تحریر :عثمان گیلانی
تعارف و تمہید:
اُردو زبان اپنی ساخت، تاریخی ارتقا اور کثیر
اللسانی اثرات کے باعث ایک منفرد لسانی حیثیت رکھتی ہے، تاہم یہی تنوع اس کے املا
کے مسائل کو بھی پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ املا، جو کسی زبان کے الفاظ کو درست قواعد کے
مطابق لکھنے کا نام ہے، زبان کی تحریری صحت اور مؤثر ترسیل میں بنیادی کردار ادا
کرتا ہے۔ اُردو میں ایک ہی آواز کے لیے متعدد حروف (مثلاً: س، ص، ث یا ز، ذ، ض، ظ)
کا استعمال، عربی و فارسی ماخذات سے آئے ہوئے الفاظ، اور تاریخی تغیرات،یہ سب
عوامل املا میں ابہام اور اختلاف کا باعث بنتے ہیں۔ نتیجتاً ایک ہی لفظ کی مختلف
صورتیں رائج ہو جاتی ہیں، جو نہ صرف طلبہ بلکہ اہلِ قلم کے لیے بھی دشواری پیدا
کرتی ہیں۔
مزید برآں، املا اور رسم الخط کے درمیان فرق کو
نظر انداز کرنا بھی ان مسائل کو بڑھاتا ہے۔ جہاں رسم الخط زبان کے تحریری ڈھانچے کی
نمائندگی کرتا ہے، وہیں املا اس ڈھانچے کے اندر الفاظ کو درست طریقے سے لکھنے کے
اصولوں سے متعلق ہے۔ تعلیمی اداروں، اشاعتی مراکز اور ڈیجیٹل ذرائع میں املا کے غیر
یکساں استعمال نے بھی اس مسئلے کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی
ہے کہ اُردو املا کے اصولوں کو سائنسی اور لسانی بنیادوں پر منظم کیا جائے اور ایک
معیاری نظام وضع کیا جائے، تاکہ زبان کی تحریری روایت کو استحکام اور یکسانیت حاصل
ہو سکے۔
رسم الخط
معانی و مفاہیم:
ماہرینِ ادب و لسانیات نے رسم الخط کی تعریف
اپنے اپنے نقطۂ نظر کے مطابق درج ذیل الفاظ میں کی ہے
رسم الخط وہ علم ہے جس میں حروفِ مفردہ کی صورتیں،
انفرادی حیثیت میں اور باہمی ترکیب کی کیفیت بیان کی جاتی ہے۔ اس علم سے الفاظ، خیالات
اور تصورات کو حروف یا دیگر اشکال کے ذریعے مادی صورت دے کر محفوظ اور قلم بند
کرنے کا عمل مراد لیا جاتا ہے۔رشید حسن خان کے مطابق:
"املا دراصل زبان میں صحیح حروف کے استعمال کا نام ہے، اور جو طریقہ ان حروف کے لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے وہ رسم الخط کہلاتا ہے۔"1
رسم الخط کسی زبان کو لکھنے کی معیاری صورت کا
نام ہے، جبکہ صحیح طریقے سے لکھنے کو املا کہتے ہیں۔رسم الخط سے مراد کسی زبان کے
مخصوص حروف کے ذریعے تحریری اظہار ہے، یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ رسم الخط کسی زبان
کے لکھنے کی معیاری صورت ہے۔
رسم الخط سے مطلب ایسی علامتوں کے نظام سے ہے
جس کے ذریعے انسان ایک مقررہ طریقے کے تحت اپنے خیالات، جذبات اور واقعات کو تحریری
شکل دیتا ہے اور ان کے اظہار و ترسیل کے لیے استعمال کرتا ہے۔ڈاکٹر فرمان فتح پوری
کے مطابق:
"رسم الخط ایسے نقوش و علامات ہیں جنہیں حروف کا نام دیا جاتا ہے، اور انہی کی مدد سے کسی زبان کی تحریری صورت متعین ہوتی ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ زبان کی تحریری صورت کے نظام کو رسم الخط کہتے ہیں۔"2
ڈاکٹر طارق عزیز کے مطابق:
"رسم الخط کسی طرزِ تحریر کے بنیادی ڈھانچے کا نام ہے، جبکہ اس ڈھانچے کو قواعد و ضوابط کا پابند بنا کر قابلِ استعمال بنانے کو املا کہتے ہیں۔"3
رسم الخط دراصل تحریری علامات کا ایک باقاعدہ
نظام ہوتا ہے۔ اس نظام میں ہر علامت زبان کی ایک اکائی کی نمائندگی کرتی ہے۔ڈاکٹر
گوپی چند نارنگ کے مطابق:
"رسم الخط صرف آوازوں کے مجموعے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک وسیع لسانی روایت کا حصہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر آواز کو ظاہر کرتا ہے، لیکن بالواسطہ طور پر الفاظ، جملوں اور پوری زبان کی ترسیل کا ذریعہ بھی ہے۔"4
میری رائے میں رسم الخط محض آوازوں یا علامتوں
کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ اپنے اندر تہذیبی، تمدنی، ثقافتی اور معنوی روایات کو بھی
سموئے ہوتا ہے۔ یہ زبان کی ترسیل و تفہیم کے ساتھ ساتھ ان عناصر کی شناخت اور
حفاظت کا فریضہ بھی انجام دیتا ہے۔ رسم الخط کی صرف سادہ سائنسی توجیہ ان تہذیبی
اور ثقافتی پہلوؤں کو مکمل طور پر واضح نہیں کر سکتی۔ دنیا کی مختلف تہذیبوں کے
رسم الخط کا تاریخی مطالعہ اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی تحقیقات بھی اس بات کی تصدیق
کرتی ہیں۔
املامعانی و مفہوم:
املا عربی زبان کے بابِ افعال سے ماخوذ ہے، جس
کے لغوی معنی ہیں: "بول کر لکھوانا" یا "لکھنے کی مشق کرانا"۔
عربی میں "اِملاء" کا مفہوم کسی عبارت کو درست انداز میں لکھوانا یا نقل
کروانا ہے۔لغوی اعتبار سے املا کے معنی لکھنے، لکھوانے اور الفاظ کو درست صورت میں
قلم بند کرنے کے ہیں۔ اس سے مراد وہ عمل ہے جس کے ذریعے الفاظ کو صحیح ہجّوں اور
قواعد کے مطابق تحریر کیا جاتا ہے۔انسانی
کلام کو بولی یا زبان اور تحریر کو املا
کہتے ہیں ۔ یعنی کلام بولنا اور
تحریر املا کرنا ہے ۔در حقیقت بولی
آوازوں کا ایک مربوط اور
منظّم سلسلہ ہوتی
ہے جس کے معانی کا تعین کسی خاص زبان کے حوالے سے کرنا ضروری
ہوتا ہے جب کہ املا اسی زبان کے حوالے سے
ان آوازوں کی تصویر ہوتی ہے ۔ املا کسی بھی زبان میں سنگِ میل
کی حیثیت رکھتا ہے ۔ الفاظ کی صحیح صورت
کوا ملا ہی اجاگر کرتا ہے مثلاً
علم اور اَلم میں جو
معنوی فرق ہے اس سے ہر
عربی اور اُردو جاننے والا
واقف ہے اُردو
زبان کے ماہرین میں مختلف
الفاظ کے املا کے حوالے سے اختلاف
رہا ہےمثلاً امریکہ لکھیں یا امریکا
۔
اصطلاحی تعریف:
اصطلاح میں املا سے مراد کسی زبان کے الفاظ کو
مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق درست طور پر لکھنا ہے۔ یعنی الفاظ کی صحیح صورت،
حروف کے درست انتخاب اور ان کی مناسب ترتیب کا علم املا کہلاتا ہے۔
مرزا غالب نے املا کے مفہوم کو ایک بامعنی ترکیب
"صورت و معنی" کے ذریعے واضح کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ املا نہ صرف
الفاظ کی ظاہری شکل (صورت) بلکہ ان کے درست مفہوم (معنی) کی ترسیل میں بھی اہم
کردار ادا کرتا ہے۔ڈاکٹر عبدالستار صدیقی کے مطابق:
"الفاظ کی صحیح صورت لکھنے کو املا کہا جاتا ہے۔"5
ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان کے نزدیک:
"املا الفاظ کے صحیح اور مناسب استعمال کا نام ہے، اور وہ طریقہ جس کے ذریعے الفاظ کو درست طور پر لکھا جائے، املا کہلاتا ہے۔"6
رشید حسن خان کے مطابق:
"کسی زبان کی عبارت کو اس کے رائج طریقۂ تحریر کے مطابق درست لکھنا املا کہلاتا ہے۔"7
املا اور رسم الخط کا فرق:
اردو کے رسم الخط کے مطابق الفاظ میں حروف کی
ترتیب، ان کی صورت، اور حروف کے باہمی اتصال کے طریقے،ن سب کے مجموعے کو املا کہا
جاتا ہے۔ایک اور مقام پر وہ املا اور رسم الخط کا فرق واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"رسم الخط کسی زبان کے لکھنے کی معیاری صورت کا نام ہے، جبکہ اس کے مطابق درست لکھنے کو املا کہا جاتا ہے۔"8
ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے املا کی تعریف مثالوں
کے ذریعے واضح کی ہے۔ ان کے مطابق املا عربی مصدر ہے، جس کے معنی لکھنا اور
لکھوانا ہیں۔ لسانی اصطلاح میں املا سے مراد کسی لفظ یا عبارت کو مقررہ قواعد کے
مطابق اس طرح لکھنا ہے کہ اسے پڑھتے اور بولتے وقت صحیح طور پر ادا کیا جا
سکے۔املا اور رسم الخط کے مباحث اکثر ابہام کا شکار رہے ہیں۔ ان دونوں میں فرق
واضح کرنا ضروری ہے۔رشید حسن خان کے مطابق:
"کسی لفظ کو کن حروف سے مرکب ہونا چاہیے یا اس میں حروف کی ترتیب کیا ہو، یہ مسئلہ رسم الخط کا نہیں بلکہ املا کا ہے۔ اسی طرح کسی حرف کو ختم کرنا یا کسی نئی علامت کا اضافہ کرنا بھی املا کے مسائل ہیں۔"9
مزید وضاحت کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ اردو کے
رسم الخط کے مطابق الفاظ میں حروف کی ترتیب، ان کی صورت، اور حروف کے باہمی اتصال
کے طریقے،ن سب کے مجموعے کو املا کہا جاتا ہے۔ایک اور مقام پر وہ املا اور رسم
الخط کا فرق واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"رسم الخط کسی زبان کے لکھنے کی معیاری صورت کا نام ہے، جبکہ اس کے مطابق درست لکھنے کو املا کہا جاتا ہے۔"10
ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے املا کی تعریف مثالوں
کے ذریعے واضح کی ہے۔ ان کے مطابق املا عربی مصدر ہے، جس کے معنی لکھنا اور
لکھوانا ہیں۔ لسانی اصطلاح میں املا سے مراد کسی لفظ یا عبارت کو مقررہ قواعد کے
مطابق اس طرح لکھنا ہے کہ اسے پڑھتے اور بولتے وقت صحیح طور پر ادا کیا جا سکے۔
مثلاً اگر اردو کے حروفِ تہجی میں کوئی تبدیلی
کی جائے تو اس سے رسم الخط تبدیل نہیں ہوتا، بلکہ املا میں تبدیلی آتی ہے۔ لیکن
اگر اردو کو رومن رسم الخط میں لکھا جائے تو یہ رسم الخط کی تبدیلی کہلائے گی۔
ترکی میں رومن رسم الخط اختیار کرنے کے بعد کہا
جاتا ہے کہ ترکی زبان کا رسم الخط بدل گیا۔ اسی طرح اگر سندھی زبان کو عربی رسم
الخط کے بجائے کسی اور رسم الخط میں لکھا جائے تو یہ رسم الخط کی تبدیلی ہوگی۔
اس کے برعکس اگر صرف الفاظ کی ہجے یا حروف کی
ترتیب میں تبدیلی کی جائے تو اسے املا کی اصلاح کہا جائے گا، نہ کہ رسم الخط کی۔
اُردو املاء کے مسائل: عربی الفاظ و تراکیب اور
دیگر مباحث
اُردو املاء کے مسائل میں ایک نہایت اہم پہلو
عربی الفاظ و تراکیب کا ہے، کیونکہ اُردو نے عربی زبان سے بڑی تعداد میں الفاظ
مستعار لیے ہیں۔ ان الفاظ کے املا، تلفظ اور صرفی و نحوی استعمال کے حوالے سے اہلِ
علم کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ خصوصاً یہ سوال اہم ہے کہ آیا عربی الفاظ
کو اُن کی اصل ہیئت میں برقرار رکھا جائے یا اُردو کے مزاج اور رواج کے مطابق ان میں
تبدیلی کی جائے۔ اس سلسلے میں شمس الرحمٰن فاروقی کا نقطۂ نظر نہایت اہم اور منفرد
ہے، جو اُردو کے رواج کو بنیادی حیثیت دیتے ہیں۔
عربی الفاظ کے املا میں رواج کی اہمیت
اُردو زبان میں عربی اور فارسی الفاظ کی کثرت
بھی املا کے مسائل کو بڑھاتی ہے۔ ان زبانوں کے الفاظ اپنے اصل املا کے ساتھ اُردو
میں شامل ہوئے، جس سے ہجّوں کی پیچیدگی برقرار رہی۔شمس الرحمٰن فاروقی اس بات کے
قائل ہیں کہ اُردو میں رائج صورت ہی کو درست مانا جائے، خواہ وہ عربی قواعد سے
مختلف کیوں نہ ہو۔ مثال کے طور پر “عش عش کرنا” کے بارے میں بعض لغات اسے "اش
اش کرنا" قرار دیتی ہیں، لیکن فاروقی اس سے اختلاف کرتے ہوئے"عش عش
کرنا"کو درست قرار دیتے ہیں اور اس کی دلیل عربی استعمال سے پیش کرتے ہیں۔ وہ
لکھتے ہیں:
"بہت سے علما کا خیال ہے کہ اس لفظ کا املا ‘عش عش’ غلط ہے، کیوں کہ یہ عربی نہیں ہے اور حرفِ عین ہندی میں نہیں، لیکن اصولی بات یہ ہے کہ ہمارا معاملہ ہندی سے نہیں، اُردو سے ہے… اُردو میں حرف ‘عین’ استعمال ہوتا ہے… تو کیا ہم ‘عش عش’ جیسا لفظ بنانے کا اختیار نہیں رکھتے؟"11
یہ اقتباس اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ فاروقی
کے نزدیک املا کا معیار اصل زبان نہیں بلکہ اُردو کا اپنا نظام اور رواج ہے۔
ہمزہ کا استعمال: اصول اور اختلافات
اُردو املا میں"ہمزہ" کا استعمال ایک
پیچیدہ مسئلہ ہے۔ فاروقی ہمزہ کو اُردو حروفِ تہجی کا مستقل جزو تسلیم کرتے ہیں، لیکن
اس کے استعمال میں اعتدال کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک ہمزہ کا استعمال صرف وہاں ہونا
چاہیے جہاں صوتی ضرورت ہو۔شمس الرحمٰن فاروقی
لکھتے ہیں:
"بجائے اس لفظ کو مع ہمزہ ‘بجائے’ بھی لکھا جاتا ہے… لیکن اگر ہمزہ سے لکھنا ہے تو اس اصول کی پابندی ہر جگہ کرنی چاہیے، مثلاً ‘برائے’ بھی لکھنا چاہیے۔"12
اسی طرح وہ اُن الفاظ میں ہمزہ کے استعمال کو
ضروری قرار دیتے ہیں جہاں اس کے بغیر صوتی ابہام پیدا ہوتا ہے، جیسے:
آؤ، آئے، جاؤ، کوئی، گئے، ہوئے وغیرہ۔
اور واضح کرتے ہیں کہ ان کو بغیر ہمزہ لکھنا
غلط ہے۔
دوسری طرف وہ عربی الفاظ کے آخر میں ہمزہ کے
استعمال کے مخالف ہیں اور اسے غیر ضروری قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں یہ
رسم چلی ہے کہ اس طرح کے الفاظ میں ہمزہ لکھا جائے… یہ بالکل غلط اور واجب الترک
ہے… اس سے صرف انتشار پھیلے گا۔
یہاں فاروقی کا مؤقف واضح طور پر املا میں سادگی
اور رواج کی پیروی کی طرف ہے۔
الف اور ہمزہ کی بحث
فاروقی عربی اور اُردو میں “الف” اور “ہمزہ” کے
فرق کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق عربی میں ہمزہ مستقل حرف نہیں، بلکہ الف
ہی کی ایک صورت ہے، جبکہ اُردو میں ہمزہ ایک مستقل حرف کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ
لکھتے ہیں عربی میں الف ہی کو دراصل ہمزہ کہتے ہیں… وہاں یہ کوئی مستقل حرف نہیں…
اس کے برخلاف اُردو میں ہمزہ ایک حرف ہے اور حروفِ تہجی کا حصہ ہے۔یہ فرق اُردو
املا کے اصولوں کو عربی سے الگ بنیاد فراہم کرتا ہے۔
الف مقصورہ اور کھڑے الف کا مسئلہ
اُردو املا میں الف مقصورہ (ٰ) اور سادہ الف کے
استعمال پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ فاروقی کے مطابق عربی الفاظ جیسے “اعلیٰ”،
“ادنیٰ”، “تقویٰ” کو اصل کے مطابق لکھنا بہتر ہے، تاہم وہ اس بات کو بھی تسلیم
کرتے ہیں کہ اُردو میں سادہ الف کا استعمال بھی رائج رہا ہے۔
وہ مثال دیتے ہیں:
دعویٰ → دعوا، اعلیٰ → اعلا، ادنیٰ → ادنا
اُردو اور فارسی میں الف مقصورہ کو سیدھے الف
سے لکھنے کا رجحان رہا ہے، لیکن اب کم ہو گیا ہے۔اسی طرح وہ ناموں میں الف مقصورہ
کے استعمال میں احتیاط کی تلقین کرتے ہیں اور "صغریٰ"
کو"صغرا"لکھنے کو نامناسب قرار دیتے ہیں۔
الفاظ کو ملا کر یا الگ لکھنے کا مسئلہ
اُردو املا میں مرکب الفاظ کو ملا کر یا الگ
لکھنے کا مسئلہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ عمومی اصول یہ ہے کہ الفاظ کو الگ لکھا
جائے، لیکن فاروقی رواج کو ترجیح دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ “کیونکہ”، “بلکہ”، “چونکہ”،
“بشرطیکہ” جیسے الفاظ کو ملا کر لکھنے کو درست قرار دیتے ہیں۔
البتہ بعض صورتوں میں وہ اصلاح بھی کرتے ہیں، جیسے
“تب ہی” کی جگہ “تبھی” کو درست قرار دیتے ہیں۔
ہاے مختفی کا مسئلہ
ہاے مختفی اُردو املا کا ایک اہم اور متنازع
پہلو ہے۔ بعض ماہرین اس کے وجود سے انکار کرتے ہیں، لیکن فاروقی اس کے قائل ہیں
اور اسے اُردو کا جزو قرار دیتے ہیں۔ وہ اس کے حق میں دلائل دیتے ہوئے لکھتے ہیں
کہ بہت سے شہروں اور مقامات کے نام ہاے مختفی کے ساتھ لکھے جاتے ہیں:
آگرہ، پٹنہ، شملہ، کلکتہ، امریکہ وغیرہ۔
وہ اس ضمن میں چند اصول بھی پیش کرتے ہیں:
اُردو میں ہاے مختفی موجود ہے۔
اس کا اطلاق دیسی و بدیسی دونوں الفاظ پر ہوتا
ہے۔
جہاں الف رائج ہو چکا ہو، وہاں تبدیلی ضروری نہیں۔
جہاں دونوں صورتیں رائج ہوں، ہاے مختفی کو ترجیح
دی جائے۔
یہ اصول املا میں اعتدال اور لچک کو ظاہر کرتے
ہیں۔
دخیل الفاظ اور املا
اُردو میں دیگر زبانوں سے آنے والے الفاظ (دخیل
الفاظ) بھی املا کے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ فاروقی کے مطابق جب کوئی لفظ اُردو میں
شامل ہو جائے تو وہ اُردو کا حصہ بن جاتا ہے، اور اس پر اُردو کے قواعد لاگو ہوتے
ہیں، نہ کہ اصل زبان کے۔شمس الرحمٰن فاروقی لکھتے ہیں:
"کسی دخیل لفظ کو اس لیے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اصل زبان میں اس کا املا مختلف ہے… اُردو میں جو رائج ہے وہی درست ہے۔"13
اسی اصول کے تحت وہ انگریزی الفاظ کی جمع بھی
اُردو قواعد کے مطابق بنانے کے قائل ہیں، مثلاً “ٹکٹیں”، "پارٹیاں" وغیرہ۔
غیر زبانوں کے الفاظ اور تصرف
فاروقی اُردو میں لسانی تصرف (adaptation) کو فطری عمل قرار دیتے ہیں۔ وہ مثال دیتے
ہیں:
رنگ → رنگت
نازک → نزاکت
نقش → نقشہ
شرم → شرمیلا
یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ اُردو زبان نے دیگر
زبانوں کے الفاظ کو اپنے قواعد کے مطابق ڈھال لیا ہے، اور یہی اس کی لسانی قوت ہے۔
جدید ذرائع ابلاغ اور املا
ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا، موبائل ٹائپنگ اور
رومن اُردو نے املا کے مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے:
“kya”, “hai”, “ap” رومن اردو
“ہے” کو “هے” یا “hy” لکھنا
یہ رجحانات معیاری اُردو املا کے لیے خطرہ بن
سکتے ہیں، خاص طور پر نئی نسل میں۔
مندرجہ بالا بحث سے واضح ہوتا ہے کہ اُردو املا
کے مسائل محض قواعدی نوعیت کے نہیں بلکہ لسانی رواج، تاریخی ارتقا اور تہذیبی
اثرات سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی کا نقطۂ نظر اس حوالے سے نہایت
اہم ہے، کیونکہ وہ املا میں سخت اصولی جمود کے بجائے رواج، سہولت اور زبان کے فطری
ارتقا کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک زبان کا صحیح پن
(validity) رواجِ عام سے متعین ہوتا ہے، اور یہی
اصول اُردو املا کے مسائل کے حل کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
اُردو املاء کے مسائل کے حل
1۔ معیاری لغات کا استعمال
اُردو املاء کے مسائل کے حل میں سب سے بنیادی
اور مؤثر ذریعہ مستند اور معیاری لغات کا استعمال ہے۔ لغات کسی بھی زبان میں الفاظ
کی درست ہجّوں، معنی اور استعمال کے تعین کا معتبر ماخذ ہوتی ہیں۔ اگر اہلِ قلم،
طلبہ اور اساتذہ تحریر کے دوران مستند لغات سے رجوع کریں تو املائی اغلاط میں نمایاں
کمی لائی جا سکتی ہے۔ اُردو میں فرہنگِ آصفیہ، نوراللغات اور اردو لغت (بورڈ) جیسی
لغات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ڈیجیٹل دور میں آن لائن لغات اور موبائل ایپس کی دستیابی
نے اس عمل کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اور ادبی سطح پر
لغات کے استعمال کی عادت کو فروغ دیا جائے تاکہ املا میں یکسانیت اور درستی پیدا
ہو۔
2۔ نصاب میں املا کی
باقاعدہ تربیت
تعلیمی نظام میں املا کی منظم اور عملی تربیت
نہایت ضروری ہے۔ اکثر تعلیمی اداروں میں املا کو ایک ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، جس
کے باعث طلبہ درست ہجّوں سے ناواقف رہتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے نصاب میں املا
کو باقاعدہ مضمون یا کم از کم ایک اہم جزو کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔ طلبہ کو
صرف قواعد یاد کروانے کے بجائے عملی مشقیں کروائی جائیں، جیسے املا نویسی، درستگی
کی مشق (correction exercises) اور تحریری سرگرمیاں۔ اساتذہ کی تربیت بھی ضروری ہے تاکہ وہ خود معیاری
املا سے واقف ہوں اور طلبہ کی درست رہنمائی کر سکیں۔ اس طرح ابتدائی سطح ہی سے
درست املا کی بنیاد مضبوط کی جا سکتی ہے۔
3۔ ڈیجیٹل ذرائع اور ٹولز
کی تیاری
موجودہ دور میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی زبان کے فروغ
میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، اس لیے اُردو املا کے مسائل کے حل کے لیے جدید ڈیجیٹل
ٹولز کی تیاری ناگزیر ہے۔ ایسے سافٹ ویئر اور ایپلیکیشنز تیار کی جانی چاہئیں جو
اُردو املا کی خودکار درستگیspell check فراہم کریں۔ اسی طرح اُردو کی بورڈز، predictive
text سسٹمز، اور AI پر مبنی اصلاحی ٹولز بھی تیار کیے جا سکتے ہیں جو صارف کو درست الفاظ
تجویز کریں۔ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی معیاری املا کے فروغ کے لیے
مہمات چلائی جا سکتی ہیں۔ اگر ڈیجیٹل سطح پر درست املا کو فروغ دیا جائے تو نئی
نسل میں املائی شعور پیدا کیا جا سکتا ہے۔
4۔ معیاری املا بورڈ کا قیام
اُردو املا میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے ایک
مرکزی اور بااختیار ادارے (املا بورڈ) کا قیام نہایت ضروری ہے۔ یہ ادارہ ماہرینِ
لسانیات، ادباء اور ماہرینِ تعلیم پر مشتمل ہو اور اس کا مقصد املا کے اصولوں کو
مرتب کرنا، اختلافی مسائل کو حل کرنا اور ایک معیاری نظام وضع کرنا ہو۔ یہ بورڈ
وقتاً فوقتاً نئی سفارشات جاری کرے اور تعلیمی اداروں، اشاعتی مراکز اور میڈیا کو
ان پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے۔ اس طرح مختلف اداروں میں رائج مختلف املائی
صورتوں کا خاتمہ ہو سکے گا اور اُردو میں ایک معیاری اور متفقہ املا رائج ہو جائے
گا۔
اُردو املاء کے مسائل کا جائزہ لینے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مسائل محض ہجّوں کی غلطیوں تک محدود نہیں بلکہ زبان کی تاریخی ارتقا، کثیر اللسانی اثرات، اور رواجی اختلافات سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔ عربی و فارسی الفاظ کی کثرت، ہمزہ، الف مقصورہ، ہائے مختفی اور مرکب الفاظ جیسے مباحث اُردو املا کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ مزید برآں، رسم الخط اور املا کے فرق کو نظر انداز کرنا اور جدید ڈیجیٹل ذرائع میں غیر معیاری طرزِ تحریر کا بڑھتا ہوا استعمال بھی ان مسائل میں اضافہ کر رہا ہے۔ ماہرینِ لسانیات خصوصاً شمس الرحمٰن فاروقی کے نقطۂ نظر سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ املا کے تعین میں سخت اصولوں کے بجائے زبان کے رواج، سہولت اور فطری ارتقا کو اہمیت دینا زیادہ مناسب ہے۔
ان مسائل کے حل کے لیے ایک جامع اور منظم حکمتِ
عملی کی ضرورت ہے، جس میں معیاری لغات کے استعمال کو فروغ دینا، تعلیمی نصاب میں
املا کی باقاعدہ تربیت شامل کرنا، اور جدید ڈیجیٹل ٹولز کی تیاری کو یقینی بنانا
اہم اقدامات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مرکزی املا بورڈ کا قیام بھی ناگزیر ہے جو
املا کے اصولوں کو یکجا اور معیاری بنا سکے۔ اگر ان اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کیا
جائے تو اُردو املا میں موجود انتشار کو کم کیا جا سکتا ہے اور زبان کو ایک
مستحکم، واضح اور معیاری تحریری صورت فراہم کی جا سکتی ہے، جو نہ صرف تعلیمی بلکہ ادبی
اور ابلاغی سطح پر بھی مؤثر ثابت ہوگی۔
حوالہ جات
1۔ رشید حسن خان، اردو املا، نیشنل اکادمی، دہلی، طبع اول، 1974ء،ص21
2۔ فرمان فتح پوری، ڈاکٹر، اردو املا رسم الخط، سنگ میل پبلی کیشنز،
لاہور، 1977ء،ص277
3۔ طارق عزیز، ڈاکٹر، اردو رسم الخط اور ٹائپ، مقتدرہ قومی زبان ، اسلام
آباد،1987ء،ص150
4۔ گوپی چند نارنگ، ڈاکٹر، زبان اور لسانیات،سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور،
2007ء،ص130
5۔ گوہر نوشاہی، ڈاکٹر،(مرتب)مقدمہ،مشمولہ، اردو املا رمو زو
اوقاف،مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، 1986ء،ص17
6۔ غلام مصطفیٰ خان، ڈاکٹر،اردو املا کی تاریخ، مشمولہ، علمی نقوش،شعبہ
ا ردو سندھ یونیورسٹی،1957ء، ص105
7۔ رشید حسن خان، اردو املا، ص23
8۔ ایضاً،ص25
9۔ ایضاً،ص33
10۔ ایضاً،ص21
11۔ ایضاً،ص21
12۔ شمس الرحمٰن فاروقی:
”لغات روز مرّہ“آج ، کراچی ، اشاعت
دوم،2003ء ، ص12۔11
13۔ ایضاً،ص13
14۔ ایضاً،ص15
15۔ ایضاً،ص17
کتابیات
1۔ رشید حسن خان، اردو املا، نیشنل اکادمی، دہلی، طبع اول، 1974ء
2۔ شمس الرحمٰن فاروقی:
”لغات روز مرّہ“آج ، کراچی ، اشاعت
دوم،2003ء
3۔ طارق عزیز، ڈاکٹر، اردو رسم الخط اور ٹائپ، مقتدرہ قومی زبان ، اسلام
آباد،1987ء
4۔ غلام مصطفیٰ خان، ڈاکٹر،اردو املا کی تاریخ، مشمولہ، علمی نقوش،شعبہ
ا ردو سندھ یونیورسٹی،1957ء،
5۔ فرمان فتح پوری، ڈاکٹر، اردو املا رسم الخط، سنگ میل پبلی کیشنز،
لاہور، 1977ء
6۔ گوپی چند نارنگ، ڈاکٹر، زبان اور لسانیات،سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور،
2007ء
7۔ گوہر نوشاہی، ڈاکٹر،(مرتب)مقدمہ،مشمولہ، اردو املا رمو زو اوقاف،مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، 1986ء
کوئی تبصرے نہیں: