تحریر: شہباز علی سولنگی
اکیسویں صدی
کے سماجی اور ادبی علوم میں "تانیثیت" (Feminism) اور "نسائیت" (Femininity) کی اصطلاحات ایک نہایت پیچیدہ
اور کثیر الجہتی بحث کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ یہ محض لغوی مترادفات نہیں ہیں،
بلکہ ان کے پیچھے صدیوں پر محیط ایک ایسا فکری سفر کارفرما ہے جس نے انسانی سماج میں
صنف، طاقت اور شناخت کے تصورات کو جڑ سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ علمی اور عوامی حلقوں
میں عموماً ان اصطلاحات کو خلط ملط کیا جاتا ہے، تاہم تجزیاتی مطالعہ یہ ظاہر کرتا
ہے کہ تانیثیت بنیادی طور پر ایک سیاسی اور سماجی مزاحمت کا نام ہے جو پدرسری نظام
کے خلاف صف آرا ہے، جبکہ نسائیت کا تعلق عورت کے وجودی اظہار، اس کی جمالیات اور
ان مخصوص صفات سے ہے جو اسے حیاتیاتی یا ثقافتی طور پر مرد سے ممیز کرتی ہیں۔ اردو
ادب کے معتبر ناقدین کے نزدیک ادبی تنقید میں نسائی آواز اور تانیثی احتجاج دو الگ
الگ تخلیقی رویے ہیں۔ تانیثیت کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ سماج میں عورت کی محکومیت
فطری نہیں، بلکہ ایک سماجی تعمیر ہے جسے پدرسری نظام نے تشکیل دیا ہے، اور اس کا
مطالبہ محض حقوق کا حصول نہیں بلکہ اس طاقت کے ڈھانچے کی تبدیلی ہے۔ دوسری جانب،
نسائیت عورت کی "ہونی" (Being) اور
انفرادی کیفیات کا مجموعہ ہے، جو مردانہ اصولوں کی نقل کرنے کے بجائے اپنی الگ
نسوانی شناخت پر فخر کرتی ہے۔ کیرل گلیکن کے اختلافی تانیثیت کے نظریے کے مطابق،
مرد اور عورت کا یہ حیاتیاتی و نفسیاتی فرق کمتری کی دلیل نہیں بلکہ انسانی تنوع
کا حسن ہے۔
مغرب میں
تانیثیت کی تاریخ مختلف ادوار میں مختلف لہروں کی صورت میں ابھری۔ دورِ روشن خیالی
کے دوران 1792 میں میری وولسٹن کرافٹ نے "حقوقِ نسواں کا مقدمہ" پیش کر
کے اس فکر کی باقاعدہ آبیاری کی اور استدلال کیا کہ عورتوں کی پسماندگی فطری نہیں
بلکہ تعلیم کی کمی کا نتیجہ ہے۔ اس کے بعد انیسویں صدی کے وسط سے شروع ہونے والی
پہلی لہر نے عورت کی قانونی شخصیت اور حقِ رائے دہی پر زور دیا، جس میں مارگریٹ
فلر اور 1848 کے سینیکا فالز کنونشن کا کردار کلیدی رہا۔ پہلی اور دوسری لہر کے
درمیانی عرصے میں ورجینیا وولف نے اپنے شاہکار مضمون "اپنا ایک کمرہ"
(1929) کے ذریعے تانیثی فکر کو نفسیاتی اور مادی جہت عطا کی، اور واضح کیا کہ عورت
کی تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے معاشی خودمختاری ناگزیر ہے۔ 1960 کی دہائی میں
دوسری لہر نے "ذاتی ہی سیاسی ہے" کے نعرے کے ساتھ کلچر، خاندان اور تولیدی
حقوق کے مسائل کو اجاگر کیا، جب کہ 1990 کی دہائی میں شروع ہونے والی تیسری لہر نے
انٹرسیکشنلٹی (Intersectionality) کے نظریے کے تحت یہ تسلیم کیا کہ عورت کا تجربہ محض صنف
تک محدود نہیں بلکہ نسل، طبقہ اور ثقافت جیسے عوامل بھی اس استحصال میں باہم مل کر
اثر انداز ہوتے ہیں۔
برصغیر پاک
و ہند میں تانیثیت کا ارتقاء استعمار، قوم پرستی اور مذہبی اصلاح کے پیچیدہ تانے
بانے میں پروان چڑھا۔ نوآبادیاتی دور سے قبل یہاں مہ لقا بائی چندا جیسی خواتین
موجود تھیں، جو نہ صرف ریاست کی مشیر تھیں بلکہ اردو کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ
ہونے کے ناطے اس بات کا ثبوت تھیں کہ مقامی معاشرے میں عورت کے پاس اختیار اور
اظہار کے ذرائع موجود تھے۔ 1857 کے بعد سر سید کی علی گڑھ تحریک نے اصلاحی تانیثیت
متعارف کرائی جس کا مقصد عورت کی ذاتی آزادی کے بجائے ایک "سگھڑ بہو"
اور مثالی نسل کی پرورش تھا۔ تاہم، اسی دور میں مولوی سید ممتاز علی نے "تہذیبِ
نسواں" اور رشید النساء نے 1881 میں اردو کے پہلے ناول "اصلاح
النساء" کے ذریعے عورتوں کی تعلیم اور مردانہ جبر کے خلاف خاموش مگر موثر
مزاحمت کا آغاز کیا۔ بیسویں صدی میں ترقی پسند تحریک کی آمد سے تانیثی شعور میں ایک
انقلابی تبدیلی آئی، جس کی سب سے توانا آواز عصمت چغتائی بن کر ابھریں، جنہوں نے
اپنے افسانے "لحاف" اور دیگر تحریروں کے ذریعے متوسط طبقے کی عورت کی
نفسیاتی اور جنسی گھٹن کو بے نقاب کیا۔
اقسام:
نظریاتی
اعتبار سے تانیثیت کوئی ایک اکائی نہیں بلکہ مختلف اقسام اور مکاتبِ فکر کا مجموعہ
ہے، اور اردو ادب پر ان تمام اقسام کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ لبرل تانیثیت، جو
مروجہ نظام کے اندر رہتے ہوئے قانونی اصلاحات اور تعلیم کے ذریعے برابری کی قائل
ہے، سید ممتاز علی اور رشید النساء کی تحریروں میں نمایاں ہے۔ اس کے برعکس، ریڈیکل
تانیثیت پدرسری نظام کو مکمل طور پر اکھاڑ پھینکنے کی حامی ہے، جس کی عملی جھلک
کشور ناہید کی نظم "ہم گنہگار عورتیں" میں ریاستی اور سماجی اتھارٹی کے
خلاف براہِ راست مزاحمت کی صورت میں نظر آتی ہے۔ مارکسی یا سوشلسٹ تانیثیت عورت کے
استحصال کا ذمہ دار سرمایہ داری اور معاشی انحصار کو ٹھہراتی ہے، جس کی بہترین
عکاسی خدیجہ مستور کے ناول "آنگن" میں معاشی بدحالی اور خاندانی زوال کے
پس منظر میں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مشرقی یا پس نوآبادیاتی تانیثیت مغرب کی اندھی
تقلید کے بجائے مقامی تہذیبی اور تاریخی پس منظر میں حقوق کی علمبردار ہے، جیسا کہ
قرۃ العین حیدر کے ناولوں اور شمس الرحمن فاروقی کی تنقید میں برصغیر کی بااختیار
خواتین کو ان کی اصل شناخت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
تنقید:
تانیثی تنقیدنے
ادب کے مطالعے اور تنقیدی رویوں میں ایک نیا باب رقم کیا ہے، جہاں تنقید کی اقسام
محض ساخت یا زبان کے تجزیے تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس نے متن میں صنفی تعمیر کے
عمل کو اپنی مطالعاتی حکمت عملی (Reading Strategy) کا حصہ بنا لیا ہے۔ اردو ادب میں شمس الرحمن فاروقی کا
کردار اس حوالے سے کلیدی ہے، جنہوں نے روایتی تصورات کو چیلنج کرتے ہوئے واضح کیا
کہ کلاسیکی اردو غزل بنیادی طور پر ایک "نسائی صنف" ہے جس میں عاشق کے
جذبات، سپردگی اور کیفیات عموماً نسائی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ انہوں نے "ریختی"
کو محض مذاق یا فحاشی سمجھنے کے بجائے اسے عورتوں کی زبان اور نجی زندگی کا ایک
اہم تاریخی ریکارڈ قرار دیا۔ فاروقی کے ناول "کئی چاند تھے سرِ آسماں" کی
ہیروئن وزیر خانم ایک ایسی عورت کی بازیافت ہے جو مردانہ سماج میں اپنی شرائط پر
زندگی گزارتی ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی دور سے قبل ہندوستانی عورت
کہیں زیادہ آزاد اور پراعتماد تھی۔ آج کی جدید تانیثی تنقید، ڈاکٹر ناصر عباس نیئر
اور دیگر جدید نقادوں کے ہاں، یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کوئی متن کس طرح عورت کو خاموش
کراتا ہے یا اسے دقیانوسی کرداروں تک محدود رکھتا ہے، یوں یہ تنقید ادب میں تاریخ
کے حاشیے پر دھکیلی گئی آوازوں کو دوبارہ مرکز میں لانے کا ایک موثر ترین ذریعہ بن
چکی ہے۔
کوئی تبصرے نہیں: