بلاگ تلاش کریں

ڈیجیٹل تنہائی: ہزاروں دوست مگر دل خالی کیوں؟

 

Doctor Shahnaz Solangi


از:ڈاکٹر شہناز خان

انسان فطرتاً ایک سماجی مخلوق ہے۔ اسے نہ صرف لوگوں کی موجودگی درکار ہوتی ہے بلکہ جذباتی وابستگی، توجہ اور احساسِ تعلق بھی اس کی بنیادی ضرورت ہیں۔ ماضی میں لوگ ایک دوسرے سے مل بیٹھ کر اپنے دکھ سکھ بانٹتے تھے، گھنٹوں گفتگو کرتے تھے اور رشتوں کی گرمی کو محسوس کرتے تھے۔ مگر آج کے ڈیجیٹل دور میں حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے دنیا کو ایک گلوبل گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے جہاں ایک شخص بیک وقت ہزاروں افراد سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کے باوجود ایک عجیب تضاد سامنے آ رہا ہے: جتنے زیادہ رابطے بڑھ رہے ہیں، اتنا ہی تنہائی کا احساس گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہزاروں آن لائن دوستوں کے باوجود دل خالی کیوں محسوس ہوتا ہے؟

ڈیجیٹل دنیا نے رابطوں کو آسان ضرور بنایا ہے، مگر تعلقات کو گہرا نہیں کیا۔ آج ایک شخص کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سینکڑوں یا ہزاروں فالوورز موجود ہوتے ہیں، اس کی تصاویر پر لاتعداد لائکس آتے ہیں اور اس کی پوسٹس پر درجنوں تبصرے کیے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ سب مقبولیت اور سماجی وابستگی کی علامت دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں ان میں سے اکثر روابط سطحی ہوتے ہیں۔ ایک “لائک” چند سیکنڈ کا عمل ہے، مگر ایک مخلص گفتگو کئی دلوں کو جوڑ سکتی ہے۔ یہی فرق آج کے انسان کو اندر سے خالی کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر لوگ عموماً اپنی زندگی کا بہترین رخ پیش کرتے ہیں۔ خوشیوں، کامیابیوں، سیر و تفریح اور کامیاب لمحات کی تصاویر نمایاں کی جاتی ہیں، جبکہ ناکامیوں، پریشانیوں اور تنہائی کے احساسات کو چھپا لیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص مسلسل دوسروں کی بظاہر کامل زندگیوں کو دیکھتا ہے تو وہ غیر محسوس انداز میں اپنی زندگی کا موازنہ شروع کر دیتا ہے۔ اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید باقی سب خوش ہیں اور صرف وہی مسائل کا شکار ہے۔ یہی احساس اسے مزید تنہائی اور مایوسی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ ڈیجیٹل تنہائی کی ایک بڑی وجہ حقیقی روابط میں کمی بھی ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد اکثر ایک دوسرے سے کم اور اپنے موبائل فون سے زیادہ بات کرتے ہیں۔ خاندان کے افراد ایک ہی کمرے میں موجود ہوتے ہیں لیکن ذہنی طور پر مختلف دنیاؤں میں گم ہوتے ہیں۔ دوستوں کی محفلیں بھی اب اسکرینوں کے گرد محدود ہو چکی ہیں۔ نتیجتاً وہ جذباتی قربت، جو آمنے سامنے ملاقاتوں سے پیدا ہوتی ہے، آہستہ آہستہ کمزور پڑ رہی ہے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق انسان کو صرف رابطے نہیں بلکہ بامعنی تعلقات درکار ہوتے ہیں۔ اسے ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی بات سنیں، اس کے جذبات کو سمجھیں اور مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیں۔ سوشل میڈیا پر موجود سینکڑوں دوست ہمیشہ اس خلا کو پر نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ آن لائن سرگرمیوں میں مصروف ہونے کے باوجود اندرونی طور پر خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔

ایک اور مسئلہ مسلسل دستیاب رہنے کا دباؤ ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں ہر وقت متحرک رہنے، پیغامات کا جواب دینے اور دوسروں کی سرگرمیوں سے باخبر رہنے کی توقع کی جاتی ہے۔ یہ دباؤ ذہنی تھکن کا باعث بنتا ہے۔ انسان بظاہر دوسروں سے جڑا ہوتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اپنی ذات سے دور ہوتا جاتا ہے۔ اس کے پاس اپنے خیالات، احساسات اور اندرونی سکون کے لیے وقت کم رہ جاتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نقصان دہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل ذرائع نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں، علم تک رسائی آسان بنائی ہے اور دنیا بھر کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ورچوئل روابط حقیقی تعلقات کی جگہ لینے لگتے ہیں۔ اگر سوشل میڈیا ہماری زندگی کا معاون بننے کے بجائے اس کا مرکز بن جائے تو تنہائی کا احساس بڑھ سکتا ہے۔

ڈیجیٹل تنہائی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی آن لائن اور آف لائن زندگی کے درمیان توازن پیدا کریں۔ خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں، آمنے سامنے گفتگو کو اہمیت دیں اور ایسے تعلقات استوار کریں جو صرف اسکرین تک محدود نہ ہوں۔ کبھی کبھار موبائل فون سے دور رہ کر کتاب پڑھنا، چہل قدمی کرنا یا اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا بھی ذہنی سکون کا باعث بن سکتا ہے۔ جدید دنیا نے ہمیں رابطوں کی کثرت تو دی ہے، مگر تعلقات کی گہرائی اب بھی انسانی کوشش اور خلوص کی محتاج ہے۔ ہزاروں آن لائن دوست دل کی تنہائی کو ختم نہیں کر سکتے اگر ان میں حقیقی احساس، توجہ اور محبت شامل نہ ہو۔ انسان کو آج بھی وہی چیز درکار ہے جو صدیوں پہلے تھی: ایک ایسا رشتہ جو اسے سمجھ سکے، سن سکے اور اسے یہ احساس دلائے کہ وہ واقعی کسی کے لیے اہم ہے۔


کوئی تبصرے نہیں: