بلاگ تلاش کریں

ساختیات، پس ساختیات، نوتاریخیت

Shehbaz Ali Solangi Psychology Humsub Geonews jung Rekhta  war BBC URDU

 تحریر :شہباز علی سولنگی

ساختیات کیا ہے؟

بقول ڈاکٹر ھارون:

زبان کو ایک پراصرار بھید بھری سماجی فعالیت بھی کہا جاتا ہے اہل دانش و فلسفہ نے ہمیشہ اس کے پوشیدہ سحرکاریوں کا ادراک  ایک مشتاق کی  حیثیت سے کرنے پر زور دیا ہے زبان فہمی کا سارا عمل بنیادی طور پر تشکیل زبان کے ایسے تصورات سے عبارت ہے کہ زبان میں درآنے والا ہر لفظ اپنی مخصوص لسانی ثقافت کا حامل ہوتا ہے مگر اظہار و بیان کے سلسلے میں اس کے معنی اور مفہوم کو سمجھنے کا نظام" ساختیات "کہلاتا ہے۔ ساختیات کا لفظ فارسی کی زبان کے لفظ ساخت سے ماخوذ ہے جس کا مصدر ”ساختن "ہے جس کے معنی بنانا ، گھڑنا ،ا یجاد کرنا   اوروضع کرنا کے ہیں۔یہ لسانی فلسفہ ایک ادبی اصطلاح ہے انگریزی میں اس کے لیے " اسٹرکچرلزم  "کی اصطلاح مستعمل ہے۔

ڈاکٹر  انور جمال  کے مطابق:

    چیزوں کی ساخت کے بارے میں علم کو ساختیات کہتے ہیں کچھ عرصہ سے یہ اصطلاح لسانیات سے متعلق ہو کر رہ گئی ہے ۔اس کے مطابق قاری اور مصنف کے خیالات و نظریات اور مہارت و اسلوب سے زیادہ زبان کی ساخت کو اولیت حاصل ہے۔پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ  کی نظر میں:

 سختیات بنیادی طور پر ادراک حقیقت کا اصول ہے یعنی حقیقت کائنات ہمارے شعور کا حصہ کس طرح بنتی ہے۔ ہم اشیاء کی حقیقت کو انگیز کس طرح کرتے ہیں یعنی معنی خیزی کن بنیادوں پر ہے ، معنی خیزی کا عمل کیوں کر ممکن ہوتا

ہے اور کیوں کر جاری رہتا ہے جبکہ زبان کی ساخت سے مراد زبان کے مختلف عناصر کے درمیان رشتوں کا وہ نظام ہے جس کی بنا پر زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

ایک اور ناقد  ساختیات  کے  سائرہ ِ وسعت کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

درحقیقت سختیات علم الانسان میں افکار کی تحریک کا نام ہے ۔اس سے مراد صرف تحریر اور تقریر کی زبان نہیں بلکہ زیادہ عمومی زبان ہے ۔ساختیات کے نظریات کا تعلق ان تمام ذرائع سے ہوتا ہے جن کے ذریعے انسان ایک دوسرے سے کسی بھی طریقے سے معلومات کا تبادلہ کرتا ہے۔

ڈاکٹر احمد سہیل نے  ساختیات کی تعریف ان الفاظ میں کی:

سختیات بنیادی طور پر کسی ایک معروضی یا موضوعی اجزاء کے کے مطالعہ کا نام ہے جو شعوری اور ذہنی تعلق کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں

مذکورہ بالا تمام تر تعریفوں سے ہم نے یہ جانا کہ  ساختیات وہ علم ہے جس میں ہم کسی شے کے اجزاء اور اس میں پائے جانے والے عناصر کی مدد سے اس کی مجموعی صورت کا ادراک حاصل کرتے ہیں کیونکہ فرد کی تخلیق اور تنقیدی محرکات اس وقت تک بہتر طور پر ہمیں سمجھ میں نہیں ا سکتے جب تک ان کے پاس منظر اور ارتقا کا ہمارے ذہنوں میں کوئی ایک خاکہ موجود نہ ہو ۔لہذا اپنے کار مفوضہ کے اس حصے میں ہم ساختیات کی تاریخ اور اس کے ارتقاء پر اجمالی طور پر جائزہ لیں گے اور دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ اس کی آغاز کب ہوا یہ کن قسم مراحل سے گزرتے ہوئے کب ادب کے ایک تنقیدی ادبی اصطلاح کی صورت میں 

سامنے آئی ۔

ساختیات کی کہانی

  اس طرز فکر کی ابتدا کم و بیش۲۰۰ برس پہلے ہوئی   "نیڈ" ­ کے مطابق یہ تصور ۱۷۴۶سے بھی پہلے کا ہے جو کسی نہ کسی صورت فلسفیانہ فکری تاریخ میں موجود رہی سولہویں صدی میں اس اصطلاح کا معنی کسی نہ کسی مجموعہ میں پائے جانے والے اجزاء کے آپسی روابط سے لیا جاتا   رہا ایک زمانے تک سختیات کی اصطلاح کو تشریح کا عمل سمجھا جاتا رہا کم و بیش ۲صدیوں تک کے عمرانیات کی وضاحت کرتا رہا حتی   ٰ  کہ عمرانیات ایک مکمل علم کی صورت میں منظر عام پر آگیا ۔ اس دور میں” ہابس“  کو ساختیات کا بانی کہا گیا ۔ اگرچہ ان کی تعلیمات  میں سختیات یا معاشرتی سختیات سے ملتے جلتے الفاظ ناپید ہیں لیکن ان کے افکار میں موضوعی نامیاتی تصوراتی سطح دیکھی گئی ہیں جو کسی نہ کسی طور پر اداروں کو ایک دوسرے سے شناخت کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

"مرڈوک "وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ساختیات کا لفظ استعمال کیا انہوں نے سختیات کو معاشرتی اس حوالے سے پرکھنے کی    متنی درجہ بندی کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے سماجی سختیات کی اصطلاح متعارف کروائی۔

 

۱۹۳۲ء میں بیٹسن نے "میلنڈوسکی" اور "بینڈک" کی تحریروں کا ثقافتی  تجزیہ کرتے ہوئے "ریڈکلف" کی تا ئید کی جبکہ انگلستان   میں" آئی-آر چرڈ ز" اور "رے مین فرتھ "نے ریڈ کلف کے نظریات کو مسترد کر دیا۔ "نیڈل " ۔ نیڈل نے ۱۹۵۷ء میں ایک کتاب    the theory of social structure یہ خلاصہ پیش کرتے ہیں ان کے افکار کو ان کے شاگردوں نے ان کی موت کے بعد ایک کتاب کی صورت میں محفوظ کیا  (A course of general linguistics)اس کتاب کے مندرجات کی رو سے"سوسئیر"وہ پہلے لسانی عالم ہیں جنہوں نے اصول وضع کیے ان کی وضح کردہ اصطلاح" نشانیات "کو بہت شہرت ملی۔  نشانیات لسانی طریقہ کار کو وضح کرنے میں ممد و معاون  ثابت ہوئی  سوسئیرنے اپنے اسی مطالعہ کو سائنس قرار دیا۔موجودہ ساختیات کی بنیادی اصول سوسئیر کے خیالات پر مبنی  لسانیت سے ماخوذہیں ۔سوسئیر کہ ہم عصر امریکی ”چولس سینٹرز پریس“ نے اس قسم کا تصور دیا جسے اس نے ”سمیوٹکس کا نام دیا سو سئیر کے مطابق زبان نشانات کے نظام کے تحت کام کرتی ہے۔ان کے خیال میں زبان خودمختار ہوتی ہے یہ نشانات کا ایک نظام ہے جو تصورات کو ظاہر کرتا ہے ۔ نشان کو سو سیر نے سگنیفائر اور سگنیفائیڈ کے ذریعے ظاہر کیااور اس پر دلالت کی کہ ان دونوں کے درمیان کوئی ربط یا تعلق ہونا لازم نہیں مثلاً لفظ شجر اور اس کے تصور کے درمیان  کوئی  تعلق نہیں ۔سو سئیر سے قبل اس تصور کو قبول عام حاصل تھا کہ دنیا  آزادانہ  وجود  رکھنے والی اشیاء سے عبارت ہے اور ان کی معروضی تعریف اور درجہ بندی کی جا سکتی ہے دوسرے لفظوں میں زبان لفظوں کا ایک مجموعہ ہے جو الگ الگ معنی رکھتے ہیں اور جن کی آزادانہ تعریف ممکن ہے سو سیر نے ان افکار کی ردکی اور زبان کو ایک کا نسبتی تصور پیش کیا۔ اور اس بات پر زور دیا کہ زبان محض اشیاء کو نام دینے والا نظام نہیں ہے اس کا کام اشیاء کو نام دینے کی بجائے ان کے تصورات میں فرق کے رشتوں کے ذریعے شناخت کرم کرنا ہے۔ سو سئیرنے اس بات پر بھی زور  دیا کہ زبان کا مطالعہ حاضروقت کی بنیاد پر کرنا چاہیے اور یہی سائنس کا مطالعہ ہے اس مطالعہ میں زبان کی کارکردگی کو سمجھنے کے لیے انھوں نے تکلم  کا تصور دو طرح سے پیش کیا گیا وہ ایک signifierکو اور دوسرے کوSignified کہتے ہیں


بقول سوسئیر :

' زبان کا جامع نظام” لینگ“ ہے اور تکلم میں بولے جانے والا کوئی بھی واقعہ ”پارول “ہے جو زبان کے جامعہ نظام کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا، جو اس کے اندر خلق ہوتا ہے دوسرے الفاظ میں اس فلسفہ لسان میں” لینگ “سے مراد وہ تکلم ہے جس کو عرف عام میں ”لسان“ کہا جاتا ہے جس میں قواعد وضوابط کا نظام پایا جاتا ہے جبکہ ”پاول“ سے مراد روزمرہ کا تکلم ہے جسے بولی  بھی کہا جاتا ہے اس کی مثال اس آئس برگ کی سی ہے جو سطح سمندر پر تیرتا رہتا ہے، جس کو ہم دیکھ سکتے ہیں اور” لینگ “من حیث المجموع برف کا وہ بھاری بھرکم تودہ ہے جو اوپری سرے کو تو سنبھالے رہتا ہے لیکن خود دکھائی نہیں دیتا "

اس حقیقت کے شعور نے کہ زبان ایک مجرد نظام ہے جو کلی حیثیت سے کہیں ایک جگہ نظر نہیں آتا لیکن انفرادی تکلم میں تھوڑا بہت ظاہر ہوتا رہتا ہے جدید لسانیات کے آئندہ سفر کی راہ کا تعین کیا۔     چارلس فریز نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ سوسئیر نے لفظوں کے ذریعے سمجھے جانے والے "ورڈ سینٹرڈ تھنکنگ "تصور کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا اور اس کی جگہ زبان کی نسبتی اور ساختی تصور نے لی ۔اس فلسفہ کی رو سے اگر آوازوں کو زبان کے طور پر لیں تو معلوم ہوگا کہ جو چیز ان کو بامعنی بناتی ہے وہ ان میں اور دوسری آوازوں میں فرق ہے گویا زبان میں اصوات قائم بالذات نہیں بلکہ قائم بالخیر ہیں۔باہمی فرق کا رشتہ تضادات کے نظام کو قائم کرتا ہےاور اسی تضاد کی بنا پر ہر اصوات زبان کی Significantبنتے     ہیں اور معنی پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں لہذا زبان کی صوتیاتی ساخت عبارت ہے ان منفرد آوازوں سے جن سے معنی کا فرق لازم آتا ہے زبان کے متعلق پیش کردہ مندرجہ بالا تصورات کی بناء پر اس امر کو بطور اصول طے کر لیا گیا کہ زبان چونکہ ساخت رکھتی ہےاس کا  نظام سختیاتی ہے اورسختیاتی نظام ہمیشہ ”یک زمانی“ ہوتا ہے۔ اور زبان کے بولتے ہوئے اس کی منظم ہونے کا احساس ہوتا ہے اس لیے آوازوں کے اصول یعنی” فونیمی“ اصول زبان کے اساسی سختیاتی اصول ہیں ۔ سوسئیر کے بعد”رومن جیکب سن “نےلسانیت کی اس شاخ پر ابتدائی کام کیا وہ موسکو لینگوسٹک سرکل کے ممبر تھے انہوں نے پراگ لنگوسٹک سرکل کو منظم کیا یوں پروک سکولِ سختیات معرض وجود میں آیا۔

۱۹۴۰ءجیکب سن امریکہ گئے تو انہی کی بدولت لیوی سٹراس سختیات کے تصور سے متعارف ہوئے۔ جیکب سن نے ادب کی گرامر یا شعریات مرتب کرنے کی سعی کی وہ شعریات کو زبان کا مخصوص عمل قرار دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ لفظ میں صلاحیت ہے کہ وہ ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور مقصد بھی خود حقیقت بن سکتا ہے اور حقیقت کو منعکس بھی کر سکتا ہے راستہ بھی بن سکتا ہے اور منزل بھی جو لفظ خود حقیقت بن جاتا ہے وہ تخلیقی حیثیت اختیار کرتا ہے اور ادب کے رتبے کو پہنچ جاتا ہے لہذا ادب کی بنیادی عمل کو لفظ کے اسی صلاحیت میں تلاش کرنا چاہیے۔

ساختیات اور دیگر علوم

ساختیات کا باقاعدہ آغاز” لیوس سٹراس “سے ہوا ۔ لیوی اسٹراس ایک ماہر عمرانیات تھے انہوں نے سوسئیر کے لسانی ڈھانچے کا اطلاق اساطیر پر کیا اور امریکی اور انڈین اسطورہ کو پرکھا، ان کی  وجود میں آنے کے محرکات اور ان کے باہمی رشتوں کا مطالعہ کیا اپنے اس مطالعہ کے نتیجے میں اس نے یہ ثابت کیا کہ اساطیر کے پیچھے ایک مرکزی اسطوری نظام کار فرما ہے ۔یوں لوئس نے سختیات کو ثقافت سے جوڑا علاوہ  ازیں ساختیات کی اہلیت کے احساس کو اجاگر کیا جس کے نتیجے میں ساختیات کو دوسرے شعبوں میں بھی بروئے کار لانے کی تحریک پیدا ہوئی۔

۱۹۶۰ءمیں” رولان بارتھ“ نے اس موضوع پر کام کیا اور اس کو ادبی تنقید کا حصہ بنایا لہذا بار سب سے پہلے ساختیاتی نقاد قرار دیے گئے_۷

۱۹۶۱ءمیں ”اسٹروس“ نے نشانیات کے علم کی حدود میں رہ کر ساختیاتی بشریات کے علم میں نئی راہیں کھولیں۔ انھوں نے نشانیات کے علم کو فکری نظام سے متعارف کروایا اور لوک بیانیہ کہانیوں میں صوتیاتی نظام کا انکشاف کیا ۔ساختیات اور نشانیات کےنظری اور فلسفیانہ مباحث بھی اٹھائے ،ان  کے کام کی وسعت مصنف، متن اور قرات سے متعلق نظریات پر محیط ہے۔

انیسویں صدی کے آخری اور بیسویں صدی کے آغاز میں زیر بحث انے والے موضوعات کی وجہ سے  سختیات نے علم و ادب کو نئی فکری تہذیب سے روشناس کروایا فرد کو تہذیب و بشریاتی حوالے سے سوچنے کے لیے نئی جہتیں فراہم کی لہذا فرد سادہ منظم سائنسی بنیادوں پر اپنے ماحول کے متعلق اگہی کے حصول کے قابل ہوا۔ یوں ساختیات کے فرانسیسی مکتب کی داغ بیل پڑی جو تاریخی تنقیدی اور سانحی تنقید کا کھلا اور جارحانہ ردعمل تھا۔

جونیتھن کلر نےstructuralist poeticsمیں سختیات کے متعلقات اور پیچیدگیوں پر بحث کی اور ثابت کیا اگر کہ اگرچہ ادب معاشرے سے تعلق رکھتا ہے مگر سختیاتی تنقید معاشرے سے آزاد ہوتی ہے اور معاشرتی اثرات اس تنقید پرآٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں۔

امریکہ اور یورپ کے مکاتب فکر نے مل کر لسانیات کے موضوع پر ازسر نو سوچنے کی دعوت دی اس سلسلے میں ”فرانس“ ،”چیکوسلواکیہ“، ”سوئیزرلینڈ“ ،”ڈ نمارک“ میں خاصی سرگرمی بھی دیکھنے میں آئی ۔اس دور میں زبان کی طرز اور قواعد پر نہایت زوردار بحث ہوئی اس ضمن میں ” اوتم نوم چامسکی“ کی تصنیف Syntatic Structure۱۹۵۷ءمیں شائع ہوئی کا ذکر لازم ہے ۔اس میں چومسکی نے Generative Grammarکا تصور پیش کیا۔

بیسویں صدی کی چھٹی دہائی ساختیات کی دنیا میں اس لیے اہم ہے کہ اس زمانے میں ساختیات کو نئے انداز سے سوچنے کی رسم پیدا ہوئی خاص کر لسانی قواعد کے سلسلے میں نئے تجزیاتی انداز کو اپنایا گیا۔

Piagetنےسختیات کا صوری تصور پیش کیا جو انسان کے منتشر ذہن کا مطالعہ پیش کیا۔                                                                                                                                                                                         

۱۹۶۰ء سے لے کے ۱۹۷۰کے درمیان نئی وظائفی سختیات رونما ہوئی اس میں تخلیقی یا لسانی عمل کا منطقی سے زیادہ سائنسی اسلوب سے مطالعہ کیا جاتا تھا ۔تخلیقی عمل کی ساختیاتی وسعت چاہے کسی بھی نوعیت کی کیوں نہ ہو عموماً متن سیاق ، رموز، اساطیر سے متعلق ہوتی ہے ۔اس میں ثقافت کا ماحولیاتی عنصرسب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے مغربی ادب مثلا ًامریکہ میں ”جانتھن ایڈورس“ اوراردو ادب میں" نذیر احمد "،"راشد الخیری "اور"انتظار حسین "کے افسانوں میں  اور ن_م  راشد کی نظموں میں تھوڑی بہت جھلک دکھائی دیتی ہے۔

تنقیدی نقطہ نگاہ سے ساختیات سے مراد وہ تنقید ہے جس میں ادب کا مطالعہ اس انداز سے کیا جاتا ہے کہ جس میں سختیاتی تصورات کو اہمیت حاصل ہو یا ماہرین ساختیات کے پیش کردہ نظریاتی ماڈل کو پیش پیش نظر رکھا جائے سختیاتی تنقید میں اصل اہمیت فن پارے یا تخلیق کار کی نہیں بلکہ اس نظام ہے جس کی روشنی میں فن پارے کو تخلیق کیا گیا ہے اور ادب کو بطور ادب پڑھا جاتا ہے۔

پس    ساختیات

سختیات میں نئے نظریات کے دخول سے ایک نیا نظریہ منظر عام پر ایا اس تنقیدی نقطہ نظر کو پس ساختیات کہتے ہیں پس سختیات دو لفظوں سے مرکب ہے یعنی" پس "اور "ساختیات "یوں معنی ہوئے ساختیات کے بعد  وجود میں آنے والے نظریات اور مطالعہ کے طریقہ کار کو پر سختیات کہتے ہیں اسے انگریزی میں Post Structuralismیا Beyond Functionalism

کہا جاتا ہےکی نہیں ہوتی بلکہ اس نظام کیا جاتا ہے جس کی روشنی میں فن پارے کو تخلیق کیا گیا ہے اور ادب کو بطور ادب پڑھا جاتا ہے۔۸

پس ساختیات کو مغربی مفکر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے

"Post-structuralism is a philosophical movement that questions the objectivity or stability of the various interpretive structures that are posited by structuralism and considers them to be constituted by broader systems of power."

 

پس ساختیات کی کہانی

دنیا میں برپا ہونے والی دو عالمی جنگوں نے جہاں سیاسی سماجی اور اقتصادی لحاظ سے مختلف شعبہ جات زندگی کا منظر نامہ تبدیل کر کے رکھ دیا  ۔ان حالات نے مغربی مفکرین کو بھی سوچنے اور دنیا کو پرکھنے کے زاویوں کو تبدیل کرنے پر آمادہ کیا چنانچہ ہر ممکن حد تک کے علم میں پیوست حتمی فکری بنیادوں کو کریدا گیا۔  فرانس کے سختیات پسندوں نے سوسئیر کی "لسانی سختیات "کو نئے فکری زاویوں سے دیکھنے کی سعی کی ۔فرانس میں رونما ہونے والی سختیاتی تبدیلیاں دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنی ۔ اسی اِثنا میں ان تصورات کی بارآوری کو سمجھتے ہوئے "جانز ہاپکن یونیورسٹی "کے دو پروفیسروں" ریچرڈ مارکسی "اور"اگیجنیو دوناتو "

اسنے ایک کانفرنس کا اہتمام کیا  اس کانفرنس میں اس وقت کے کم و بیش تمام نامور فلسفیوں کو مدعو کیا گیا ۔اس کانفرنس کا موضوع The Languages of Criticism and the Science of Manتھا۔تمام شرکاء نے مختلف حوالوں سے سختیاتی فکر کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کی تاکہ اس کانفرنس کے اہتمام کا مقصد پورا ہو سکے ۔اسی کانفرنس کے تیسرے روز "ژاک دریدہ" نے "لیوی سٹراس" کے کام پر فلسفیانہ کوتاہیوں کی نشاندہی کی کانفرنس کے تیسرے روز اختتامی کلمات سے کچھ دیر قبل اس نے اپنا مقالہ حاضرین  کے گوش گزار کیا ۔اس مقالے کو بس سختیات میں اہم دستاویز قرار دیا جاتا ہے۔ اس کانفرنس کےاختتام سےہی" پس سختیات " کا آغاز ہوا  ۔

پس ساختیات نے تشریحات و توصیحات کے ایسے متبادل اور جدید طریقے متعارف کروائے جن سے ساختیات کے ادھورے نظریات کی تکمیل کی راہیں ہموار ہوئیں۔ پس سختیات نے "سختیات "کے موزونیت کو مشکوک کر دیا اور ادب میں متن کے معنی جو اپنی فطرت میں غیر مستحکم ہوتے ہیں کو منکشف کیا ۔

 ایک فاضل قلم کار کے مطابق:" پس سختیات "سے مراد وہ تمام نظریات و خیالات ہیں جو ساختیات کے اصولوں کی نفی کرتے ہیں۔ ساختیات کے اصولوں کی سخت پابندیوں کے خلاف رد عمل کا سامنے آنا لازم تھا یہ ایک فطری بات ہے لہذا اس کے نظریات کو ازسرنو زیر بحث لایا گیا۔پس ساختیات   پر کام کرنے والوں کی تعداد خاصی زیادہ ہے ۔ ان مفکرین نے فکری اساس دیگر مفکرین کی پیروی کی صورت میں کی ،تو کسی نے دوسرے مفکر کے خیالات کو نئے معنوی جامع پہنائے مثلاً" فوکو" نے" فرائیڈ "کے نظریات کے جدید تشریح کو موضوع سخن بنایا جبکہ "بارتھ "نے سوسئیر کے نظریات کی بنیاد ہلا دی ۔متفرق موضوعات پر کام کرنے والے ان مفکرین کی آرا ءآپس میں بھی متصادم ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان تمام مفکرین کا کوئی ایک مشترکہ مکتبہ فکر معرض وجود میں نہ آسکا لیکن ان میں مشترکہ اقدار  موجود ہیں مثلاً

ایک ہے روایت سے انحراف جب کہ دوسری کو ہم جستجو یا تشکیک کہہ سکتے ہیں

"رولان بارتھ "کو اس کا  بانی قرار دیا گیا وہ زبان کو صاف اور شفاف میڈیم نہیں مانتے اس نے اس ضمن میں نئی نئی بحثیں ابھاری ہیں اور قدیم نظریات سے انحراف کیا ۔"بارتھ "کےقلمی سفر کا جائزہ لینے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ پہلے پہل نشانیات کا قائل تھا اس پر زور دیا پھر رفتہ رفتہ ادب کی طرف آئے موآ خرالذکر کو ہی ان کا پس ساختیاتی دور کہا جاتا ہے ۔بارتھ امریکہ کی نئی ساختیاتی تنقید کے سخت خلاف تھے اس پر سب سے زیادہ مضبوط اور انہوں نے ہی کیا ۔ رولان بارتھ کی اہمیت سختیاتی اور پس سختیاتی مفکرین کے درمیان ایک کڑی کی سی ہے اس لیے کہ اس کی آزاد ی و نشاط انگیزی بت شکنی اور باغیانہ سرشت نے کلاسیکی ساخیات کی سائنسی معروضیت پر کئی سوال اٹھائے ،اس کی آمریت کو للکارا اور تازگی فکر کی نئی راہیں کھول دیں ۔

بارتھ کے بعد بس سختیات میں سب سے نمایاں نام" ژارک لاکان" کا ہے۔ لاکان کی نفسیاتی تحریروں نے ادبی تنقید کو ”موضوع “کا ایک نیا نظریہ دیا سابقہ تنقیدی رویوں کو ”رومان“ اور ”رجعت پسندی“ قرار دے کر انہیں رد کر دیا تھا لیکن ژارک کےلا شعوری تجزیے نے بولنے والے موضوع کا ایک ایسا نظریہ پیش کیا جس کو رد کرنا آسان نہیں ۔لاکان کا کہنا ہے کہ انسانی موضوع زبان بولنے کے ساتھ ساتھ معی نما کے ایک ایسے نظام میں داخل ہو جاتا ہے جو اگرچہ اس سے پہلے سے وجود رکھتا ہے لیکن بامعنی اس وقت بنتا ہے جب انسانی موضوع اس کے ساتھ جڑ جاتا ہے ۔زبان میں داخل ہونے کے بعد ہی انسان اس قابل ہوتا ہے کہ وہ رشتوں کے نظام میں ژارک لاکان نے فرائیڈ کے نظریات کونئی توجیہ کے ساتھ پیش کیا اس کے مطابق فرائیڈ کا لاشعور ساخت رکھتا ہے اور یہ ساخت افعال کو متاثر کرتی ہے اور ان افعال کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے اپنے کردار کو پہچان سکے( یعنی مرد عورت ماں باپ وغیرہ )یہ عمل اور اس سے پہلے کہ تمام منزل لاشعور کی نگرانی میں طے ہوتی ہیں ۔

"مشل فوکو" کے پسساختیاتی تصورات نطشے سے ملتے جلتے ہیں ۔پس سختیات میں ایک ایسی فکری دھارا بھی موجود ہے جو اصرار کرتا ہے کہ" متنیت "ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ دنیا میں طاقت کے کھیل میں بھی میں "ڈس کورس "بھی شامل ہیں انہوں                                                نے اس بات پر زور دیا کہ اصل طاقت کا منبع "ڈسکورس" ہے اور اپنے اس نظریے کی مدد سے انہوں نے نطشے کی پیروی کرنے کی کوشش کی لیکن نطشے کی رجائیت سے گریز بھی کیا ۔فوکو  کی شہرت کا انحصار اس عمل پہ ہے کہ اس نے اس طاقت کو بھی چیلنج کیا جو معاشرے کے مقتدرات کو حاصل ہے" فوکو" نے کہا :

"مقتدر لوگ ہی طے کرتے ہیں کہ کیا کہنا چاہیے طاقت خواہش کو دبانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جیسے" سپر ایگو"،  " ایڈ "کو دباتا ہے"

"جولیا کرسٹوا "نے شعری زبان کا جو نظریہ پیش کیا وہ تخیل نفس پر مشتمل  ہے۔ اس نے ان کے زہنی رویوں کا سراغ لگانے کی کوشش کی جن کے باعث پر وہ چیز معقول و منظم سمجھی جاتی ہے جو غیر معقولیت اور انتشار کے خطرات سے دوچار رہتی ہے

"ہانس روبرٹ ہاؤس " نے نظریہ قبولیت کے ذریعے قاری اساس تنقید کو تاریخی جیت عطا کی ہے  ہاؤس نے روسی  ہئت پسند اور سماجی نظریوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی  اس کتاب کا انگریزی ترجمہ towards an Asthetic of Reception ۱۹۸۶میں شائع ہوا    ۱۹۶۰میں جب جرمنی میں سماجی اصطراب کا دور تھا ، ہاؤس اور اس کے ساتھیوں نے جرمن ادب کو پھر سے کھنگالا۔

"لیوتار" کی  تھیوری کی سیاسی جہت وہی ہے جو پس ساختیاتی مفکرین کی ہے۔ ان کے نزدیک تاریخ کے بڑے رزمیے یا متھ دو ہیں۔

۱۔ انسان کی آزادی و حریت کا خواب

۲۔ علوم انسانی کی کلی وحدت کا خواب وہ ان کو "مہا بیانیہ بھی کہتا ۔

پہلا بیانیہ نوعیت کے اعتبار                   سےعملی سیاسی ہے جس کا انقلاب فرانس سے ہوا اس کو Narrative of Emancipation کہتا ہے ۔ دوسرا مہا بیانیہ نوعیت کے اعتبار سے فکری ہے اور اس کا آغاز "ہیگل" کی جرمن روایت سے ہوا ۔ اسکا کہنا ہے کہ

املاً یہ دونوں مہا بیانیے آمرانہ ہیں اور انسان کی آزادی چھیننے کے لیے کوشاں ہے

ساختیات اور پس ساختیات میں بنیادی فرق


 بقول گوپی چند نارنگ

۱۔پس ساختیات نوعیت کے اعتبار سے چوں کہ باغیانہ ، آزاد اور تحلیلی ہے ، لہذا پس ساختیاتی یا مابعد جدید تنقید کی کوئی تعریف مکمل تعریف نہیں کہی جاسکتی ، اس کا کوئی ماڈل خود اس کی سپرٹ کے خلاف ہے ۔پس ساختیاتی تھیوری نہ تو کوئی پروگرام دیتی ہے نہ طریقہ کار اور نہ کوئی حکمت عملی وضع کرتی ہے ۔ واضح رہے کہ نئی تھیوری ادب یا تنقید کو ضابطہ نہیں  ہے ۔ جبکہ  ساختیات میں

ہیں ۔

گی پیدا کرنے

          ۲۔ساختیاتی مفکرین مکرین نے متن پر قدرت حاصل کرنے نے اور اس کے رازوں کو گرفت میں لینے کی کوشش کی لیکن پس ساختیاتی مفکر مفکرین نے دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ خواہش کسی طور پوری نہیں ہو سکے ہو سکتی ۔ کیوں کہ بہت سی لسانی اور تاریخی حقیقتیں ایسی ہیں جن پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔

۳۔ نشانیاتی نظام زبان کے علامتی نظام میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ افتراق اور التواء معنی نما اور معنی کے درمیان خلا پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ساختیاتی مفکرین نے جواب دینے کے بجائے سوال اٹھانے کی حکمت عملی اپنائی ۔ انھوں نے اس نکتے کی طرف توجہ مبذول کی کہ متن کیا کہتا ہے اور دعوی کیا کرتا ہے۔ اسی طرح پس ساختیات زبان کی وہ خصوصیات منظر عام پر لاتی ہے جو باہم عدم مطابقت رکھتی ہیں۔ یوں پس ساختیات کا جھکاؤو تخلیقیت اور تکثیر معنی کی طرف نظر آتا ہے۔ ادب کے علاوہ ثقافت کے دیگر شعبوں مثلاً فلم ، آرٹ اور موسیقی پر بھی اس کے واضح اثرات نظر آتےہیں۔

۴۔ تحریک نسوانیت کا زیادہ فکر و فلسفہ، ساختیات کے نظریات سے اخذ کیا گیا ہے۔                                                 

 

 حوالہ جات

۱۔ ڈاکٹر ھارون : نور تحقیق[ جلد ۵،شمارہ ۱۸] شعبہ اردو گیریژن یونیورسٹی ، لاہور :ص -۷۷

۲۔انور جمال : ادبی اصطلاحات : نیشنل بک فا  و نڈیشن: اسلام آباد :ص-۱۱۶

۳۔ گوپی چند نارنگ :ساختیات پس ساختیات اور مشرق شعریات : ایجوکیشنل پبلی کیشنز ہاوس :دہلی : ص -۴۰

۴ ۔ڈاکٹر ناصر عباس نئیر : پورپ اکا دمی  : اسلام آباد:ص-۱۹

۵۔احمد سہیل ساختیات ، تاریخ ،نظریہ ، اوار تنقید :  جی –سی یونیورسٹی :لاہور  :ص-۳۲

۶۔ ایضاً: ص- ۳۵

۷۔ ایضاً:ص-۳۹

۸۔ ایضاً:ص-۴۰

9.     Lewis, Philip; Descombes, Vincent; Harari, Josue V. (1982). "The Post-Structuralist Condition". Diacritics. 12 (1): 2–24. doi:10.2307/464788. JSTOR 464788.

 

کتابیات

۱۔ انور جمال : ادبی اصطلاحات : نیشنل بک فا  و نڈیشن: اسلام آباد۔

۲۔ احمد سہیل ساختیات ، تاریخ ،نظریہ ، اوار تنقید :  جی -سی یونیورسٹی :لاہور  ۔

۳۔ گوپی چند نارنگ :ساختیات پس ساختیات اور مشرق شعریات : ایجوکیشنل پبلی کیشنز ہاوس :دہلی۔

۴۔ ڈاکٹر ناصر عباس نئیر : پورپ اکا دمی  : اسلام آباد۔

۵۔ ڈاکٹر ھارون : نور تحقیق[ جلد ۵،شمارہ ۱۸] شعبہ اردو گیریژن یونیورسٹی ، لاہور

 


کوئی تبصرے نہیں: