جس ادبی
حلقے کو تشکیل دیا، اس میں جدید نظم اور افسانے کے ساتھ انشائیے کو خاص اہمیت حاصل
ہوئی۔ وزیر آغا نے ایک گفتگو میں غلام جیلانی اصغر کو اچھے اردو انشائیہ نگاروں
میں شمار کیا تھا۔ محض بعد کے زمانے کی یادداشت نہیں۔ ریختہ پر محفوظ اوراق کے ۱۹۷۶ء کے سالنامے کی فہرست میں غلام جیلانی اصغر کا انشائیہ گالی
دینا درج ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی انشائیہ نگاری نرم دم گفتگو کی کتابی
اشاعت سے خاصا پہلے ادبی رسائل میں موجود تھی۔ نرم دم گفتگو کے دستیاب کتابی ریکارڈ میں بک لینڈ پبلشرز لاہور
سے ۱۹۹۶ء کی اشاعت کی شہادت ملتی ہے۔ ایک تحقیقی مقالے کی کتابیات میں
وزیر آغا کے پیش لفظ کو بھی اسی سال کی کتاب سے منسلک کیا گیا ہے۔ مختلف ایڈیشنوں
کی مکمل تاریخ قابل اعتماد صورت میں دستیاب نہیں، اس لیے کسی غیر ثابت شدہ ایڈیشن
نمبر یا اولین اشاعت کے بارے میں حتمی دعویٰ مناسب نہیں ہوگا۔ پاکستان اکادمی ادبیات کی احمد فراز لائبریری کے کیٹلاگ میں
انور سدید کی پروفیسر غلام جیلانی اصغر شخصیت اور فن بھی درج ہے۔ کتاب پاکستانی
ادب کے معمار کے سلسلے کا حصہ اور ۲۵۵ صفحات
پر مشتمل بتائی گئی ہے۔ آن لائن اندراج میں سن اشاعت واضح نہ ہونے کے باعث سال
مقرر کرنا ممکن نہیں۔ اتنا ضرور واضح ہے کہ غلام جیلانی اصغر کی ادبی شخصیت پر
کتابی سطح پر تنقیدی کام موجود ہے۔
نرم دم گفتگو کے مطالعے میں ایک عملی مشکل بھی پیش آتی ہے۔
کتاب کا مکمل اور قابل تصدیق ڈیجیٹل متن کسی معتبر کھلے ذخیرے میں دستیاب نہیں
ملا۔ اس وجہ سے پورے مجموعے کے ہر انشائیے کے بارے میں تفصیلی دعوے کرنا تحقیقی
احتیاط کے خلاف ہوگا۔ موجودہ تجزیے میں زیادہ توجہ تسخیر کائنات کے اس متن پر رکھی
گئی ہے جس کی مکمل نقل دستیاب ہے اور جسے روزنامہ دنیا نے ۲۹ مارچ ۲۰۱۶ء کو
غلام جیلانی اصغر کے نام سے شائع کیا تھا۔ گالی دینا کی ۱۹۷۶ء میں اوراق میں موجودگی فہرستی طور پر ثابت ہے، مگر مکمل متن
براہ راست سامنے نہ ہونے کے باعث اس کے موضوع، تکنیک یا نتیجے کی تفصیلات اخذ نہیں
کی جانی چاہییں۔احتیاط اس لیے اہم ہے کہ کسی مصنف کے عمومی فن کو چند مشہور جملوں
یا دوسروں کی تعریفوں سے تعمیر کرنا آسان ہے۔ اصل تنقید وہاں شروع ہوتی ہے جہاں
دستیاب متن کو پڑھ کر دیکھا جائے کہ زبان واقعی کیا کر رہی ہے۔ تسخیر کائنات اس
لحاظ سے خاصا نمائندہ نمونہ فراہم کرتا ہے۔ راوی کی خود آگاہی، گفتگو کا بہاؤ،
تداعی، مبالغہ، تاریخی حوالہ، انگریزی الفاظ اور روزمرہ زندگی ایک دوسرے سے الگ
اجزا نہیں رہتے۔ گالی دینا جیسے عنوان کی فہرستی
موجودگی بھی غلام جیلانی اصغر کے موضوعاتی مزاج کی طرف ایک محدود مگر معنی خیز
اشارہ کرتی ہے۔ روزمرہ کی ایسی شے جسے عام طور پر اعلیٰ ادبی موضوع نہیں سمجھا
جاتا، انشائیے کے عنوان تک پہنچ سکتی ہے۔ اس سے یہ توقع پیدا ہوتی ہے کہ ان کے لیے
ادبی موضوع کی عظمت اس شے میں نہیں جس پر لکھا جا رہا ہے بلکہ اس زاویے میں ہے جس
سے اسے دیکھا جائے۔ تسخیر کائنات میں بھی یہی معاملہ الٹی سمت سے ہوتا ہے۔ موضوع
تو کائنات جتنا بڑا ہے، مصنف اسے گھر کی جگہ اور انسانی خواہش تک لے آتا ہے۔
ان کے فن کا شاید سب سے زندہ پہلو یہ ہے کہ وہ بڑے سوال کے
سامنے خود کو بڑا ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ سنجیدہ نثر میں ادیب کے لیے دانائی
کا مقام حاصل کرنا آسان ہے۔ جیلانی اصغر اس مقام پر پہنچتے پہنچتے اپنی کرسی کھینچ
لیتے ہیں۔ قاری کو کوئی حتمی فلسفیانہ حکم نہیں ملتا۔ اسے ایک ذہین مگر کمزور آدمی
ملتا ہے جو اپنی خواہشوں کے بارے میں اتنا جانتا ہے کہ ان پر ہنس سکے اور اتنا
انسانی ہے کہ ان سے دست بردار بھی نہ ہو۔ان کی تحریر میں وعظ کا دباؤ کم ہے۔ خواہش
غلط ہے یا درست، اقتدار اچھا ہے یا برا، انسان کو بڑے خواب دیکھنے چاہییں یا نہیں،
ان سوالوں کا صاف فتویٰ موجود نہیں۔ انشائیہ خواہش کو اس کی حرکت میں دکھاتا ہے۔
پہلے انسان کسی شے کی طرف کھنچتا ہے۔ پھر اس شے سے وابستہ مشکلات اور مضحکہ خیز
پہلو سامنے آتے ہیں۔ خواہش ختم نہیں ہوتی، البتہ اس کے بارے میں انسان کا یقین بدل
جاتا ہے۔ انشائیے کو فلسفیانہ مضمون بننے سے بھی روکتا ہے۔ تسخیر کائنات
میں وقت، ملکیت، انسانی غرور، سماجی مرتبہ اور شناخت جیسے بڑے مسائل موجود ہیں۔ ان
میں سے کسی پر باقاعدہ نظریاتی بحث نہیں کی جاتی۔ خیال روزمرہ مثال کے ساتھ آتا ہے
اور بات آگے بڑھ جاتی ہے۔ قاری کے ذہن میں سوال رہ جاتا ہے۔
معاصر قاری کے لیے ان کی ایک اور معنویت انسان کی ممکنہ
زندگیوں کے تصور میں ہے۔ آدمی ایک حقیقی زندگی گزار رہا ہوتا ہے اور ساتھ کئی
خیالی زندگیوں کو بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ جو پیشہ اختیار کیا جا سکتا تھا، جو
مقام حاصل ہو سکتا تھا، جو رشتہ بن سکتا تھا، جو کتاب لکھی جا سکتی تھی، جو منصوبہ
حالات نے مؤخر کر دیا۔ جدید دنیا میں انسان کے پاس اپنی مختلف صورتیں پیش کرنے کے
وسائل کہیں زیادہ ہیں، مگر اپنے بارے میں متبادل کہانی بنانے کی عادت نئی نہیں۔
تسخیر کائنات کا راوی اسی پرانی انسانی عادت کو نمایاں کرتا ہے۔ داخلی کہانیاں
مکمل طور پر بے فائدہ بھی نہیں۔ خواب زندگی کو حرکت دے سکتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا
ہوتا ہے جب خواب اپنی تکمیل کے بغیر بھی آدمی کو اس کامیابی کا احساس دینے لگے جو
صرف عمل سے آ سکتی تھی۔ راوی اپنے پرانے منصوبے کی یاد سے خود کو ایک ممکنہ فاتح
سمجھ سکتا ہے۔ قاری اس مقام پر مسکراتا ہے اور شاید اپنی کسی ایسی ہی محفوظ عظمت
کو یاد کرتا ہے۔ نرم دم گفتگو کا عنوان اس پورے فنی
مزاج کے بعد زیادہ واضح محسوس ہوتا ہے۔ اقبال کی مسجد قرطبہ میں نرم دم گفتگو اور
گرم دم جستجو کی معروف ترکیب موجود ہے۔ غلام جیلانی اصغر کی طرف سے کوئی صریح
توضیح دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے عنوان کو قطعی طور پر وہیں سے ماخوذ کہنا احتیاط
کے خلاف ہوگا۔ صوتی اور معنوی قربت سے انکار بہرحال مشکل ہے۔ اہم تر بات یہ ہے کہ
عنوان کتاب کے مزاج کے ساتھ موزوں بیٹھتا ہے۔
گفتگو واقعی نرم ہے۔ اس میں چیخ، خطابت اور فتوے کی خواہش کم
ہے۔ نرمی سے مراد فکری کمزوری نہیں۔ جیلانی اصغر کا راوی اپنے آپ کو بھی نہیں
بخشتا۔ وہ اپنی عظمت کو ہلکے ہاتھ سے چھوٹا کرتا ہے۔ انسانی خواہش کی مضحکہ خیزی
دکھاتا ہے اور پھر اسی خواہش کے اندر چھپی ہوئی اداسی بھی محسوس ہونے دیتا ہے۔ اس
کی ہنسی میں کسی دوسرے کو نیچا دکھانے کی لذت کم اور اپنے سمیت انسان کو پہچاننے
کی کوشش زیادہ ہے۔ لفظ گفتگو بھی اپنی جگہ موزوں ہے۔ یہ
نثر قاری کو درس گاہ میں بٹھا کر نتیجہ لکھوانے کے انداز میں آگے نہیں بڑھتی۔ وہ
ایک بات سے دوسری بات نکالتی ہے، راستے میں ذاتی تجربہ شامل کرتی ہے، کوئی تاریخی
نام یاد آ جاتا ہے، پھر گھر کا کوئی مسئلہ پوری بحث کا رخ بدل دیتا ہے۔ گفتگو میں
یہ آزادی فطری لگتی ہے، حالانکہ اچھا انشائیہ اسی آزادی کے اندر اپنا ربط قائم
رکھتا ہے۔ غلام جیلانی اصغر کی کامیابی کو ان کی ہر سطر کی غیر مشروط
تحسین میں تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ بعض مثالیں طول اختیار کرتی ہیں۔ کہیں تاریخی
نام علامتی استعمال سے آگے نہیں بڑھتے۔ عورت کے متعلق بعض مزاحیہ تصورات اپنے عہد
کی مردانہ نگاہ کے اثر سے آزاد نہیں۔ بعض فہرستیں خیال کی رفتار بڑھانے کے بعد اسی
رفتار کو سست بھی کرتی ہیں۔ یہ حدود ان کے فن کو رد نہیں کرتیں بلکہ اس کی اصل
صورت واضح کرتی ہیں۔
ان کا بڑا وصف کہیں اور ہے۔ وہ خود کو اپنی تحریر کے محفوظ حصے
میں نہیں رکھتے۔ جو آدمی کائنات فتح کرنا چاہتا ہے وہ خود ہنسی کا موضوع بنتا ہے۔
جو اقتدار چاہتا ہے وہ اس کی قیمت گنتے گنتے گھبرا جاتا ہے۔ جو دوسری زندگیوں کے
خواب رکھتا ہے وہ انہیں اپنے ذہنی کباڑ خانے میں پڑا دیکھتا ہے۔ دانائی دوسروں کی
کمزوری پہچاننے سے نہیں بلکہ اپنی کمزوری سے واقف ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔تسخیر کائنات
پڑھ کر کائنات کے بارے میں ہمارا علم نہیں بڑھتا۔ سکندر یا غزنوی کی تاریخ بھی
نہیں ملتی۔ گورنری کے سیاسی اختیارات کی تفصیل بھی سامنے نہیں آتی۔ حاصل کچھ زیادہ
ذاتی ہے۔ انسان اپنی خواہش کو کس قدر بڑا نام دے سکتا ہے اور زندگی کتنی خاموشی سے
اس نام کا حجم بدل دیتی ہے۔ نرم دم گفتگو کی ادبی معنویت بھی غالباً اسی ہنسی میں
محفوظ ہے۔ یہ قہقہے کی بلند آواز سے زیادہ وہ مسکراہٹ ہے جو آدمی کو اپنے بارے میں
تھوڑا غیر مطمئن کر دے۔ قاری کتاب بند کرے تو اسے کسی اخلاقی حکم کا بوجھ محسوس نہ
ہو، البتہ اپنے ذہن کے کسی پرانے کمرے کا خیال ضرور آ جائے جہاں چند عظیم منصوبے،
چند ادھوری خواہشیں اور اپنے بارے میں سنائی گئی کچھ خوب صورت کہانیاں اب تک رکھی
ہوں۔ غلام جیلانی اصغر وہاں صفائی کرنے نہیں آتے۔ وہ دروازہ کھول کر اندر دیکھتے
ہیں، مسکراتے ہیں اور قاری کو بھی ایک نظر دیکھ لینے دیتے ہیں۔
