بلاگ تلاش کریں

یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے آئینے میں تڑپتی انسانیت

 

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (UNHCR) کی حالیہ جاری کردہ سالانہ رپورٹ نے ایک بار پھر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ کے چونکا دینے والے اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت کرۂ ارض پر تقریباً ۱۱ کروڑ ۷۸ لاکھ (117.8 Million) سے زائد انسان جنگوں، بدترین تشدد، سیاسی ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باعث اپنے گھر بار چھوڑ کر در بدر ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ آسان لفظوں میں سمجھا جائے تو آج دنیا بھر میں ہر ۷۰ میں سے ایک شخص زبردستی بے گھر کر دیا گیا ہے، جو عصری تاریخ میں انسانیت پر ٹوٹنے والے سب سے بڑے المیوں میں سے ایک ہے۔ اگرچہ گزشتہ ایک سال میں کچھ خطوں سے پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی کے مثبت اشارے ملے ہیں۔جو کہ یو این ایچ سی آر کی تاریخ میں واپسی کی سب سے بڑی لہر ہے۔لیکن ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ جنگی بحرانوں اور اسرائیل کی اندھا دھند بمباری نے لبنان اور گردونواح میں لاکھوں نئے پناہ گزینوں کو جنم دے کر اس معمولی بہتری پر مایوسی کے سائے گہرے کر دیے ہیں۔

رپورٹ کا ایک فکر انگیز پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا کے کل مہاجرین کا ۷۲ فیصد حصہ صرف چند گنتی کے ممالک، جیسے فلسطین، وینزویلا، یوکرین، شام اور افغانستان سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوا۔ المیہ یہ ہے کہ ان پناہ گزینوں کا بوجھ دنیا کے ترقی یافتہ یا امیر ترین ممالک نہیں، بلکہ ان کے اپنے پڑوسی ملک اٹھائے ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان اور ایران اب بھی افغان پناہ گزینوں کی میزبانی میں سب سے آگے ہیں، جبکہ کولمبیا اور جرمنی جیسے ممالک بھی لاکھوں بے وطن انسانوں کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔ ۱۹۵۱ کے مہاجرین کنونشن سے لے کر آج تک، کاغذوں پر تو پناہ گزینوں کے حقوق کے بڑے دعوے کیے گئے، لیکن عملی طور پر عالمی سیاست اور جنگی جنون نے لاکھوں معصوم زندگیوں کو کیمپوں کی تاریک راہوں اور بے یقینی کے سفر کا قیدی بنا کر رکھ دیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں: