ابو ریحان البیرونی کا "تصور ِ تاریخ" اقبال کی نظر میں
تحریر:شہباز
علی سولنگی
"علم تا از عشق برخوردار نیست
جز تماشہ خانہء افکار نیست"
ترجمہ: علم جب تک عقل سے پھل
کھانے والا اور فیض اٹھانے والا نہ ہو، وہ افکار کے تماشہ خانے کے سوا کچھ نہیں
ہے۔
مسلم تاریخ اور عالمی
علوم و فنون کے آسمان پر ابوریحان البیرونی ایک ایسا روشن عنوان ہے جس کی چمک ایک
ہزار سال گزرنے کے بعد بھی ماند نہیں پڑی۔ وہ ایک ایسی عظیم اور کثیر الجہتی شخصیت
تھے جن کی نظیر نہ ان کے اپنے دور میں ملتی ہے اور نہ ہی ان کے بعد۔ البیرونی بیک
وقت فلسفہ، مابعد الطبیعیات، مذہب، تاریخ، تقویم، تہذیب، آرٹ، لسانیات، انشاء،
شاعری، ارضیات، جغرافیہ، علمِ بدن، علم الادویہ، معدنیات، طبیعیات، کیمیا، ریاضی،
علم نجوم، اور دست شناسی جیسے بے شمار علوم کے زبردست ماہر تھے۔ ان کا مطالعہ محض
سطحی نہ تھا، بلکہ انہوں نے ان علوم میں ایسے بنیادی اضافے کیے جو آج بھی جدید
سائنس کی اساس مانے جاتے ہیں۔ اگر ان کے ہر مضمون کے کام کو الگ الگ پیش کیا جائے
تو کئی ضخیم کتب درکار ہوں گی، اگرچہ ان کا بیشتر کام تاریخ کی دست برد کی نذر ہو
گیا۔ اپنے انتقال سے ۱۳ سال قبل ایک خط میں انہوں نے اپنی ۱۱۴ کتابوں کا ذکر
کیا تھا، جن میں سے نصف آج بھی دنیا کے مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں۔
خوارزم (موجودہ خیوا،
وسط ایشیا) کے مضافات میں ۹ ستمبر ۹۷۳ء کو پیدا ہونے والے محمد بن احمد کو ان کے جائے
پیدائش کی نسبت سے "البیرونی" کہا گیا۔ لسانی اعتبار سے وہ نابغہ روزگار
تھے۔ فارسی ان کی مادری زبان تھی، عربی اس دور کی علمی زبان تھی اور ترکی ان کے
آبائی علاقے کی زبان تھی، لہٰذا ان تینوں پر انہیں مکمل عبور حاصل تھا۔ اس کے
علاوہ سریانی، عبرانی، یونانی، اور سنسکرت پر بھی ان کی گہری دسترس تھی۔
البیرونی
کا تصورِ تاریخ اور فلسفیانہ نظریات
البیرونی کے ہاں
'تاریخ' کا مروجہ اور روایتی مفہوم نہیں ملتا۔ اپنی کتاب "التفہیم" میں
وہ تاریخ کی تعریف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ تاریخ دراصل زمانے کے اندر کسی خاص اور
اہم وقت (دن یا لمحے) کا نام ہے جس سے قبل اور بعد کے ادوار کی حد بندی ہوتی ہے
(مثلاً کوئی نیا دین آنا، نئی حکومت کا قیام، یا کوئی طوفان)۔ اس تصور میں ارتقاء
کا وہ نظریہ موجود نہیں جس میں تاریخ بہتر سے بہترین کی طرف خطِ مستقیم میں سفر
کرتی ہو۔
ان کے سائنسی اور
تکوینی نظریات اپنے دور سے بہت آگے تھے:
تخلیقِ کائنات (Ex-nihilo): البیرونی یونانیوں کے اس عقیدے کے سخت مخالف تھے کہ کائنات
قدیم (ازلی و ابدی) ہے۔ ان کا پختہ یقین تھا کہ خدا نے اس دنیا کو 'عدم' سے وجود
میں لایا ہے۔
قانونِ علت و معلول (Causality): البیرونی علت و معلول کے سلسلے کو غیر مختتم اور لامتناہی
نہیں مانتے تھے۔ وہ تعلیل کے پیچیدہ چکروں میں پڑے بغیر واضح الفاظ میں خداوند
تعالیٰ کو کائنات کا براہِ راست خالق قرار دیتے ہیں۔
امکانِ وقوع کا قانون (Law of Probability): ان کا یہ نظریہ بے حد دلچسپ اور امید افزا ہے کہ جو شے آج
موجود نہیں، ممکن ہے وہ ماضی کے کسی دور میں موجود رہی ہو یا مستقبل کے کسی دور
میں ظہور پذیر ہو جائے۔ یہ مادہ پرستوں کے مایوس کن نظریے کے برعکس مستقبل کی نت
نئی کائناتوں کا تصور پیش کرتا ہے۔
زمانِ دَوری (Cyclic Time): البیرونی کے نزدیک زماں (وقت) کی حرکت خطِ مستقیم کے بجائے
دائرے (Cyclic) کی صورت میں ہے۔ ان
کا خیال ہے کہ ہر دائرے کا ایک الگ آدم اور حوا ہے، اور زمانے کی یہ حرکت سورج کی
گردش سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔ تاہم، وہ وقت کو لامحدود نہیں مانتے، ان کے نزدیک زماں
کی ابتدا بھی ہے اور اس کی ایک حتمی انتہا بھی۔
تغیر فی الاحوال: وہ مانتے تھے کہ حالات میں تبدیلیاں مشیتِ ایزدی، سماوی
اثرات اور اشیاء کی اندرونی کشمکش کے تحت مسلسل رونما ہوتی رہتی ہیں۔
علامہ
اقبال اور البیرونی کی فکری ہم آہنگی
علامہ اقبال البیرونی
کے بڑے مداح تھے۔ انہوں نے اپنے خطبات میں البیرونی کو ان مسلم حکماء میں شمار کیا
ہے جنہوں نے یونانیوں کے قیاسی اور نظریاتی فلسفے کے برعکس مشاہداتی اور تجربی
طریقہ کار (Empirical Method) کو فروغ دیا۔ اقبال
کے نزدیک البیرونی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے جدید ریاضیات کے "تصورِ
تفاعل" (Function) کی طرف قدم بڑھایا
اور کائنات کو ایک 'ساکن وجود' کے بجائے ایک حرکت پذیر عمل (Process of becoming) کے طور پر پیش کیا۔
اقبال کا البیرونی اور
ابنِ خلدون کا ایک ساتھ ذکر کرنا تاریخ کے فلسفے میں ایک دلچسپ بحث کو جنم دیتا
ہے۔ ابنِ خلدون تہذیبوں کی محدود عمر اور ان کے دائروں میں زوال کے قائل ہیں، جبکہ
اقبال تاریخ کو خطِ مستقیم میں ایک مسلسل حرکت سمجھتے ہیں۔ اگرچہ البیرونی اصلاً
ہیئت، ریاضی اور طب کے آدمی تھے، لیکن انہوں نے "کتاب الہند" جیسی تصنیف
کے ذریعے ہمیں معاشرتی اور عمرانی تاریخ کا ایک بے مثال باب عطا کیا، جس میں تاریخ
کو آیاتِ الٰہی کا حصہ سمجھا گیا۔
علامہ
اقبال اور مولانا ابوالکلام آزاد
تاریخِ اسلام کے فکری
سفر کو آگے بڑھائیں تو برصغیر میں دو ایسی نابغہ روزگار شخصیات ابھرتی ہیں جن کا
مقصد تو ایک تھا، مگر راستے اور مزاج بالکل جدا تھے۔ ایک طرف شاعرِ مشرق علامہ
محمد اقبال تھے، اور دوسری جانب امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد۔
ابوالکلام آزاد کی
پیدائش ۱۸۸۸ء میں مکہ معظمہ میں
ہوئی۔ ان کا اصل نام محی الدین احمد تھا مگر وہ ابوالکلام آزاد کے نام سے دنیا بھر
میں مشہور ہوئے۔ مصر کی جامعہ ازہر سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کلکتہ کو
مرکز بنایا اور ۱۹۱۲ء میں "الہلال" کے نام سے ایک انقلاب آفریں با تصویر
اخبار نکالا۔ آزاد اپنے عہد کے نہایت جینئس انسان تھے، جن کی علمی فضیلت کے اعتراف
میں انہیں 'بھارت رتن' سے بھی نوازا گیا۔
ڈاکٹر سید عبداللہ ان
دونوں اکابرین کے تعلق کو ایک "نازک مسئلہ" قرار دیتے ہیں۔ یہ عجیب
اتفاق ہے کہ ایک ہی زمانے اور ایک ہی ماحول میں رہنے کے باوجود ان دونوں کے درمیان
ایک پرسرار فاصلہ اور معاصرانہ چشمک رہی۔ علامہ اقبال نے اپنے مسائل کے حل کے لیے
اپنے دور کے بے شمار چھوٹے بڑے اہلِ علم و فضل سے رابطہ کیا، مگر اس طویل فہرست
میں ابوالکلام کا نام غائب ہے۔ دوسری طرف آزاد نے اپنی تحریروں میں فارسی اور اردو
کے بے شمار شعراء (حتیٰ کہ داغ تک) کے اشعار درج کیے، مگر علامہ اقبال کا ایک شعر
بھی نقل نہیں کیا۔ یہ ناآشنائی اس لیے بھی حیران کن ہے کہ دونوں ہی اتحادِ اسلام،
ملتِ اسلامیہ اور خلافت کے عظیم علمبردار تھے۔
تقابلی
جائزہ: اقبال اور آزاد کے فکری و عملی زاویے
۱۔ علمی و تہذیبی کمالات کی نوعیت
علامہ اقبال: علامہ اقبال صدیوں کے کمال کا ترجمان اور مجسم تصویر تھے۔ وہ
اسلامی تہذیب کی فکری اور جمالیاتی روح کے شناساء، قدیم و جدید فکر کے امتزاج میں
یگانہ، اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم مفکر اور حکیم تھے۔ ان کی نگاہ ماضی،
حاضر اور مستقبل تینوں زمانوں پر محیط تھی۔
مولانا ابوالکلام آزاد: آزاد علم کا ایک بحرِ بے کراں تھے۔ وہ بیک
وقت عالم، ادیب، انشا پرداز، خطیب، بزلہ سنج اور شعر فہم تھے۔ ان کا سب سے بڑا
کمال یہ تھا کہ انہوں نے دین اور ادب کو ایک ہی خوبصورت رشتے میں پرو دیا تھا۔ ان
کی تربیت خالص دینی ماحول میں ہوئی اور علمِ دین ہی ان کا بنیادی جوہر تھا۔
۲۔ رومانیت اور تصوف کا تصور
علامہ اقبال: اقبال کے ہاں رومانیت اور تصوف کا عملی اور متحرک نمونہ ملتا
ہے۔ ان کے پسندیدہ کردار عالمِ تصوف سے تعلق رکھتے ہیں (جیسے رومی، سنائی، عراقی)۔
اقبال کے نزدیک "جنوں" ایک حرکی عنصر ہے اور صاحبِ جنوں کو لذتِ علمی سے
زیادہ لذتِ عملی حاصل ہوتی ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد: آزاد کی رومانیت اہلِ دین اور جدوجہد سے
اپنے نمونے تلاش کرتی ہے۔ ان کے ہاں دعوت و عزیمت، سرفروشی، قید و بند اور طوق و
سلاسل کو اوجِ کمال سمجھا جاتا ہے۔ آزاد عقیدے کی پختگی میں چٹان کی طرح سخت تھے
اور جابر سلاطین کے سامنے اعلائے کلمۃ الحق بلند کرنا ان کا طرۂ امتیاز تھا۔
۳۔ کردار کی نوعیت: قاہری بمقابلہ
صابری
علامہ اقبال: اقبال اور آزاد دونوں کے ہاں قوت موجود ہے، مگر اقبال کے
کردار "قاہری" اور جلال میں اپنی قوت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ ہنگامے اور
مسلسل عمل کے قائل ہیں۔
مولانا ابوالکلام آزاد: آزاد کے کردار اپنی قوت کا اظہار
"صابری" اور استقامت کے ذریعے کرتے ہیں۔ وہ ہنگامہ آفرینی کے بجائے ثابت
قدمی کو ترجیح دیتے ہیں۔
۴۔ مغربی تہذیب اور جدید فنون پر
نقطہ نظر
علامہ اقبال: اقبال چونکہ جدید مغربی تعلیم سے براہِ راست بہرہ ور تھے، اس
لیے وہ جدید زندگی، مغربی تہذیب، اور فنونِ لطیفہ (سنیما، تھیٹر وغیرہ) کے سخت
ناقد تھے۔ ان کی پوری کوشش رہی کہ علمائے دین (جیسے علامہ سلیمان ندوی، انور شاہ
کشمیری) ان کی ہم زبانی کریں۔
مولانا ابوالکلام آزاد: اس کے برعکس، آزاد کے ہاں فنونِ لطیفہ اور
جدیدیت کے بارے میں زیادہ کشادگی پائی جاتی تھی۔ ان کی طبیعت میں خوش مذاقی فطری
طور پر موجود تھی۔
۵۔ مذہبی رویہ: لچک اور سختی
علامہ اقبال: بعض اہم مذہبی و سماجی مسائل میں اقبال کے نقطہ نظر میں
سختی، شدت اور جلال کا رنگ نظر آتا ہے (مثلاً قادیانیوں کے حوالے سے ان کا سخت
مؤقف یا قتلِ مرتد کا مسئلہ)۔
مولانا ابوالکلام آزاد: انھی مسائل میں آزاد کا میلان وسیع
المشربی، اعتدال اور لبرل ازم کی طرف جھکتا ہے۔ وہ سخت مؤقف کے بجائے لچک اور
برداشت کا رویہ اختیار کرتے تھے۔
علامہ اقبال اور مولانا
ابوالکلام آزاد دونوں نے اپنی اپنی جگہ برصغیر کے مسلمانوں کی زبردست فکری و
تہذیبی رہنمائی کی، مگر ان کے اندازِ فکر اور عملی حکمتِ عملی میں واضح فرق تھا۔
البیرونی کی طرح جنہوں نے اپنے دور میں مروجہ فکری جمود کو توڑ کر ایک نئی
مشاہداتی دنیا بسائی، اقبال اور آزاد نے بھی اپنے اپنے دائرہ کار میں مسلم فِکر کی
تجدید کا عظیم فریضہ سرانجام دیا۔
حوالہ
جات
سید جمیل احمد
رضوی، ڈاکٹر سید عبداللہ، مقتدرہ قومی زبان اردو، اسلام آباد، 1989، ص 05۔
ڈاکٹر سید عبداللہ،
اعجازِ اقبال، سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور، 2004، ص 09۔
ایضاً، ص 10۔
ڈاکٹر محمد
اقبال، کلیات اقبال (فارسی)، مکتبہ دانیال، لاہور، س۔ن، ص 696۔
سید عون ساجد
نقوی، فرہنگنامہ اقبال لاہوری، پورب اکادمی پبلیشرز، اسلام آباد، 2012، ص 48 تا
253۔
سید سعید احمد،
البیرونی، اسلامک بک فاؤنڈیشن، نئی دہلی، س۔ن، ص 3 تا 8۔
ڈاکٹر سید عبداللہ،
اعجازِ اقبال، سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور، 2004، ص 258۔
عبداللہ بٹ،
ابوالکلام آزاد، قومی کتب خانہ، لاہور، 1943، ص 21 تا 23۔
کتابیات
سید جمیل احمد رضوی:
ڈاکٹر سید عبداللہ، مقتدرہ قومی زبان اردو، اسلام آباد، 1989۔
سید سعید احمد:
البیرونی، اسلامک بک فاؤنڈیشن، نئی دہلی، س۔ن۔
ڈاکٹر سید عبداللہ:
اعجازِ اقبال، سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور، 2004۔
سید عون ساجد نقوی:
فرہنگنامہ اقبال لاہوری، پورب اکادمی پبلیشرز، اسلام آباد، 2012۔
عبداللہ بٹ: ابوالکلام
آزاد، قومی کتب خانہ، لاہور، 1943۔
ڈاکٹر محمد اقبال:
کلیات اقبال (فارسی)، مکتبہ دانیال، لاہور، س۔ن۔
کوئی تبصرے نہیں: