بلاگ تلاش کریں

سرسید احمد خان کے منتخب مضامین کا جائزہ

Shehbaz Ali Solangi Humsub geo rekhta jung pakistan social iqbal allama

 


سرسید احمد خان کے منتخب مضامین کا فکری و فنی جائزہ

تحریر و تحقیق: شہباز علی

"دین چھوڑنے سے دنیا نہیں جاتی مگر دنیا چھوڑنے سے دین بھی جاتا ہے۔ " — سرسید احمد خان

تعارف: جدید اردو نثر کے بانی سرسید احمد خان

برصغیر پاک و ہند میں جس عظیم شخصیت نے تعلیم کو نئی عصری شکل دی اور اردو نثر کو ایک نیا اسلوب اور نئی صورت عطا کی، وہ سرسید احمد خان ہیں۔ جدید تعلیم کے متحرک داعی اور جدید اردو نثر کے بانی کی حیثیت سے سرسید نے نہ صرف طرزِ تحریر کو بدلا، بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں کے طرزِ احساس اور فکر کو بھی ایک نئی سمت دی۔ انہوں نے معاشرے میں سماجی، معروضی اور منطقی طرزِ فکر کو فروغ دیا، عقلیت پسندی کی محکم بنیادیں ڈالیں اور انہیں علمی سطح پر استوار کیا۔ ان کی فکری تحریک نے اپنے دور کے مایہ ناز شاعروں اور نثر نگاروں کی ایک بہت بڑی تعداد کو متاثر کیا، یہی وجہ ہے کہ سرسید کا شمار برصغیر کے عظیم ترین مصلحین (ریفارمرز) میں ہوتا ہے۔

پیدائش اور خاندانی پس منظر

سرسید احمد خان ۵ ذی الحجہ ۱۲۳۲ھ مطابق ۱۷ اکتوبر ۱۸۱۷ء کو دہلی کے ایک معزز اور نامور گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان ساداتِ دہلی میں ہمیشہ سے ممتاز اور اعلیٰ مرتبے پر فائز تھا۔ سرسید اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے گھر میں بہت سے بچے تھے، جس کی وجہ سے کھیل کود اور دل بہلانے کے لیے انہیں باہر کے بچوں کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی اور نہ ہی انہیں عام طور پر باہر آنے جانے کی ضرورت پڑتی تھی، کیونکہ خاندان کے بزرگ بچوں کو گھر کے اندر ہی آزادی کے ساتھ کھیلنے کی تمام تر سہولیات فراہم کرتے تھے۔

تربیت اور ملازمت کا سفر

سرسید احمد خان کی والدہ عزیز النساء بیگم ایک نہایت مہذب، صابرہ اور دوراندیش خاتون تھیں، جن کی اعلیٰ تربیت کا سرسید کی ابتدائی زندگی اور کردار سازی پر بہت گہرا اثر پڑا۔ انہوں نے اپنے نانا خواجہ فرید الدین سے ابتدائی مروجہ علوم حاصل کیے اور بعد ازاں اپنے خالو مولوی خلیل اللہ کی صحبت میں رہ کر عدالتی کام کاج اور قانونی امور کی مہارت سیکھی۔ سرسید کو پہلی ملازمت آگرہ میں ملی، جس کے بعد وہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر مختلف عہدوں پر فائز رہے اور صدر الصدور کے اعلیٰ منصب تک پہنچے۔ انہوں نے آگرہ، مین پوری، فتح پور، دہلی، بجنور، مراد آباد، غازی پور اور بنارس جیسے اہم شہروں میں اپنے فرائضِ منصبی نہایت احسن طریقے سے انجام دیے۔ ان کی انہی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں برطانوی حکومت نے ۱۸۸۸ء میں انہیں "سر" کے معزز خطاب سے نوازا۔

تصانیف اور ادبی خدمات کا جائزہ

سرسید احمد خان نے ۱۸۴۷ء میں اپنی وہ شہرہ آفاق کتاب "آثار الصنادید" شائع کی جس نے انہیں محققین کی صفِ اول میں کھڑا کر دیا۔ دہلی میں قیام کے دوران انہوں نے مختلف علمی، مذہبی اور سائنسی موضوعات پر متعدد اہم رسائل تحریر کیے۔ ان علمی خدمات کا تفصیلی ذکر درج ذیل ہے:

  1. فوائد الافكار فى اعمال الفرجار (۱۸۴۶ء): یہ بنیادی طور پر ان کے نانا کی فارسی تصنیف کا اردو ترجمہ تھا، جس میں سرسید نے اپنی طرف سے نہایت مفید اور علمی وضاحتوں کا گراں قدر اضافہ کیا۔
  2. قولِ متین در ابطالِ حرکتِ زمین: اس رسالے میں انہوں نے زمین کے ساکن ہونے کے روایتی دلائل پیش کیے تھے، تاہم علمی ارتقا کے ساتھ بعد میں انہوں نے اپنے اس پرانے خیال سے رجوع کر لیا تھا اور حرکتِ زمین کے جدید سائنسی نظریے کو تسلیم کیا۔
  3. کلمۃ الحق: یہ رسالہ انہوں نے مروجہ پیری مریدی اور بیعت کے غیر اسلامی و روایتی طریقوں کی اصلاح اور ان کے خلاف لکھا۔
  4. راہِ سنت در ردِ بدعت (۱۸۵۰ء): معاشرے میں پھیلی ہوئی مختلف سماجی اور مذہبی بدعات کے رد اور سنتِ نبوی کی ترویج میں لکھا گیا ایک اہم رسالہ ہے۔
  5. تصورِ شیخ: سلسلہ نقشبندیہ میں رائج تصورِ شیخ کے فلسفے کی علمی اور فکری وضاحت میں لکھا گیا رسالہ۔
  6. سلسلہ الملوک (۱۸۵۲ء): دہلی کے پانچ ہزار سالہ حکمرانوں (راجہ جدھشٹر سے لے کر ملکہ وکٹوریہ تک ۲۰۲ فرماں رواں) پر مشتمل ایک نہایت مستند اور تاریخی فہرست ہے۔
  7. کیمیائے سعادت: امام غزالی کی شہرہ آفاق کتاب کے ابتدائی ابواب کا فارسی زبان سے اردو میں کیا گیا ایک سلیس اور خوبصورت ترجمہ ہے۔

علی گڑھ تحریک اور قومی خدمات

۱۸۵۷ء کے نامساعد حالات کے بعد انگریزوں کے ساتھ مفاہمت، صلح پسندی اور تعمیری مکالمے کا آغاز سرسید احمد خان کی طرف سے ہوا، جو ان کی گہری حقیقت پسندی اور سیاسی بصیرت پر مبنی تھا۔ ان کا پختہ خیال تھا کہ مسلمانوں کو سیاسی ہنگاموں میں پڑنے سے پہلے تعلیمی اور معاشی طور پر خود کو مضبوط کرنا چاہیے تاکہ وہ جدید دنیا میں اپنا کھویا ہوا وقار اور تشخص دوبارہ حاصل کر سکیں۔

اسی مقصد کے تحت انہوں نے ۱۸۵۹ء میں "اسبابِ بغاوتِ ہند" لکھی، تاکہ ۱۸۵۷ء کے غدر کا یکطرفہ الزام مسلمانوں کے سر سے ہٹایا جا سکے اور برطانوی پارلیمنٹ کو حقیقی اسباب سے روشناس کرایا جائے۔ ۱۸۶۹ء میں انہوں نے اپنے بیٹے سید محمود کے ہمراہ انگلستان کا سفر کیا، جہاں انہوں نے آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی کے تعلیمی نظام کا گہرا مشاہدہ کیا۔ وطن واپسی پر ۱۸۷۰ء میں مسلمانوں کی معاشرتی اور اخلاقی اصلاح کے لیے مشہورِ زمانہ رسالہ "تہذیب الاخلاق" جاری کیا۔ تعلیمی میدان میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ ۱۸۷۵ء میں ایم اے او (M.A.O) ہائی اسکول کا قیام تھا، جسے ۱۸۷۷ء میں کالج اور بالآخر ۱۹۲۰ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا درجہ ملا، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔

سرسید کے مضامین کا فنی جائزہ

سرسید احمد خان نے اردو نثر میں مقصدی ادب کی ایک ایسی لازوال روایت قائم کی کہ اردو زبان محض داستانوں اور تخیلاتی دنیا سے نکل کر حیات و کائنات کے حقیقی اور سنجیدہ مسائل کی ترجمانی کے قابل ہو گئی۔ الطاف حسین حالی کے بقول، مصلحِ قوم کی بدولت ہی اردو اس قابل ہوئی کہ عشق و عاشقی کے محدود دائرے سے نکل کر ملکی، سیاسی، اخلاقی اور ہر قسم کے تعمیری مضامین کو پورے زور، اثر، وسعت، جامعیت، سادگی اور صفائی کے ساتھ ادا کر سکے۔ سرسید کے اسلوب کی چند نمایاں فنی خصوصیات درج ذیل ہیں:

سادگی، صفائی اور بے تکلفی

سرسید کے نزدیک ادب کا مقصد "ادب برائے ادب" نہیں بلکہ "ادب برائے زندگی اور مقصد" تھا۔ انہوں نے قدیم نثر کی پُرصنع، مقفیٰ اور مسجع تحریروں کو یکسر مسترد کر دیا اور تصنع و تکلف سے پاک سادہ، سلیس اور رواں نثر لکھی۔ ان کا مضمون "خوشامد" اس سادگی اور اثر انگیزی کا ایک بہترین اور لازوال نمونہ ہے، جہاں الفاظ بناوٹ سے پاک اور براہِ راست دل پر اثر کرتے ہیں۔

اصلاحی فکر اور تعمیری رنگ

سرسید کی تحریروں میں اصلاح کا عنصر ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ ان سے قبل کی اردو شاعری اور نثر کے موضوعات زیادہ تر حسن و عشق، گل و بلبل، اور ہجر و وصال تک محدود تھے۔ سرسید نے 'تہذیب الاخلاق' کے ذریعے ادب کے معاشرتی، تعلیمی اور تہذیبی کردار کی اہمیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور اردو میں افادیت پسند ادب کی بنیاد رکھی۔

ظرافت، شگفتگی اور روانی

اپنے سنگین اصلاحی مقصد کو بوجھل اور خشک ہونے سے بچانے کے لیے سرسید اپنی تحریروں میں شگفتگی اور ہلکی ظرافت کا خوبصورت استعمال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سید عبداللہ کے بقول: "سرسید کی تحریروں میں ظرافت اسی حد تک ہے جس حد تک ان کی سنجیدگی اور مقصد کو گوارا ہے"۔ ان کے قلم میں ایک فطری تسلسل اور روانی پائی جاتی ہے، وہ جس موضوع پر بھی لکھتے ہیں۔ خواہ وہ تاریخ ہو، مذہب، فلسفہ یا سیاست،ان کا قلم یکساں روانی اور بے تکان انداز میں چلتا چلا جاتا ہے۔

سرسید کے مضامین کا فکری جائزہ

سرسید احمد خان کو اردو مضمون نگاری (Essay Writing) کا باقاعدہ بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے رسالے 'تہذیب الاخلاق' کے ذریعے انگریزی کے مشہور انشائیہ نگاروں (جیسے ایڈیسن اور اسٹیل) کے اسلوب کو اردو مزاج کے مطابق ڈھالا۔ ان کے فکری مضامین میں تعصب، تعلیم و تربیت، کاہلی، اخلاق، ریا، مخالفت، خوشامد، بحث و تکرار، اپنی مدد آپ، اور عورتوں کے حقوق جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔

انہوں نے اردو نثر کے دامن کو اتنی وسعت دی کہ اس میں ریاضی، طبیعیات، تاریخ، اور سیاست جیسے ٹھوس علمی مسائل کا اظہار ممکن ہو سکا۔ اگرچہ انہوں نے عملی تنقید پر کوئی باقاعدہ کتاب تصنیف نہیں کی، لیکن ان کے اصلاحی افکار نے اردو میں جدید اور سائنسی تنقید کی مضبوط بنیاد رکھی۔ مولانا الطاف حسین حالی کا "مقدمہ شعر و شاعری" دراصل سرسید کے ہی ادبی افکار کی تفصیلی اور عملی تفسیر ہے۔ اسی بنا پر سرسید احمد خان کو اردو کا پہلا ترقی پسند ادیب، مصلح اور نقاد کہنا بالکل بجا ہے۔

حوالہ جات و مآخذ

  • جمیل یوسف، پاکستانی ادب کے معمار (سرسید احمد خان: شخصیت و فن)، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد، ۱۹۹۹ء، ص ۱۱۔
  • ادبی پورٹل ریختہ (پروفائل سرسید احمد خان): www.rekhta.org
  • نور الرحمن، حیاتِ سرسید، انجمن ترقی اردو (ہند)، علی گڑھ، ص ۲۶، ۲۷۔
  • ڈاکٹر سید عبداللہ، وجہی سے عبدالحق تک، سنگِ میل پبلیکیشنز، لاہور، ۲۰۰۳ء، ص ۸۳۔
  • سرسید احمد خان، انتخابِ مضامینِ سرسید، مطبع مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، ۱۹۲۷ء، ص ۳۔
  • ڈاکٹر عبدالواحد بسمل، سرسید کے منتخب مضامین، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد، ص ۳۷۔

کوئی تبصرے نہیں: