بلاگ تلاش کریں

ادب اور سماج

 

Sajjad Zaheer Solangi, Society and Literature



از: سجاد ظہیر سولنگی

 سماجی سائنس کا مطالعہ کیا جائے تو ادب اور سماج کا رشتہ ایک اٹوٹ تعلق کی صورت اختیار کر چکا ہے، جسے دوسرے الفاظ میں سیاسی ادب بھی کہا جاتا ہے۔ ایسا ادب جو سماج میں محنت کشوں، دہقانوں، خواتین اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے ابھرنے والی ہر تحریک کی ترجمانی کرے، سیاسی یا ترقی پسند ادب کہلاتا ہے۔سماج میں ایسے ادب کی بنیادیں بہت پرانی ہیں۔ اس کی عملی شروعات انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے عوامی جدوجہد کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ تحریکی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو بیسویں صدی میں روس کی سرزمین پر آنے والے بالشویک انقلاب کے بعد ترقی پسند ادب کو عملی طور پر ایک مضبوط فکری اور قلمی سمت ملی۔اگر شعور اور تاریخ کے تناظر میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زندگی اپنے اولین دن سے ہی ترقی اور تبدیلی کی جانب سفر کرتی رہی ہے۔ یہ زندگی کا ایک مسلمہ سچ ہے کہ کوئی بھی تبدیلی سماجی عمل کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ ہر بڑی تبدیلی کے پسِ منظر میں تاریخ کی ایک طویل اور عظیم جدوجہد کارفرما ہوتی ہے۔

عالمی نظریۂ مارکسزم ایسے ادب کو حقیقی ادب تسلیم نہیں کرتا جو عوامی بیداری پیدا کرنے اور محنت کش طبقے کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام رہے۔ روس کی سرزمین پر 1917ء میں لینن کی قیادت میں برپا ہونے والے بالشویک انقلاب نے سماجی اور سیاسی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے، جن کے اثرات آج بھی ادب میں موجود ہیں۔ 1935ء میں  انجمن ترقی پسند مصنفین  کی بنیاد سب سے پہلے لندن میں زیرِ تعلیم ہندوستانی طلباء نے رکھی۔ اس انجمن کا پہلا جلسہ لندن کے نانکنگ ریستوران میں ہوا۔ جہاں اس انجمن کا منشور یا اعلان مرتب کیا گیا۔ اس اجلاس میں جن لوگوں نے شرکت کی ان میں سجاد ظہیر، ملک راج آنند، ڈاکٹر جیوتی گھوش اور ڈاکٹر دین محمد تاثیر وغیرہ شامل تھے۔ انجمن کا صدر ملک راج آنند کومنتخب کیا گیا۔ اس طرح انجمن ترقی پسند مصنفین جو ترقی پسند تحریک کے نام سے مشہور ہوئی وجود میں آئی۔ہندوستان واپس آنے کے بعد 1936ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کو  باضابطہ طور پر تنظیمی شکل دی گئی۔ پہلی کانفرنس  10 اپریل 1936ء میں لکھنؤ میں ہوئی جس کی صدارت منشی پریم چند نے کی۔پہلے سیکریٹری جنرل سید سجاد ظہیر منتخب ہوئے۔

یہ ادبی تحریک سامراج دشمنی کی بنیاد پر قائم تھی، جس کا مقصد انگریز سامراج کے خلاف عوام میں بیداری پیدا کرنا تھا۔ اس تحریک نے جو کارنامے سرانجام دیے، وہ آج بھی ادبی تاریخ کا ایک اہم باب سمجھے جاتے ہیں۔ برصغیر میں اگر عوامی سطح پر دیکھا جائے تو انجمنِ ترقی پسند مصنفین کے بعد کوئی ایسی بڑی ادبی تحریک دوبارہ ابھر کر سامنے نہیں آئی جسے وسیع عوامی حمایت حاصل ہو یا جس میں عام لوگوں کی بھرپور شمولیت رہی ہو۔ آج جب کہ ترقی پسند تحریک اپنی سابقہ قوت اور اثر انگیزی کھو چکی ہے، بعض اوقات اس کی اصل حیثیت بھی کمزور محسوس ہوتی ہے۔اس صورتِ حال میں ہم بعض اوقات ایسے ادب کو تسلیم کرنے سے نہ صرف انکاری ہوتے ہیں بلکہ اس کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت دلائل بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً ادب محدود ہو کر صرف مخصوص مفاد پرست حلقوں تک رہ جاتا ہے، اور اس کی سماجی و فکری وسعت متاثر ہوتی ہے۔

آج ہمارے ذہنوں میں بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں جن پر ہم اپنے قلم اور سوچ کو استعمال نہیں کرتے۔ ہماری سیاست کیوں کمزور ہے؟ سماج میں تبدیلی کا عنصر کیوں خاموش ہے؟ عوام کی آواز اور مظلوم طبقات کی بقا کا نعرہ کیوں دب گیا ہے؟ محنت کشوں کے مسائل کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اگر کہیں کوئی نوجوان اپنی تحریر، شعر یا گفتگو میں عوام اور پسے ہوئے طبقات کی بات کرتا ہے تو اس کے بارے میں یہ رائے قائم کر لی جاتی ہے کہ ادب کو نعرے بازی سے پاک ہونا چاہیے۔

ادب ہر حسن کی تکمیل کے نغمے گاتا ہے۔ انسان کی خوبصورتی بھی ہمارے ادب کا ایک اعلیٰ موضوع اور شاہکار ہے۔ ہم جیسا چاہیں تخلیق کریں، ہمیں کسی ظاہری روک ٹوک کا سامنا نہیں ہوتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم اپنے کلام میں نسوانی حسن یا دیگر جمالیاتی پہلوؤں کو کھل کر بیان کریں اور ہماری بات بے تکلفی سے سنی جائے، تو کیا ایسی تخلیق کے لیے کسی سماجی اور تاریخی تبدیلی کی ضرورت نہیں؟ ایسی ادبی فضا کے لیے ضروری ہے کہ سماج میں تبدیلی پسندی کی جدوجہد جاری رہے، جہاں ادب کی تخلیق میں حسن کے تمام جمالیاتی پہلو بغیر کسی جبر یا روک ٹوک کے بیان کیے جا سکیں۔ اس کے لیے ایک ایسی تاریخ اور سماجی شعور درکار ہے جو تبدیلی کی جدوجہد سے جڑا ہو۔ قلم اور فکر کی قوت سے سماجی رومانیت کا پل تعمیر کیا جائے، جو اس ادب کی طرف لے جائے جسے ہم ترقی پسند ادب کہتے ہیں۔یہی وہ ادب ہے جو سماج اور انسانی رشتوں کی بات کرتا ہے، سیاست کو سماجی بیداری سے جوڑتا ہے، اور فن و ادب کو رجعت پسند عناصر کے تسلط سے آزاد کر کے علم و دانش کو عوام کے قریب لاتا ہے۔ یہ وہ ادب ہے جو سماج میں موجود بھوک، افلاس، غربت، سماجی بیگانگی، معاشی پسماندگی اور سیاسی آزادی کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ ایسا ادب حقائق اور سچ کو عوام کے سامنے واضح طور پر پیش کرنے کو اپنی انقلابی روایت سمجھتا ہے۔ یہ سماج کو جدید اور سائنسی اصولوں کی روشنی میں سمجھنے کی وسعت فراہم کرتا ہے، اور ماضی کی فرسودہ روایات کے خلاف اور ایک پرامن دنیا کے قیام کی جدوجہد میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

مانا کہ ادب حسن کا ایک نرالا اظہار ہے، مگر ہمیں اس کا معیار ایک بار پھر تبدیل کرنا پڑے گا۔ ترقی پسند ادبی تحریک سے پہلے حسن کا معیار ماسوائے امیروں اور ساہوکاروں کی عیاشی کے کچھ بھی نہیں تھا۔ جو ادب ہمیں انقلابی فکر کے نغمے نہ دے سکے، ہماری خواہشات اور جینے کا راستہ نہ دکھا سکے، ہمارے دل میں دھرتی، مظلومیت، امن اور آشتی کا سنگم نہ بنا سکے، اور جو ادب ہمارے ارادوں اور امیدوں کو فتح یاب کرنے کے لیے سچائی کا پیغام نہ دے سکے، وہ ہمارے لیے ماسوائے عیاشی کے کچھ بھی نہیں ہے۔ ایسے ادب کی ترویج ہمارے سماج میں ممکن نہیں ہے۔

:ایک وقت میں اردو کے بہت بڑے شاعر مرزا غالبؔ کو یہ کہنا پڑا

لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاں

ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے


غالبؔ صاحب کا یہ شعر ہاتھوں کا قلم ہونا ایک علامتی انداز میں انقلابی فکر کی نوید دیتا ہے، جس میں غالبؔ اپنے ہاتھوں کے قلم ہونے کو قبول کرتے ہیں لیکن سچ کا دامن نہیں چھوڑتے۔ ادب وہی سماج کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے جس میں محکوموں کی چیخیں، محنت کشوں کی آزادی اور اس کی تعمیر و تعبیر کا جذبہ شامل ہو۔ جس میں سماجی حقیقت نگاری کے رنگ نمایاں ہوں۔ہمارے ادب کو ایسی تحریکوں کی رہنمائی کرنی چاہیے جن کے منشور میں سماجی ناانصافی اور غیر منصفانہ تقسیم کا حل سیاسی بنیادوں پر شامل ہو۔ ایسا ادب جو ظالم اور سامراجی قوتوں کے خلاف حوصلہ دے۔ ہمیں کسانوں، محنت کشوں اور تمام مظلوم انسانوں کے حقوق کے دفاع کے لیے اپنی تخلیق کو بنیاد بنانا چاہیے۔ایک ادیب کو اپنی تخلیقی خواہش کا اظہار اس طریقے سے کرنا چاہیے جس کی بنیاد پر سائنس، سماجی اور سیاسی شعور کو پھیلانے میں ہماری تخلیق سودمند ثابت ہو۔ ہماری تخلیق جدوجہد کے ساتھ بات کرے۔سندھی زبان کے مقبول شاعر شیخ ایاز کے بقول:

میں ایسی کلا کو لایا ہوں

کہ تار لڑے تلواروں سے

عوامی ادب، جس کا دوسرا نام ترقی پسند ادب ہے، اس کی مخالفت میں بات کرنے والے آج تک کوئی ٹھوس دلیل پیش نہیں کر سکے۔ ان کے دلائل خود ابہام اور الجھن کا شکار نظر آتے ہیں۔ ایسے لکھاری ترقی پسند تحریک کے مدِ مقابل ایک حادثاتی اصطلاح، مابعد جدیدیت، کو پیش کرتے ہیں، جس کی واضح تشریح وہ خود بھی نہیں کر پاتے۔تحریکیں اور ادب کی نئی جہتیں محض کتابوں سے جنم نہیں لیتیں بلکہ انسانی تاریخ، عوامی شعور اور اجتماعی تجربات کے بطن سے ابھرتی ہیں۔ ان عوامل کے بغیر ان کا وجود ممکن نہیں۔ بعد ازاں انہیں منظرِ عام پر لانے اور نظریاتی شکل دینے والے، دلیل کی کمزوری کی صورت میں، اکثر فراریت کا شکار ہو جاتے ہیں۔اگر ادب برائے ادب کے علم برداروں کو تلاش کیا جائے تو ان کی شاعری اور تخلیقات، تحقیق کے محدود دائرے کے سوا، عام انسان کی زندگی میں کوئی قابلِ ذکر کردار ادا کرتی دکھائی نہیں دیتیں۔ پھر اگر تحقیق ہی کی بات کی جائے تو پی ایچ ڈی، جو کبھی علمی وقار کی علامت سمجھی جاتی تھی، آج بہت حد تک محض ترقیِ ملازمت کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے اور اپنی سابقہ علمی دھاک کھو چکی ہے۔ایسے میں جب سائنس کا ایک ڈگری یافتہ پروفیسر یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ ’’نو مور پی ایچ ڈی‘‘، تو پھر آرٹ کے مستقبل کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟ اس کا اندازہ آپ خود کر سکتے ہیں۔

بڑی کانفرنسیں، مذاکرات اور مشاعرے اب اپنی وہ افادیت کھو چکے ہیں۔ وہ تقاریب جو کبھی عوامی ادب کے بڑے ناموں سے جانی جاتی تھیں، ان کی رونق بھی ماند پڑ چکی ہے۔ جوش ملیح آبادی، فراق گورکھپوری، فیض احمد فیض، مخدوم محی الدین، کیفی اعظمی، علی سردار جعفری، شیخ ایاز اور حبیب جالب جیسے اہلِ علم، شعرا اور دانشور عوامی دکھوں کی پکار بن کر اٹھتے تھے۔آج بھی ان شعرا کے ترانے اور نغمے، خطے کے جنگلات میں بسنے والے آدی واسیوں کے دکھوں سے لے کر پہاڑوں کی چٹانوں پر آباد قبائلیوں کے غموں کا مداوا سمجھے جاتے ہیں، جو فراق کے لفظوں میں کہتے ہوئے کبھی نہیں گھبراتے:

 

جب سست سا پڑ جائے گا توپوں کا دھماکہ

ساحل کے قریب آئے گا جب جنگ کا بیڑا

لیننؔ کے ہاتھوں سے پلٹ جائے گی کایا

اب نام و نشاں زارؔ کے مٹی میں ملیں گے

ہم زندہ تھے، ہم زندہ ہیں، ہم زندہ رہیں گے 

فراق گورکھپوری                                                                                                   

ہماری خاموشی بہت سے ایسے لوگوں کو پریشان کر دیتی ہے، اور اس کے بعد ہم انہیں ان کے سوالات کے جوابات دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔آج اکیسویں صدی میں بھی نوجوان ادیب عوامی ادب کو اپنے وجود کا حصہ گردانتے ہوئے پسے ہوئے طبقات کے لیے اپنی نظم، شعر اور نثر کے ذریعے جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم اس حقیقت کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے عوامی شعور اور عوامی نقطۂ نظر کا ہونا ضروری ہے۔ ہاں، ہم کمزور ضرور ہیں، لیکن ہمارے قدم رکنے کے بجائے اپنی منزل کی طرف گامزن ہیں۔ہم سے ایک سوال اور بھی کیا جاتا ہے: سوویت یونین اور عوامی تحریکوں کے کمزور ہونے کے بعد عالمی سطح پر جو تبدیلی رونما ہوئی، کیا ترقی پسندی جیسی اصطلاح آج بھی زندہ ہے؟

یہ محض الجھانے کی کوشش ہے اور ان کی اپنی شکست کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اگر ہم ایشیا کی مثال لیں تو ہندوستان سے لے کر نیپال تک محنت کش تحریکوں کی جو بغاوتیں اور جدوجہدیں ہوئیں، وہ آج بھی اس ادب کے وجود کی گواہی دیتی ہیں۔ ہمارے جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ سماج میں جو تاریخ لکھی جا رہی ہے، اس نے عوامی جدوجہد کو دبانے کی کوشش کی ہے، اور یہ عمل آج بھی جاری ہے۔سندھ کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہاں جن شخصیات نے ترقی پسند تحریک اور عوامی ادب کی بنیاد رکھی تھی، ان کی علمی و شعوری آبیاری کے باعث ہمارے ہاں رومانوی ادب کی تخلیق کے لیے جو سازگار ماحول پیدا ہوا تھا، آج وہ تاریخی ورثہ بتدریج معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے وہ تمام ترقی پسند ادیب، جو اپنے حصے کا فریضہ ادا کرکے اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، اپنے پیچھے ایک عظیم فکری سرمایہ چھوڑ گئے ہیں۔ایسے ماحول میں، جہاں بنیاد پرست میڈیا کو فروغ دیا جا رہا ہو، جہاں ملک میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ایجنڈے پر کام کرنے والی عوام دشمن حکومت قائم ہو، جہاں لوگوں کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہو، جہاں بے روزگاری سے تنگ آ کر لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ہوں، جہاں آج بھی پسماندہ علاقوں میں خواتین جبر و استحصال کا شکار ہوں، اور جہاں کسان اور مزدور سسک سسک کر مر رہے ہوں، وہاں اگر ہم عوامی ادب کے بجائے ادب کے تخلیقی مرکز، حسن و عشق کے تصور کو صرف محبوب اور اس کے دکھوں تک محدود کر دیں، تو ایک بار پھر ہم ترقی پسندی کی جنگ ہار جائیں گے۔یہ وہی جنگ ہے جسے اپنے عہد میں ترقی پسند ادب کے معتبر اور نامور رہنماؤں، سید سجاد ظہیر، سید سبطِ حسن، فیض احمد فیض، حشو کیولرامانی، سوبھو گیان چندانی، شیخ ایاز، رشید بھٹی، گوبند مالہی، کیرت بابانی، اے جے اُتم اور دیگر وطن دوست اور ترقی پسند ادیبوں نے کامیابی سے لڑی اور جیتی تھی۔

اگر ہمارا شعر و نثر صرف محبوب کی جدائی کے نغمے ہی گاتے رہیں گے، تو سیاست اور ادب آنے والے وقت میں بنیاد پرست قوتوں کے زیرِ اثر چلے جائیں گے۔ ہمیں اپنے سماج کو ایک بار پھر نئی ترقی پسند فکر سے ہمکنار کرنا ہوگا۔ کسی بھی قوت کے انتظار کے بغیر ہمیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ایسے ادب کی تخلیق ناگزیر ہے جس میں عام انسان کے دکھوں، تکالیف اور محنت کشوں کے درد کا مداوا موجود ہو۔ادب کو سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ادب اور سیاست ایک دوسرے کے لیے آکسیجن کا کام کرتے ہیں۔ امن دوست، سامراج مخالف اور محنت کشوں کی رہنمائی کرنے والا ادب ہی ایک نئے اور بہتر سماج کی سیاسی و فکری تعمیر کی بنیاد بن سکتا ہے۔


سجاد ظہیر سولنگی ادیب، محقق اور فری لانس صحافی ہیں۔ وہ اردو اور سندھی زبانوں میں کالم، مضامین اور تنقیدی تحریریں لکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں کا محور ادب، سماج، سیاست، تاریخ اور ترقی پسند فکر کے موضوعات ہیں۔ وہ مختلف اخبارات، رسائل اور آن لائن پلیٹ فارمز پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں: