ہر چند یہ ناول ہے جو عورت کی
حیثیت عہد بہ عہد بیان کرتا ہے۔ مصنف کے حتی المقدور ان تمام پہلوؤں کو واضح کیا
گیا ہے جس کا سامنا عورت کو کرنا پڑا۔ یہ ناول پلاٹ، کردار، آغاز و انجام سے وراء
ہے یعنی روایتی ناولوں سے ہٹ کر ہے۔ مصنف کے ذہن میں جو پلاٹ ہے وہ چاروں طرف
پھیلا ہوا ہے۔ بہر حال یہ ناول عورت کی بے بسی اور کمزوریوں کی بھر پور داستان ہے
جو جسے مصنف نے اپنے خاص لہجے اور اسلوب میں رقم کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو تا اگر اس
داستان کے کرداروں کے ذریعے مکمل کیا جاتا تو افسانوی ادب میں اضافہ کا سبب بنتا۔
ناول کے آغاز میں عورت کا تعارف کچھ اس انداز میں کرایا گیا ہے۔ ناول کا آغاز تین
ایسے سوالوں سے شروع ہوتا ہے جو تشخیص ذات سے تعبیر ذات کے لیے ضروری ہیں:
میں
کون ہوں ؟
کیا
میں سب سے کمزور مخلوق ہوں ؟
کیا میں سب سے زیادہ
طاقتور ہوں ؟
ناول کے ابتدائی تینوں سوالوں نے
انسانی زندگی کو بر سر عمل رکھا ہوا ہے۔ جب کائنات میں عورت کا وجود یہ سوال کرے
تو ان کی معنویت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ماں، بہن، بیوی، بیٹی کا روپ لیے عورت عام طور
پر مظلوم سمجھی جاتی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ آج عورت ذات کو ہمیشہ اسی انداز میں پیش
کیا گیا مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے یا عورت کے وجود کا نا مکمل تصور۔
علی نقی خان صیغه واحد متکلم
استعمال کرتے ہوئے ان سوالوں کے جواب بڑی مہارت سے دیتے ہیں جس سے یہ تصویر ادھوری
نہیں رہتی وہ ایک ماہر مورخ کے طور پر تاریخی حوالے دیتے ہوئے عورت کی شخصیت کو پیش
کرتے ہیں۔ جہاں جنت سے نکالے جانے کی ذمہ دار حوا" ایک عورت گردانی جاتی ہے۔
جہاں حسن یوسف پر فریفتہ نفس سے مجبور زینا بھی نظر آتی ہے مگر اس خواہش کے ساتھ ایک
اس میں مجاہدہ اور مراقبہ کی کیفیت یوسف کی سی بھی ہے جو اس کی زلیخا کو جو ان کر
دے۔ جہالت کے ادوار میں آگ میں جلتی عورت، مظالم سہتی عورت اور پھر جانوروں سے
بدتر سمجھنے کا عہد ان سب کا احاطہ عورت کی ہی زبانی ہے:
مجھے کیا ہونا چاہیے میں ماں بھی ہوں بہن بھی ہوں اور بیٹی بھی ہوں لیکن اس کے باوجود سوچتی ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ میں ہمیشہ مظلومیت اور بربریت کا شکار رہی ہوں مجھے نجس کیوں سمجھا جاتا ہے؟ مجھے خاندان کی شرمندگی، ندامت اور رسوائی کا باعث کیوں سمجھا جاتا ہے ؟ پیدا ہوتے ہی مجھے زندہ درگور کیوں کیا جاتا ہے؟ مجھے تمام مصائب کا موجب کیوں سمجھا جاتا ہے ؟ لوگوں نے ہر دور میں میرا استحصال کیوں کیا ؟ مجھے مذہب کے نام پر چار دیواری میں مقید کیوں کیا گیا؟ مجھے موٹی موٹی چادروں میں کیوں چھپایا گیا؟ مجھے علم حاصل کرنے سے کیوں روکا گیا۔
اس اقتباس سے اس نثر پارے کے بارے میں اندازہ
ہوتا ہے کہ اس میں مصنف نے عورتوں کے مسائل کو بیان کیا ہے کہ کہیں پر وہ کمزور
اور کہیں پر ایک طاقتور روپ میں ہمارے سامنے آجاتی ہے۔ اس دنیا میں عورت کے مختلف
رشتے نظر آتے ہیں۔ ماضی میں عورت کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا۔ اس ناول میں اس
حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ عورت کو مرد کی پہلی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسے
کائنات میں صنف نازک اور حسن کلی جیسے ناموں سے مخاطب کیا گیا ہے۔ نہیں ہر گز نہیں
بلکہ اسے بیوی، بیٹی، بہن اور ماں جیسے عظیم رشتوں پر فائز کیا گیا ہے۔ عورت ایک نعمت
ہے اسلام اور ہمارے نبی صلی علیہم نے اس کی عزت اور تکریم کا حکم دیا ہے۔ لیکن
زمانے کی ستم ظریفی ہے کہ ہر دور میں اس کے بر عکس حالات و واقعات کا سامنا رہا
ہے۔ جس کی ہر گز وہ مستحق نہیں ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے که وجود زن کے بغیر
کائنات نا مکمل ہے :
اللہ نے مجھے اپنی اولاد کے لیے وہ جذبہ عطا کیا جس کے لیے میں تمام آرام اور خوشیوں کو قربان کر سکتی ہوں۔ اولاد کی خاطر میں شاہی زندگی کو بھی لات مار دیتی ہوں۔ میرے اس جذبے کا مقابلہ نہ علما کر سکتے ہیں نہ زاہد کر سکتے ہیں اور نہ ہی مجاہد کر سکتے ہیں۔ لیکن اتنی عظمت حاصل کر لینے کے باوجود بھی میں مظلوم اور ظلم و ستم کا شکار رہی ہوں۔ میر اوجود نہ جانے کیوں نجس تصور کیا گیا ہے اور مجھے خاندان کے لیے شرمندگی کا باعث کیوں سمجھا گیا۔
اس اقتباس میں عورت کا وہ عظیم
روپ پیش کیا گیا ہے جسے ماں کہا جاتا ہے۔ یہاں یہ امر کبھی لائق توجہ ہے کہ مرد کو
اس دنیا میں لانے کا موجب بھی عورت ہے۔ اس کے باوجود اس معاشرے میں اسے اس کا حقیقی
حق نہیں دیا جاتا ہے بلکہ مرد اسے اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
عورت کے بغیر گھر ویران ہے۔ مرد نے ہر روپ میں عورت کو اپنی خود غرضی اور مطلب
پرستی کے لیے استعمال کیا ہے۔ ایک مرد باپ کی صورت میں اپنی عزت و آبرو کی خاطر
ساری زندگی بیٹی کو بوجھ سمجھتا ہے۔ بعض اوقات وہ اسے بیچنے سے بھی گریز نہیں
کرتا۔ اس کی تعلیم و تربیت اور اس کا گھر بسانے جیسے اہم فریضہ کو انجام دینے میں
احتیاط نہیں کرتا بلکہ اس کی مرضی کے خلاف اس کی شادی ایک غیر موزوں شخص سے کر دیتا
ہے۔ شوہر جو کہ عورت کا مجازی خدا سمجھا جاتا ہے وہ اسے ایک شو ہیں سے زیادہ اہمیت
نہیں دیتا۔ وہ بیوی کو اپنے کاروبار کی کامیابی کے لیے بطور زینہ استعمال کرتا ہے :
خوامخواہ میں نے پورے گھر میں قیامت صغری برپا کی ہوئی ہے اور میں نے اپنی بد بختی خود ہی خریدی اور میری وجہ سے میرا گھر میرے بچوں کے لیے قید خانہ ثابت ہو رہا ہے اور کبھی کبھی میرا خاوند مجھے نفسیاتی مریض سمجھ کر سب باتوں کو بھول جاتا ہے اور مجھ سے ہمدردانہ رویہ رکھتا ہے اور کبھی مجھے معلوم ہوتا ہے کہ مرد نے مجھے پنجرے میں جکڑ رکھا ہے۔
مصنف لکھتے ہیں کہ عورت گھر کو قید
خانہ سمجھتی ہے حالانکہ یہی گھر اس کے لیے جنت ہے۔ عورت مرد کے لیے سکون کا باعث
ہے۔ کائنات کی تمام رونقیں وجود زن سے ہیں۔ عورت کبھی چٹان کی طرح سخت ہو جاتی ہے۔
یہ ایک ایسے رہنما ستارے کی طرح ہے جو بھولے بھٹکوں کو راستہ دکھاتی ہے۔ عورت کی
محبت میں مرد کبھی مجنوں، کبھی رانجھا اور کہیں فرہاد بن جاتا ہے۔ عورت کی خواہش
ہے کہ مرد ہمیشہ میری محبت کا قائل رہے۔ اس کے دل پر میری حکومت قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ
نے کائنات کو بہت خوبصورت بنایا ہے مگر اس کائنات کی سب سے زیادہ خوبصورت چیز عورت
ہے :
جب میں جرم پر آجاتی ہوں تو میرے جرائم بھی خوفناک نظر آتے ہیں۔ مجھے اپنے خاوند پر قابو پانا خوب آتا ہے۔ میں نے اسے مطبع کیا ہوا ہے۔ ان کی سچی باتوں کو جھوٹا قرار دینا میرے بائیں ہاتھ کا مشغلہ ہے۔ میں اس کا امن تباہ کر سکتی ہوں۔ میں معصوم لوگوں کے خلاف بھی شکایتوں کے انبار لگا سکتی ہوں۔ مجھے دانتوں سے کاٹنا اور گھوڑے کی طرح ہنہنانا خوب آتا ہے کچھ عادات کی بھی قیدی ہوں۔ بہتان باندھنا میری عادت ہے۔ ہر عورت کے کردار پراعتراض کرنا میری فطرت میں شامل ہے۔
اس اقتباس میں مصنف نے عورت کی
عادات کے بارے میں لکھا ہے کہ عورت کی وجہ سے گھر جنت یا جہنم بن جاتا ہے۔ عور تیں
عام طور پر بغیر سوچے سمجھے کسی پر بہتان لگا دیتی ہیں۔ عورت کو خدا نے عظیم رشتے
عطا کر کےعظمت دی ہے۔ یہاں تک کہ بچے کی پہلی درسگاہ بھی اسی عورت کی گود کو قرار
دیا ہے۔ یہ وہ بستی ہے جو رستم و سہراب جیسے طاقتور بیٹوں کی ماں ہونے کے باوجود
احساس کمتری میں مبتلا ہے۔ کبھی کبھی عورت یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ کیا
وجہ ہے کہ میں عظمت کی بلندیوں کو چھونے کے باوجود پستی کی طرف کیوں جارہی ہوں؟
ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہونے کے باوجود معاشرے کے اندر میں بے وقعت کیوں ہوں؟
حالانکہ ساری دنیا کو ثقافت و تہذیب عورت سیکھاتی ہے اور خود تہذیب و ثقافت سے بے
بہرہ ہے۔ جہاں عورت کو رسوائی کا باعث سمجھا گیا وہاں اسے پامال و تاراج کرنے میں
مردانگی کی علامت مرد گردانا گیا۔ مگر قربانیوں کی تمام تر کاوشوں کو یکسر نظر
انداز کر دیا گیا:
بچپن میں رات گئے تک اس لیے جاگتی تھی کہ والد صاحب دیر سے گھر آتے ہیں۔ جوانی میں ، میں رات گئے اس لیے جاگتی رہی کہ خاوند صاحب لیٹ آتے تھے۔ ادھیڑ عمر میں اس لیے جاگنا پڑتا کہ اب بیٹے لیٹ آتے ہیں۔
گو یہ دیکھنے میں ذراسی بات لگتی
ہے مگر مصنف نے پس الفاظ خوبصورت تجزیہ پیش کیا کہ نیند کی یہ قربانی جسے مرد نے
ہر روپ میں اپنا حق سمجھا، اس کی خواہش رہی کہ باپ، خاوند اور بیٹے کے روپ میں
دروازے کے دوسری طرف دستک نہ دینا پڑے اور پھر اسے اپنی برتری اور فوقیت سمجھتے
ہوئے اتر انا دراصل اس برتری کے خیال کی تسکین ہے جو اسے فطری طور پر معاشرے نے
عطا کی ہے اور باوجود علم و فضل میں نام کمانے کے وہ اس پر نہ تو غور و فکر کا
اہتمام کر سکا اور نہ ہی کبھی ادراک ذات کی کوشش کی:
میں سوچتی سوچتی حوا، آسیہ
و مریم کے دیس سے نکل کر لکشمی سیتا، رادھا، بوریشیاء، لیڈا، قلوپطرہ، لیکن ، شیریں،
لیلی، وینس، ڈیانا کے دیسوں میں گھومتی پھرتی رہی تاکہ مجھے حقیقت کا احساس ہو
سکے۔ آخر کار میں دریائے چناب کے کنارے ہیر کے دیس میں پہنچ گئی۔ وہاں جاگیر داری
کا نظام دیکھ کر مجھے معلوم ہوا کہ جاگیر داری کا نظام کلیسا کی طرح انسان دشمنی
کا نظام ہے اور اس طرح ہیر کے دیس میں پہنچ کر مجھ پر خودشناسی کے آثار ظاہر ہونے
لگے اور میں نے محسوس کیا کہ پہلے ایک ہی سامری کے ہاتھوں میں لوگوں کی تقدیر ہوتی
تھی۔

کوئی تبصرے نہیں: