تحریر: ڈاکٹر شہناز خان
ڈیجیٹل دور نے انسانی زندگی کے
تقریباً ہر پہلو کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ معلومات کے حصول، تفریح، تعلیم اور سماجی
روابط کے طریقے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں میں سب سے نمایاں رجحان
شارٹ ویڈیوز کا ہے۔ چند سیکنڈز سے لے کر ایک منٹ تک کی یہ مختصر ویڈیوز آج دنیا
بھر میں کروڑوں افراد کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام ریلز،
یوٹیوب شارٹس اور دیگر پلیٹ فارمز نے ایسے مواد کو عام کر دیا ہے جو فوری طور پر
صارف کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ اگرچہ یہ ویڈیوز تفریح اور معلومات کی فوری فراہمی کا
مؤثر ذریعہ ہیں، لیکن ان کے مسلسل استعمال نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے: کیا
شارٹ ویڈیوز ہماری توجہ کا دورانیہ کم کر رہی ہیں؟
انسانی دماغ فطری طور پر نئی اور
دلچسپ چیزوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ شارٹ ویڈیوز اسی نفسیاتی کمزوری یا رجحان سے
فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ہر چند سیکنڈ بعد نیا منظر، نئی آواز، نئی کہانی یا نئی معلومات
سامنے آ جاتی ہیں۔ صارف کو اگلی ویڈیو دیکھنے کے لیے کسی اضافی کوشش کی ضرورت نہیں
ہوتی؛ صرف ایک انگلی کے اشارے سے نیا مواد حاضر ہو جاتا ہے۔ اس مسلسل اور تیز
رفتار تجربے کے نتیجے میں دماغ فوری اطمینان حاصل کرنے کا عادی بن جاتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب
یہی عادت روزمرہ زندگی کے دیگر شعبوں پر اثر انداز ہونے لگتی ہے۔ کتاب پڑھنا، طویل
مضمون کا مطالعہ کرنا، تعلیمی لیکچر سننا یا کسی پیچیدہ مسئلے پر غور کرنا نسبتاً
زیادہ توجہ اور صبر کا تقاضا کرتا ہے۔ جو افراد مسلسل مختصر اور تیز رفتار مواد
دیکھتے ہیں، ان کے لیے ایسی سرگرمیوں میں دلچسپی برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
انہیں محسوس ہوتا ہے کہ طویل مواد “بورنگ” ہے، حالانکہ اصل مسئلہ مواد نہیں بلکہ
توجہ کے انداز میں آنے والی تبدیلی ہوتی ہے۔
شارٹ ویڈیوز کا ایک اور اہم پہلو
یہ ہے کہ وہ دماغ کو مسلسل متحرک رکھتی ہیں۔ ہر ویڈیو میں کچھ نیا اور غیر متوقع
ہوتا ہے، جس کے باعث دماغ اگلی دلچسپ چیز کی تلاش میں رہتا ہے۔ اس مسلسل تحریک کے
نتیجے میں انسان خاموشی، یکسوئی اور انتظار جیسی کیفیتوں کو برداشت کرنے میں کمزور
ہو سکتا ہے۔ ماضی میں لوگ سفر کے دوران یا فرصت کے لمحات میں سوچ بچار کرتے تھے،
جبکہ آج اکثر افراد فوری طور پر موبائل فون نکال کر شارٹ ویڈیوز دیکھنا شروع کر
دیتے ہیں۔ اس طرزِ عمل نے غور و فکر اور تخلیقی سوچ کے لیے دستیاب وقت کو بھی
محدود کر دیا ہے۔ تعلیمی میدان میں بھی اس رجحان کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔
اساتذہ اور والدین اکثر شکایت کرتے ہیں کہ طلبہ کی توجہ کلاس روم میں زیادہ دیر تک
برقرار نہیں رہتی۔ اگرچہ اس مسئلے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن شارٹ ویڈیوز کی
بڑھتی ہوئی مقبولیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب ذہن چند سیکنڈز میں معلومات
حاصل کرنے کا عادی ہو جائے تو چالیس یا پچاس منٹ کے لیکچر پر توجہ مرکوز رکھنا ایک
چیلنج بن جاتا ہے۔ نتیجتاً سیکھنے کے عمل میں گہرائی کم ہو سکتی ہے۔
تاہم اس موضوع کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ شارٹ ویڈیوز کو مکمل طور پر نقصان دہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ بہت سے تعلیمی ادارے، اساتذہ اور ماہرین مختصر ویڈیوز کے ذریعے مفید معلومات عام کر رہے ہیں۔ زبانیں سکھانے، سائنسی تصورات سمجھانے، صحت سے متعلق آگاہی پھیلانے اور مختلف مہارتیں سکھانے میں یہ فارمیٹ مؤثر ثابت ہوا ہے۔ مسئلہ خود شارٹ ویڈیوز نہیں بلکہ ان کا غیر متوازن اور حد سے زیادہ استعمال ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید دنیا میں معلومات کی مقدار بے حد بڑھ چکی ہے۔ لوگ کم وقت میں زیادہ مواد دیکھنا چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے مختصر ویڈیوز کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ کاروباری ادارے، میڈیا پلیٹ فارمز اور مواد تخلیق کرنے والے افراد اسی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں۔ لیکن سہولت اور رفتار کی یہ دوڑ اس وقت نقصان دہ بن جاتی ہے جب صارف اپنی توجہ، وقت اور ذہنی سکون پر کنٹرول کھو بیٹھتا ہے۔
اس مسئلے کا حل ٹیکنالوجی سے مکمل دوری نہیں
بلکہ متوازن استعمال میں پوشیدہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے اسکرین ٹائم پر
نظر رکھیں اور انہیں کتابیں پڑھنے، کھیل کود اور تخلیقی سرگرمیوں کی طرف راغب
کریں۔ تعلیمی ادارے طلبہ میں تنقیدی سوچ اور گہری مطالعہ کی عادت کو فروغ دیں۔ اسی
طرح ہر فرد کو اپنے لیے کچھ ایسے اوقات مقرر کرنے چاہییں جب وہ موبائل فون سے دور
رہ کر مطالعہ، گفتگو یا غور و فکر جیسی سرگرمیوں میں وقت گزارے۔
شارٹ ویڈیوز نے معلومات اور تفریح تک رسائی
کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے، لیکن ان کے مسلسل استعمال نے توجہ کے
دورانیے کے بارے میں سنجیدہ سوالات بھی پیدا کیے ہیں۔ اگر انسان ہر وقت فوری تفریح
اور تیز رفتار مواد کا عادی بن جائے تو طویل توجہ، صبر اور گہری سوچ متاثر ہو سکتی
ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے فوائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس
کے ممکنہ منفی اثرات سے بھی آگاہ رہیں۔ متوازن استعمال ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں
جدید سہولیات سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ذہنی صلاحیتوں اور توجہ کی قوت کو محفوظ
رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: