تلاش کریں

شعور کے تین موسم

 

تحریر: شہباز علی سولنگی

بچپن کا زمانہ بھی عجیب ہوتا ہے,تجسس سے بھرپور، معصوم اور سوالوں سے لدا ہوا۔ اس عمر میں ہمارے سامنے جو بات بھی آتی ہے، ہم اسے نہ صرف پورے دھیان سے سنتے ہیں بلکہ سچ مان کر ذہن کے نہاں خانے میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ بڑوں کی ہر بات ہمارے لیے حرفِ آخر ہوتی ہے۔ لیکن جوں جوں عمر کا پہیہ گھومتا ہے، بالخصوص جب انسان بیس یا بائیس سال کی عمر کو پہنچتا ہے اور یونیورسٹی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے، تو اس کے سوچنے، سمجھنے اور سننے کے انداز میں ایک واضح اور انقلابی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔یونیورسٹی کی زندگی اور عملی دنیا کا شعور انسان کو ایک نئی بصیرت دیتا ہے۔ اس مرحلے پر پہنچ کر انسان ہر سنی سنائی بات پر آمنا و صدقنا کہنے کے بجائے اشیاء، افراد اور واقعات کا تنقیدی جائزہ لینے لگتا ہے۔اب ہمارا دماغ ہر بات پر یکساں توجہ نہیں دیتا۔ لاشعوری طور پر ایک ذہنی فلٹر کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جو بات علمی، منطقی یا ہمارے مقصد کی ہوتی ہے، دماغ فوراً اس پر توجہ  مرکوز کر لیتا ہے، اور جو بات غیر ضروری یا وقت کا ضیاع معلوم ہو، اسے ہمارا ذہن خودکار طریقے سے مسترد  کر دیتا ہے۔ یہ فلٹریشن دراصل وقت کی کمی، جدید دور کی تیز رفتاری اور معلومات کے بے پناہ ہجومکے خلاف انسانی ذہن کا ایک حفاظتی دفاعی نظام ہے۔ایک دلچسپ اور حیرت انگیز مشاہدہ یہ ہے کہ جہاں بیس بائیس سال کا نوجوان باتوں کو فلٹر کر کے غیر ضروری چیزوں کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے، ساٹھ یا ستر سال کی عمر کے بزرگ بالکل الٹ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ ہر چھوٹی بڑی بات کو نہ صرف غور سے سنتے ہیں، بلکہ اس کی گہرائی اور مطلب تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا ذہن چیزوں کو خودکار طریقے سے مسترد کیوں نہیں کرتا؟
نوجوان نسل جس دور سے گزر رہی ہے، وہاں عجلت، دوڑ دھوپ اور اہداف کو پانے کی جلدی ہے۔ اس کے برعکس، عمر کے آخری حصے میں زندگی کی رفتار دھیمی ہو جاتی ہے۔ مصروفیت کم ہو جانے کے بعد انسان کے پاس وقت کا ایک وسیع دامن ہوتا ہے۔ اب انہیں کسی امتحان کی تیاری نہیں کرنی اور نہ ہی کسی کیریئر کی دوڑ میں شامل ہونا ہے۔ اس ٹھہراؤ کی وجہ سے ان کا ذہن ہر آنے والی معلومات کو خوش آئند کہتا ہے اور اس پر غور و فکر کرتا ہے۔بڑھاپے کا ایک بڑا المیہ سماجی تنہائی ہے۔ جب بچے اپنے اپنے کاموں اور زندگیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں، تو بزرگوں میں یہ احساس بیدار ہوتا ہے کہ شاید وہ پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی بات، چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، ان کے لیے بیرونی دنیا سے جڑنے کا ایک ذریعہ بن جاتی ہے۔ وہ بات سن کر اس کا مطلب اس لیے جاننا چاہتے ہیں تاکہ وہ گفتگو کا حصہ بن سکیں اور خود کو تنہا نہ محسوس کریں۔
موجودہ ساٹھ ستر سال کی عمر کے افراد نے اس دور میں پرورش پائی ہے جہاں رابطے کا بنیادی ذریعہ گفتگو تھا۔ وہ ڈیجیٹل اسکرولنگ کے دور کے لوگ نہیں ہیں جہاں چند سیکنڈز میں معلومات بدل جاتی ہیں۔ ان کے دور میں بات کو پورا سننا، اس پر جرح کرنا اور اس کے معنی تلاش کرنا حسنِ معاشرت کا حصہ تھا۔ ان کا یہ رویہ دراصل ان کی تربیت اور اس دور کی عکاسی ہے جہاں ہر بات کی اپنی ایک اہمیت ہوتی تھی۔بزرگ کسی بھی بات کو صرف سطحی طور پر نہیں سنتے۔ ان کے پاس زندگی کا ایک طویل تجربہ ہوتا ہے۔ جب وہ کوئی نئی بات سنتے ہیں، تو وہ اپنے ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس کا موازنہ کرتے ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بدلتے ہوئے دور میں لوگ کس طرح سوچ رہے ہیں، اس لیے وہ ہر بات کا مطلب اور گہرائی جاننے کے متجسس رہتے ہیں۔بچپن کا اندھا اعتماد، جوانی کی فلٹریشن اور بڑھاپے کی تفصیلی جستجو،یہ سب انسانی زندگی کے مختلف موسم ہیں جو شعور کے ارتقا کو ظاہر کرتے ہیں۔ جوانی کا فلٹر اگر وقت کی ضرورت ہے، تو بزرگوں کا ہر بات پر غور کرنا ان کی زندگی کا ٹھہراؤ اور دنیا سے جڑے رہنے کی خواہش ہے۔
ان دونوں رویوں کا ٹکراؤ اکثر نسلوں کے درمیان دوری کا سبب بنتا ہے، لیکن اگر نوجوان اس نفسیات کو سمجھ لیں کہ بزرگوں کا توجہ دینا اور مطلب جاننا کوئی بے جا مداخلت نہیں بلکہ ان کی تنہائی کا علاج اور زندگی کا اسلوب ہے، تو خلیج کو باآسانی مٹایا جا سکتا ہے۔ عقل جہاں باتوں کو چھان کر قبول کرتی ہے، وہیں دل کا تقاضا یہ ہے کہ عمر کے اس حصے میں موجود لوگوں کو پوری توجہ دی جائے، کیونکہ کبھی کبھی صرف سنے جانے کا احساس ہی انسان کے لیے سب سے بڑا سکون بن جاتا ہے۔