بلاگ تلاش کریں

اردو زبان کی تشکیل اور ارتقائی سفر: بولیوں کے تنوع سے مسلم دور کی خدمات تک

Shehbaz Ali Solangi Humsub geo rekhta jung pakistan social iqbal allama


تحریر:شہباز علی سولنگی


لسانیات کی رو سے زبان ایک ایسا حیاتی اور متحرک نظام ہے جس کے ذریعے ایک انسان اپنے مافی الضمیر کو دوسرے فرد تک پہنچاتا ہے، یا دوسرے انسانی گروہ سے اپنا رشتہ جوڑ کر ابلاغ کی راہیں استوار کرتا ہے۔ زبان کے وجود میں سوچ اور آواز کا وسیلہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ اس کے بولنے کے عمل کو تقریر یا کلام اور اسے تحریری قالب میں ڈھالنے کو تحریر کہا جاتا ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف "سخندانِ پارس" میں زبان کا تعارف کرواتے ہوئے اسے اظہار کا ایسا وسیلہ قرار دیا ہے جو متواتر آوازوں کے سلسلے میں ظاہر ہوتا ہے۔ اردو کے پہلے دانشور ڈاکٹر محی الدین قادری زور زبان کے متعلق رقم طراز ہیں کہ یہ خیالات کا ذریعہ ہے، جس کے تحت انہوں نے براہِ راست حرکتوں، اشاروں اور علامتوں کو زبان تسلیم کیا ہے۔ دوسری طرف بادی حسین نے زبان کی جو تعریف کی ہے وہ حد درجہ واضح ہے؛ ان کے نزدیک زبان علامتوں کا ایک ایسا منظم نظام ہے جو انسانوں کے درمیان ابلاغ کا ذریعہ بنتا ہے، جس میں اس کی علامتی اور ابلاغی حیثیت دونوں نمایاں ہوتی ہیں۔ ماہرینِ لسانیات کے عمومی نظریات کے مطابق بھی زبان نشانات یا علامات کا ایک باقاعدہ نظام ہے۔ ڈاکٹر اقتدار حسین نے اس بحث کو سمیٹتے ہوئے لکھا ہے کہ زبان ایک ایسی خود مختار اور روایتی صوتی علامتوں کے نظام کو کہتے ہیں جو کوئی انسان اپنے سماج میں اظہارِ خیال کے مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ان صوتی علامتوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلی شعوری صوتی علامتیں ہیں، یعنی وہ الفاظ جو انسان سوچ سمجھ کر ادا کرتا ہے؛ اور دوسری غیر شعوری علامتیں ہیں، جو انسان کے منہ سے بے ساختہ طور پر ادا ہوتی ہیں۔ ان کے علاوہ غیر صوتی علامتیں بھی ہوتی ہیں جن میں آنکھوں سے کیے جانے والے بصری اشارے، کانوں سے سنے جانے والے سمعی اشارے اور لمس سے محسوس کیے جانے والے لمسی اشارے شامل ہیں۔ الغرض زبان بنیادی طور پر آوازوں کا ایک مجموعہ ہے۔ اس کے برعکس، کسی زبان کی ذیلی شاخ کو بولی (Dialect) کہتے ہیں۔ جب ایک بڑے لسانی گروہ یا کسی وسیع علاقے کی آبادی میں کچھ مقامی جغرافیائی خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں، تو اس اختلاف کی وجہ سے ایک زبان بولنے والے مختلف بولیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ یہ لسانی اختلاف اس صورت میں کم ہو جاتا ہے جب بولنے والوں کو آپس میں میل جول اور نقل و حرکت کے زیادہ مواقع ملیں، لیکن اگر کسی علاقے کے رہنے والوں کو نقل و حرکت اور باہمی ربط کے مواقع کم میسر آئیں تو وہاں بولیوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے۔ بولی عام طور پر ایک بے ڈھب کی زبان ہوتی ہے جو نسبتاً چھوٹے علاقے کے عوام میں رائج ہوتی ہے، جس کی نہ تو کوئی گرامر مرتب ہو پاتی ہے اور نہ ہی اس کے کوئی ضابطے اور اصول مقرر ہوتے ہیں۔ بولی کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں تبدیلی بڑی مشکل سے اور بہت دیر میں ظاہر ہوتی ہے۔

زبان اور بولی کی ابتدا اور ارتقاء کے متعلق ماہرینِ لسانیات میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ رینال اور میکس ہوکر کے مطابق مختلف بولیاں جو متعدد ٹکڑیوں میں بٹی ہوتی تھیں، وہ رفتہ رفتہ ایک شکل میں مجتمع ہو گئیں، یعنی زبان کا ارتقائی عمل انتشار سے اتحاد کی جانب سفر کا نام ہے۔ اس کے برعکس ممتاز ماہرِ لسانیات وہٹے کا ماننا ہے کہ زبان پہلے وجود میں آئی اور وہ بعد میں رفتہ رفتہ مختلف بولیوں میں تقسیم ہو گئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ زبان کا ارتقائی عمل اتحاد سے انتشار کی جانب گامزن رہا۔

 

عالمی لسانی خاندان اور برصغیر کا تناظر

دنیا میں زبانوں کا سب سے بڑا اور اہم گروہ ہند یورپی (Indo-European) خاندانِ السنہ کہلاتا ہے، جس میں آج کی دنیا کی سب سے زیادہ بولے جانے والی زبانیں شامل ہیں۔ یہ ساڑھے چار سو سے زائد زبانوں کا ایک وسیع خاندان ہے جنہیں ان کی باہمی لسانی خصوصیات کی بنا پر ایک ہی زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس خاندان کے بولنے والوں کی تعداد دنیا کے کسی بھی دوسرے لسانی خاندان سے زیادہ ہے اور جغرافیائی لحاظ سے بھی یہ دنیا کے ایک بہت بڑے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس خاندان کی اہم ترین زبانوں میں اردو، بنگالی، ہندی، پنجابی، پشتو، فارسی، کردی، روسی، آلمانی (جرمن) اور فرانسیسی شامل ہیں۔ ہند یورپی خاندان کو مزید چھوٹے خاندانوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں سے ایک البانی خاندان ہے جو آگے چل کر ولندیزی (ڈچ) اور انگریزی جیسی شاخوں میں منقسم ہوتا ہے۔ اسی طرح برصغیر کی زبانوں کو چار بڑے خاندانوں میں بانٹا جاتا ہے جن میں ہند آریائی، پشاچی اور ایرانی شاخیں شامل ہیں؛ پشتو، فارسی اور بلوچی زبانوں کا تعلق البانی خاندان کی ایرانی شاخ سے ہے۔ ہند آریائی خاندان کو مزید دو حصوں یعنی سنسکرت اور پراکرت میں تقسیم کیا جاتا ہے، اور یہی پراکرت آگے چل کر جدید آریائی زبانوں کی شکل میں سامنے آئی جن میں اردو اور ہندی وغیرہ شامل ہیں۔

برصغیر کا دوسرا بڑا لسانی خاندان دراوڑی (Dravidian) خاندان ہے، جس کے بولنے والے آریاؤں کی آمد سے قبل برصغیر کے تہذیبی رکھوالے سمجھے جاتے تھے، مگر آریاؤں کے غلبے کے بعد یہ لوگ جنوب کی جانب منتقل ہو گئے۔ دراوڑی زبانوں کا یہ خاندان جنوبی ہند میں اثر و رسوخ رکھتا ہے اور اس کی قریباً ۷۳ زبانیں برصغیر کے علاوہ پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش، افغانستان اور ایران کے کچھ حصوں میں بولی جاتی ہیں۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب میں دراوڑی زبان ہی بولی جاتی تھی۔ اس خاندان کی اہم زبانوں میں 'تمل' شامل ہے جو بھارت کی ریاست تمل ناڈو اور شمال مشرقی سری لنکا میں بولی جاتی ہے اور اسے ادب میں ایک منفرد برتری حاصل ہے؛ 'ملایالم' جو ریاست کیرالا میں رائج ہے؛ 'تیلگو' جو آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں بولی جاتی ہے؛ اور 'کنڑی' جو کرناٹک میں بولی جاتی ہے۔ اس خاندان کی ایک اہم زبان 'براہوی' ہے جو پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور ایران میں بولی جاتی ہے اور اس پر بلوچی کا گہرا اثر پایا جاتا ہے، البتہ بعض علمائے لسانیات کے مطابق براہوی کا رشتہ ایک قدیم زبان عیلامی سے ہے جو ۲۵۰۰ قبلِ مسیح سے ۱۰۰۰ قبلِ مسیح تک عراق میں بولی جاتی تھی۔

ان خاندانوں کے علاوہ ایک اور اہم لسانی گروہ سامی (Semitic) خاندان کہلاتا ہے، جس کا تعلق مغربی ایشیاء (مشرقِ وسطیٰ) اور ایشیائے کوچک سے تھا۔ یہ زبانیں بعد میں شمالی و مشرقی افریقہ اور مالٹا تک پھیل گئیں۔ سامی زبانوں کے بولنے والوں کی تعداد تقریباً ۳۰ کروڑ ہے اور اس خاندان میں عربی، عبرانی، امہارک، تگرنیا اور مالٹائی زبانیں شامل ہیں۔ ان میں مالٹائی زبان کی یہ انفرادیت ہے کہ یہ رومن رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور اس کے بولنے والے رومن کیتھولک مسیحی ہیں، مگر اس کے باوجود اس زبان کو اپنے آس پاس کی عربی زبانوں کے مقابلے میں قرآن کی زبان کے قریب ترین سمجھا جاتا ہے۔

ہند آریائی زبان کے ارتقائی مراحل

قدیم ہند آریائی زبان کا دور ۵۰۰ قبلِ مسیح تک قائم رہا اور اس طویل عرصے میں یہ زبان تین بڑے لسانی مرحلوں سے گزری جن میں ویدک سنسکرت، کلاسیکی سنسکرت اور پالی سنسکرت شامل ہیں۔ اس کے بعد وسطی ہند آریائی زبان کا دور شروع ہوتا ہے جو ۶۰۰ قبلِ مسیح اور ۱۰۰۰ عیسوی کے درمیان مروجہ ہند آریائی خاندانِ السنہ کا ایک مضبوط لسانی گروہ ہے۔ یہ گروہ قدیم ہند آریائی کا جانشین اور جدید ہند آریائی کا پیشرو کہلاتا ہے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب ہند آریائی زبانیں اپنے اصل روپ میں ظہور پذیر ہونے لگیں، اسی لیے اسے ہند آریائی زبانوں کا ابتدائی دور بھی کہا جاتا ہے۔ اسی دور میں 'پراکرت' ابھری جس کے لغوی معنی فطرت یا قدرتی کے ہیں۔ وسطی ہند آریائی کا تیسرا دور چھٹی صدی عیسوی کے بعد سامنے آیا جسے 'اپ بھرنش' زبانوں کا دور کہا جاتا ہے، اور انہی اپ بھرنشوں کے بطن سے جدید ہند آریائی زبانوں نے جنم لیا جن کا عہد ۱۰۰۰ عیسوی سے شروع ہو کر تا حال قائم ہے۔

اردو زبان کے مختلف نام اور وجہ تسمیہ

اردو زبان اپنے تشکیلی سفر میں مختلف ناموں سے موسوم ہوتی رہی ہے جن میں ہندی، ہندوی، ہندوستانی، دکنی، گجری، ریختہ اور اردوئے معلیٰ شامل ہیں۔ ہندی اور ہندوی اس زبان کے سب سے قدیم نام ہیں جو ہندوستان کی نسبت سے اسے دیے گئے۔ حافظ محمود شیرانی سے لے کر ڈاکٹر سنیتی کمار چٹرجی تک تمام لسانی محققین اس بات پر متفق ہیں کہ قدیم لغات اور ادبی تصنیفات میں اس کا نام ہندی یا ہندوی ہی ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۸۱۲ ہجری میں قاضی خاں بدر سے لے کر ۱۷۴۲ء میں سراج الدین خاں آرزو تک سبھی لغت نویسوں نے ہندوستان کی اس زبان کو ہندی یا ہندوی ہی لکھا ہے، اور بعض صوفیائے کرام کے اقوال میں بھی یہی نام ملتے ہیں۔ جب یہ زبان دکن کے علاقے میں پہنچی اور وہاں ادب کا وسیلہ بنی تو اسے 'دکنی' یا 'دکھنی' کہا گیا، کیونکہ اردو زبان و ادب کے فروغ میں دکن کا کردار انتہائی تاریخی ہے۔ اسی طرح جب اہلِ گجرات نے اسے اپنایا تو اس کا نام 'گجراتی' یا 'گوجری' رکھا؛ چنانچہ شیخ محمد کی مشہور مثنوی ”خوب ترنگ“ کی زبان اگرچہ اردو کے ذیل میں آتی ہے مگر وہ اسے گجراتی بولی ہی کہتے ہیں۔

ہندوی کے بعد اس زبان کا دوسرا مقبول ترین نام 'ریختہ' پڑا۔ لغت میں ریختہ کے معنی بننا، ایجاد و اختراع کرنا، نئے سانچے میں ڈھالنا، موزوں کرنا یا پریشان و گری پڑی چیز کے ہیں۔ جب اس زبان میں مختلف زبانوں کے ملاپ سے شاعری کا آغاز ہوا تو اسے ریختہ کہا گیا۔ بعد ازاں، جب شہنشاہ شاہجہان نے نئی دہلی آباد کر کے شاہی قلعے کو 'قلعۂ معلیٰ' کا نام دیا، تو شاہی لشکر اور قلعے کے آس پاس بولی جانے والی اس ملی جلی زبان کو 'اردوئے معلیٰ' کا نام دیا گیا، جسے شاہجہان نے بازاری زبان بھی کہا ہے۔ اس سے قبل اکبر کے عہد میں بھی اسے اردوئے معلیٰ، اردوئے لشکری اور اردوئے عالی کہا جاتا رہا تھا۔ لفظ 'اردو' بنیادی طور پر ترکی زبان کا ہے جس کے لغوی معنی لشکر، فوج، چھاونی یا خیمے کے ہیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی اس نام کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہندوستانی لشکر جو اردو کہلاتے تھے اور جن میں ہر علاقے کے لوگ موجود تھے، وہ ایک دوسرے سے اس زبان میں گفتگو کرتے تھے۔ مختلف زبانوں کے الفاظ، مزاج اور لہجوں کو سلیقے کے ساتھ اپنے اندر جذب کر کے ایک نامیاتی وحدت بنا دینے کی اسی صلاحیت کی بنا پر یہ زبان مستقل طور پر 'اردو' کہلائی۔

اردو کی تشکیل کے لسانی نظریات

اردو زبان کی تاریخ اور اس کی موجودگی کے نشانات یوں تو دسویں اور گیارہویں صدی عیسوی میں بھی ملتے ہیں، مگر بارہویں صدی عیسوی میں اس کی ابتدا کے واضح شواہد سامنے آئے۔ اردو اور فارسی کے حروفِ تہجی میں گہری مماثلت کی وجہ سے اردو کو عربی اور فارسی کی تیسری بہن بھی کہا جاتا ہے۔ اردو کے تمام محققین اس بات پر متفق ہیں کہ اس زبان کا آغاز برصغیر میں مسلمان فاتحین کی آمد، مقامی لوگوں سے ان کے میل جول اور مقامی بولیوں پر مسلم ثقافت کے اثرات کے نتیجے میں ہوا۔ تاہم، اس کے آغاز کے مقام اور نوعیت کے تعین میں ماہرین کے درمیان نظریاتی اختلاف پایا جاتا ہے، جن میں سے دو نظریات حد درجہ نمایاں ہیں:

 

حافظ محمود شیرانی کا نظریہ (پنجاب میں اردو)

پروفیسر حافظ محمود شیرانی نے اپنے گہرے لسانی مطالعے اور ٹھوس تحقیقی شواہد کی بنیاد پر یہ نظریہ قائم کیا کہ اردو کی ابتدا پنجاب میں ہوئی۔ ان کا استدلال ہے کہ جب سلطان محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری کے حملوں کے نتیجے میں پنجاب میں مسلمانوں کی مستقل حکومت قائم ہوئی اور وہ دہلی کی فتح سے قبل قریباً دو سو سال تک یہاں مقیم رہے، تو اسی طویل عرصے میں اس زبان کا بنیادی ڈھانچہ تیار ہوا۔ شیرانی صاحب نے اس نظریے کی صداقت میں تاریخی شواہد کے علاوہ پنجابی اور اردو کی لسانی مماثلتوں کو پیش کیا۔ ان کا فرمانا ہے کہ اردو اپنی صرف و نحو (Grammar) میں پنجابی اور ملتانی کے بہت قریب ہے؛ دونوں میں اسماء و افعال کے خاتمے پر الف آتا ہے، دونوں میں جمع بنانے کا طریقہ مشترک ہے، اور تذکیر و تانیث کے قواعد سمیت افعالِ مرکبہ میں دونوں زبانیں متحد ہیں۔ ان کے مطابق پنجابی اور اردو میں ساٹھ فیصد سے زیادہ الفاظ مشترک ہیں، جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اردو کا مولد پنجاب ہی ہے۔

:پروفیسر مسعود حسین خان کا نظریہ (نواحِ دہلی میں اردو(

پروفیسر مسعود حسین خان نے اپنے خالص لسانیاتی نقطہ نظر کی بنیاد پر حافظ محمود شیرانی کے نظریے کی تردید کی اور اپنی معرکہ آرا کتاب "مقدمۂ تاریخِ زبانِ اردو" (۱۹۴۸ء) میں یہ ثابت کیا کہ دہلی اور اس کے نواح کی بولیاں ہی اردو کا اصل منبع اور سرچشمہ ہیں۔ انہوں نے امیر خسرو کے فقرے "زبانِ دہلی و پیرامنش" سے اشارہ پا کر نواحِ دہلی کی بولیوں مثلاً کھڑی بولی، برج بھاشا، ہریانی، قنوجی اور میواتی کا دکنی اردو کے قدیم نمونوں کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا۔ ان کے مطابق میواتی اور بالخصوص ہریانی نے قدیم اردو کی تشکیل میں حصہ لیا، جبکہ کھڑی بولی نے جدید اردو کا ڈول تیار کیا۔ ان کا مروجہ نظریہ یہ ہے کہ اردو بارہویں صدی کے آخر میں ۱۱۹۳ء کے بعد کھڑی زبان سے تشکیل پاتی ہے، اس لیے دہلی اور اس کا مضافات ہی اردو کی جائے پیدائش ہے۔

اردو کے ارتقاء میں مسلمانوں اور صوفیائے کرام کا حصہ:

اردو زبان نے اب تک اپنی زندگی کی آٹھ صدیاں گزری ہیں، جن میں سے ابتدائی پانچ صدیاں (۱۳۰۰ء سے لے کر ۱۸۰۰ء تک) اس کے قدیم دور کی آئینہ دار ہیں۔ اس پورے ارتقائی سفر میں مسلمانوں کا حصہ سب سے بڑا رہا ہے۔ ۱۰۲۱ء میں جب پنجاب میں مسلمانوں کی غزنوی سلطنت قائم ہوئی، جو ۱۱۸۶ء تک قائم رہی، تو غزنوی فوج کے مختلف الاقوام سپاہیوں کو آپس میں اور ریاستی نظام سنبھالنے کے لیے ایک مشترکہ زبان کی ضرورت پیش آئی جو اردو کی بنیادی وجہ بنی۔ مسلمانوں کی مذہبی زبان عربی تھی، جبکہ فوجی سپاہیوں میں عربی، فارسی اور ترکی بولنے والے شامل تھے، جن کے گہرے اثرات ہندوستان کی تمام علاقائی زبانوں پر پڑے۔ بعد ازاں بادشاہ محمود غوری اور قطب الدین ایبک جیسے مسلم حکمرانوں نے بھی اس زبان کے فروغ کے لیے کام کیا، جس کے بعد جلال الدین فیروز شاہ خلجی دہلی کے تخت پر براجمان ہوئے۔

علاؤ الدین خلجی نے ۱۲۹۷ء میں گجرات اور دکن کو فتح کیا اور شمالی ہند کے باشندوں کو وہاں بھیج کر اپنی سلطنت چلائی۔ ان کے سپہ سالار ملک کافور نے دیو گری کو فتح کر کے پورے جنوب میں فوجی چھاؤنیاں قائم کر دیں، جس کے نتیجے میں چودہویں صدی عیسوی (۱۳۱۴ء) کے اس دور میں دکن کے اندر اس نئی زبان کو زبردست فروغ ملا۔ ۱۳۲۱ء میں خلجی خاندان کے خاتمے کے بعد جب غازی ملک نے حکومت قائم کی تو ان کے لشکر میں پنجابی سپاہیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی جس سے لسانی ملاپ مزید تیز ہوا۔ دکن میں اس زبان کے فروغ کو سب سے زیادہ مضبوطی محمد بن تغلق کے اس فیصلے سے ملی جب انہوں نے ۱۳۲۷ء میں دہلی کے بجائے دیو گری (دولت آباد) کو سلطنت کا مرکز قرار دیا۔ اس ہجرت سے دکن میں جو زبان پروان چڑھی اسے بعد میں 'دکنی اردو' کا نام دیا گیا۔ ۱۳۴۷ء میں جب امیرانِ صدہ نے تغلق کے خلاف بغاوت کر کے نئی سلطنت کی بنیاد رکھی، تو اسی دور میں ہمیں وہ ادبی تصانیف ملتی ہیں جنہیں اردو کے ابتدائی نقوش کہا جاتا ہے۔ دکن میں اردو کے پھیلنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہاں آنے والے نئے لوگوں کو مقامی زبانیں (کنڑ اور تمل) نہیں آتی تھیں اور ان کی شمالی زبان دکن کے لوگ نہیں جانتے تھے، چنانچہ ایک مشترکہ زبان کا وجود ناگزیر ہو گیا۔

مسلمان حکمرانوں اور فوجیوں سے پہلے صوفیائے کرام اور بزرگ اس دھرتی پر ایک مشترکہ زبان کو فروغ دے رہے تھے، کیونکہ ان کا عوام سے براہِ راست رابطہ تھا اور وہ اسلام کی تبلیغ کے لیے اسی زبان کو ذریعۂ ابلاغ بنانا چاہتے تھے جو اس وقت کے عوام میں رائج تھی۔ ان بزرگوں میں حاجی رومی (وفات: ۱۱۶۰ء)، سید شاہ مومن (وفات: ۱۲۰۰ء)، بابا سید مظہر عالم (وفات: ۱۲۲۵ء)، شاہ جلال الدین گنج رواں (وفات: ۱۲۴۶ء) اور بابا شہاب الدین (وفات: ۱۲۹۱ء) شامل ہیں۔ صوفیائے کرام کی بدولت ہی اردو زبان پند و موعظت اور رشد و ہدایت کا مؤثر ذریعہ بنی اور اس میں فکر و فن کے اظہار کی صلاحیت پیدا ہوئی۔ اردو نثر کے ابتدائی فقرے اور جملے باقاعدہ کتابوں سے پہلے ان صوفیاء کے ملفوظات میں ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

اس سلسلے میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی (پیدائش: ۱۱۲۴ء، وفات: ۱۲۳۵ء) جب تبلیغ کے لیے ہندوستان آئے تو پہلے ملتان میں قیام کے دوران مقامی زبان سے آشنائی حاصل کی اور پھر اجمیر کو اپنا مرکز بنایا۔ دہلی میں ان کے خلیفہ حضرت قطب الدین اور ناگور میں ان کے خلیفہ خواجہ حمید الدین ناگوری مقامی زبان میں ہی تبلیغ کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔ اسی طرح بابا فرید گنج شکر نے تبلیغ کے ساتھ ساتھ اردو زبان کا پہلا رسالہ بھی تحریر کر کے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔

اردو ادب کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس کے پہلے باقاعدہ شاعر بھی ایک مسلمان تھے جن کا نام امیر خسرو تھا؛ جبکہ ایک اور نامور شاعر نعیم علی حامد بھی تھے جن کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ الغرض، اردو ادب کی اصناف کے بانیوں میں بھی مسلمانوں کو اولیت حاصل ہے؛ چنانچہ اردو کے پہلے ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد، پہلے مضمون نگار سر سید احمد خان، اور اردو کی پہلی باقاعدہ گرامر مرتب کرنے والے مصنف بھی انشاء اللہ خان انشاء تھے، جو سب کے سب مسلمان تھے۔

کتابیات اور حوالہ جات

۱ڈاکٹر مرزا خلیل احمد بیگ، اردو زبان و ادب کی تاریخ، علی گڑھ: جامعہ اردو پبلی کیشنز، ۱۹۹۳ء۔

۲ڈاکٹر خورشید حمرا صدیقی، اردو زبان کا آغاز: مختلف نظریے اور حقائق، جموں کشمیر: شجع پبلی کیشنز، ۱۹۹۳ء۔

۳ہارون خان شیروانی (مصنف)، دکن میں بہمنی سلاطین (مترجم: الہاشمی)، مأخوذ از ریختہ ویب سائٹ۔

انٹرنیٹ حوالہ جات 

چینل چشمۂ ادب

چینل اردو ادب کی دنیا

چینل نوری اکیڈمی

 


کوئی تبصرے نہیں: