اشیا کی شِیّت اور وقت کا نوحہ،احمد مشتاق کی شاعری کا جمالیاتی سفر
ایک ادبی مبصر ادب میں جب نظریات کا
شور حد سے بڑھ جائے، تو شاعری اکثر ایک سیاسی منشور یا سماجی بیان بن کر رہ جاتی
ہے ۔ ایسے میں کچھ تخلیق کار ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی مقبول برانڈ کا حصہ بننے کے
بجائے غزل کو اس کی خالص اور روایتی مٹی سے جوڑے رکھتے ہیں ۔ احمد مشتاق کا شمار
بلاشبہ اردو غزل کے انہی چند اہم ترین ناموں میں ہوتا ہے جنہیں 'پکڑنا' نقادوں کے
لیے ہمیشہ ایک مشکل ترین کام رہا ہے ۔ ان کی شاعری کسی فلسفے یا نظریے کا سیدھا
سچا اشتہار نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی اقلیم ہے جہاں جذبے کا اعلان نہیں، بلکہ
جذبے کا ضبط بولتا ہے ۔ ان کے ہاں ایک خاص قسم کی کفایت شعاری ملتی ہے، جہاں رنج
اور مسرت کو بہت بچا بچا کر برتا جاتا ہے ۔
نئی غزل کی
روش اور انحراف:
احمد مشتاق نے اپنے شعری سفر کے آغاز
میں روایت سے ہٹ کر 'فٹ پاتھ' جیسے الفاظ کا استعمال بھی کیا، جسے معاصرین نے
زندگی سے رشتہ جوڑنے کی ایک کامیاب کوشش قرار دیا ۔ مگر وہ اس روش پر زیادہ دیر
قائم نہ رہے، جس سے آگے چل کر 'نئی غزل' نے جنم لیا ۔ انہوں نے غزل کو سائنسی
ایجادات یا کسی وقتی فیشن کا پابند کرنے کے بجائے اس کے داخلی حسن پر توجہ مرکوز
رکھی ۔ انہوں نے غزل کو روایتی 'بالائے بام' کی تجرید سے نکالا اور اسے ہمارے اپنے
کمروں اور گلیوں کی جیتی جاگتی حقیقتوں سے ہمکنار کر دیا ۔ ان کا عاشق میر تقی میر
کی طرح روایتی اور مہذب ہے جو دور سے محبوب کو دیکھ کر دبے پاؤں پلٹ آتا ہے۔
وقت کا
احساس اور مکان کا چکر
احمد مشتاق کی غزل کا ایک بنیادی اور
دردناک مسئلہ 'وقت کی پرواز' ہے ۔ گزرتے وقت کا یہ احساس ان کے ہاں کسی تجریدی
کائنات کے بجائے 'مکان' کے واسطے سے ابھرتا ہے ۔ سونے دالان، کھڑکیاں، سنسان کمرے
اور گلیوں کا جال ان کے پورے شعری وجود کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے ۔ وقت کے
ہاتھوں ہر شے کا بدل جانا اور یادِ رفتگاں کا ملال ان کے دھیمے لہجے کو ایک گہری
انفرادیت بخشتا ہے ۔ جیسے ان کا یہ خوبصورت شعر وقت کی اسی بے رحمی کا عکاس ہے:
وہی گلشن ہے لیکن وقت کی پرواز تو
دیکھو
کوئی طائر نہیں پچھلے برس کے آشیانوں
میں
اور وقت کے اسی جبر کو وہ ایک اور جگہ
یوں بیان کرتے ہیں:
دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن
عمر بھر کون جواں کون حسیں رہتا ہے
اشیا کی
شِیّت اور فطرت کے مظاہر:
احمد مشتاق کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے
کہ وہ اشیا کو ان کی اصل 'شِیّت' (ان کے مادی وجود) کے ساتھ قبول کرتے ہیں ۔ جہاں
نقاد ہر چیز کو علامت ثابت کرنے پر تلے ہوتے ہیں، وہاں مشتاق کے ہاں بادل، آسمان،
موسم اور دریا سب سے پہلے اپنی تمام تر شادابی کے ساتھ مادی حقیقت کے طور پر سامنے
آتے ہیں ۔ صفائی اور پاکیزگی کی تلاش انہیں فطرت کے مظاہر کی طرف لے جاتی ہے ۔
کارِ دنیا کی آلودگی سے دور، وہ بہتے پانی کو اسی کی اصل حالت میں دیکھنا چاہتے
ہیں ۔ ناصر کاظمی نے ان کے شعر کو فلسفہِ تھیسیل سے جوڑا تھا ، مگر ایک عام قاری
کے لیے یہ مئے غم میں ملا ہوا وہ خالص پانی ہے جو زندگی کی پیاس بجھاتا ہے ۔
یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے
اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں
شہروں کے اجڑنے، صنعت کاری کے پھیلتے
دھویں اور مٹتی ہوئی اقدار کا دکھ بھی ان کے ہاں فطرت کے مرثیے میں بدل جاتا ہے:
دھوئیں سے آسماں کا رنگ میلا ہوتا
جاتا ہے
ہرے جنگل بدلتے جارہے ہیں کارخانوں
میں
غمِ جاناں
میں تحلیل ہوتا غمِ دوراں
مشتاق کارِ دنیا سے دور رہنے کے قائل
ضرور ہیں، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اپنے عہد کے سماجی یا سیاسی حالات سے
بے خبر ہیں ۔ ان کے ہاں 'غمِ دوراں' موجود ہے، لیکن انہوں نے اس پر یہ سخت پابندی
لگا رکھی ہے کہ وہ 'غمِ جاناں' کی تابعداری قبول کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا سیاسی
یا سماجی شعور غزل کے روایتی حسن میں اس طرح تحلیل ہو جاتا ہے کہ اسے الگ سے پکڑنا
ناممکن ہو جاتا ہے ۔ وہ عمل کے انجام کے شاعر ہیں، جہاں بات کسی اونچی آواز یا
نالے کے بجائے ایک سرد آہ اور گہری افسردگی پر ختم ہوتی ہے ۔
خواب کے پھولوں کی تعبیریں کہانی
ہوگئیں
خون ٹھنڈا پڑ گیا آنکھیں پرانی ہوگئیں
احمد مشتاق کی شاعری دراصل ہمارے عہد
کی مٹتی ہوئی تہذیب، بدلتے ہوئے محبوب اور بکھرتے ہوئے رشتوں کا ایک ایسا خاموش
نوحہ ہے جو بہت دھیمی، شائستہ اور سچی آواز میں پڑھا گیا ہے ۔ جذباتیت کے اس دور
میں ان کی غزل خالص شاعری کا وہ اوزون ہے جو قاری کو اندرونی سکون اور جمالیاتی
آسودگی فراہم کرتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: