تحریر:ڈاکٹر شہناز خان
انسانی معاشرہ اپنی فطرت
میں تنوع سے بھرپور ہے۔ دنیا میں کوئی دو افراد مکمل طور پر ایک جیسے نہیں ہوتے۔
ہر شخص کی سوچ، جذبات، صلاحیتیں اور
سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں ماہرینِ نفسیات اور اعصابی
علوم نے اس حقیقت پر زور دیا ہے کہ دماغی اور عصبی اختلافات کو بیماری یا کمزوری
سمجھنے کے بجائے انسانی تنوع کے ایک فطری حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اسی
تصور کو “نیوروڈائیورسٹی” کہا جاتا ہے۔نیوروڈائیورسٹی ایک ایسا نظریہ ہے جو اس بات
کو تسلیم کرتا ہے کہ انسانوں کے دماغ مختلف انداز میں کام کرتے ہیں اور یہ
اختلافات انسانی فطرت کا حصہ ہیں۔ اس تصور کے مطابق آٹزم، اے ڈی ایچ ڈی (ADHD)، ڈسلیکسیا اور دیگر
اعصابی خصوصیات رکھنے والے افراد کو محض طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے معاشرے کے فعال
اور باصلاحیت رکن کے طور پر قبول کیا جانا چاہیے۔
نیوروڈائیورسٹی کا تصور کیا ہے؟
نیوروڈائیورسٹی کی اصطلاح 1990ء کی دہائی میں مقبول ہوئی۔ اس نظریے کا بنیادی مقصد یہ باور کرانا تھا کہ انسانی دماغ کے کام کرنے کے مختلف طریقے غیر معمولی نہیں بلکہ فطری ہیں۔ جس طرح لوگوں کے رنگ، زبانیں اور ثقافتیں مختلف ہوتی ہیں، اسی طرح سوچنے، سیکھنے اور معلومات کو سمجھنے کے انداز بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔یہ نظریہ طبی علاج کی مخالفت نہیں کرتا، بلکہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی فرد کی شناخت کو صرف اس کی اعصابی کیفیت تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کسی شخص کو اضافی مدد کی ضرورت ہو تو اسے مناسب سہولیات فراہم کی جائیں، لیکن اسے معاشرے سے الگ یا کمتر نہ سمجھا جائے۔
مختلف دماغ، مختلف صلاحیتیں
ہر دماغ اپنی منفرد ساخت اور کام کرنے کے انداز کی
وجہ سے الگ خصوصیات رکھتا ہے۔ بعض افراد غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہوتے
ہیں، کچھ پیچیدہ مسائل کو تیزی سے حل کر لیتے ہیں، جبکہ کچھ افراد جزئیات پر غیر
معمولی توجہ دے سکتے ہیں۔مثال کے طور پر آٹزم سے وابستہ بعض افراد میں تجزیاتی
صلاحیت، یادداشت اور مخصوص موضوعات میں گہری مہارت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ڈسلیکسیا
رکھنے والے کئی افراد تخلیقی سوچ، اختراع اور بصری ادراک میں نمایاں کارکردگی
دکھاتے ہیں۔ اے ڈی ایچ ڈی کے حامل افراد میں توانائی، جدت پسندی اور نئے خیالات
پیدا کرنے کی صلاحیت نسبتاً زیادہ دیکھی گئی ہے۔اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ ہر
اعصابی فرق کسی فرد کی کمزوری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہی خصوصیات اس کی سب سے بڑی
طاقت بن جاتی ہیں۔
معاشرتی رویے اور غلط فہمیاں
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ذہنی یا اعصابی
اختلافات کے بارے میں آگاہی کا فقدان پایا جاتا ہے۔ اکثر والدین، اساتذہ اور حتیٰ
کہ بعض اوقات طبی ماہرین بھی بچوں کی منفرد ضروریات کو درست طور پر نہیں سمجھ
پاتے۔بہت سے بچے جو کلاس روم میں روایتی انداز سے نہیں سیکھتے، انہیں سست، نافرمان
یا غیر سنجیدہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ مسئلہ ان کی صلاحیتوں میں کمی نہیں
بلکہ تدریسی طریقہ کار اور ان کی ضروریات کے درمیان عدم مطابقت ہو سکتا ہے۔اسی طرح
آٹزم یا اے ڈی ایچ ڈی رکھنے والے افراد کو اکثر سماجی رویوں کی بنیاد پر جانچا
جاتا ہے، جس سے ان کی خود اعتمادی متاثر ہو سکتی ہے۔ منفی رویے اور معاشرتی تعصب
نہ صرف ان افراد کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں بلکہ معاشرہ بھی ان کی صلاحیتوں سے
مکمل فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جاتا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں نیوروڈائیورسٹی کی اہمیت
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔
اگر تعلیمی نظام تمام طلبہ کو ایک ہی پیمانے سے ناپنے کی کوشش کرے گا تو بہت سے
باصلاحیت بچے نظر انداز ہو جائیں گے۔نیوروڈائیورسٹی کے تصور کے مطابق تعلیمی
اداروں کو ایسے ماحول کی تشکیل کرنی چاہیے جہاں مختلف انداز سے سیکھنے والے طلبہ
کے لیے یکساں مواقع موجود ہوں۔ اس مقصد کے لیے تدریسی مواد کو متنوع بنایا جا سکتا
ہے، بصری اور عملی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور امتحانی نظام میں لچک پیدا
کی جا سکتی ہے۔اساتذہ کی تربیت بھی نہایت اہم ہے تاکہ وہ طلبہ کی انفرادی ضروریات
کو سمجھ سکیں۔ جب بچوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق سیکھنے کے مواقع ملتے ہیں تو ان
کی کارکردگی اور اعتماد دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
روزگار اور پیشہ ورانہ زندگی
دنیا بھر میں متعدد ادارے اب نیوروڈائیورسٹی کو
ایک مثبت قوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مختلف تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ
متنوع اندازِ فکر رکھنے والی ٹیمیں مسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے حل کرتی ہیں اور
جدت پیدا کرنے میں بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔بعض کمپنیاں خصوصی بھرتی پروگرام
متعارف کرا رہی ہیں تاکہ آٹزم یا دیگر اعصابی اختلافات رکھنے والے افراد کو روزگار
کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ایسے افراد کمپیوٹر پروگرامنگ، ڈیٹا تجزیے،
ڈیزائن، تحقیق اور دیگر کئی شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔روزگار کے
میدان میں اصل ضرورت یہ ہے کہ کام کی جگہوں کو زیادہ شمولیتی بنایا جائے۔ معمولی
سی سہولت، واضح ہدایات، مناسب ماحول اور لچکدار پالیسیوں کے ذریعے بہت سے افراد
اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار کر سکتے ہیں۔
خاندان کا کردار
نیوروڈائیورسٹی کو سمجھنے اور قبول کرنے میں خاندان بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ والدین اگر اپنے بچوں کا موازنہ دوسروں سے کرنے کے بجائے ان کی انفرادی خصوصیات کو سمجھیں تو بچے زیادہ پراعتماد اور کامیاب بن سکتے ہیں۔بعض اوقات والدین تشخیص کے بعد خوف یا پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی آگاہی اور مناسب رہنمائی بچوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بچے کی کمزوریوں پر مسلسل توجہ دینے کے بجائے اس کی صلاحیتوں کو فروغ دینا زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہے۔خاندان کی محبت، حوصلہ افزائی اور قبولیت ایسے افراد کے لیے ایک مضبوط سہارا ثابت ہوتی ہے جو معاشرتی تعصبات کا سامنا کر رہے ہوں۔
میڈیا عوامی رائے کی
تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر فلموں، ڈراموں، اخبارات اور سوشل میڈیا میں
نیوروڈائیورس افراد کی درست اور مثبت نمائندگی کی جائے تو معاشرتی رویوں میں
نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ماضی میں اکثر ایسے کرداروں کو غیر معمولی یا عجیب انداز
میں پیش کیا جاتا تھا، جس سے غلط فہمیاں بڑھتی تھیں۔ اب دنیا بھر میں کوشش کی جا
رہی ہے کہ ان افراد کو حقیقت پسندانہ انداز میں دکھایا جائے تاکہ عوام ان کی
زندگیوں، چیلنجز اور کامیابیوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔آگاہی مہمات، تعلیمی
پروگرام اور میڈیا رپورٹس معاشرے میں قبولیت اور احترام کے فروغ میں اہم کردار ادا
کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں صورتِ حال
پاکستان میں
نیوروڈائیورسٹی کے حوالے سے شعور بتدریج بڑھ رہا ہے، تاہم ابھی بہت کام کرنے کی
ضرورت ہے۔ بڑے شہروں میں کچھ تعلیمی ادارے اور تنظیمیں خصوصی خدمات فراہم کر رہی
ہیں، لیکن دیہی اور کم وسائل والے علاقوں میں آگاہی اور سہولیات کی کمی موجود ہے۔ضرورت
اس امر کی ہے کہ سرکاری اور نجی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جو مختلف اعصابی
خصوصیات رکھنے والے افراد کی تعلیم، تربیت اور روزگار کے مواقع کو بہتر بنائیں۔
اساتذہ، والدین اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی تربیت بھی وقت کی اہم ضرورت
ہے۔اگر معاشرہ ان افراد کو بوجھ سمجھنے کے بجائے ایک قیمتی انسانی سرمایہ تصور کرے
تو نہ صرف ان کی زندگی بہتر ہو گی بلکہ قومی ترقی میں بھی اضافہ ہوگا۔دنیا تیزی سے
اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے کہ انسانی ترقی کا راز یکسانیت میں نہیں بلکہ تنوع
میں پوشیدہ ہے۔ نیوروڈائیورسٹی کا تصور ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر فرد اپنے اندر منفرد
صلاحیتیں اور امکانات رکھتا ہے۔ایک ایسا معاشرہ جو مختلف انداز سے سوچنے اور
سیکھنے والے افراد کو قبول کرتا ہے، زیادہ تخلیقی، زیادہ منصفانہ اور زیادہ ترقی
یافتہ بنتا ہے۔ ہمیں اپنی سوچ کو اس نہج پر لانے کی ضرورت ہے جہاں اختلاف کو مسئلہ
نہیں بلکہ ایک قوت سمجھا جائے۔نیوروڈائیورسٹی صرف ایک سائنسی اصطلاح نہیں بلکہ
انسانی وقار، احترام اور مساوات کا پیغام ہے۔ جب ہم مختلف دماغوں کو قبول کرنا
سیکھ لیتے ہیں تو دراصل ہم انسانیت کے وسیع تر حسن کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی
قبولیت ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے جہاں ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے
اظہار کا مکمل موقع ملتا ہے

کوئی تبصرے نہیں: