تحریر :شہباز علی سولنگی
اردو زبان و
ادب میں تحقیق کے معیار پر جب بھی بات ہوتی ہے تو عموماً ایک مایوسی کی فضا طاری
ہو جاتی ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق کے نام پر اندھیر نگری مچی ہے اور
کوئی پوچھنے والا نہیں۔ لیکن اگر زمینی حقائق کا بغور جائزہ لیا جائے تو صورتحال
اتنی بھی آزاد نہیں ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے
مقالہ جات کی جانچ پڑتال کے لیے ٹرنٹن (Turnitin) جیسے سافٹ ویئرز کا استعمال اب ایک لازمی شرط بن
چکا ہے، اور حوالوں میں یو آر ایل (URL) اور لنکس دینے کا رجحان بھی فروغ پا رہا ہے۔ یعنی
ایک نظام تو بہرحال موجود ہے، لیکن اصل اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ اس ڈیجیٹل چیک
اینڈ بیلنس کے باوجود، محققین نے سرقے کے ایسے چور دروازے نکال لیے ہیں جو مشینی
آنکھ کی پکڑ میں نہیں آتے۔
اس
علمی بددیانتی کی سب سے بڑی وجہ ان سافٹ ویئرز کی محدود صلاحیت ہے۔ یہ ایک تلخ
حقیقت ہے کہ پلجریزم چیک کرنے والے ان جدید ٹولز کا اردو ڈیٹابیس ابھی اتنا وسیع
اور مضبوط نہیں جتنا انگریزی یا دیگر زبانوں کا ہے۔ اس خامی کا بھرپور فائدہ
اٹھایا جاتا ہے۔ آج کا محقق انٹرنیٹ پر موجود مواد چرانے کے بجائے ان پرانی، نایاب
اور غیر ڈیجیٹل شدہ کتب کا رخ کرتا ہے جو کسی ویب سائٹ یا ایچ ای سی کی ریپازٹری
میں موجود نہیں ہوتیں۔ ان کتابوں سے من و عن مواد اٹھا کر مقالے میں شامل کر لیا
جاتا ہے اور ٹرنٹن اسے صفر فیصد سرقہ قرار دے کر کلین چٹ دے دیتا ہے۔ مشین تو
مطمئن ہو جاتی ہے لیکن درحقیقت یہ ایک بہت بڑی علمی چوری ہے جس پر تحقیقی دیانت کا
لبادہ اوڑھ لیا جاتا ہے۔
دوسری
جانب ڈیجیٹل حوالوں کا جو رواج پڑا ہے، اس میں بھی نیت کا فتور صاف نظر آتا ہے۔
مقالوں کی طوالت اور حوالوں کی فہرست کو متاثر کن بنانے کے لیے یو آر ایل تو ڈال
دیے جاتے ہیں، لیکن اکثر اوقات یہ لنکس کام ہی نہیں کرتے یا محض خانہ پوری کے لیے
کوئی بھی غیر متعلقہ لنک کاپی کر کے پیسٹ کر دیا جاتا ہے۔ مقالہ نگار یہ بات بخوبی
جانتا ہے کہ ہمارے روایتی نظام میں ممتحن یا نگرانِ مقالہ کے پاس اتنا وقت اور
رجحان ہی نہیں کہ وہ ہر لنک پر کلک کر کے اس کی تصدیق کرے۔ گویا ہم نے ٹیکنالوجی
کو تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے بجائے محض ایک دکھاوے کے طور پر اپنا لیا ہے۔
اب
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان چور دروازوں کو کیسے بند کیا جائے؟ اس کا حل محض مزید
جدید سافٹ ویئرز لانے میں نہیں بلکہ ہمارے انفرادی اور ادارہ جاتی رویوں کی تبدیلی
میں پنہاں ہے۔ کوئی بھی مشین ایک ماہر اور تنقیدی نگاہ رکھنے والے استاد کا متبادل
نہیں ہو سکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریسرچ سپروائزر کا کردار محض پروف ریڈنگ اور
فارمیٹنگ چیک کرنے تک محدود نہ رہے۔ اگر کوئی طالب علم کسی نایاب کتاب کا حوالہ
لاتا ہے تو استاد کو چاہیے کہ اس پر علمی بحث کرے، کریدے اور جانچے کہ آیا طالب
علم نے واقعی اس ماخذ کو پڑھ کر ہضم کیا ہے، اس کے لسانی اور فکری پہلوؤں پر غور
کیا ہے، یا محض نقل ماری ہے۔ ایک زندہ، متحرک اور تنقیدی علمی مکالمہ ہی اس
کھوکھلی تحقیق کا راستہ روک سکتا ہے۔
اس
کے ساتھ ساتھ کچھ عملی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ مثلاً، اگر کوئی طالب علم ایسی
پرانی کتاب کا حوالہ دے رہا ہے جو انٹرنیٹ پر دستیاب نہیں تو اس پر لازم کیا جائے
کہ وہ اس کتاب کے سرورق اور متعلقہ صفحے کا عکس ایک الگ پی ڈی ایف فائل میں بطور
"ڈیجیٹل ضمیمہ" جمع کروائے۔ یہ ایک انتہائی سادہ مگر موثر طریقہ ہے جو
فرضی کتابوں کے حوالے دینے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کر دے گا۔ مزید برآں، مقالے
کے دفاع سے قبل یہ جانچنا لازمی ہو کہ دیے گئے تمام لنکس فعال ہیں اور متعلقہ
صفحات تک رہنمائی کر رہے ہیں۔ اس کے لیے مقالے کی ہارڈ کاپی میں کیو آر (QR) کوڈز کا
استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ بیرونی ممتحن اپنے موبائل ہی سے حوالے کی فوری تصدیق
کر سکے۔
بڑی
سطح پر ایچ ای سی اور جامعات کو چاہیے کہ وہ ریختہ، انٹرنیٹ آرکائیو اور دیگر اردو
ڈیجیٹل کتب خانوں کے ڈیٹابیس کو اپنے پلجریزم سافٹ ویئرز کے ساتھ منسلک کریں۔ جب
تک اردو کا وسیع تر ڈیجیٹل متن ان سافٹ ویئرز کی یادداشت کا حصہ نہیں بنے گا، چور
دروازے کھلے رہیں گے۔ تحقیق محض ڈگری کے حصول یا امتحانی لکیر پیٹنے کا نام نہیں،
یہ سچائی کی کھوج ہے۔ جب تک ہم خود اپنے کام کے ساتھ مخلص نہیں ہوں گے اور تنقیدی
شعور کو نہیں اپنائیں گے، کوئی بھی ڈیجیٹل نظام ہمیں حقیقی محقق نہیں بنا سکتا۔
