بلاگ تلاش کریں

غزل


شاعر:رشید حسرت، کوئٹہ

ہر ایک نظم کوئی چیخ ہے، غزل ماتم
ہمارے شہر میں اترے ہیں آج کل، ماتم

غریبِ شہر کی چیخیں جو تم نہیں سنتے
امیرِ شہر تمہارا ہے ایک حل- ماتم

حیات بار اٹھائے ہیں ہم سسکتے ہوئے
ہر ایک لمحہ مصیبت، ہر ایک پل ماتم

مسیحا چہروں کو ہم داغدار کر ڈالیں
ہر ایک شخص رکھے ساتھ تیز جل، ماتم

تنازعہ گھر کا تھا معصوم جانیں تم نے لیں
تمہارے گھر میں بھی اترے گا اب جبل ماتم

گریں نہ لاشیں، یہاں دن کوئی نہیں گزرا
جہاں بھی دیکھو وہاں وحشتیں، اجل، ماتم

معاش ہم سے گیا، اب نہیں ہے روز مرہ
پھر اس پہ چین میں بنتے رہے خلل، ماتم

کہ مجرمانہ خموشی کبھی جو اوڑھے رہی
اسی کا آج ریاست اُٹھائے پھل، ماتم

اچھالے جس پہ محبت کے پھول ہم نے رشیدؔ
دیا ہے اس نے وفا کا ہمیں بدل، ماتم





کوئی تبصرے نہیں: