تحریر: شہباز علی سولنگی
اردو زبان و ادب کی تشکیل اور ارتقاء کی داستان محض لسانی تغیرات یا الفاظ کے ذخیرے میں اضافے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ برصغیر پاک و ہند کی ہزار سالہ گنگا جمنی تہذیب، سماجی رویوں، مذہبی رواداری اور جمالیاتی اقدار کے باہم پیوست ہونے کا ایک زندہ عمل ہے۔ برصغیر کا خطہ ہمیشہ سے مختلف تہذیبوں کا سنگم رہا ہے۔ آریہ سے لے کر مغلوں تک، اور پھر انگریزوں کی آمد تک، ہر دور نے اس خطے کی فکری ساخت پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان تمام تہذیبی اثرات کا سب سے حسین اور لطیف اظہار اگر کسی فن پارے میں ہوا ہے تو وہ اردو شاعری ہے۔ ڈاکٹر ساجد امجد کی تصنیف "اردو شاعری پر برصغیر کے تہذیبی اثرات" اسی طویل تہذیبی سفر کا ایک مفصل اور بصیرت افروز جائزہ ہے۔ یہ کتاب محض ادبی تاریخ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تہذیبی دستاویز ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ کس طرح عرب و عجم کی روایات نے ہند کی دھرتی پر قدم جمائے اور کس طرح یہاں کی مٹی کی خوشبو نے فارسی اور ترکی کے اجنبی لہجوں کو اپنا کر ایک ایسی نئی زبان کو جنم دیا جو آج دنیا کی بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ ادب کے سنجیدہ طالب علموں اور محققین کے لیے یہ کتاب ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ اردو شاعری نے اپنے گرد و پیش کے ماحول سے کیا قبول کیا اور کیا رد کیا۔کیے جائیں۔
کوئی تبصرے نہیں: