اونچا ایک شجر میں پاؤں
زمیں کی سمتوں پر چھا جاؤں
اونچے شجر کی اونچائی سے
دریا دیکھوں ، بارش لاؤں
ہوا کے روشن دانوں جیسے
دریا پار پرندے پاؤں
ڈاکٹر عدنان بشیر کی تحقیق کے مطابق، سید ثروت حسین ۹ نومبر ۱۹۴۹ء کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال ملیر کینٹ، کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق زیدی سادات کے ایک معزز خاندان سے ہے۔ ثروت حسین کے اجداد کا اصل وطن ہندوستان میں اتر پردیش کے علاقے (امروہہ، بریلی اور بدایوں) تھے، جہاں سے ان کے بزرگوں نے ہجرت کی اور قیامِ پاکستان کے بعد کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ثروت حسین کے اجداد کا بدایوں میں زمین داری کا پیشہ تھا، اور مٹی سے اسی وابستگی کی جھلک ثروت حسین کی یادداشتوں اور شاعری میں بھی دکھائی دیتی ہے
زمیں سے تری بے رونقی دیکھی نہیں جاتی
کہیں دریا بہائیں گے، کہیں باغات رکھیں گے
تنقیدی جائزہ و تبصرہ
ثروت حسین کی اس نظم کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض روایتی مناظرِ فطرت کی عکاسی نہیں کر رہے، بلکہ یہاں 'شجر'، 'پرندے'، 'دریا' اور 'بارش' گہرے نفسیاتی اور وجودی استعارے بن کر ابھرتے ہیں۔
شجر اور پھیلاؤ کی خواہش: نظم کے ابتدائی مصرعے ہی میں "اونچا ایک شجر میں پاؤں" اور "زمیں کی سمتوں پر چھا جاؤں" انسان کی کائناتی وسعتوں کو چھونے اور اپنے وجود کو پھیلانے کی اس جبلت کو ظاہر کرتے ہیں جہاں وہ پوری کائنات پر محیط ہونا چاہتا ہے۔بلندی اور بصیرت: شجر کی اونچائی پر کھڑے ہو کر دریا کو دیکھنا اور بارش لانے کی خواہش کرنا، دراصل ایک ایسی تخلیقی بصیرت (Vision) کی علامت ہے جہاں شاعر مظاہرِ فطرت کو اپنے تصرف میں لانا چاہتا ہے۔ یہاں بارش لانا، زندگی اور تخلیق کی علامت ہے۔
روشنی اور پرواز کا سفر: "ہوا کے روشن دانوں جیسے" ایک انتہائی اچھوتی تشبیہ ہے، جو مادی دنیا سے ماورا کسی روشن اور شفاف دنیا کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں پرندے (جو کہ روح اور آزادی کی علامت ہیں) دریا پار سفر کرتے ہیں۔
ڈاکٹر عدنان بشیر نے اس کتاب میں ثروت حسین کے فن کے انھی اچھوتے پہلوؤں کو بے نقاب کیا ہے۔ ثروت حسین کی شاعری زمین سے جڑے رہنے اور آسمان کی وسعتوں کو تسخیر کرنے کے درمیان ایک ایسا خوبصورت پل ہے جو اردو شاعری میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
کوئی تبصرے نہیں: