جمہوریت کیا ہے؟
انسانی تاریخ حکمرانی کے نت نئے
تجربات اور نظریات کی آمیزش سے عبارت ہے۔ شخصی آمریتوں اور ملوکیت کے طویل
اندھیروں کے بعد جس نظامِ فکر نے عصرِ حاضر کے انسان کو سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ
جمہوریت ہے۔ لغوی اعتبار سے یہ انگریزی لفظ
"Democracy" کا
ترجمہ ہے، جو یونانی الفاظ
"Demo" (عوام) اور "Cracy" (حاکمیت) سے مل کر بنا ہے۔ سادہ الفاظ
میں اسے 'عوام کی حکومت' کہا جا سکتا ہے۔ یونانی مفکر ہیروڈوٹس سے لے کر سابق
امریکی صدر ابراہم لنکن تک، سیاسیات کے پنڈتوں نے اسے "عوام کی حاکمیت، عوام
کے ذریعے اور عوام پر" سے تعبیر کیا ہے۔ علمائے سیاست میں اگرچہ اس کی جامع
تعریف پر کچھ اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن بحیثیت مجموعی یہ ایک ایسا نظامِ حیات ہے
جہاں طاقت کا سرچشمہ بندوق کی نالی یا کسی خاندان کا الوہی حق نہیں، بلکہ معاشرے
میں بسنے والے تمام انسان ہوتے ہیں۔
فرد، سماج اور ریاست کا باہمی رشتہ:
کسی بھی عمرانی تشکیلات میں فرد حقوق
اور ذمہ داریوں کے تعین کی بنیادی اکائی ہوتا ہے۔ جب یہی افراد مخصوص جغرافیائی
حدود میں لسانی، ثقافتی اور مذہبی گروہوں کی شکل میں اکٹھے ہوتے ہیں تو سماج جنم
لیتا ہے، اور جب اس پورے مجموعے کے باہمی رشتے کو ایک دستور کی مدد سے باقاعدہ
اصول و ضوابط کا پابند کر دیا جائے تو 'ریاست' وجود میں آتی ہے۔ گویا ریاست سماج
کی کوکھ ہی سے جنم لیتی ہے اور اس کا کوئی بھی مفاد اس میں بسنے والے افراد کے
مجموعی مفاد سے بالا یا متضاد نہیں ہو سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جمہوریت کی دو بڑی
قسمیں رہی ہیں: ایک 'بلاواسطہ جمہوریت' جس میں عوام براہِ راست رائے دہی میں حصہ
لیتے تھے، جیسا کہ قدیم یونان کی شہری مملکتوں یا موجودہ سوئٹزرلینڈ کے چند شہروں
میں دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسری 'بالواسطہ یا نمائندہ جمہوریت' ہے، جہاں وسعتِ رقبہ
کے باعث عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے نظامِ حکومت چلاتے ہیں، کیونکہ جدید
دور میں پوری آبادی کا ایک جگہ جمع ہونا ممکن نہیں رہا۔
ریاست کا اصل کام اور بدلتے منظرنامے:
ایک جمہوری ریاست کا بنیادی کام مختلف قوانین اور اداروں کی مدد سے شہریوں کے تحفظ، انفرادی و اجتماعی ضروریات کی فراہمی، اور حقوق و فرائض کی منصفانہ نشاندہی کو یقینی بنانا ہے۔ جمہوریت محض ووٹ ڈالنے اور اسمبلیاں سجانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مستقل فلاحی اور عمرانی عمل ہے۔ اس کا حتمی مقصد داخلی اور بیرونی خطرات سے شہریوں کی حفاظت کرنا، روزمرہ زندگی کی سہولیات فراہم کرنا، اور ایسی پالیسیاں تشکیل دینا ہے جن سے معاشرتی ہم آہنگی اور امن و امان قائم ہو سکے۔ جب ریاست اپنے اس بنیادی کام سے غافل ہوتی ہے اور کارخانوں کی بے رحم چمنیاں انسانی بستیوں کو نگلنے لگتی ہیں، تو احمد مشتاق کا یہ جدید نوحہ یاد آتا ہے:
دھوئیں سے آسماں کا رنگ میلا ہوتا
جاتا ہے
ہرے جنگل بدلتے جارہے ہیں کارخانوں
میں
جب شہروں کا پورا فلاحی ڈھانچہ مسمار
ہونے لگے اور ادارے ذاتی مفادات کی نذر ہو جائیں، تو پھر تہذیبیں اور بستیاں اجڑنے
میں وقت نہیں لگتا۔ اسی لیے ایک سچے تخلیق کار نے خبردار کیا تھا:
جیسے ممکن ہو بچا لو یہ اجڑتے ہوئے
شہر
پھر نہ یہ رنگ نہ چہرے نہ مکاں دیکھو
گے
جمہوری حکومت کا طریقۂ کار اور تقسیمِ
اختیارات
ماضی کی مطلق العنان حکومتوں میں تمام
اختیارات ایک ہی شخص یا بادشاہ میں مرتکز ہوتے تھے، جو لازمی طور پر ظلم اور
ناانصافی کا باعث بنتا تھا۔ اس کا حل فرانسیسی مفکر مونٹیسکو نے 'نظریۂ تقسیمِ
اختیارات' کی صورت میں پیش کیا۔ اس اصول کے تحت ریاست کے تینوں بنیادی ادارے ایک
دوسرے سے آزاد اور خود مختار ہوتے ہیں۔ 'مقننہ' (پارلیمنٹ یا اسمبلی) کا کام قانون
سازی کرنا ہے۔ 'انتظامیہ یا عاملہ' (جس کا سربراہ صدارتی نظام میں صدر اور
پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم ہوتا ہے) قانون کے مطابق ملک کا نظم و نسق چلاتی ہے۔
جبکہ 'عدلیہ' کا کام آئین کی روشنی میں قانون کی تشریح اور تنازعات کا تصفیہ کرنا
ہے۔ اختیارات کی یہ تقسیم اداروں کے بیچ ایک ایسا توازن
(Checks and Balances) پیدا
کرتی ہے جس سے اقتدارِ مطلق کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، آج دنیا کے
کم و بیش 123 ممالک میں یہی جمہوری طریقۂ کار کسی نہ کسی شکل میں رائج ہے۔
جمہوریت کے فوائد اور رواداری:
جمہوریت کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ یہ
انسانی مساوات کے اخلاقی اصول پر قائم ہے۔ رنگ، نسل، زبان، جنس یا دولت کے
اختلافات سے قطع نظر، تمام انسان حقوق کے اعتبار سے برابر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس نظام
میں فیصلے اگرچہ اکثریت کی رائے سے ہوتے ہیں، مگر اقلیت کو اپنی اختلافی رائے
رکھنے اور اس کے اظہار کا پورا حق حاصل ہوتا ہے۔ اکثریت کو کسی بھی اقلیت کی آواز
دبانے کا کوئی اخلاقی یا قانونی حق حاصل نہیں ہوتا۔ مزید برآں، قانونی مساوات قائم
کیے بغیر سیاسی یا معاشی مساوات کا تصور بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔اس نظام کا ایک
اور اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ معاشرے کے تنوع کو قبول کرتا ہے۔ جمہوری عمل کی کامیابی
کے لیے مذہب اور ریاستی امور میں ایک معتدل اور منطقی علیحدگی لازمی سمجھی جاتی
ہے، جہاں عقیدے کو شہری کا ذاتی معاملہ قرار دے کر تمام مذاہب کا یکساں احترام کیا
جاتا ہے، تاکہ کوئی ایک گروہ طاقت کے بل پر دوسرے پر اپنی مرضی مسلط نہ کر سکے۔
ملوکیت سے جمہور کا سفر:
جمہوریت محض ایک طرزِ حکومت ہی نہیں،
بلکہ ایک طرزِ حیات ہے جو عوام کی رضا، مکالمے اور باہمی تعاون پر کھڑا ہے۔ یہ قانون
کی بالادستی، ادارہ جاتی توازن، اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
ملوکیت یا چند سری
(Oligarchy) حکومتوں کے برعکس۔جہاں اقتدار طاقت کے
بل پر غصب کیا جاتا ہے اور عوام کو محض بے زبان رعایا سمجھا جاتا ہے۔جمہوریت میں
عوام ہی اقتدار کے حقیقی مالک ہوتے ہیں۔یہ نظام پاکستانی تناظر میں بھی سیکولرزم
یا مذہبی مہم جوئی کی لایعنی ابلاغی جنگوں میں پڑے بغیر، ریاست کی غیر جانبدار
حیثیت اور انسانی مساوات پر زور دینے کا ایک انتہائی ذی شعور، پختہ اور پرامن
لائحہ عمل پیش کرتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ جمہوریت کوئی جامد شے نہیں بلکہ ایک
مسلسل ارتقائی سفر ہے، جس کا حتمی مقصد انسانی برابری، مکالمے کی فضا اور انصاف کا
قیام ہے۔ اگر ہم نے اس بدلتے ہوئے وقت کے تقاضوں کو نہ پہچانا اور آمریتوں کے
پرانے چلن پر ہی اصرار کیا، تو تاریخ کے آشیانے خالی ہو جائیں گے، جیسے احمد مشتاق
نے وقت کی بے رحمی کا نقشہ کھینچا تھا:
وہی گلشن ہے لیکن وقت کی پرواز تو
دیکھو
کوئی طائر نہیں پچھلے برس کے آشیانوں
میں

کوئی تبصرے نہیں: