بلاگ تلاش کریں

جنریشن زی اور سوشل میڈیا کا نفسیاتی اثر


Doctor Shahnaz Khan Psychology Humsub Geonews jung Rekhta  war BBC URDU

تحریر: ڈاکٹر شہناز خان


 موجودہ دور کو اگر ڈیجیٹل عہد کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر جنریشن زی، جسے عام طور پر “Gen Z” کہا جاتا ہے، ایک ایسی نسل ہے جو ٹیکنالوجی کے ساتھ پروان چڑھی ہے۔ اس نسل کے لیے سوشل میڈیا صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ معلومات، تعلیم، تعلقات، اظہارِ رائے اور شناخت کا ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ تاہم اس کے بے شمار فوائد کے ساتھ ساتھ کچھ نفسیاتی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

جنریشن زی وہ نوجوان ہیں جو ڈیجیٹل دنیا میں پیدا ہوئے اور بڑے ہوئے۔ ان کے لیے فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک سوشل میڈیا ان کی سرگرمیوں میں شامل رہتا ہے۔ یہی مسلسل وابستگی ان کی ذہنی کیفیت، رویوں اور سماجی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے نوجوانوں کو دنیا بھر کی معلومات تک فوری رسائی فراہم کی ہے۔ آج ایک طالب علم گھر بیٹھے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے لیکچرز سن سکتا ہے، نئی مہارتیں سیکھ سکتا ہے اور مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا نے نوجوانوں کو اظہارِ رائے کا موقع دیا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے خیالات اور تخلیقی صلاحیتوں کو وسیع پیمانے پر پیش کر سکتے ہیں۔

تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سوشل میڈیا حقیقی زندگی پر حاوی ہونے لگتا ہے۔ بہت سے نوجوان اپنی روزمرہ زندگی کا موازنہ دوسروں کی آن لائن زندگی سے کرنے لگتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اکثر لوگ اپنی زندگی کے صرف خوشگوار لمحات شیئر کرتے ہیں، جس سے دیکھنے والوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ دوسروں کی زندگی زیادہ خوشحال اور کامیاب ہے۔ اس مسلسل موازنے کے نتیجے میں احساسِ کمتری، مایوسی اور خود اعتمادی میں کمی پیدا ہو سکتی ہے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق سوشل میڈیا پر “لائکس”، “کمنٹس” اور “فالوورز” کی تعداد نوجوانوں کی ذہنی کیفیت پر نمایاں اثر ڈالتی ہے۔ جب کسی پوسٹ کو توقع سے کم پذیرائی ملتی ہے تو بعض نوجوان خود کو غیر اہم یا ناکام محسوس کرنے لگتے ہیں۔ دوسری جانب زیادہ پسندیدگی ملنے پر عارضی خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یوں نوجوان آہستہ آہستہ دوسروں کی توجہ اور منظوری کے محتاج بن سکتے ہیں۔

ایک اور اہم مسئلہ ڈیجیٹل تنہائی کا ہے۔ بظاہر سوشل میڈیا لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے، لیکن حقیقت میں کئی نوجوان حقیقی سماجی تعلقات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ آن لائن سیکڑوں دوست رکھنے کے باوجود بہت سے نوجوان جذباتی طور پر تنہائی محسوس کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل رابطہ انسانی تعلقات کی گہرائی اور خلوص کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا۔

سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کا تعلق اضطراب اور ذہنی دباؤ سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ مسلسل نوٹیفکیشنز، نئی پوسٹس دیکھنے کی خواہش اور آن لائن موجود رہنے کا دباؤ نوجوانوں کو ذہنی طور پر تھکا دیتا ہے۔ بعض اوقات نوجوانوں کو یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ اگر وہ کچھ دیر کے لیے بھی سوشل میڈیا سے دور ہو گئے تو کسی اہم خبر یا سرگرمی سے محروم رہ جائیں گے۔ ماہرین اس کیفیت کو “فومو” یعنی Fear of Missing Out کا نام دیتے ہیں۔

نیند کی کمی بھی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ بہت سے نوجوان رات گئے تک موبائل فون استعمال کرتے رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی نیند متاثر ہوتی ہے۔ ناکافی نیند نہ صرف جسمانی صحت کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ توجہ، یادداشت اور جذباتی توازن پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض نوجوان چڑچڑے پن، تھکن اور توجہ کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

سائبر بُلنگ بھی سوشل میڈیا کے منفی اثرات میں شامل ہے۔ ماضی میں تنقید یا مذاق محدود حلقے تک رہتا تھا، لیکن اب ایک منفی تبصرہ یا توہین آمیز پوسٹ چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسے تجربات نوجوانوں کی خود اعتمادی کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں ذہنی صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس کے باوجود سوشل میڈیا کو مکمل طور پر منفی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ بہت سے نوجوان اس کے ذریعے کاروبار شروع کر رہے ہیں، تعلیمی مواقع حاصل کر رہے ہیں اور سماجی مسائل کے بارے میں آگاہی پھیلا رہے ہیں۔ اصل مسئلہ استعمال کے طریقے اور مقدار کا ہے۔ اگر سوشل میڈیا کو متوازن انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ ترقی اور سیکھنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

والدین، اساتذہ اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں سے آگاہ کریں۔ نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ آن لائن دنیا ہمیشہ حقیقت کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔ اسی طرح انہیں اپنی خود اعتمادی کو لائکس اور فالوورز سے وابستہ کرنے کے بجائے اپنی حقیقی صلاحیتوں اور کامیابیوں پر توجہ دینی چاہیے۔

وقت کی مناسب تقسیم بھی ضروری ہے۔ روزانہ چند گھنٹے سوشل میڈیا سے دور رہ کر مطالعہ، ورزش، خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی صحت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اسی طرح سونے سے پہلے موبائل فون کے استعمال میں کمی نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا جنریشن زی کی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے اور مستقبل میں اس کی اہمیت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ یہ ایک طاقتور ذریعہ ہے جو نوجوانوں کو علم، مواقع اور رابطوں کی نئی دنیا فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے غیر متوازن استعمال سے ذہنی دباؤ، تنہائی اور خود اعتمادی کے مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا کے استعمال میں اعتدال اختیار کریں اور حقیقی زندگی کے تعلقات، سرگرمیوں اور تجربات کو بھی برابر اہمیت دیں۔ اسی متوازن رویے کے ذریعے وہ ڈیجیٹل دنیا کے فوائد حاصل کرتے ہوئے اپنی ذہنی صحت اور شخصیت کو بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں

کوئی تبصرے نہیں: