فرخ یار کی شعری کائناتت:داخلیت، وجودی کرب اور علامتی استعاروں کا تنقیدی مطالعہ
تحریر :شہباز علی سولنگی
جدید
اردو نظم کے منظرنامے میں فرخ یار ایک ایسی توانا اور منفرد آواز ہیں جن کی شاعری
فکری گہرائی، تجرباتِ زیست اور اسلوبیاتی ندرت کا حسین امتزاج ہے۔ ان کے شعری
کینوس پر داخلیت اور خارجیت اس طرح باہم دست و گریبان نظر آتے ہیں کہ قاری ایک نئے
حسی اور فکری تجربے سے دوچار ہوتا ہے۔ فرخ یار کی نظمیں محض الفاظ کا ہجوم نہیں
بلکہ وجودی کرب، تہذیبی زوال اور انسانی بے بسی کا ایک ایسا بیانیہ ہیں، جو
استعاروں اور علامتوں کی زبان میں ہم سے ہم کلام ہوتا ہے۔
ان کے
شعری سفر کا ایک اہم پڑاؤ تخلیقی کرب اور انسانی نفسیات کے متضاد پہلوؤں کا اظہار
ہے۔ نظم "کیسے عجیب دِل ہیں" میں وہ فنکار اور شاعر کی اس اندرونی کشمکش
کو بے نقاب کرتے ہیں جو بیک وقت مسرت اور بے نام اداسی کے درمیان ہچکولے کھاتی ہے۔
وہ شاعر کے دل کی اس بظاہر متضاد کیفیت کو نہایت خوبصورت علامتوں میں یوں پیش کرتے
ہیں
بازی
گری کے رسیا، بارے سُخن سرا بھی
بیٹھے ہوئے پرندے، اڑتی ہُوئی بلا بھی
یہ
علامتیں دراصل اس شدید بے قراری کی غماز ہیں جو ایک حساس تخلیق کار کا مقدر ہے۔ ان
کے نزدیک یہ دل بظاہر خوش باش ہیں مگر اندر سے کٹے ہوئے ہیں۔ یہ کیفیت جدید انسان
کی اس اجنبیت اور روحانی کھوکھلے پن کی طرف بلیغ اشارہ ہے، جسے وہ ان الفاظ میں
سمیٹتے ہیں
خوش باش بے ارادہ، بےوجہ مضمحل ہیں
ہم شاعروں کے دِل بھی، کیسے عجیب دل ہیں
زندگی
کی اس بے معنویت اور مشینی دور کے حبس سے گھبرا کر فرخ یار کی شاعری ایک ایسی پناہ
گاہ کی متلاشی نظر آتی ہے جو فطرت کے قریب تر ہو۔ ان کی نظم "بہاوُ" اسی
وجودی تلاش اور وحشت کی جستجو کا استعارہ ہے۔ شاعر محسوس کرتا ہے کہ موجودہ معاشرے
میں اظہار کی تمام راہیں مسدود ہو چکی ہیں اور ایک عجیب سی گھٹن کا راج ہے
سخن کے اندر اتر کے چلنے کی رہ نہیں ہے
وہ حبسِ دم ہے کہ لوگ پنجوں پہ چل رہے ہیں
ایسے
میں ان کی نظر ان محروم طبقوں کی طرف اٹھتی ہے، جن کے لیے وہ ایک ایسے منطقے کی
تمنا کرتے ہیں جو جدیدیت کے استحصال سے پاک ہو
ہم
ایسے افتادہ خاک لوگوں کے واسطے بھی
کوئی
مناسب جگہ تو ہو گی...
وہ منطقہ جس کی گھاٹیوں پر ابھی کسی نے
شکار گاہیں نہیں بنائیں
وقت
کا کائناتی جبر اور تقدیر کے سامنے انسانی بے بسی فرخ یار کی فکری جہتوں کا ایک
اور اہم ستون ہے۔ نظم "ہم تو بس" میں یہ جبر پورے شد و مد کے ساتھ
ابھرتا ہے، جہاں انسان کی حیثیت کائنات کے وسیع تر نظام میں محض ایک کٹھ پتلی کی
سی رہ گئی ہے۔ فرخ یار زندگی کے اس جبری سفر کو ایک عدالت کی پیشی سے تشبیہ دیتے
ہوئے کہتے ہیں:
ہم تو بس پیشی بھگتانے آئے ہیں
ہم نے
کیا لینا دینا ہے
رقص صبا سے، تم سے، اس میلے سے
یہاں
چاند اور چرخے کی علامتیں دراصل وقت کی اس بے رحم گردش کو ظاہر کرتی ہیں جس کے
سامنے انسانی ارادے اور خواہشات کی کوئی حیثیت نہیں۔ انسان کائنات کے اس عظیم
الشان میلے میں ایک بے بس تماشائی بن کر رہ گیا ہے:
ہم نے کیا لینا دینا ہے
چاند سے، چاند کی بڑھیا اور اس کے چرخے سے
ذات
کے اس نوحے کے ساتھ ساتھ فرخ یار کے ہاں ایک گہرا تاریخی اور تہذیبی شعور بھی سانس
لیتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ نظم "ہم زندانی" ایک طرف صوفیانہ خود شناسی کا
مظہر ہے تو دوسری طرف فکری زوال کا ایک عظیم نوحہ۔ شاعر نے دانشوروں اور تخلیق
کاروں کی خود ساختہ فکری محدودیت پر کاری ضرب لگائی ہے
ہم
زندانی
اپنی ہی آواز کے قیدی
شاعر
جب ماضی کی شاندار روایات کو یاد کرتا ہے تو اس کے لبوں پر نیشاپور، بغداد اور
دریائے نیل کے حوالے مچلنے لگتے ہیں۔ یہ محض جغرافیائی مقامات نہیں بلکہ علم و فکر
کی اس گمشدہ میراث کی علامتیں ہیں جو اب تاریخ کی گرد میں چھپ چکی ہیں
کب
اپنے انجام سے بھاگ کے نیشاپور کا رستہ پوچھا
کب
بغداد اور نیل کے دریا پر دو آنکھوں کی حیرانی لکھی
ان
کھوئی ہوئی روایات کا ماتم کرتے ہوئے شاعر بالآخر تصوف اور خود شناسی کی طرف لوٹتا
ہے اور اعلان کرتا ہے
نیل گگن
کی راہ اپنائی
اپنے ہی پانی میں اپنا چہرہ دیکھا
فرخ
یار کی یہی وجودی اور فکری آوارگی، ہجر اور تنہائی کے استعاروں میں ڈھل کر نظم
"اچانک جھڑی لگ گئی تھی" میں اپنے عروج پر پہنچتی ہے۔ اس نظم میں بارش
محض ایک موسمیاتی مظہر نہیں، بلکہ وقت کے تیزی سے گزرنے، مسلسل ہجر اور جدید انسان
کی تھکن کی نہایت طاقتور علامت ہے۔ شاعر جدائی کے کرب سے گزرتے ہوئے وقت کے اس بے
رحم بہاؤ کے سامنے تھک ہار کر اعتراف کرتا ہے
مگر میں اُترتا ہوں ہر روز نیلے افق پر...
اگر ہو سکے تو پلٹ آؤ
میں
پانچویں دن کی بارش سے گھبرا گیا ہوں
فرخ یار کا شعری اسلوب بظاہر سادہ اور رواں ہے، لیکن ان کے ہاں
علامتوں، استعاروں اور تاریخ و تہذیب کی جو تہیں موجود ہیں، وہ انہیں اردو نظم کے
صفِ اول کے جدید شعراء میں کھڑا کرتی ہیں۔ ان کا کلام محض پڑھنے کی چیز نہیں، بلکہ
محسوس کرنے اور خود کو اس کے آئینے میں دریافت کرنے کا ایک مسلسل عمل ہے۔
کوئی تبصرے نہیں: