بلاگ تلاش کریں

اردو قواعدِ املا و صَرف: ساخت، ضوابط اور اطلاقی پہلو

Shehbaz Ali Solangi Humsub geo rekhta jung pakistan social iqbal allama

 تحریر:شہباز علی سولنگی


زبان انسانی خیالات، مقتضیات اور تہذیبی اقدار کی عکاس ہوتی ہے۔ کسی بھی زبان کو علمی اور ادبی سطح پر کماحقہ سمجھنے اور اسے لغزشوں سے محفوظ رکھنے کے لیے قواعد و ضوابط کا مرتب ہونا ناگزیر ہے۔ اردو زبان کی وسعت، اس کی ساخت اور صوتیاتی نظام کو سمجھنے کے لیے علمِ صرف بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں تفصیلی طور پر کلمہ کی مروجہ اقسام، اسم و فعل کے مختلف نظریات، علمِ صرف کے کلیدی ضوابط، حروف کی گوناگوں صورتیں، تمیز کے اصول، مرکبات کی ساخت اور سب سے بڑھ کر روزمرہ تحریر میں سرزد ہونے والی غلطیوں کی اصلاح کے لیے "امالے" کے اصول و مستثنیات کو  قلمبند کیا گیا ہے۔


 علمِ صَرف اور کلمہ کی اساسی تقسیم

لسانی قواعد کی رو سے قواعد کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں علمِ صرف بنیادی ستون ہے۔ علمِ صرف قواعد کی وہ اہم قسم ہے جس میں الفاظ کی بناوٹ، ان کی اندرونی ساخت، مادہ، معانی اور ان کی کلماتی حیثیت سے بحث کی جاتی ہے۔ یہ علم ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک لفظ سے دوسرا لفظ کس طرح وضع کیا جاتا ہے، اور لفظ واحد ہے، جمع، مذکر ہے یا مؤنث، اسم ہے، فعل ہے یا حرف۔ ماہرینِ لسانیات کے نزدیک اس علم کے ماہر کو "صرفی" کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مولوی عبدالحق اور ڈاکٹر ابواللیث صدیقی جیسے اکابرینِ قواعد کے مطابق، صرف کا حقیقی تعلق صرف بامعنی الفاظ (کلمہ) سے ہوتا ہے، جبکہ مہمل یا بے معنی الفاظ قواعد کے دائرہ کار سے خارج ہوتے ہیں۔ کلمہ اپنی اصل ساخت کے اعتبار سے بنیادی طور پر تین حصوں میں منقسم ہے: اسم، فعل اور حرف۔ تاہم، تفصیلی مطالعے میں صفت اور تمیز کو بھی کلمے کی توصیفی حالتوں کے طور پر الگ سے پرکھا جاتا ہے کیونکہ یہ جملے کے معنوی ابہام کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اسم وہ بامعنی کلمہ ہے جو کسی بھی جاندار، جگہ، شے، کیفیت یا تصور کا نام ہو اور اپنے معنی خود ظاہر کرے، جبکہ اس میں کسی مخصوص زمانے (ماضی، حال، مستقبل) کا شائبہ نہ پایا جائے؛ جیسے "قلم"، "اسلام آباد" یا "علم"۔ اس کے برعکس، فعل وہ کلمہ ہے جو اکیلے اپنے مکمل معانی فراہم کرتا ہے مگر اس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا کسی نہ کسی زمانے کے ساتھ مشروط ہوتا ہے؛ جیسے "لکھا"، "پڑھتا ہے" یا "آئے گا"۔ حرف کلمے کی وہ قسم ہے جو تنہا کوئی واضح معنی نہیں دیتا اور جب تک وہ کسی اسم یا فعل کے ساتھ شامل نہ ہو، جملے کی ساخت مکمل نہیں ہوتی؛ جیسے "کا"، "پر"، "سے"۔ صفت کلمے کی وہ خصوصیت ہے جو کسی اسم کی اچھائی، برائی، مقدار یا حالت کو واضح کرے، جبکہ تمیز وہ کلمہ ہے جو فعل یا صفت کے اندر موجود ابہام یا شک کو دور کرنے کے لیے استعمال ہو اور اس کی شدت، جہت یا کیفیت میں کمی و بیشی کو متعین کرے۔


 اسم کی معنوی و بناوتی اقسام اور اسمِ علم کے اسرار

معنی کے اعتبار سے اسم کو دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: اسمِ معرفہ (کسی خاص شخص، جگہ یا چیز کا نام جیسے "بانگِ درا") اور اسمِ نکرہ (کسی عام شے یا جنس کا نام جیسے "کتاب")۔ اگر بناوٹ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اسم کی تین اقسام سامنے آتی ہیں: جامد (وہ اسم جو نہ خود کسی لفظ سے بنا ہو اور نہ اس سے کوئی اور لفظ بن سکے جیسے "پتھر")، مصدر (وہ اسم جو خود تو کسی کلمے سے نہیں بنتا لیکن مقررہ قاعدوں کے مطابق اس سے بہت سے نئے الفاظ بنتے ہیں، جیسے "لکھنا")، اور مشتق (وہ اسم جو کسی مصدر سے خاص قواعد کے تحت نکالا گیا ہو جیسے "لکھنا" سے "لکھاری" یا "مکتوب")۔

اسمِ معرفہ کے تحت ایک انتہائی اہم شاخ "اسمِ علم" کی ہے، جو کسی شخص کے مخصوص اور حقیقی نام یا پہچان کو ظاہر کرتی ہے۔ اسمِ علم کی پہلی قسم لقب ہے، جو وہ خاص نام ہوتا ہے جو کسی شخص کی ذاتی خوبی، وصف یا مایہ ناز خامی کی وجہ سے عوام یا قوم کی طرف سے مشہور ہو جائے؛ جیسے قائدِ اعظم، صادق اور امین، یا کلیم اللہ۔ دوسری قسم خطاب ہے، جو وہ اعزازی نام ہوتا ہے جو حکومت، ریاست یا کسی بڑے ادارے کی جانب سے کسی شخص کو اس کی نمایاں علمی، ادبی یا قومی خدمات کے اعتراف میں دیا جائے؛ جیسے شمس العلماء یا سر۔ تیسری قسم کنیت ہے، یعنی وہ نام جو ماں، باپ، بیٹے، بیٹی یا کسی خاص تعلق کی نسبت سے پکارا جائے؛ جیسے ابنِ مریم، ابو القاسم، یا امِ سلمہ۔ چوتھی قسم تخلص ہے، جو وہ مختصر نام ہوتا ہے جو شعراء کرام اپنے اصل نام کے بجائے اپنے اشعار کے آخری شعر (مقطع) میں حسنِ کلام اور پہچان کے لیے استعمال کرتے ہیں؛ جیسے غالب، اقبال، یا فیض۔ پانچویں قسم عرف ہے، یعنی وہ نام جو اصل نام کے بگڑنے، لاڈ پیار، محبت یا حقارت کی وجہ سے معاشرے میں زبان زدِ عام ہو جائے؛ جیسے پپو، مٹھو، یا شیدا۔


اسمِ نکرہ کی ذیلی صورتیں اور اشتقاقی اسماء

اسمِ نکرہ کی بحث میں جب ہم ذات اور خصوصیت کے پہلو کا جائزہ لیتے ہیں تو متعدد ذیلی اسماء سامنے آتے ہیں جو تحریر میں وسعت پیدا کرتے ہیں۔ ان میں اسمِ فاعل (کام کرنے والے کی اسماتی پہچان جیسے "حاکم" یا "قاتل")، اسمِ مفعول (جس پر کام واقع ہوا ہو جیسے "محکوم" یا "مظلوم")، اسمِ معاوضہ (کسی خدمت یا کام کی اجرت کا نام جیسے کپڑوں کی "سلائی" یا دیوار کی "رنگائی")، اور اسمِ حالیہ (جو فاعل یا مفعول کی موجودہ حالت یا کیفیت کو ظاہر کرے جیسے "روتا ہوا بچہ" یا "دوڑتا ہوا کھلاڑی") شامل ہیں۔

اسمِ ذات کے تحت اشیاء کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے پانچ مزید اقسام رائج ہیں جن میں اسمِ مصغر یا تصغیر وہ اسم ہے جو کسی چیز کے چھوٹا ہونے کے معنی دے جیسے "افسانہ" سے "افسانچہ" یا "باغ" سے "باغیچہ"۔ دوسری قسم اسمِ مکبر ہے جو وہ اسم ہوتا ہے جو کسی چیز کے بڑائی یا عظمت کے معنی ظاہر کرے جیسے "راجہ" سے "مہاراجہ" یا "راہ" سے "شاہراہ"۔ تیسری قسم اسمِ آلہ ہے، جو کسی بھی ہتھیار، اوزار یا آلے کا نام ہوتا ہے جس سے کوئی کام لیا جائے جیسے "قلم"، "تلوار"، "چاقو"۔ چوتھی قسم اسمِ صوت ہے، یعنی جانداروں یا بے جان اشیاء کی مخصوص آوازوں کے نام جیسے چڑیوں کی "چوں چوں" یا بارش کی "چھم چھم"۔ پانچویں قسم اسمِ جمع ہے، یعنی وہ الفاظ جو بظاہر واحد معلوم ہوتے ہیں لیکن معنوی اعتبار سے کسی پورے گروہ، جماعت یا لشکر کو ظاہر کرتے ہیں جیسے "فوج"، "قوم"، "انجمن"۔ زمان و مکان کے تعین کے لیے اسمِ ظرف مستعمل ہے، جس کی دو شاخیں ہیں: ظرفِ مکاں (جگہ کو ظاہر کرنے والا جیسے "اسکول"، "مسجد") اور ظرفِ زماں (وقت کا تعین کرنے والا جیسے "صبح"، "شام"، "آج")۔


 مصدر اور حاصلِ مصدر کی بناوٹ کے لسانی اصول

اردو میں مصدر کی علامت عام طور پر لفظ کے آخر میں "نا" کی موجودگی ہے، بشرطیکہ وہ کام کے معانی دے۔ مصدر سے حاصلِ مصدر بنانے کے لیے، جو کہ وہ اسم ہے جو مصدر کی اثر پذیری، کیفیت یا حاصل شدہ حالت کو ظاہر کرے، اردو قواعد دانوں نے چیدہ چیدہ اصول وضع کیے ہیں۔ جب ہم مصدر جیسے "رونا" یا "مرنا" سے حاصلِ مصدر بناتے ہیں تو پہلا طریقہ علامتِ مصدر "نا" کو یکسر حذف کر دینا ہے، جس سے حاصلِ مصدر بالترتیب "رو" اور "مر" حاصل ہوتا ہے۔ دوسرے قاعدے کے مطابق، مصدر کے آخری الف کو ختم کر کے نون غنہ یا دیگر حروف کا توازن پیدا کیا جاتا ہے، جیسے "چلنا" سے "چلن" اور "جلنا" سے "جلن"۔ تیسرے اصول کے تحت، علامتِ مصدر دور کر کے آخری حرف پر واؤ کا اضافہ کیا جاتا ہے، جیسے "کھانا" سے "کھاؤ" یا "جلانا" سے "جلاؤ"۔ چوتھے اور پانچویں طریقے میں "نا" کو ہٹا کر بالترتیب "وٹ" یا "ہٹ" کے لاحقے لگائے جاتے ہیں، جیسے "ملانا" سے "ملاوٹ"، "سجانا" سے "سجاوٹ"، اور "گھبرانا" سے "گھبراہٹ" یا "مسکرانا" سے "مسکراہٹ"۔ آخری مروجہ اصول میں "نا" کو ہٹا کر "نی" یا "آئی" کا تال میل پیدا کیا جاتا ہے جیسے "کڑھنا" سے "کڑھائی" اور "سلانا" سے "سلائی"۔


 حروف کی اقسام اور ان کا نحوی کردار

جملے کی ترکیبِ نحوی اور معنوی ربط قائم کرنے کے لیے حروف کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ حروف کی مختلف اقسام جملوں کے مختلف مقاصد کو اجاگر کرتی ہیں۔ حروفِ جار وہ حروف ہیں جو اسم کو فعل کے ساتھ ملاتے ہیں اور ان کے بغیر جملہ بے معنی رہتا ہے، جیسے "میز پر کتاب رکھی ہے" میں لفظ "پر"۔ حروفِ عطف دو اسموں یا دو جملوں کو آپس میں جوڑنے کا کام کرتے ہیں، جیسے "اور"، "و" (پہاڑ اور دریا)۔ حروفِ شرط کسی کام کو دوسری حالت پر موقوف کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے "اگر تم محنت کرتے تو کامیاب ہو جاتے" میں "اگر" اور "تو"۔ کسی کو پکارنے یا متوجہ کرنے کے لیے حروفِ ندا جیسے "ارے" یا "او" مستعمل ہیں۔

جب دلی رنج و غم کا اظہار مقصود ہو تو حروفِ تاسف (افسوس، ہائے ہائے) زبان پر آتے ہیں، جبکہ کسی چیز کو دوسری چیز کے مانند قرار دینے کے لیے حروفِ تشبیہ (مانند، طرح، جیسے) لائے جاتے ہیں۔ دو اسموں کے درمیان تعلق یا ملکیت ظاہر کرنے کے لیے حروفِ اضافت (کا, کی, کے) کا سہارا لیا جاتا ہے۔ سوال پوچھنے کے عمل کو حروفِ استفہام (کیا، کب، کیوں، کیسے) سے واضح کیا جاتا ہے۔ خوشی، مسرت اور تعریف کے مواقع پر حروفِ تحسین یا انبساط (سبحان اللہ، شاباش، واہ واہ) بولے جاتے ہیں، جب کہ ملامت یا نفرت کے لیے حروفِ نفرین (لعنت، تف) مخصوص ہیں۔ جملے میں کسی پوشیدہ ابہام کی وضاحت کے لیے حرفِ بیان "کہ" کا استعمال نہایت کثرت سے ہوتا ہے، اور جملے کو نفی میں تبدیل کرنے کے لیے حروفِ نفی (نہیں، نہ، مت) لائے جاتے ہیں۔


 تمیز کا مفہوم اور اس کی اطلاقی صورتیں

تمیز وہ کلمہ ہے جو جملے میں ابہام یا پوشیدہ شک کو دور کرے، اور یہ عام طور پر فعل یا صفت کی حالت میں کمی، بیشی یا جہت کا تعین کرتی ہے۔ وقت اور جگہ کے ابہام کو دور کرنے کے لیے "تمیز برائے زماں و مکاں" مستعمل ہے، جس میں وقت کے لیے "اب"، "آج"، "کل" اور جگہ کے لیے "یہاں"، "وہاں" جیسے کلمات فعل کی کیفیت واضح کرتے ہیں۔ کسی کام کے رخ یا ڈھنگ کو سمجھانے کے لیے "تمیز برائے سمت و طور طریقہ" کا نفاذ ہوتا ہے، جیسے سمت کے لیے "ادھر"، "اُدھر" اور طریقے کے لیے "یوں"، "آہستہ"، "فوراً"۔

جب جملے میں تعداد، مقدار یا اقرار و انکار کی کیفیت کو واضح کرنا ہو تو "تمیز برائے تعداد و ایجاب و انکار" لائی جاتی ہے، جیسے تعداد کے لیے "ایک بار"، "اکثر" اور اقرار کے لیے "جی ہاں" یا انکار کے لیے "ہرگز نہیں"۔ اس کے علاوہ بعض اوقات تمیز کا تعین مخصوص حروف کے ملاپ سے ہوتا ہے جیسے "وار" کے ذریعے (ہفتہ وار)، "سے" کے ذریعے (پھرتی سے، تیزی سے)، اور "تک" کے ذریعے (کب تک، یہاں تک)۔


مرکباتِ کلام کا ساختیاتی جائزہ

دو یا دو سے زیادہ بامعنی الفاظ کا مجموعہ قواعد کی اصطلاح میں "مرکب" یا "کلام" کہلاتا ہے۔ مرکب کی دو بنیادی اقسام ہیں جن پر پورے طرزِ کلام کا دارومدار ہے۔ پہلی قسم "مرکبِ تام" یا جملہ ہے؛ یہ ایسا کلام ہے جس سے سننے والے کو پورا مطلب آسانی سے سمجھ آ جائے اور بات ادھوری نہ رہے، جیسے "اللہ ایک ہے"۔ مرکبِ تام کی آگے دو بڑی شاخیں ہیں: جملہ خبریہ (جس میں کوئی خبر دی جائے، اس کی مزید دو اقسام ہیں: جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ) اور جملہ انشائیہ (جس میں خبر کے بجائے امر، نہی، دعا، سوال یا ندا پائی جائے)۔

مرکب کی دوسری اساسی قسم "مرکبِ ناقص" ہے؛ یہ وہ کلام ہے جس سے پورا مطلب واضح نہیں ہوتا اور مخاطب مزید سننے کا منتظر رہتا ہے، جیسے "حنا کی کتاب" یا "سرخ پھول"۔ مرکبِ ناقص کی بہت سی اقسام ہیں، جن میں مرکبِ اضافی (مضاف اور مضاف الیہ کا ملاپ)، مرکبِ توصیفی (صفت اور موصوف کا ملاپ جیسے "سفید کپڑا")، اور مرکبِ عطفی (حرفِ عطف کے ذریعے جڑے الفاظ) علمی تحریروں میں حسن پیدا کرتے ہیں۔


امالہ کے اصول، لسانی ضوابط اور جغرافیائی استثنا

اردو املا اور تلفظ کے نظام میں "امالہ" کو ایک کلیدی اور حساس درجہ حاصل ہے۔ لغوی اعتبار سے امالہ کا مطلب ہے "جھکنا" یا "مائل کرنا"۔ قواعد کی اصطلاح میں، جب کسی ایسے مذکر اسم یا صفت کو استعمال کیا جائے جس کے آخر میں 'الف' یا 'ہ' کی صوتی آواز ہو، اور اس کے بعد کوئی حرفِ جار (پر، سے، کا، کی، نے، کے وغیرہ) آ جائے، تو اس الف یا ہ کو 'ے' سے بدل دینے کے عمل کو امالہ کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر "لڑکا" سے "لڑکے نے" یا "بچہ" سے "بچے کے لیے"۔ اس کا سب سے بڑا سنہری اصول یہ ہے کہ امالہ صرف اور صرف مذکر الفاظ کا ہوتا ہے، مؤنث الفاظ کے آخر میں اگر الف ہو تو ان کا امالہ کبھی نہیں کیا جائے گا؛ جیسے لفظ "کتیا" مؤنث ہے، لہذا "کتیا نے" ہی لکھا جائے گا، اسے "کتیے نے" لکھنا فاش غلطی ہے۔

اردو تہذیب، تاریخ اور جغرافیے کے تناظر میں امالے کے اطلاق کے چند نہایت اہم اور مستند اصول ہیں جن کی پابندی ہر تحریر کے لیے لازم ہے۔ پہلا اصول یہ ہے کہ اردو تہذیبی دنیا کے شہروں کا امالہ لازمی ہوگا، یعنی وہ تمام شہر یا مقامات جو پاکستان، ہندوستان اور مشرقِ وسطیٰ کی اسلامی و اردو تہذیب کا حصہ ہیں، ان کے آخر میں الف یا ہ ہو تو امالہ کیا جائے گا؛ جیسے مکہ سے "مکے کے انوار"، مدینہ سے "مدینے کی فضا"، سرگودھا سے "سرگودھے کے مالٹے"، آگرہ سے "آگرے کی تاریخ"، کوئٹہ سے "کوئٹے کا موسم"، بصرہ سے "بصرے کی کھجور"، اور ڈھاکہ سے "ڈھاکے کی ململ"۔

دوسرا اصول ملکوں، براعظموں اور غیر تہذیبی جغرافیائی ناموں کا استثنا ہے؛ یعنی وہ ممالک، براعظم یا دور دراز کے مغربی شہر جو اردو کی تہذیبی بساط کا براہِ راست حصہ نہیں ہیں، ان کا امالہ ہرگز نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ مذکر ہوں اور ان کے آخر میں الف یا ہ ہی کیوں نہ ہو؛ جیسے برطانیہ، امریکا، افریقہ، کینیا، کینیڈا، سری لنکا، آسٹریلیا، کوریا، چائنا، ارجنٹینا، البانیہ، بوسنیا، چیچنیا، اور سربیا۔ اسی طرح غیر تہذیبی شہروں جیسے کیلیفورنیا، کیرولائنا، فلاڈیلفیا، منیلا، آٹووا، انقرہ، بارسلونا، کینبرا، اور ایڈنبرا کا امالہ نہیں ہوگا (مثلاً "امریکا کے صدارتی انتخابات" لکھنا درست ہے، "امریکے کے" لکھنا غلط ہے)۔ تیسرا اصول خاندانی رشتوں اور غیر جمع پذیر الفاظ کا استثنا ہے، یعنی وہ الفاظ جن کی باقاعدہ جمع مستعمل نہیں ہوتی یا تعظیمی خاندانی رشتے ہیں، فصیح اردو میں ان کا امالہ نہیں کیا جاتا؛ جیسے ابا، دادا، چچا، پھوپھا، دیوتا، اور راجا۔ ہمیشہ "چچا نے کہا" لکھا جائے گا، "چچے نے" لکھنا قواعد کے منافی ہے۔

پاک و ہند کی مروجہ املا کمیٹیوں کے متفقہ فیصلوں کے مطابق، جن الفاظ کا صوتی امالہ ہوتا ہے،ن کو تبدیل شدہ حالت یعنی 'ے' کے ساتھ ہی لکھا جانا واجب ہے۔ مثال کے طور پر "دھماکا خیز مواد" میں امالہ نہیں ہے، لیکن اگر اس کے بعد 'کے' آ جائے تو "دھماکا کے وقت" لکھنا صریحاً غلط ہوگا، درست املا "دھماکے کے وقت" ہے۔ اسی طرح "واقعہ" سے "واقعے کی رپورٹ" لکھنا درست اور فصیح املا کا ضامن ہے۔

اردو قواعدِ صرف اور املا کے ان باریک اور مستند اصولوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ای منظم سائنسی نظام ہے۔ علمی مضامین، کتب اور جرائد کی اشاعت کے وقت ان اصولوں، خصوصاً امالے کے ضوابط اور حاصلِ مصدر کی درست ساخت کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ زبان کی فصاحت، بلاغت اور اس کا اصل تہذیبی تشخص برقرار رہ سکے۔ 

کوئی تبصرے نہیں: