![]() |
| شاعر: رشید حسرت، کوئٹہ |
اب رہا جاتا نہیں ہے اس کے بِن، دو چار دن
روح! تُو لوٹے گی یوں لمحے نہ گن، دو چار دن
اک خصم جورو سے اپنی کہہ رہا تھا عجز سے
آ کے اپنے ساتھ جو رہ لے بہن، دو چار دن
جس سے مانگا تھا ابھی فرمان اس کا بار ہے
مانگ کر لائے خدا سے ایک دن، دو چار دن
اب تو ہم عادی اسی دلدل کے ہو کر رہ گئے
معصیت سے ہم کو بس آئی ہے گِھن، دو چار دن
اب طبیعت میری بیگم کی بحال از حد ہوئی
جب تلک ماں تھی یہاں آتا تھا جِن، دوچار دن
یہ پجاری زر کے ہیں، انسانیت سے کیا انہیں
مر گئے ان سے گئی کرسی جو چھن، دو چار دن
ہم نے بچپن میں بہت بد حالیاں دیکھیں رشیدؔ
تو بھی اب بوسیدہ کپڑے ہی پہن، دو چار دن

کوئی تبصرے نہیں: