بلاگ تلاش کریں

آم میٹھے بھی ہوں، مگر زیادہ ہوں!

 



Advocate Imdad Haider, آم میٹھے بھی ہوں، مگر زیادہ بھی ہوں


از: ایڈوکیٹ امداد حیدر 

مرزا غالب آموں کے بے حد شوقین تھے۔ ان کا ایک جملہ تو ضرب المثل بن گیا:

"آم میٹھے بھی ہوں، مگر زیادہ ہوں!"

غالب نے ایک موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ انہیں آم اتنے ہی پسند ہیں جتنے انگور۔ آم کا اصل وطن جنوبی اور جنوب مغربی ایشیا مانا جاتا ہے، لیکن آج یہ دنیا کے تمام گرم اور استوائی خطوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا واحد پھل ہے جسے بیک وقت پاکستان اور بھارت دونوں اپنا قومی پھل قرار دیتے ہیں، اور اس پر کبھی کسی قسم کا تنازعہ بھی نہیں اٹھا۔

آم کو "پھلوں کا بادشاہ" کہا جاتا ہے۔ شاید اس لیے کہ جون اور جولائی کی جھلسا دینے والی گرمیوں میں، جب سورج آگ برسا رہا ہوتا ہے، آم اپنی مٹھاس اور خوشبو سے انسان کی روح کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔

آم کی ایک اور انفرادیت یہ ہے کہ کچا ہو تو بھی کارآمد اور پکا ہو تو بھی لاجواب۔ برصغیر میں صدیوں سے کچے آم کا اچار، چٹنی اور دیگر لوازمات تیار کیے جاتے رہے ہیں۔ آج بھی دیہاتوں میں روٹی کے ساتھ اچار کی پھانک ایک محبوب روایت ہے۔

ساون کا مہینہ، آموں کے باغات، درختوں پر جھولے اور عورتوں کے گیت ہماری تہذیب اور اجتماعی شعور کا حصہ ہیں۔ آم صرف ایک پھل نہیں، ایک ثقافتی علامت بھی ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ اردو کا لفظ "آم" دراصل سنسکرت کے لفظ "آمر" سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ تقریباً چار ہزار سال پر محیط ہے۔ انگریزی کا لفظ Mango تامل زبان کے لفظ منگائی سے آیا۔ پرتگالی تاجروں نے یہ لفظ اختیار کیا، جو بعد ازاں انگریزی میں "مینگو" بن گیا۔

چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی میں بدھ راہب آم کو اپنے ساتھ جنوب مشرقی ایشیا لے گئے۔ یوں یہ برما، تھائی لینڈ، چین، انڈونیشیا اور فلپائن تک جا پہنچا۔ فلپائن کے بعض آم اتنے شیریں ہیں کہ ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی درج کیا گیا۔

پندرھویں اور سولہویں صدی میں ہسپانوی جہاز آم کے بیج فلپائن سے میکسیکو لے گئے۔ وہاں سے یہ ویسٹ انڈیز، فلوریڈا اور دیگر ہسپانوی نوآبادیات تک پھیل گیا۔ دوسری جانب پرتگالی تاجروں کے ذریعے آم مشرقی افریقہ اور عرب دنیا تک بھی پہنچا۔

مشہور سیاح ابن بطوطہ نے صومالیہ کے سفرنامے میں آم کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ وہاں کے لوگ اس پھل کو بڑے شوق سے کھاتے تھے۔

ہندو روایات اور داستانوں میں آم کے درخت کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ رامائن اور مہابھارت میں اسے "کلپ ورکش" یعنی "خواہشیں پوری کرنے والا درخت" کہا گیا ہے۔ کرشن اور رادھا کی داستانوں سے لے کر شیو اور پاروتی کی روایات تک، آم ہمیشہ محبت، خوشحالی اور زرخیزی کی علامت رہا ہے۔

رابندر ناتھ ٹیگور کو بھی آم بے حد پسند تھے اور انہوں نے اس پر ایک خوبصورت نظم لکھی۔ فارسی شاعر امیر خسرو نے آم کو "فخرِ گلشن" کا لقب دیا۔

غالب اور آم کا ایک دلچسپ قصہ بھی مشہور ہے۔ ایک روز ان کے دوست نے دیکھا کہ ایک گدھا آموں کے ڈھیر کے پاس گیا، سونگھا اور واپس لوٹ آیا۔ دوست نے طنزاً کہا:

"دیکھا، گدھے بھی آم نہیں کھاتے!"

غالب نے فوراً جواب دیا:

"جی ہاں، صرف گدھے ہی آم نہیں کھاتے!"


مغل بادشاہوں نے آم کی سب سے زیادہ سرپرستی کی۔ اکبر اعظم نے دربھنگہ میں ایک لاکھ سے زائد آم کے درخت لگوائے تھے۔ "آئینِ اکبری" میں آم کی مختلف اقسام کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے لال قلعہ میں بھی آموں کا ایک مشہور باغ "حیات بخش" کے نام سے موجود تھا۔

دنیا بھر میں اس وقت آم کی تقریباً پندرہ سو اقسام موجود ہیں، جن میں سے ایک ہزار کے لگ بھگ صرف برصغیر میں پائی جاتی ہیں۔ ہندوستان اور دکن کے نوابوں نے آم کی نئی اقسام پیدا کرنے میں غیرمعمولی دلچسپی لی۔ انہوں نے مختلف علاقوں سے قلمی پودے منگوا کر ایسے ایسے ذائقے تخلیق کیے جو آج بھی مشہور ہیں۔

الفانسو، دسہری، چوسا، لنگڑا، نیلم، کیسر، بیگن پالی، فضلی، امرپالی، گلاب خاص اور انور رٹول جیسی اقسام اسی ذوق اور محنت کا نتیجہ ہیں۔


لنگڑا آم کی دلچسپ کہانی:

روایت ہے کہ تقریباً تین سو سال قبل بنارس میں ایک لنگڑا کسان رہتا تھا جو آموں کا شیدائی تھا۔ وہ آم کھا کر ان کی گٹھلیاں اپنے گھر کے قریب زمین میں دبا دیتا۔ انہی میں سے ایک درخت ایسا نکلا جس کے پھل کا ذائقہ اور خوشبو سب سے منفرد تھی۔ چونکہ وہ کسان "لنگڑا" کے نام سے مشہور تھا، اس لیے اس آم کو بھی "لنگڑا" کہا جانے لگا۔

علامہ اقبال اور آم:

اکبر الٰہ آبادی نے ایک مرتبہ علامہ اقبال کو لنگڑا آموں کا ایک پارسل بھیجا۔ جب آم بخیریت لاہور پہنچ گئے تو اکبر نے حیرت سے شعر کہا: 

اثر یہ تیرے انفاسِ مسیحائی کا ہے اکبرؔ

الٰہ آباد سے لنگڑا چلا، لاہور تک پہنچا

 

علامہ اقبال کو بھی آم بے حد پسند تھے۔ بیماری کے دوران حکیموں نے انہیں میٹھی چیزوں اور آم سے پرہیز کا مشورہ دیا، مگر اقبال نے جواب دیا:


"آم کھا کر مرنا، آم چھوڑ کر مرنے سے بہتر ہے!"


آخرکار انہیں روزانہ صرف ایک آم کھانے کی اجازت دی گئی۔ اقبال نے اپنے ملازم کو تاکید کی کہ بازار سے سب سے بڑا آم خریدا کرے تاکہ "ایک آم" کی شرط بھی پوری ہو جائے اور شوق بھی!


 سندھ کا فخر:

پاکستان میں سندھڑی آم کو آموں کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔ اپنی خوشبو، مٹھاس، جسامت اور ذائقے کے باعث اس کی شہرت دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے۔ سندھڑی آم کی تاریخ تقریباً ایک صدی پرانی ہے۔ 1909ء کے لگ بھگ مدراس سے چند پودے سندھ لائے گئے جنہیں ممتاز زمینداروں نے کاشت کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی قسم "سندھڑی" کے نام سے مشہور ہوئی اور آج پاکستان کی نمایاں ترین برآمدی اقسام میں شمار ہوتی ہے۔

آم کی کاشت اور پختگی:

آم بنیادی طور پر دو اقسام کے ہوتے ہیں:

تخمی آم،جو گٹھلی سے اگتے ہیں۔

قلمی آم ،جو پیوندکاری اور قلم کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں۔

تخمی آم عموماً درخت پر ہی پک جاتے ہیں، جبکہ قلمی آم کچی حالت میں توڑ کر مخصوص طریقے سے پکائے جاتے ہیں۔ اس عمل کو "پال دینا" کہا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض تاجر کیلشیم کاربائیڈ جیسے مضرِ صحت کیمیکل استعمال کرکے آموں کو مصنوعی طور پر پکاتے ہیں۔ اس سے آم ظاہری طور پر تو خوبصورت نظر آتے ہیں، مگر ان کا اصل ذائقہ ختم ہوجاتا ہے اور انسانی صحت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

آم صرف ایک پھل نہیں، برصغیر کی تہذیب، تاریخ، شاعری، داستانوں اور یادوں کا حصہ ہے۔ غالب سے اقبال تک، اکبر سے ٹیگور تک، نوابوں سے کسانوں تک، سب نے اس سنہری پھل کی مٹھاس میں اپنی اپنی محبتیں تلاش کی ہیں۔

اور شاید اسی لیے آج بھی غالب کی بات دل کو لگتی ہے:

"آم میٹھے بھی ہوں، مگر زیادہ ہوں!"


کوئی تبصرے نہیں: