بچوں کو زندگی کے لیے تیار کرنے والی بنیادی مہارتیں
تحریر: ڈاکٹر شہناز خان
والدین عموماً اپنے بچوں کی اچھی تعلیم، بہتر
صحت اور روشن مستقبل کے لیے بے شمار کوششیں کرتے ہیں۔ وہ انہیں بہترین اسکولوں میں
داخل کرواتے ہیں، نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں اور ہر ممکن
سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ صرف تعلیمی کامیابی
زندگی میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ زندگی کے نشیب و فراز، مسائل اور جذباتی چیلنجز
کا سامنا کرنے کے لیے کچھ ایسی مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کتابوں سے زیادہ عملی
زندگی سے سیکھی جاتی ہیں۔ان مہارتوں میں دو سب سے اہم ہیں: جذبات کو منظم یا ریگولیٹ
کرنے کی صلاحیت اور مسائل کو حل کرنے کی مہارت۔ اگر والدین اپنے بچوں میں یہ دونوں
صلاحیتیں پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ درحقیقت انہیں زندگی بھر کے لیے ایک
مضبوط بنیاد فراہم کر دیتے ہیں۔
جذبات کا اظہار انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ خوشی،
غصہ، خوف، مایوسی اور اضطراب جیسے احساسات ہر انسان کی زندگی میں آتے ہیں۔ اصل
مسئلہ جذبات کا ہونا نہیں بلکہ ان جذبات کے ساتھ درست انداز میں نمٹنا ہے۔ بہت سے
لوگ معمولی مشکلات میں بھی پریشان ہو جاتے ہیں، اپنے ردِعمل پر قابو نہیں رکھ پاتے
اور بعض اوقات جذباتی فیصلے کر بیٹھتے ہیں جن کے نتائج نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ بچے جذبات کو سن کر نہیں بلکہ دیکھ کر
سیکھتے ہیں۔ اگر گھر کا ماحول ایسا ہو جہاں ہر چھوٹی مشکل پر شور شرابا، بے چینی یا
الزام تراشی شروع ہو جائے تو بچے بھی یہی طرزِ عمل اپنانے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس
اگر والدین کسی مشکل صورتحال میں تحمل کا مظاہرہ کریں، مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کریں
اور پرسکون انداز میں اس کا حل تلاش کریں تو بچے غیر محسوس طریقے سے یہی رویہ سیکھتے
ہیں۔
مثال کے طور پر اگر گھر میں کوئی مالی یا انتظامی
مسئلہ پیدا ہو جائے اور والدین ایک دوسرے سے احترام کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس کا
حل نکالنے کی کوشش کریں تو بچوں کو یہ پیغام ملتا ہے کہ مشکلات زندگی کا حصہ ہیں
اور ان سے گھبرانے کے بجائے سمجھ داری سے نمٹا جا سکتا ہے۔ یہ سبق کسی کتاب یا لیکچر
سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔اسی طرح بچوں کو مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت سکھانا بھی نہایت
ضروری ہے۔ آج کے دور میں بہت سے والدین محبت اور فکر کے جذبے کے تحت اپنے بچوں کے
ہر مسئلے کو خود حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بظاہر یہ رویہ مددگار محسوس ہوتا ہے لیکن
طویل مدت میں یہ بچوں کی خود اعتمادی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا
ہے۔جب بھی بچے کو کوئی چھوٹا یا بڑا مسئلہ پیش آئے، والدین کو فوراً حل فراہم کرنے
کے بجائے اسے سوچنے کا موقع دینا چاہیے۔ اس سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اس کے خیال میں
اس مسئلے کے ممکنہ حل کیا ہو سکتے ہیں۔ اس عمل سے بچے کی سوچنے، تجزیہ کرنے اور فیصلہ
کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ یہ سیکھ جاتا ہے کہ ہر چیلنج کے
ساتھ گھبرانا ضروری نہیں بلکہ اس کے حل کے لیے مختلف راستے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
یہاں ایک اہم نکتہ قابلِ غور ہے۔ بعض والدین یہ
سمجھتے ہیں کہ بچوں کو ہر مسئلہ والدین کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے۔ یقیناً ایسے
معاملات جن میں بچے کی سلامتی، صحت یا مستقبل متاثر ہو سکتا ہو، وہاں والدین کی
رہنمائی ناگزیر ہے۔ تاہم زندگی کے روزمرہ مسائل میں بچوں کو مکمل انحصار کی عادت
ڈالنا مناسب نہیں۔ اگر بچہ ہر چھوٹی بات پر دوسروں سے حل طلب کرے گا تو اس کی خود
مختاری متاثر ہو سکتی ہے۔ بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ پہلے خود مسئلے کو سمجھنے اور حل
کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کوشش کے باوجود وہ کامیاب نہ ہوں تو پھر والدین یا کسی
قابلِ اعتماد بزرگ سے مشورہ لیں۔ اس طرح ان میں خود اعتمادی اور ذمہ داری کا احساس
پیدا ہوتا ہے۔ زندگی کے بڑے فیصلوں اور چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے یہی خصوصیات
بعد میں ان کے کام آتی ہیں۔ایک اور اہم پہلو بچوں کی بات سننے کی عادت ہے۔ ہمارے
معاشرے میں اکثر والدین اپنے آپ کو صرف نصیحت کرنے والا سمجھتے ہیں جبکہ بچوں کی
رائے اور احساسات کو کم اہمیت دی جاتی ہے۔ نتیجتاً بچے یا تو خاموش ہو جاتے ہیں یا
پھر اپنی بات کہنے سے گھبرانے لگتے ہیں۔بچوں کی شخصیت کی نشوونما کے لیے ضروری ہے
کہ ان کی بات کو توجہ سے سنا جائے۔ جب کوئی بچہ اپنے خیالات یا احساسات کا اظہار
کرے تو اسے مکمل احترام دیا جائے۔ ضروری نہیں کہ والدین ہر بات سے اتفاق کریں، لیکن
بچے کو یہ احساس ضرور ہونا چاہیے کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے اور اس کی رائے کی
قدر کی جاتی ہے۔
سننے کی یہ عادت والدین اور بچوں کے درمیان
اعتماد کو مضبوط بناتی ہے۔ ایسے بچے اپنی زندگی کے اہم معاملات میں والدین سے کھل
کر بات کرتے ہیں اور ان کے ساتھ تعلق زیادہ صحت مند اور متوازن رہتا ہے۔ دوسری طرف
مسلسل تنقید یا نظرانداز کیے جانے والے بچے اکثر اپنی بات دل میں رکھنے لگتے ہیں
جس کے منفی اثرات ان کی ذہنی اور جذباتی صحت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ والدین کی سب سے بڑی
ذمہ داری بچوں کو صرف کامیاب طالب علم بنانا نہیں بلکہ ایک مضبوط، متوازن اور ذمہ
دار انسان بنانا ہے۔ جذباتی توازن اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت ایسی مہارتیں ہیں
جو انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں فائدہ پہنچاتی ہیں۔ یہ مہارتیں نہ صرف پیشہ
ورانہ کامیابی میں مدد دیتی ہیں بلکہ بہتر تعلقات، مضبوط کردار اور پُراعتماد شخصیت
کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر والدین اپنے رویوں، گفتگو اور
روزمرہ زندگی کے ذریعے بچوں کو جذبات پر قابو پانے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کا
ہنر سکھا دیں تو یہ ان کے لیے ایک ایسی میراث ہوگی جس کی اہمیت کسی مادی دولت سے
کم نہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ تعلیمی اسناد اور عہدے بدل سکتے ہیں، لیکن زندگی کے
مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت اور جذباتی پختگی ہمیشہ انسان کے ساتھ رہتی ہے۔ یہی وہ
سرمایہ ہے جو بچوں کو نہ صرف آج بلکہ آنے والے تمام برسوں میں کامیاب اور باوقار
زندگی گزارنے میں مدد دے۔

کوئی تبصرے نہیں: